صاحب مال کی عبادت نیکی کے وضو سے ہوتی ہے

صاحب مال کی عبادت نیکی کے وضو سے ہوتی ہے!
ظفر اقبال ظفر
کسی کو مجبوری وضرورت میں دیکھواورتم اس گنجائش میں ہو کہ اس کی مدد کر سکتے ہو۔اور نہ کرو۔ تو پھر تم چاہے عابد ہو زاہد ہو مگر نیک نہیں ہو۔ نیک نہیں تو سارے اعمال خود غرضی کے زمرے میں آجائیں گے۔کہ فقط عبادت تو فرشتوں کا کام ہے انسان کی عبادت تو نیکی کے وضو سے شروع ہوتی ہے اللہ کے ضرورت مند بندوں کو نظر انداز کرکے چھٹکارے کی عبادت کرنے والے وہ منافق ہیں جو اللہ کے ساتھ فراڈ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اللہ کو تمہاری عبادتوں کی بھلاکیا لالچ ہے وہ تو دیکھنا چاہتا ہے کہ میرے بندوں کے ساتھ کیسا پیش آتے ہو حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس کو مسلمان کا درد نہ ہو وہ میری اُمت میں سے نہیں۔یہاں کتنے ہیں جنہیں دوسروں کی تکلیف میں زندگی بے چین رکھتی ہے سوال اُن سے ہے جن کے پاس جینے سے زائد مال جمع ہے۔جو غریب ہیں وہ سخاوت کے سوال سے آزاد ہیں مال کا مطلب دنیا ہوتا ہے اور جمع شدہ دنیا اعمال نامے پر کتنی بھاری ہوتی ہے اس کا علم اسلام کی بنیادوں میں قربانیاں دینے والوں کی زندگیوں سے ملتا ہے اور ساتھ میں خرچ شدہ مال کا اجر بھی معلوم ہوتا ہے۔نیک بندوں کے پاس اللہ کی طرف سے مال آنا صرف اس مقصد پر متعین ہوتا ہے کہ اسے اللہ کی کمزور مخلوق تک پہنچایا جائے ہر مشکل گھڑی حقیقتوں سے پردہ اٹھانے آتی ہے مفاد کی غرض کو دل میں اور انسانیت کے احساس کو مطلب کی غرض پر رکھنے والے مطمن منافقوں نے اس دنیا میں نچلی سطح پر جینے والوں کی زندگیاں حرام کی ہوئی ہیں۔حضرت علی ؓ اپنے دستر خوان پر دو طرح کے کھانے پاتے تو غمزدہ ہو جاتے کہ آج کسی کا حق مارا گیا ہے اور کسی بھوکے کو تلاش کرتے کہ غیرت ایمانی کو آنچ نہ پہنچے۔حضور ﷺ کے پرداداحضرت ہاشم کا اصل نام عمروالعلاء ہے ہاشم نام اس وجہ سے پڑا کہ ایک مرتبہ عرب میں شدید قحط پڑا حتیٰ کہ لوگ بھوکے مرنے لگے توجناب حضرت ہاشم سے ان کی تکلیف دیکھی نہ گئی اپنا زاتی مال و دولت لے کر ملک شام گئے اور وہاں سے آٹے اور روٹیوں کا بہت سا زخیرہ خرید کراونٹوں پر لادمکہ لائے اور اپنے اونٹ زبح کروا کر بہت سا شوربہ بنوایا پھر اس شوربے میں روٹی چور کر ثرید بنا کر لوگوں کو کھلایا تمام بھوکے لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اس وقت سے آپ ہاشم کے لقب سے پکارے جانے لگے کیونکہ ہاشم کے معنی توڑنے کے ہیں انہوں نے روٹی توڑ کر سالن میں بھگو کر لوگوں کو کھلائی تھی۔ اگر مالی حیثیت کے ترازو میں حقوق العباد حقوق اللہ کے برابر نہ ہوں تو ناانصافی کے زمرے میں آ جاؤ گئے اللہ نے اپناحق معاف فرما بھی دیا اور پھر بھی انسانوں کے حقوق کمتر نکلے تو اللہ کے رزق کا حساب سخت مشکل میں مبتلا کر دے گا۔نا جانے کتنے ہی ایسے انسان ہیں جودنیا اکھٹا کرنے میں لگے ہیں اور دنیا ان کو دنیا سے نکالنے میں لگی ہوئی اور ایک دن دنیا ہی کامیاب ہو گئی۔زندگی اس طرح سے گزار جاؤ کہ موت کا سامنا کرتے ہوئے کوئی فکر نہ ہو کہ جہاں جانا ہے وہاں صلہ رحمی کا خزانہ پہنچا چکے ہو۔اللہ اس قدرت پر قادر ہے کہ وہ سب مستحق بندوں تک خود رزق پہنچا دے مگر وہ تمہارا دل اپنی کمزور مخلوق کے احساس سے بھرا دیکھنا چاہتا ہے۔آج اگر زیادہ مال رکھنے والوں سے ان کی ضرورت سے اضافی لے کر غریب عوام میں تقسیم کر دیا جائے تو دنیا کے غم ختم ہو جائیں۔شیخ سعدی ؒفرماتے ہیں کہ جو دوسروں کے غم سے لا تعلق ہے وہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔آج انسانیت انفرادی طور پر اسی لیے غموں میں جکڑی ہوئی ہے کہ وہ صرف اپنی ہی زات تک سوچتی اور محدود رہتی ہے جب کہ غم کو ختم کرنے کلیہ اللہ نے یہی رکھا ہے کہ دوسروں کے غم دور کیے جائیں تو آپ کی اپنی زات سکون کے حصول کی حقدار بنے گئی اسی محرومی کو دیکھتے ہوئے مولانا جلال الدین رومی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے جسم پر لباس نہیں ہوتا اور بہت سے لباس دیکھے ہیں جن میں انسان نہیں ہوتا۔انسانیت شاندار حیلے کی محتاج نہیں ہوتی فقط احساس اور مددکے جذبے سے نظر آتی ہے جبکہ سونے چاندی اور قیمتی گاڑی عالی ٰ شان گھررکھنے والا آدمی زاتی دیکھاوے کا نام تو ہو سکتا ہے مگر انسانیت کا تعارف نہیں ہو سکتا۔اللہ والے کہتے ہیں کہ دنیا ہاتھ سے نکل جائے تو انسان غریب ہو جاتا ہے جبکہ یہی دنیا دل سے نکل جائے تو انسان ولی ہو جاتا ہے۔میں نے مسجد کی تعمیر کے لیے جگہ اور پیسے دیتے انسان دیکھے ہیں مگر کسی غریب کو جھونپڑی سے نکال کر مکان میں لے جاتے انسان نہیں دیکھے جس رب کو رہنے کے لیے زمین کے ٹکڑے اور پتھر کی عمارت کی ضرورت نہیں اُس کے نام پر کئی دیتے ہیں اور جس رب کے بندے کو اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے اسے دیناغیر ضروری سمجھتے ہیں جبکہ یہ جنت میں گھر تعمیر کروانے کے برابر ہے۔اللہ کی رضا کے لیے جانور پر خرچ کرنے کا بھی اجر ملتا ہے تو اشرف المخلوقات پر خرچ رائیگاں کیسے جا ئے گا۔خدا کی قسم غریب کے دل سے نکلی آہ رب کا عرش ہلا دیتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com