کرونا اور یاد الہی میں رونا

کرونا اور یاد الہی میں رونا
تحریر انور علی
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عوام کی اکثریت سیاست سے دلچسپی رکھتی ہے کہیں پہ بھی عمران خان، نوازشریف کا نام آجائے لوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اکثر یہی بحث چل رہی ہوتی ہے کہ نواز شریف کب واپس آئیں گے- عمران خان کا مستقبل کیا ہوگا کیا- موجودہ حکومت مدت پوری پوری کر پائے گی- کیا عوام کے حالات میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ اس لیے لکھنے والوں کی بھی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ انہی موضوعات پر زور آزمائی کریں لیکن کبھی کبھار ان موضوعات سے ہٹ کر بھی لکھنا پڑتا ہے جو لکھنے والے کی اپنی دلی تسکین کے علاوہ پڑھنے والے کے لیے بھی راحت کا سامان ہو
اس وقت ہر طرف ایک خوف کا عالم ہے ہر طرف کرونا وائرس پہ بات ہورہی ہے احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں سماجی اور دینی اجتماعات پر پابندی لگادی گئی ہے شادی ہال سکول کالجز بند کر دیے گئے ہیں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے لیکن کرونا وائرس رکنے کی بجائے پھیلتا ہی جا رہا ہے ان حالات میں ہمیں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اپنے کئے پر نادم ہونا چاہیے ان حالات میں ہمیں ڈرنے کی بجائے قوت ایمانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے خوداحتسابی کی طرف آنا چاہیے کہ کیوں یہ عذاب ہم پر مسلط ہوا ہے لیکن ہم ابھی بھی اصل راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں رات بھی ہماری مسجد کے امام نمازیوں کی تعداد دیکھ کر افسوس کا اظہار کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ایسی جگہوں پہ تو اللہ تعالی کی رحمت برستی ہے لیکن ہم رحمت والی جگہ کو چھوڑ کر گھروں میں قید ہو رہے ہیں
خدارا کرونا کا خوف دل سے نکال کر خدا کا خوف دل میں بسائیے اور اسی سے التجائیں کیجیے آپ دیکھیں گے کہ ایک عجیب سا سکون آپ کی زندگی میں آئے گا اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی کو گزارنے کی کوشش کریں اپنے معاملات کو اللہ تعالی کے سپرد کریں آپ کے دل و دماغ سے بوجھ اتر جائے گا اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے میرے بندے اگر تجھے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ میری رحمت کی وجہ سے ہے اور اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے یقیناً اس وقت پھیلنے والی وبا ہمارے اعمال کا ہی نتیجہ ہے جو ہمیں اللہ تعالی سے رجوع کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اس لیے میں نے بھی سیاست کے ساتھ دینی کتب کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں جب میں نے اپنی مسجد کے امام صاحب سے بات کی جو نہایت شفیق ملنسار اور ایک باعمل عالم دین ہیں انہوں نے مجھے ایک کتاب تحفے کے طور پر دی ہے کتاب کا نام ” کشف المعجوب ” ہے جو حضور داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں ایک روایت نقل کی ہے جو واقعی ہی زندگی بدلنے کا نسخہ ہے میں اسے بار بار پڑھتا رہا اور اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتا رہا روایت کچھ یوں ہے کہ
حضرت حاتم اصم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے چار علوم اختیار کیے اور دنیا کے تمام علوم سے آزاد ہو گیا لوگوں نے پوچھا وہ چار علوم کونسے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا
پہلا علم تو یہ ہے کہ جو رزق میری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے وہ کم یا زیادہ نہیں ہوسکتا اس وجہ سے میں زیادہ رزق کی تلاش سے بے پرواہ ہوگیا ہوں
دوسرا علم یہ ہے کہ میرے پروردگار کے مجھ پر کچھ ایسے حقوق ہیں جو میرے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرسکتا لہذا میں ان حقوق کی ادائیگی میں مشغول ہو گیا ہوں
تیسرا علم یہ ہے کہ موت میری طالب ہے اور میں کسی طور پر بھی اس سے بچ نہیں سکتا لہذا میں اس کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہوں
چوتھا علم یہ ہے کہ میرا پروردگار ہر لمحہ مجھے دیکھ رہا ہے میں اس سے شرماتا ہوں اور بے عملی سے اجتناب کرتا ہوں اور ہر ایسے فعل سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں جس کی وجہ سے کل قیامت کے دن مجھے اس کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے
مندرجہ بالا علوم اگر ہم بھی پڑھنے کی بجائے اختیار کرلیں تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے آج کل جو ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اس کی وجہ پیسے کی دوڑ ہے جس میں ہر شخص آگے نکلنا چاہتا ہے جس کے لئے وہ جائز و ناجائز ذرائع استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا حالانکہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مقسوم رزق ملنے تک اسے موت آ ہی نہیں سکتی دولت کی ہوس انسان کو حقوق اللہ کی ادائیگی سے دور لے جاتی ہے حتیٰ کے موت آجاتی ہے لیکن موت کی تیاری نہیں ہوتی-
کہتے ہیں کہ ایک درویش کی ایک بادشاہ سے ملاقات ہوئی بادشاہ نے کہا کچھ مانگئے. درویش نے کہا میں اپنے غلاموں ںسے کیا مانگوں بادشاہ نے کہا کس طرح درویش نے فرمایا میرے دو غلام ہیں اور وہ دونوں تیرے مالک ہیں ایک ہے حرص دنیا اور دوسرا لمبی امید
ہمیں بھی دولت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
لائن شکرتم لا ازیدنکم
اگر تم شکر کرو گے تو البتہ میں تم کو زیادہ دوں گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com