تیل کے عالمی سوداگر

بادشاہ خان
دنیا پرمختلف ناموں سے اداروں،گروپوں کی اجارہ داری ہے، ادویات سے لیکر میڈیا تک، اسلحے کے عالمی سینڈیکٹس سے لیکر تیل کے عالمی سوداگروں تک چند ممالک اور گروپوں کی اجارہ داری ہے، اور ایک بار پھر ثابت ہوا کہ ان عالمی سوداگروں کے نزدیک اپنے مفادات عزیز ہیں، اور اس کے لئے کبھی بھی کہیں بھی اکھٹے ہوسکتے ہیں، کئی خبریں سامنے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اکیسویں صدی میں کوئی بھی ملک آزاد نہیں مختلف نادیدہ زنجیروں میں جھکڑے ہوئے ہیں،اور تیل کو تو دوسرا ڈالر بلکہ پیٹرو ڈالر کہا جاتا ہے، مصنوعی بحران اور ایک دوسرے کو نیچا دکھنے کی ناکام کوشش کے بعد عالمی طاقتیں تیل کے بحران پر ایک ہوچکی،تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک کا اتحاد اوپیک پلس ایک تاریخی معاہدہ طے کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ بقول اوپیک کے اس معاہدے کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈی میں ایک بار پھر توازن پیدا ہو جائے گا۔ یہ پیش رفت جمعے کے روز میکسیکو کی جانب سے پیداوار میں مطلوبہ کمی پر آمادہ ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام بتایا کہ میکسیکو اپنی تیل کی یومیہ پیداوار میں ایک لاکھ بیرل کی کمی کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔ امریکا اس کمی کے سلسلے میں میکسیکو کی مدد کرے گا۔جمعرات کو اوپیک پلس گروپ کا ایک خصوصی اجلاس ہوا۔ جس میں اوپیک تنظیم کے رکن ممالک اور تیل پیدا کرنے والے غیر رکن ممالک کے متعلقہ وزرا نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شریک ممالک نے تعاون کا اعلان کیا اور باور کرایا کہ تیل کی منڈیوں کو پھر سے مستحکم کرنے کے لیے وہ مقررہ فیصلوں کی پاسداری کرینگے۔10دسمبر 2016 کو دستخط ہونے والے تعاون کے اعلامیے اور 2 جولائی 2019 کو دستخط ہونے والے میثاقِ تعاون پرعمل کی یقین دہانی کرائی گئی تھی،یکم مئی 2020سے اوپیک+ گروپ کی خام تیل کی مجموعی پیداوار میں یومیہ1کروڑ بیرل کی کمی کی جائے گی۔ پیداوار میں کمی پر عمل درآمد30جون2020(دو ماہ) تک جاری رہے گا۔ اگلے چھ ماہ یعنی یکم جولائی 2020 سے 31 دسمبر 2020تک مجموعی پیداوار میں یومیہ کمی80لاکھ بیرل ہو گی۔ بعد ازاں یکم جنوری 2021 سے30اپریل2022(16ماہ) تک تیل کی مجموعی پیداوار میں کمی کا حجم یومیہ 60لاکھ بیرل ہوگا۔ جمعے کے روز دستخط ہونے والا سمجھوتا 30 اپریل 2022تک نافذ العمل ہو گا۔تیل پیدا کرنے والے تمام بڑے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عالمی منڈی میں استحکام کو یقینی بنانے کی حالیہ کوششوں میں حصہ لیں۔پیداوار میں کمی کے معاہدے کی نگرانی کیلئے مشترکہ وزارتی کمیٹی کے کردار پر زور دیا گیا۔ اس سلسلے میں اوپیک کی مشترکہ تکنیکی کمیٹی اور سکریٹریٹ کا تعاون حاصل رہے گا۔اس بات کی یقین دہانی کہ خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اطلاق ثانوی ذرائع کی جانب سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ہو گا۔رواں سال 10جون کو ”ویبینار” ٹیکنالوجی کے ذریعے اجلاس کا انعقاد ہو گا۔ اجلاس میں تیل کی منڈیوں میں توازن کو یقینی بنانے کیلئے ممکنہ طور پر مطلوب اضافی اقدامات کا تعین کیا جائیگا
امریکا،سعودیہ،روس توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام کیلئے کوشاں ہیں۔
دوسری جانب سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، روسی صدر ولادی میر پوتین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر مشترکہ رابطے میں توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام پر بات چیت ہوئی۔سعودی میڈیا کے مطابق بات چیت میں اوپیک پلس گروپ کے اجلاس کی روشنی میں حالیہ کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔تینوں عالمی سربراہان کے درمیان مشترکہ بات چیت اوپیک پلس اتحاد کی جانب سے تیل کی پیداوار کم کرنے کے اعلان کے بعد ہوئی ہے۔ اعلان میں کہا گیا کہ مئی اور جون میں تیل کی یومیہ پیداوار میں ایک کروڑ بیرل کی کمی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد کرونا وائرس کے بحران کے سبب گر جانے والی قیمتوں کو بڑھانا ہے۔
دنیابیک وقت کئی بحرانو ں سے دوچار ہے، کرونا وائرس سے عوام گھروں تک محدود ہوگئے ہیں، ایک لاکھ سے زیادہ اموات کی خبر ہے،لاکھوں اس وائرس سے متاثر ہیں،تجارت بازار، دفاتر اسکول بند ہیں،،سوال یہ ہے کہ آخری کیا وجوہات ہیں، کرونا سمیت عالمی حالات میں اس قدر تیزی سے تبدیلی لائی گئی؟ اس کے مقاصد کیا ہیں؟ کون کون سے ممالک اس کا نشانہ ہیں،؟غور کرنے کا وقت ہے،اس وقت توانائی کی نت نئی اقسام کے مارکیٹ میں آنے سے کئی مصنوعات کے استعمال میں کمی آگئی ہے جبکہ امریکہ سمیت کئی ممالک کا انحصار تیل سپلائی کرنے والے ممالک کم ہوگیا ہے دوسری طرف عرب ممالک میں جاری جنگ جس کے کئی پہلو ہیں آنے والے دنوں میں مزید خراب صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے،
تیل کی قیمتوں پر سعودی عرب اور روس کے مابین جاری تلخی اگرچہ ختم ہوگئی ہے، لیکن کیا یہ بحران دوبارہ سر نہیں اٹھائے گا؟سعودی عرب نے اسی وجہ سے مستقبل میں چین اورانڈیا میں تیل خریدنے والوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ روسی تیل کی مانگ بہت کم،روس خود بھی عالمی منڈی میں اپنا شئیر بڑھنا چاہتا ہے،دوسری جانب سعودی عرب اپنے ساتھی ممالک کو تیل کی مزید سپلائی لینے کے لیے تیار کرنیکی کوشش کر رہا ہے، سعودی عرب کے ذخائر 297 ارب بیرلز ہیں ایران کے 155 ارب بیرلز ہیں اور عراق کے 147 ارب بیرلزہیں۔ماضی میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک سعودی عرب قیمتوں کو گرنے سے بچانے کے لیے پیداوار میں اضافہ یا کمی کیا کرتا تھا۔ سوال تیل کی پراکسی جنگ کا نہیں ہے،جس میں ان ممالک کو اپنے مفادات سے سروکار ہے،عوام کی پریشانیوں سے کوئی مطلب نہیں اور پھر جب ان ممالک میں کوئی تحریک ابھرتی ہے تو اس کے خلاف بھی اکھٹے نظر آتے ہیں،کیا تیل کے عالمی سوداگروں کا یہ سینڈیکٹ باقی رہے گا؟یا نئی انرجی آنے سے نئے اتحاد بن کر ابھرے گے؟فی الحال یہ عالمی گروپ ادارے دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں کامیاب نظر آتے ہیں بادی النظر میں؟۔۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com