ورلڈاکنامک فورم اور پاکستان

ورلڈاکنامک فورم اور پاکستان
خالد خان کالا باغ
وزیراعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کے سیشن میںشرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ کے شہرڈیوس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، معاونین زلفی بخاری اور معید یوسف وغیرہ کے ہمراہ گئے جہاں امریکی صدرٹرمپ، سنگار پور کے وزیراعظم لی لونگ، آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف اور ترک کمپنی کالک ہولڈنگز کے چیئرمین احمد کیلک سمیت مختلف شخصیات سے بیٹھک ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کشمیر اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بات کی اور کہا کہ کشمیر میں جوکچھ ہورہا ہے ،وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے مابین اس مسئلہ پر ثالثی کو تیار ہیں اور مسئلے کے حل میں مدد کریں گے۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ہم پاکستان کے اتنے قریب نہیں تھے جتنے اب ہیں۔وزیراعظم عمران خان ان کے دوست ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر امریکہ اور پاکستان ایک ہی صفحے پر ہیں ۔ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانے کیلئے تیار ہیں۔اس ملاقات سے عیاں ہوا کہ امریکہ کشمیر کے معاملات کو بغور دیکھ رہاہے اور کشمیریوں کے مظالم سے باخوبی آگاہ ہے۔امریکہ مسئلہ کشمیر کی ثالثی کے لئے آمادہ ہے جبکہ پاکستان ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہے۔اسی طرح پاکستان اور امریکہ دونوں چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور امریکی فوج واپسی کی راہ اختیار کرلیں۔وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں پاکستان اور خطے کے مسائل کو اجاگر کیا اور انھوں نے کہاکہـ” مسئلہ کشمیرکا حل جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کیلئے ناگزیر ہے۔ بھارت جس ڈگر پر چل رہا ہے ،وہ تباہ کن ہے ۔تمام فریقین کو ضبط و تحمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے اورتنازعات کے حل کیلئے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لائیں۔پاکستان میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر افغان جنگ کے باعث آیا۔د ہشتگردی کے جنگ کے نتیجے میں ستر ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا100بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ہم صرف امن کے ساتھ شرکت داری کریں گے اور کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقام ابھی دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔”وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح کی اور درست سمت پر متعین کی۔جنوبی ایشیاء کی خوشحالی اور امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر قرار دیا۔شومئی قسمت پڑوسی ملک بھارت میں دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کا حکومتی معاملات میں بہت زیادہ عمل دخل ہے اور کہا جاتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی بھی اسی تنظیم کا پیروکار ہے۔بھارت میں سیکولر اورمثبت سوچ رکھنے والے افراد کی حکومت ہوتی تو مسئلہ کشمیر ہمیشہ کیلئے حل ہوجاتا جبکہ وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بے تاب ہیں۔گولی مسائل کا حل نہیں بلکہ مذکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔افغانستان جنگ کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر منشیات کے استعمال میں اضافہ ہوا اور پاکستان میں کلاشکوف کلچر عام ہوا۔ پاکستان نے دہشتگردی کے جنگ میں جانی و مالی نقصان اٹھایا۔اس جنگ میں پاکستان کے 70ہزار پاکستانیوں نے جانوں کی قربانیاں دیں اور 100بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔افواج پاکستان نے انتھک محنت اورجوانمرداری سے دہشت گردی پر قابو پایا اور افواج پاکستان کے جوانوں کی بہادری قابل تحسین ہے۔افواج پاکستان کے مہناز اور دلیر جنرلوں کی حکمت عملی کے باعث پاکستان میں حالات بہترین ہوگئے اور پاکستان میں تقریباً امن قائم ہوگیا ہے۔امن سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا ہے۔وزیراعظم عمران خان اپنے خطاب میں سب پر واضح کیا کہ پاکستان کسی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا کیونکہ تنازعات سے پاکستان کو ناقابل برداشت جانی و مالی گزند پہنچا۔پاکستان صرف امن کی شرکت داری کرے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے سب پر عیاں کیا کہ اب پاکستان اغیار کی جنگ نہیں لڑے گا۔پاکستان امن پسند ملک ہے اور دنیا کی خوشحالی کیلئے تگ ودومیںکرے گا۔امن سے پاکستان میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور پاکستان میں ایسے مقامات ہیں جو دنیا سے اوجھل ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے آبائی حلقہ ضلع میانوالی میں نمل ڈیم سائیڈ، گائوں روغان کے بابا گجھورو فقیر،کمرسر، کالاباغ ، ماڑی ،کالاباغ ڈیم کے گردونواح، چاپری ڈیم سیاحت کے لئے بہتر ین مقامات ہیں ۔اسی طرح چاپری کے قریب کرداور مضافاتی علاقے جوکہ ضلع کرک کے حدود میںہیں، سیاحت کیلئے پرکشش ہیں۔حکومت ان علاقوں کو سیاحتی مقام کا درجہ دیںتو ان علاقوں کو چار چاند لگ جائیں گے اورسیاح ان علاقوں کی طرف امنڈ آئیں گے۔علاوہ ازیں پاکستان میں سوات ، دیر، چترال ، ہنزہ سمیت دیگر شمالی علاقہ جات سیاحت کیلئے زبردست مقامات ہیں۔سیاحت سے زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے اور سیاحت سے مقامی لوگوں کے کاروبار میں اضافہ ہوسکتاہے ۔اس سے بیروز گاری پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور عوام کے مسائل حل ہونگے۔ قارئین کرام!وزیراعظم عمران خان پاکستان کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشاں ہیں۔وہ ہر محاذ پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کررہے ہیں۔ان کی ٹیم اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکرپاکستان کی پائیدار ترقی ، خوشحالی اور امن کیلئے ان کا ساتھ دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com