اقوامِ عالم میں رونما تبدیلیاں اور 2020ء۔۔۔۔۔

مبارک علی شمسی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ سال 2020ء پوری دنیا میں عالمی وبا کے ھمراہ وارد ہوا جس کا آغاز ہمسایہ ملک چائنہ کے شہر وہان سے ہوا، جس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور جس سے اس کرہ ارض پہ موجود ہر ملک میں ناقابل تلافی جانی نقصان ہوا بلاشبہ کرونا وائرس کی بات کرنا مقصود ہے جو اس دنیا میں انسانوں کو متاثر کرنے والا وہ واحد وائرس ہے جو سال کے اختتام پر بھی اسی طرح نہ صرف زبان زد عام ہے جیسے آغاز میں تھا بلکہ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی یہ اقوامِ عالم کے لیے اب بھی بڑی حد تک معمہ بنا ہوا ہے. اور دنیا اس کی وجہ سے بہت پریشان ہے.حالانکہ دنیا بھر میں سال 2020ء کا بڑا حصہ کورونا وائرس اور اس سے منسلک واقعات اور تنازعات کی نذر رہا تاہم کچھ اور اہم عالمی واقعات بھی رونما ہوئے جنہیں میں اپنے اس کالم میں آپ سب کی نذر کررہا ہوں.
(1) – کرونا وائرس کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف روک دیا گیا:
دنیا بھر کی طرح سعودی عرب میں بھی کرونا ایس و پیز کے تحت بیت اللہ کا طواف مکمل طور پر روک دیا گیا تھا جس سے مسلمان پھوٹ پھوٹ کرروتے اور اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے رہے، اور اسی کرونا کی وجہ سے نجف اشرف اور کربلا معلی کی زیارات بھی بند رہیں جبکہ پاکستان میں دربار اور مقدس مقامات زائرین کیلئے بند رہے.
(2) – ایرانی جنرل کی شہادت:
سال 2020ء کے آغاز پر ہی تیسرے ہی روز سب سے بڑی عالمی خبر جو سامنے آئی وہ امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی تھی، انتہائی اہم فرد کی ہلاکت طویل عرصے سے امریکا کے ساتھ تنازعہ میں گھرے ایران کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔
اس واقعہ کے 2 دن بعد 5 جنوری کو اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی قوتوں کے ساتھ 2015ء میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کردیا تھا جس سے امریکا پہلے ہی علیحدہ ہوچکا تھا. تاہم نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹ اْمیدوارجوبائیڈن کی کامیابی کے بعد ایران نے پیش کش کی کہ اگر امریکہ تہران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کردے تو ایران 2015ء کے جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کرے گا.اس سے قبل القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران ہی ایران نے جواباً عراق میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے تھے. جس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے 80 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا تھااور پورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹرز اور فوجی ساز و سامان کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے.
(3)- نئی دہلی فسادات:
بھارت کے مختلف شہروں میں متنازعہ شہریت قانون بل کی منظوری کے خلاف 2019ء کے اواخر سے مظاہرے جاری تھے اور ان مظاہروں نے متعدد مرتبہ پر تشدد قسم کی صورت بھی اختیار کی اور اس دوران صورتحال خاصی کشیدہ بھی رہی اور ان فسادات میں جس مارکیٹ کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنایا گیا تھا وہاں زیادہ تر دکانیں مسلمانوں کی تھیں.تاہم گزشتہ برس فروری 2020ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے بھارتی دورے کے دوران 23 فروری کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جاری مظاہرے اچانک سنگین مذہبی فسادات کی صورت میں تبدیل ہو گئے. واضح رہے کہ سال 2019ء میں 11 دسمبر کو بھارتی پارلیمنٹ سے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی جبکہ اس فہرست میں مسلمان شامل نہیں تھے. چنانچہ بھارتی دارالحکومت میں ہوئے فسادات کے دوران کم از کم 53 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی.جس کے بارے میں ایک انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ ان فسادات میں  دہلی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو ہدف بنایا تھا، اور انتہا پسندوں نے مسجد کو بھی نذر آتش کردی تھی. اس حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فسادات میں دہلی پولیس نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور پامالی کی ہے. دہلی پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا اور انہیں گرفتار کیا اور ہندو حملہ آوروں کا ساتھ دیا.
(4)- امریکا-طالبان امن معاہدہ

سال 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری 2020ء کوتاریخی امن معاہدے پر دستخط کیے گئے.طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی باتیں افغان اور امریکی رہنماؤں کی جانب سے گزشتہ ایک دہائی سے کی جارہی تھیں  جس کیلئے 2013ء میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان نے سیاسی دفتر قائم کیا تھا تاہم اس میں تیزی اس وقت آئی جب ٹرمپ انتظامیہ نے ستمبر 2019ء میں افغانی نڑاد زلمے خلیل زاد کو افغان امن عمل کے لیے خصوصی سفیر تعینات کیا تھا. معاہدے پر دستخط کی تقریب میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی، اس کے علاوہ تقریباً 50 ممالک کے نمائندوں نے اس تقریب میں شرکت کی جبکہ معاہدے پر دستخط کے پیِشِ نظر طالبان کا 31 رکنی وفد بھی قطر کے دارالحکومت میں موجود تھا. اس معاہدے کے تحت جنگ زدہ ملک افغانستان میں امن کا اگلا قدم بین الافغان مذاکرات تھے جس میں براہِ راست افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت ہونی اور اس کی راہ ہموار کرنے اور باہمی اعتماد سازی کے لیے قیدیوں کی تبادلے کی شرط عائد کی گئی تھی، امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کے تبادلے کا وعدہ کیا گیا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے ایک ہزار افغان سیکورٹی فورسز کے قیدیوں کو رہا کرنا تھا.تاہم یہ اقدام تاخیر کا شکار ہوا اور اپریل سے اس پر باقاعدہ طور پر رہائی کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد وقفے وقفے سے افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے قیدی رہا کیے جاتے رہے تاہم افغان حکام 400 خطرناک طالبان قیدیوں کو رہا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے جنہیں  لویہ جرگے کی منظوری کے بعد بالآخر رہا کردیا گیا۔
(5)- ہیری اور میگھن مارکل کی شاہی حیثیت سے دستبرداری:
ہالی وڈ کی چمکتی دمکتی دنیا چھوڑ کر شاہی خاندان میں شامل ہونے والی میگھن مارکل اور ان کے شوہر برطانوی شہزادے پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا کے بیٹے شہزادہ ہیری نے اپنی شاہی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان رواں سال کے آغاز میں کیا تھا، دونوں نے 2020ء کے آغاز میں ہی 9 جنوری کو اچانک شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا بعد ازاں ملکہ برطانیہ نے بھی دونوں کے فیصلے کی توثیق کردی تھی جس کے بعد 19 جنوری کو شاہی محل نے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شاہی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا. برطانوی شاہی محل سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل اب شاہی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ اب شاہی محل کا حصہ ہوں گے تاہم ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ وہ شاہی خاندان کا حصہ ضرور رہیں گے، چنانچہ 10 مارچ کو برطانوی شاہی جوڑے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل باضابطہ طور پر شاہی حیثیت سے علیحدہ ہوگئے تھیاوردونوں نے امریکہ میں سکونت اختیار کر لی.
(6) – مریکی خام تیل کی قیمتوں میں منفی رجحان:
گزشتہ سال (2020ء) میں جہاں کئی عجیب و غریب اور منفرد عالمی واقعات نے تاریخ میں اپنی جگہ بنائی وہیں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کالا سونا کہلائے جانے والے امریکی خام تیل کی قیمتوں میں بھی منفی رجحان دیکھنے کو ملا ہے، 21 اپریل کو امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) مئی کی ڈیلوری کے لیے منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوا، یعنی خام تیل کے فروخت کنندہ خریدار کو تیل کے ساتھ ساتھ 37.63 ڈالر فی بیرل دینے پر مجبور ہوگئے.امریکی خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ منفی ہونے کے بعد وال اسٹریٹ میں بھی شدید مندی کا شکار رہی ہے.اور عالمی منڈی میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی اور پیداوار کے حوالے سے سعودی عرب اور روس کے درمیان تنازعہ نے بھی تیل کی قیمتوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیاہے لیکن تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا سلسلہ کورونا وائرس کے باعث دنیا کے کئی ممالک میں لگائے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جاری رہا جس کے دوران نہ صرف فضائی بلکہ زمینی اور سمندری نقل و حمل کو انتہائی محدود کردیا گیا اور اس کے نتیجے میں تیل کی کھپت میں بھی بڑی کمی واقع ہوئی.
(7)- دنیا کے کئی ممالک میں آتشزدگی:
ویسے تو2019ء سے ہی دنیا کے ایک خطے  آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ نے وسیع پیمانے پر جنگلی حیات کے لیے تباہی مچائی تھی تاہم 2020ء میں مزید ایسے آتشزدگی کے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے بین الاقومی سطح پر توجہ کا مرکز بنے، جیسے آسٹریلیا کے جنگلات اور خشک سالی سے متاثرہ زمین کے ایک لاکھ 15 ہزار اسکوائر کلومیٹرز سے زائد (44 ہزار اسکوائر میل) حصے پر آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 30 افراد لقمہ اجل بنے اور ہزاروں گھر تباہ ہو کر راکھ کا ڈھیر بن گئے. یہ جدید آسٹریلیائی تاریخ میں سب سے وسیع اور طویل بش فائر سیزن تھا. ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس غیرمعمولی آگ کے نتیجے میں 3 ارب جانور ہلاک ہوئے یا متاثرہ علاقہ چھوڑ گئے اور یہ موجودہ ترقیاتی دور کی تاریخ میں جنگلی حیات کی بدترین تباہی میں سے ایک ہے. 25 اگست کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگارہ پرخوفناک دھماکے نے کئی میل تک عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس کے نتیجے میں 190 سے زائد افراد ہلاک اور 6 ہزار زخمی ہوگئے تھے. ماہ اگست میں صرف بیروت ہی نہیں بلکہ صرف 4 روز کے دوران مجموعی طور پر دنیا کے 7 ممالک میں  اس قسم کے واقعات رونما ہوئے جن میں چائنہ، لبنان، فرانس، شمالی کوریا، عراق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں.
(8)- سانحہ کرائسٹ چرچ کاشاندار ٹرائل اور مجرم کو سزا –
سال 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں فائرنگ کرکے 51 نمازیوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا سنائی گئی، نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مجرم کو ایسی سزا سنائی گئی کہ جس میں مجرم کو کسی بھی صورت معافی کا حق نہیں دیا گیا. یاد رہے کہ 15 مارچ2020ء کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک سفید فام دہشت گرد نے 2 مسجدوں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے متعدد افراد کو شہید اور زخمی کیا تھا، ساتھ ہی اس نے اس پوری کارروائی کو سوشل میڈیا پر بھی وائرل کر دیا تھا جس کے بعد بریٹن ٹیرنٹ کو 51 افراد کے قتل اور 40 آدمیوں کے اقدام قتل اور ایک دہشت گردی کے اقدام کا مجرم قرار دیا گیا تھا. جسے سزا دینے کی کارروائی کا آغاز 24 اگست کو ہوا تھا اور 4 روز تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں اپنے پیاروں کی جدائی کے کرب سے گزرنے والے لواحقین نے جذباتی انداز میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے. جج نے مجرم کو مخاطب کرتے ہوئے اور سزا سناتے ہوئے کہا تھا کہ ‘تمہارے جرائم اتنے گھناؤنے ہیں کہ اگر مرنے تک تم کو حراست میں رکھا جائے تو بھی سزا اور مذمت کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاسکے گا جبکہ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے کبھی سورج کی روشنی نہیں نصیب ہوگی.
(9)- مسلم ممالک اور ناجائز ریاست اسرائیل-
فلسطین کی حمایت کرنے والے افراد بالخصوص مسلمان رواں برس اگست میں اس وقت یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے جب عرب ریاست متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کے لیے امن معاہدہ کیا یہ نام نہاد “ابراہام معاہدہ”جس نے اسرائیل سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کے درمیان طویل عرصے سے خفیہ تعلقات کی کلی چاک کر کے رکھ دی ہے جس کی بنیاد حالیہ سالوں میں خطے میں موجود مشترکہ حریف ایران کے حوالے سے تشویش پر رکھی گئی تھی اور اس معاہدہ کے بارے میں اعلان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیاتھا، انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ خطے کے دیگر ممالک بھی یو اے ای کے نقش قدم پر چلیں گے اور بعد ازاں ان کا یہ دعویٰ بالکل درست ثابت ہوا تھا.
بعدازاں 29 اگست کو یو اے ای نے اپنے قانون میں شامل اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق شق منسوخ کردی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف تعلقات معمول پر آئے بلکہ عوامی سطح پر بھی رابطے بڑھانے کے مختلف اقدامات کیے گئے اور باقاعدہ متحدہ عرب امارات کی پہلی مسافر پرواز 9 اکتوبر کو اسرائیل پہنچی تھی.
یو اے ای کے بعد بحرین وہ چوتھا مسلمان ملک تھا جس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com