پاکستان میں پنجاب کا سفیر عالمی شہرت یافتہ گلوکار عارف لوہار

کالم نگار رائٹرہوسٹ ظفر اقبال ظفر نے پنجابی مقبولیت کے حامل پاکستانی گلوکار عارف لوہار کی میزبانی میں ان کے حالات زندگی اور فن گا ئیکی کے مراحل پر مبنی انٹریو کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے پنجابیوں کو الیکڑونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے زریعے عارف لوہار کے خیالات و جذبات سے آگاہ کیاجس کا مقصد ماں بولی پنجابی کو عزت بخشنے والے کی خوبصورت انداز میں حوصلہ افزائی کرنا تھا
پاکستان پنجاب کی دھرتی کا بیٹا جس نے فن گائیکی میں صوفیانہ کلام کے زریعے اپنے والد عالم لوہار کی وارثت کو نا صرف زندہ رکھا بلکہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق پنجابی فوک گلوکاری کو عروج پر رکھنے کی محنت کرتے ہوئے دنیا میں منفرد انداز کو پیش کیاجس کی وجہ سے نا صرف پنجابی کا پھیلاو ہوا بلکہ انگریزوں کو بھی پنجابی سننے سمجھنے اور بولنے کی طرف متوجہ کیاعارف لوہار نے ظفر اقبال ظفر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے والد کا پنجابی دنیا میں ایک نام ہے عالم لوہار کو اپنی زندگی میں ہی علم ہو گیا تھا کہ میرے آٹھ بیٹوں میں سے عارف وہ بیٹا ہے جو میری راہ پر چلے گا اس کے علاوہ عارف لوہار نے بتایا کہ گلوکاربننا اور بات ہے اور گلوکار پیدا ہونا اور بات ہے عارف لوہار نے گلوکاری کو نہیں چنا بلکہ گلوکاری نے عارف لوہار کو پسند کیا اور وہ متاثر کن انداز پیش کیا جس نے دنیا بھر میں پنجابی بولنے والوں کے دلوں میں لازوال مقام بنایاعارف لوہار کا کہنا ہے کہ یہ مقام مجھے اپنی دھرتی ماں سے ماں کی طرح پیار کرنے سے اور جنم دینے والی ماں کی دعاؤں سے ملا ہے میں نے عارف لوہار کو جن کی دنیا میں جس بڑے مقام پر دیکھا اس سے بڑھ کر انسانیت سے پیار کرنے کے جذبے سے بھی سرشار پایا دنیا میں شہرت پانے والے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ہر عام و خاص سے اتنا پیار کرتے ہیں جتنا وہ اپنے مقام سے کرتے ہیں مگر عارف لوہار کا کہنا ہے کہ مجھے یہ سب لوگوں کی قدردانی سے حاصل ہوا ہے اور میں رب کے بعد لوگوں کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرے لیے دعائیں اور نیک خواہشات سے میری حوصلہ افزائی کی لوگوں کا پسند کرنا پیار کرنا میرے سر پر بزرگوں کی دعاؤں جیسا ہے ماں باپ اور اولاد کے درمیان فاصلے پیدا ہو جانے والی صورتحال پر عارف لوہار نے کہا کہ میرا والد میرا بہترین دوست تھا اور آج میں اپنے تینوں بیٹوں کا بہترین دوست ہوں میں نے کبھی اپنے بچوں کو اپنی تربیت سے دور نہیں رہنے دیا گھر میں کئی کام ان کے ساتھ مل کر کرتا ہوں میرے بچے گورنمنٹ سطح کے پروگرام میں پرفارمنس پیش کر چکے ہیں بلکہ امریکہ میں جب میرا بیٹا علی لوہار تین سال کا تھا اس نے بچوں کے پروگرام میں پنجابی کلام پیش کرکے لوگوں کے زہنوں اورد لوں میں عارف لوہار کے خون اور صحبت کی جھلک دیکھائی تھی عارف لوہار کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی اپنے بچوں کو گائیکی کی کلاس نہیں دی وہ مجھے دیکھ دیکھ کر میری طرح پرفارم کرنے کی گھر میں پریکٹس کرتے رہتے ہیں جبکہ میری بچوں کے حوالے سے پہلی فکر ان کی تعلیم ہوتی ہے میرے بچے گھر میں پنجابی بولتے ہیں پنجابی کے لفظوں کا مفہوم اردو انگلش میں بھی پیش کرتے ہیں عارف لوہار نے کہا کہ میرے بچے پاکستان اور قوم کو خدا کا دیا ہوا تحفہ ہیں جس کی میں نگرانی اور تربیت کی زمہ داری خدا کی طرف سے لگائی ڈیوٹی سمجھتا ہوں یہ بچے پاکستان پنجاب اور پنجابی کا نام روشن کرنے کی راہ پر گامزن ہیں میں خدا کے حضور سجدہ شکر ادا کرتا ہوں کہ مالک نے مجھے میری اوقات سے بڑھ کر نام مقام اور رزق دیا جیسے میں نے بھی رب کا مال سمجھ کر رب کے بندوں اور پاکستان کی دھرتی کے لیے وقف کر رکھا ہے میرے بعد بھی میرے بچے پنجابی کے لیے کام کرتے رہیں گے انسان کو اپنے اولاد کے ساتھ دوستانہ رشتہ رکھنا چاہے بچوں کا باپ سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں ہوتاعارف لوہار نے پنجابی صوفی شاعر وں کی نا صرف اپنی گائیکی کا حصہ بنایا بلکہ ان کے کلام کو گائیکی کے زریعے ایک تبلیغ کا درجہ سمجھا جس کے زریعے انسان کو انسانیت کی طرف جانے کا راستہ ملالوگوں سے پیار کرنا ان کے کام آنا ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہمارا مقصد حیات ہے اور ہم اسی عبادت کے لیے دنیا میں رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ظفر اقبال ظفر نے عارف لوہار سے ملاقات کرنے کے بعد وضاحت پیش کی کہ دنیا میں شہرت دولت وافر مل جائے تو کئی لوگ انسانیت کے فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں مگر میں نے عارف لوہار کو فن گائیکی کے جس عروج پر دیکھا ہے آج ان سے ملا تو ان کو انسانیت کے عروج پر بھی برابر کا پایا ہے شوبز ایک ایسی دنیا ہے جہاں جھوٹ فریب دھوکہ عام ہے مگر عارف لوہار جیسے درویش صفت لوگوں کی وجہ سے یہ شعوبہ برقرار ہے انسانوں میں بہت سے اداکار مل جاتے ہیں مگر اداکاروں میں انسان کوئی کوئی ملتا ہے اگر انسان کا مقام لوگوں میں عزت کا باعث سمجھا جاتا ہے تو اس کا عمل اس نام سے بھی زیادہ پختہ ہونا چاہئے قول وفعل کا تضاد انسان کی زندگی میں ہی انسان کو زوال سے دوچار کروا دیتا ہے جبکہ اندر اور باہر سے ایک ہونا نیک ہونے کی دلیل ہوتا ہے عارف لوہار نے پنجابی زبان کی طرف سے پاکستان کی باقی زبانوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے گلشن کے وہ پھول ہیں جو اپنی اپنی مہک سے پہچانے جاتے ہیں مگر پنجابی زبان کو کبھی زوال نہیں آئے گا کیونکہ یہ اولیا درویش فقیروں کی زبان ہے یہ انہی کی طرح تاقیامت زندہ رہے گئی ساری دنیا کے لوگوں کو محبتوں کا پیغام دیتا ہوں پنجابیوں سے کہتا ہوں کہ دھرتی ماں اور ماں بولی پر زیادہ سے زیادہ کام کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com