”یادوں کی الماری“

تحریر:مجیداحمد جائی
بیماری کوئی بھی ہو، آزمائش کے ساتھ ساتھ رحمت بن کر بے شمار نعمتیں بھی لاتی ہے۔انسان کواپنے تخلیق کرنے والے رب تعالیٰ سے ملواتی ہے،خود کو خود سے ہمکلام بھی کرواتی ہے۔آپ یقین کریں یا نہ کریں، اب مصروفیات کی زیست میں،انسان کے پاس اپنے آپ کے لیے بھی وقت نہیں رہا۔غوروفکر کرنے کے لیے وقت بہت ضروری ہے۔بندہ جب بیمار ہو کر بستر کا ہو کر رہ جاتا ہے تب خود سے ہمکلام تو ہوتا ہی ہے لیکن اپنے رب تعالیٰ کو بھی یاد کرتا ہے۔زندگی کے نشیب وفراز کا محاسبہ کرتا ہے۔ تلخ اور حسین یادوں میں کھو کر خود سے باتیں کرتا ہے اوران میں سے زیادہ ترلوگ ا ن یادوں کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرکے سکون پاتے ہیں۔
ادب کی دُنیا میں غوطہ زن ہوں تو معلوم ہوتا ہے،ہر اچھا ادب انہی دِنوں میں تخلیق کیا گیا ہے۔ایسے ایسے شاہکار سامنے آئے ہیں جو خوشی و مسرت کے لمحوں اور عام دِنوں میں تخلیق ہونا ممکن نہیں ہوسکتے تھے۔مجھے کتابوں سے عشق کرنے والا،کے لقب سے دوست نوازتے ہیں۔میرے لیے سردی کا موسم کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔لحاف اوڑھے ٹھنڈی یخ راتوں میں یا چمکیلی دوپہروں میں کتاب پڑھنے کا جو لطف ہے وہ کسی اور لمحے میں،مجھے نہیں ملتا۔
”یادوں کی الماری“کتاب کا نام ہے جس کی مصنفہ نسیم سلیمانہیں۔ کتاب نصف صدی کی یادوں پہ محیط ہے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔اس کتاب میں ایک ایسی شخصیت (جو پہلے طالب علم تھی،پھر استاد کے درجہ پر فائز ہوئی اور آج کل پرنسپل کے عہدے پر فائز ہیں)کی یادوں کے خزانے ہیں۔
”یادوں کی الماری“جادوئی کتاب ہے۔اس سے پہلے آنے والی بیسیوں کتب میرے اسٹڈی روم میں،میرے انتظار میں ہیں۔اس کتاب میں ایسا جادو ہے کے اس نے سب کام کاج چھڑا کر،مجھے جکڑ لیا۔یہ مبالغہ آرائی نہیں،حقیقت ہے۔اسی جادو کا ہی اثر ہے کہ صرف ڈیڑھ دن میں 160صفحات کی کتاب لفظ بہ لفظ مطالعہ کرکے،آپ سے مخاطب ہوں۔
”یادوں کی الماری“میں تڑپ ہے،کسک ہے،جذبے ہیں،ہمت ہے،مشکلات کا ذکر ہے اور ایثار وقربانی کے قصے ہیں۔البیلاپن کے ساتھ ساتھ سنجید گی اور صبر و برداشت کرنے والی،معاشرے کو سدھارنے والی استاد کی زیست کے ساتھ جڑی حسین و تلخ یادوں کاذکر ہے۔”اس کتاب میں خود نمائی کہیں بھی نہیں ملتی بلکہ حرف حرف سے حقیقت عیاں ہے۔ مصنفہ سے جڑے لوگوں کے قصے بیان ہوئے ہیں،جنہوں نے زیست کو معطر اور روشن کرنے کے ساتھ ہر اچھے اور بُرے وقت میں بھر پور ساتھ دیا۔یہی وجہ ہے آج ”یادوں کی الماری“ میں بیٹھے مسکرارہے ہیں۔
”یادوں کی الماری“نے میرے ہاتھوں میں آتے ہی یوں اپنی طرف متوجہ کیا،جیسے یہی میری زندگی ہے اور اس سے میری سانسیں جڑی ہیں۔نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں بالائے طاق رکھے،ان یادوں میں کھویا رہا،یہاں تک کے ناشتہ بھول گیا،رات کا کھانا گیا،بجلی نہیں تو موبائل کی لائٹ اون کرکے رات کے دوبجے تک پڑھی۔میرے یہ الفاظ،میرے جذبے اور احساسات،آپ کو مبالغہ آرائی لگیں تو اس کا مطالعہ کرکے دیکھ لیجئے۔
زندگی کے نشیب و فراز میں کئی کتب زیر مطالعہ رہیں اور ہیں،بہت کم ایسی ہیں جنہوں نے میری زیست کو ایک راستہ دکھایا۔میرے جذبوں کو تقویت دی،مجھے طاقت دی اور ہمت دے کر زندگی سے مسرت کشید کرنے کا درس دیا۔یہ ساری خوبیاں ”یادوں کی الماری“میں ہیں۔”یادوں کی الماری“نے مجھے حد سے زیادہ رولایا بھی ہے،ہنسایا نہیں یا بہت کم ہنسایا ہے۔اس کے ہر مضمون نے،مجھے تڑپایا،میری روح تک گھائل ہوئی،جسم کا روں روں خوف سے چیخ اٹھا۔
”اے گستاخ بندے،تو کس نگری میں پھرتا ہے،ان لوگوں کو دیکھ،ان کی زندگیوں سے سیکھ،اپنے رب تعالیٰ کو یا دکر،ذرا سی خراش کیا لگی،شکوے شکایات کے انبار لگادیتا ہے،ہوش کر“
”یادوں کی الماری“کشمیر کی تہذیب و تمدن،کلچروثقافت کے ساتھ ساتھ،پتھروں کی باتیں کرتی ہے،آبشاروں،کچے گھروں کے باسی سچے کھرے لوگوں کی باتیں کرتی ہے۔ایک حوالے سے تاریخ سے روشنا ش بھی کراتی ہے۔یہ کتاب 160صفحات پر مشتمل ہے،چالیس صفحات رنگین تصویروں سے مزین ہیں جو کے الگ ہیں۔یہ تصویریں بھی یادوں کی الماری کھولے ہوئے ہیں۔سرورق اور بیک ٹائٹل دیدہ زیب ہے۔بیک پر ”کاش میرے ابو ہوتے“جب زندگی نے آنکھ کھولی،مضمون کے دوپیراگراف لے کر یہاں دئیے گئے ہیں۔دارالمصحف،لاہور کے نامور ادارے نے،نہایت نفاست سے،جنوری 2021ء میں شائع کی ہے۔اس کی قیمت پانچ سو روپے ہے۔یہ ادارہ اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے معیاری اور اعلی کتب منظر عام پر لا رہاہے۔اعلی کوالٹی کا کاغذ،مضبوط جلدبندی،اس کے اعلی نمونے ہیں۔اس کتاب کی مصنفہ نسیم سلیمان،پروف ریڈر ممتاز غزنی اور ناشر فہیم عالم ہیں۔
”یادوں کی الماری“چودہ اُنی کی صورت ٹرک کے نمبرکو یاد رکھتی ہے۔میم کا پرٹوکولی دستہ،کالی ٹنگیاں کو پتھر مار مار اتارکے کھانا،مس فخر کے دھمادم مکُے،سائیکل اور موٹر سائیکل کی پہلی سواری،سہیلی کے ہاتھوں بلیک میل ہونے تک خوبصورت یادوں سے مزین ہے۔ابواور ماٹو جیسے کرداروں کو (جب بندہ تھک ہار کر مایوس ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت جوش مارتی ہے) اور ان سے ملا دیتی ہے۔جن کے دو میٹھے قیمتی بول آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھی بھر دیتے ہیں۔رو دینے اور رولادینے میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔
”یادوں کی الماری“میں ایک خاتون کا ایک ماں کو کہاجانے والا جملہ کتنا دردناک اور اذیت ناک ہے:”تم آج بھی ادھر کام کر رہی ہو۔تمہارے پُتر کی لاش آرہی ہے۔“مصنفہ کا چاربہیاڑدیکھنے کی حسرت رہ گئی۔چار بہیاڑ درخت کے سرسراتے پتوں کی آواز ایسے ہیں جیسے عورتیں بین کر رہی ہوں۔کمال حسن،جو حواسوں کی دُنیا میں نہ رہتے ہوئے بھی اپنے گھر کا پتہ جانتا تھا۔
”یادوں کی الماری“مشکلات کا مقابلہ کرنا سیکھاتی ہے۔یہی مشکلات انسان کو کندن بنا دیتی ہیں،رب سے ملواتی ہیں،کامیابی دلاتی ہیں۔ایک ایسے ڈرائیور سے ملواتی ہے جو تمام سواریوں کو بلاناغہ اپنے خرچے پہ چائے پلاتا ہے۔پیسے دینے لگو تو ناراض ہو جاتا ہے۔”ایسا بھی ہوتا ہے“میں ایک ماں،اپنے بچوں کے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے خود کو مٹا دیتی ہے۔کتنا درد چھپا ہے اس میں۔عاصمہ خان کے مضمون نے دل چیر کر رکھ دیا۔ایک مسیحا کی کہانی،جیورو ماسی اور پانچ روپے کی کہانی نامکمل رہ جاتی ہے۔پہلی پرواز میں راہ چلتے میں ملنے والے ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں جو زندگی کی آخری سانس تک یادوں کی صورت تروتازہ رہتے ہیں۔”جان بھابھی“پڑھ کر معلوم ہوا کے زندگی یوں بھی تماشا کر تی ہے۔”زندگی اتنی مشکل بھی ہوتی ہے“اس مضمون کو کمزور دل رکھنے والے نہ پڑھیں کیونکہ اس میں جو درد ہے،کہیں آپ کا دل نہ پھاڑ دے۔ارشاد آپا کا جگرا تھا جو سب آزمائشوں کو صبر کے ساتھ سہتی رہی۔
”یادوں کی الماری“کے کن کن پہلوؤں پہ بات کروں۔پس اتنا ہی کہتا ہوں آپ نے اس کو نہیں پڑھا تو ایک اچھی کتاب سے محروم رہ گئے۔ایسی کتاب جو آپ کو بہت سے خزانے دیتی ہے۔آپ کی زندگی سنوار سکتی ہے۔آپ کی سوچوں کے دھارے بدل سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ مصنفہ نسیم سلیمان کو سلامت رکھے آمین!۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com