عالمی یوم صحت ، نرسنگ ومڈوائف کاشعبہ صحت میں اہم کردار

عالمی یوم صحت ، نرسنگ ومڈوائف کاشعبہ صحت میں اہم کردار
اختر سردار چودھری
کہا جاتا ہے اس وقت دنیا نے بہت ترقی کر لی ہے انسان کو ہر طرح کی سہولیات میسرہیں ۔اس کے باوجود ایک بات دیکھنے میں آ رہی ہے کہ انسان پہلے سے زیادہ بے سکون ہے ۔ہر سال نئی نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔انسان ان کی ادویات بناتا ہے تو اگلے سال مزید نئی بیماریاں جنم لے لیتی ہیں ،جیسے حال ہی میں ایک نئی کرونا وائرس نامی سامنے آئی ہیں۔انسان کے لیے سب سے اہم اس کی زندگی ہے اور زندگی خو ش گزارنے کے لیے اس کو سب سے زیادہ اپنی صحت کی فکر کرنا چاہیے ۔اگر صحت مند ہوں گے تو ہی کوئی دنیا کا کام کر سکیں گے ۔اسی لیے کہتے ہیں تندرستی ہزار نعمت ہے ۔صحت اور تندرستی کی قدر اس سے پوچھیں جو بیمار ہو ۔ہم انسان ناشکرے ہیں جب تک ہمیں صحت وتندرستی حاصل رہتی ہے ہم اس کی قدر نہیں کرتے ۔اللہ کا شکرادا نہیں کرتے ۔اپنی صحت کی قدر کرنا اور اپنے آپ کو صحت مند رکھنا بہت اہم ہے ۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں صحت مند اسے کہا جاتا ہے جس کو نفسیاتی ،روحانی،جسمانی بیماری نہ ہو ۔اس میں روحانی بیماری کا میں نے اضافہ کیا ہے جس کی وضاحت آگے کروں گا ۔نفسیاتی بیماری کو ذہنی بیماری بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت دنیا کو جس بیماری کا سب سے زیادہ سامنا ہے وہ ہے نفسیاتی بیماری ۔یعنی ذہنی دبائو ،ڈپریشن وغیرہ ۔ڈیپریشن ایک نفسیاتی بیماری ہے ،اس وقت ڈیپریشن تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں چوتھے نمبر پر ہے۔ڈیپریشن لاحق ہونے کی وجوہات میں غربت ،بے روزگاری ،زندگی میں رونما ہونے والے مختلف واقعات اور سانحات شامل ہوتے ہیں۔
حضرت واصف علی واصف کا قول ہے کہ پریشانی خیالات سے پیدا ہوتی ہے ۔خیالات سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج بھی خیال سے ہی کیا جا سکتا ہے ۔یہ بات انتہائی قابل غور ہے کہ جسمانی ،ذہنی اور روحانی صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے ایک صحت و بیماری کا انحصار دوسری پر ہے ۔ مثلاََ نفسیاتی بیماریوں کے سبب سے جسمانی بیماریاں پیدا ہو تی ہیں ۔اس وقت دنیا کی نصف آبادی ذہنی بیماریوں کا شکار ہے ۔ ویسے بھی پاکستان میں صحت کا معیار غیر تسلی بخش ہے۔ لوگوں کو مناسب طبی سہولتیں ہی دستیاب نہیں ہوتی ہیںتو ذہنی بیماریوں پر کون سوچ سکتا ہے ۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قیام کے بعد 7 اپریل 1948 ء کو صحت کا پہلا عالمی دن منایا گیا تھا۔عالمی یوم صحت کو ہر سال 7اپریل کوکسی خاص سلوگن اور تھیم کے حوالے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن نرسوں مڈوائف کی صحت اور خدمات کے اعتراف پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جارہاہے ۔سال2020کونرسوں اور مڈوائف کا سا ل قرار دیا گیا ہے ۔صحت کا عالمی دن بھی نرسوں اور مڈ وائف کی خدمات کو سراہنے کے طور بھی منایا جائے گا ۔اس وقت پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں کسی بھی مہلک بیماری سے لڑنے کے لیے نرسیں اور دیگر صحت کے کارکن ہی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔
7اپریل 2020 نرسوں اور دائیوں کے یوم صحت کو منانے اوران کی خدمات جو کہ ہم سب کی صحت کا خیال رکھتی ہیں ہمیںصحت مند رکھنے میں ان کے اہم کردار کی یاد دلانے کے دن کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ نرسیں اور دیگر صحت کے کارکن COVID-19 “کرونا وائرس “کے جواب میں اس وقت وہ سب سے آگے ہیں۔اعلی معیار، احترام آمیز سلوک اور نگہداشت کی فراہمی، خوف اور سوالوں سے نمٹنے کے لئے کمیونٹی کی گفتگو اور، بعض اوقات، طبی مطالعات کے لئے اعداد و شمار جمع کرنا۔ بالکل محض، نرسوں کے بغیر، کوئی جواب نہیں مل سکے گا۔
نرسوں اور مڈ وائف کو اس بین الاقوامی عالمی یوم صحت نرسنگ اور پوری دنیا کی موجودہ حیثیت کو اجاگر کرے گا۔ ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت دار نرسنگ اور دایہ خانہ کی افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے لئے ایک سلسلے میں سفارشات پیش کریں گے۔پوری دنیا میں صحت سے متعلق کوریج، زچگی اور بچوں کی صحت، متعدی اور عدم مواصلاتی بیماریوں بشمول ذہنی صحت، ہنگامی تیاری اور ردعمل، مریضوں کی حفاظت اور مربوط، لوگوں کی بنیاد پر مربوط افراد کی فراہمی سے متعلق قومی اور عالمی اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ اہم ثابت ہوگا۔ دیکھ بھال، دوسروں کے درمیان ہم عالمی یوم صحت کے موقع پر آپ کے تعاون کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ نرسنگ اورمڈ وائف کے کام کرنے کی صلاحیتیں اتنی مضبوط ہیں کہ ہر ایک کو، ہر جگہ صحت کی نگہداشت حاصل ہوتی ہے۔
عالمی یوم صحت کے موقع پر پہلی مرتبہ اسٹیٹ آف دی ورلڈ نرسنگ رپورٹ 2020 کا آغاز کریں گے۔ اس رپورٹ میں نرسنگ افرادی قوت کی عالمی تصویر پیش کی جائے گی ان کی صحت اور بہتری کے لئے۔اس شعبہ کوبہتر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی حمایت کی جائے گی۔ رپورٹ میں اعداد و شمار جمع کرنے، پالیسی ڈائیلاگ، تحقیق اور وکالت، اور آنے والی نسلوں تک صحت افرادی قوت میں سرمایہ کاری کا ایجنڈا مرتب کیا جائے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق انسان اپنی صحت سے متعلق مندرجہ ذیل چند باتوں کا خیال رکھ کر بہت سی پیچیدہ اور جان لیوابیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔انسان کی صحت کا تعلق قوت مدافعت سے ہے جس قدر انسان میں بیماریوں کے خلاف جنگ کرنے قوت ہو گی وہ اس قدر صحت مند رہے گا ۔قوت مدافعت بڑھانے کے لیے سب سے پہلے خوراک ہے یعنی متوازن خوراک ۔جس میں دودھ ،دہی،پھل ،سبزیاں شامل ہیں اس کے بعد ورزش کا مقام ہے ۔روزانہ آدھا گھنٹہ کی ورزش انسان کو صحت مند توانا رکھتی ہے ،اسے زندگی کا معمول بنا لیں ۔ پانی زیادہ استعمال کریں یہ صحت کے لیے بہت ضروری ہے ۔
رات کو سونے سے قبل اور صبح بیدار ہونے کے بعد ایک سے دو گلاس پانی پینے کو اپنا معمول بنائیں ۔ان باتوں پر عمل کرنے سے آپ جسمانی طور پر صحت مند رہیں گے ۔نفسیاتی طور صحت مند رہنے کے لیے غصہ نہ کریں ،خوش رہنے کی کوشش کریں ،کسی بھی مسئلہ یا پریشانی کو زیادہ دیر اپنے دماغ پر سوار نہ ہونے دیں ۔اس کا حل مصروفیت ہے ۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا تھا دلی سکون حاصل کرنے کے لئے ہمارا روحانی طور پر صحت مند ہونا بہت ضروری ہے ۔پہلے اس بات کو سمجھ لیا جائے کہ انسان مادی وجود نہیں ہے بلکہ اصل انسان روح ہے ۔جب انسان کی روح خوش ہو گی تو انسان دلی سکون محسوس کرے گا ۔
اللہ تعالی کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلنے ،نافرمانی کرنے ،حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے نہ کرنے،قانون فطرت سے ہٹ کر زندگی گزارنے سے بھی بہت سی بیماریاں گھیر لیتی ہیں ۔بہت سی جسمانی بیماریوں کی وجہ بھی نفسیاتی بیماریاں ہوتی ہیں جس کی وجہ روحانی ہوتی ہے ۔اس وقت معاشرے میں جنم لینے والی دو سو سے زائد نفسیاتی ،جسمانی بیماریوں کی وجہ صرف شک ہے ۔اور شک شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ہم میں سے ہر ایک انسان صحت مند رہنا چاہتا ہے ۔ لیکن مختلف وجوہات کی بنا ء پر اکثر بیمار ہوتے ہیں۔ جسم کے مختلف اعضاء اگر ٹھیک طور پر کام نہ کریں تو انسان بیمار ہو جاتا ہے اور فوراََمعالج سے ر جوع کرتے ہیں ۔
جب کوئی شخص جسمانی طور پر بیمار ہو جائے توسب لوگ اس سے ہمدردی کرتے ہیںاور فوراََ علاج کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔لیکن جب کوئی نفسیاتی یا روحانی طور پر بیمار ہو تو اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔اپنے اردگرد دیکھیں آپ کو بہت سے نفسیاتی ، روحانی،ڈیپریشن کے مریض نظر آئیں گے ۔روحانی بیماریوں حسد ،کینہ ،بغض ،ریا کاری وغیرہ شامل ہے ۔اس سے انسان بے قراری محسوس کرتا ہے ۔اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلنے سے ،گناہوں بھری زندگی گزارنے سے دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔اپنے آپ کو روحانی بیماریوں سے بچانے کے لیے اللہ کا ذکر کثرت سے کریں کیونکہ اللہ نے دل کا سکون اپنے ذکر میں رکھا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com