عورت عدم تحفظ کا شکار، ذمے دار کون؟

تحریر:ریحانہ اعجاز۔کراچی ڈیفینس
اس کائنات کی بہت بڑی حقیقت ہے کہ عورت نے نبیوں، رسولوں، صحابہ کرام، اولیاء، اور شُہداء کو گود میں کھلایا، جس نے مجاہدین کی تربیت کی، جس نے قوموں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام سے قبل عورت کو باعثِ ذلت و شرم سمجھا جاتا تھا، بیٹی کی پیدائش باپ کے لیئے سخت شرمندگی و عیب کا مؤجب سمجھی جاتی تھی، ہر گناہ کی ذمیدار عورت ہی سمجھی جاتی تھی، عورت کی حیثیت ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھی، عورتوں پر تعلیم کے دروازے بھی بند تھے،
تب صرف اسلام نے ہی عورت کو وہ عظیم مقام دیا جو دنیا کی کوئی تہذیب نہ دے سکی۔
عورت پر تعلیم کی راہیں کھولی گئیں تو اس نے ہر ہر مقام پر خود کو منوایا، مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے ثابت کیا کہ عورت نہ صرف ایک اچھی ماں، بیوی، بیٹی اور بہن ہے بلکہ وہ زندگی کے ہر میدان میں اپنا سکہ جمانا جانتی ہے، لیکن!
”آج کی عورت عدم تحفظ کا شکار ہے، کیوں؟ کون ہے اس کا ذمے دار؟۔”
افسوس صد افسوس مغربی تہذیب کی دلدادہ عورتوں نے مسیحیت، یہودیوں، روم، ایران، چین، اور مصر کے ان تنگ دل تنگ نظر افراد کا کہا حرف بہ حرف سچ کر دکھایا کہ عورت باعثِ ننگ و عار ہے، باعث، شرم ہے، حد سے بڑھی ہوئی بے باکی، بے پردگی، نے اسے چراغِ خانہ سے زیادہ چراغِ محفل بنا ڈالا ہے، اور وہ ” میرا جسم میری مرضی ” کا نعرہ لگاتے ہوئے گناہوں کی دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے، رہی سہی کسر مردوں نے اس شمعء محفل کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا کر پامال و رسوا کر ڈالا ہے،
جوان جہان، بچی، بوڑھی کی تخصیص کیئے بنا سب کی عزتوں کو داغدار کرنا مردوں نے اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ جنہیں بالکنی میں ٹنگے کپڑوں میں بھی عورت نظر آتی ہو ان کی ذہنی استبداد کے کہنے؟ عورت کی ہر بات پر قدغن لگا کر اسے ” زمانہ برا ہے” کا سبق پڑھاتے ہوئے مرد یہ کیوں بھول جاتے ہیں عورت جس عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہے وہ انہی کی بدولت تو ہو رہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ محض مرد اس سب کا ذمے دار ہے بلکہ خود عورت بھی بیجا اور نام نہاد آزادی کے ہاتھوں خود اس عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہے۔
اور یہ نوبت اس لیئے آئی کہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے عورت نے آزادی کے نام پر اسلام کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف اپنا پہناوا بدل ڈالا بلکہ اپنی سوچوں کو بھی بے لگام چھوڑ دیا ہے، آج کی عورت درسگاہوں میں نامحرم سے دوستی کو اعزاز سمجھتی ہے، ہوٹلوں، پارکوں میں نامحرم کے ساتھ لنچ، ڈنر کو شان سمجھتی ہے، بازاروں میں سنیما ہال میں اپنی زیب و زینت کا کھلے عام پرچار کرتی ہے۔
خود دعوتِ نظارہ دیتی ہے پھر مردوں سے گلہ کرتی ہے، نام نہاد محبت کو ماں باپ کی عزتوں پر اولیت دیتی ہے پھر الزام مردوں پہ لگاتی ہے، اپنی عصمت کو خود داؤ پر لگاتی ہے اور شکوہ مردوں سے کرتی ہے، آج کی عورت نے مغرب کی اندھی تقلید میں خود کو اس قدر ارزاں کر ڈالا ہے کہ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں!
” کافر پہ اعتماد کی شاید ہو کوئی راہ
زن پہ اعتماد کی کوئی نہیں سبیل
آج جو تقدسِ نسواں کی پامالی ہو رہی ہے میں اس میں قصور وار صرف مرد کو نہیں ٹہراؤں گی بلکہ اس میں زیادہ ہاتھ عورت کا ہوتا ہے، عورت میں تو اللہ نے صبرو تحمل اور برداشت کا وہ مادہ رکھا ہے کہ مرتی مر جائے پر اپنی عزت و عصمت پر حرف نہ آنے دے۔لیکن گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھتے ہی نہ جانے کیوں اکثر عورتیں ازخود دعوتِ نظارہ بن کر بہکنے اور بہکانے کا اہتمام کر بیٹھتی ہیں، تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، آگہی دیتی ہے لیکن آج کل کالج یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم نے جیسے رہا سہا شعور بھی چھین لیا ہے، اور صنفِ نازک نہیں جانتی کہ اس میں اس کے لیئے کوئی منافع نہیں بلکہ سراسر خسارہ ہے، شاید اسی تعلیم کے لیئے اکبر الہ آبادی فرما گئے ہیں کہ
” تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر
خاتون خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں ”
عورت جو ایک ماں ہے، اللہ نے جنت ماں کے قدموں تلے لا کر رکھ دی ہے، عورت بیٹی ہے جس کے متعلق حضورپاکﷺ نے فرمایا،
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش احسن طریقے سے کی وہ قیامت کیدن میرے اتنا نزدیک ہوگا جس طرح دو انگلیاں،
عورت بیوی ہے جسے اللہ نے مرد کا لباس قرار دیا ہے،۔
اتنے مقدس رشتوں میں بندھی عورت اگر خود اپنی حدود مقرر کر لے تو اسے دنیا میں کوئی نہیں بہکا سکتا،
افلا طون نے کیا خوب کہا ہے،
” دنیا میں کوئی ہیرا اتنا قابلِ قدر نہیں ہوتاجتنی ایک پاک بازعورت، بالخصوص جب وہ حسین بھی ہو۔”
بے شک ایک پاک دامن اور حسین عورت خدا کی مکمل ترین صفت ہے۔
عورت ایک گلاب ہے جس میں خود داری کا کانٹا لگا ہوتا ہے، عورت ہر گز اتنی ارزاں نہیں جسے کوئی بھی آتا جاتا اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالے، اسے شمع محفل بنا ڈالے، پس آج کی عورت جتنا جلد اس حقیقت کو جان لے اتنا ہی اچھا ہے کہ عورت کائنات کی بیٹی ہے، عورت خُدا کا ایک انمول تحفہ اور اس دنیائے ہستی کا مقدس روپ ہے، عورت تو ہر رشتے میں مقدم ہے، ہر رشتے میں لازوال ہے، ہر رشتے میں پیار و وفا کا رنگ نمایاں ہے، عورت وہ پھول ہے جس سے گھر کا آنگن مہکتا ہے۔ در حقیقت عورت کے بنا گھر نامکمل ہے، حاصلِ کلام یہ ہے کہ کل تک عورت کی گود کامل مدرسہ تھی لیکن کچھ مجبوری حالات کے تحت اور کچھ نام نہاد آزادی کے سبب آج کی عورت اس عظیم کیفیت سے کسی حد تک محروم ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو الگ الگ فطرت پر پیدا کیا ہے، اور الگ الگ ذمے داریاں سونپی ہیں، اگر کوئی مجبوری نہیں تو عورت کو اس بات پر فخر ہونا چاہیئے کہ ایک مرد اس کا محافظ ہے،جو عورت کو بہت سے فرائض سے سبکدوش کرتا ہے۔ گھر کا سربراہ و کفیل ہے، ہاں بحالتِ مجبوری اگر وہ گھر کے حالات میں مرد کا ہاتھ بٹانا چاہے تو کوئی قباحت نہیں، لیکن خدارا اپنی عزت و عصمت کو داؤ پر نہ لگائے، خود کو اس قدر مضبوط خول میں بند کر لے کہ کوئی چاہ کر بھی اس میں نقب نہ لگا پائے۔
بادل کی گرج، صبح کا اجالا، چاند کی چاندنی، ریشم کی نرماہٹ، گلاب کی مہک، شاخوں کی لچک، بادِ ص با کے سبک خرام جھونکے، بانسری کی مدھر تان اور حسن کا عروج، الوہی رنگ روپ، یہ سب یکجا ہو جائیں تو اک پاک دامن عورت کا روپ بنتا ہے، عورت بے پناہ خوبیوں کا منبع ہوتی ہے، عورت کی قوتِ ارادی، اس کے عزم کی پختگی، اس کا صبر اسے تمام جنسوں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے، اگر عورت ایک بار مضبوطی سے اپنے ارادے میں ڈٹ جائے تو پہاڑ بھی اس کے سامنے سرنِگوں ہوجاتے ہیں،
اس کے فیصلے چٹان کی مانند ہوتے ہیں جن میں بڑے سے بڑا طوفان بھی دراڑ نہیں ڈال سکتا، ایسی عورت کبھی عدم تحفظ کا شکار نہیں ہو سکتی
ا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com