ایسی منافقت کیوں؟

ایسی منافقت کیوں؟
ایڈووکیٹ فرزانہ غفورمیئو،لاہور
جہیز کے موضوع پر لکھتے وقت عموماً میرا زیادہ فوکس لڑکے والوں پر رہا اور وہ اور ان کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات ہی زیادہ موضوعِ بحث رہے۔ اس بار جب قلم اٹھایا تو سوچا کیوں نہ اس بار اس پہلو پر بھی توجہ دلائی جائے کہ جہیز جیسی رسم کی بڑھوتری میں لڑکی والوں کا کیا کردار ہے؟ ان کے نا جائز تحائف سے معاشرے میں کیا رجحانات پھیل رہے ہیں؟ ان کی سماج میں ناک رکھنے کی کوششیں کس بدنما مقابلے کو جنم دے رہی ہیں؟ اس لیے یہ تحریر صرف ان جانب توجہ دلانے کے لیے لکھ رہی ہوں تاکہ ان والدین کی حوصلہ شکنی کی جا سکے جو بیٹیوں کو وراثت میں تو حصہ نہیں دیتے لیکن بڑھ چڑھ کر جہیز دیتے ہیں۔
ہم مباحثوں میں مقابلہ بازی کے لئے دین کے تو بہت حوالے دیتے ہیں لیکن جب اسی دین پر عمل درآمد کی باری آتی ہے تو ہم دوسرا راستہ اپناتے ہیں اور تو اور دین کو اپنے علاوہ ہر دوسرے پر رائج کروانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ میرا یہ سوال ہے کہ جس دین میں بیٹیوں کو ان کا جائز وراثتی حق دینا واجب ہے اور وہ دین اس سلسلے میں بیٹیوں کو تمام حقوق دیتا ہے اسی دین کے پیروکار کیوں بیٹیوں کی وراثت کا حق کھاتے وقت ذرہ برابر نہیں جھجھکتے؟ اپنی بیٹیوں کے گھر کا پانی پینا تو حرام سمجھتے ہیں اس کا وراثتی حق کھانا نہیں۔ ایسی منافقت کیوں؟؟
جہیز کی جب بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو جہیز دیا تھا، اس بنا پر یہ سنت ہے۔ تو وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اشیاء (ایک مشکیزہ، ایک اونی چادر، ایک چھال سے بھرا ہوا چمڑے کا تکیہ، ایک چکی اور دو مٹکے) حضرت علی رضی اللہ کی طرف سے ان کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے ان کے مال سے ہی دی تھیں، اس کے علاوہ کسی اور بیٹی کی شادی کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کچھ دینا ثابت نہیں۔
اگر اسی روایت کو ہی بنیاد بنانا مقصود ہے تو عرض ہے کہ ان جملہ پانچ اشیاء(چند روایات کے مطابق تین اشیاء) کو ہی دے کر بزعمِ خود سنت ادا کر لی جائے ٹرک بھر بھر کر اور گاڑیاں دے کر کون سی سنت پوری کی جا رہی ہے؟ دین میں اضافہ بھی تو حرام ہے نا تو ان پانچ اشیاء پر ہی تکیہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیوں اپنی مرضی سے بڑھ چڑھ کر بیٹی کو جہیز دیا جاتا ہے؟ وجہ سنت یا دین نہیں وجہ نمود و نمائش ہے، برادری میں ناک اونچی کرنا ہے، اپنی سخاوت اور بیٹی سے پیار کے جھنڈے لگوانے ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ ہم نے خود ہی ایسے رسوم و رواج کو اپنی زندگیوں میں شامل کر لیا ہے جنہوں نے ہماری ہی زندگی کو اجیرن کر دیا ہیاور ان فضول رسوم میں بے انتہا خرچ کرنے کو اپنا اولین مقصد سمجھ لیا ہے۔ ہم بیٹیوں کی تعلیم اور اچھی تربیت و اخلاق کی کوشش نہیں کرتے جس کی بنیاد پر ہی وہ گھر بسانے اور گھر والوں کو آپس میں جوڑے رکھنے کے قابل ہوتی ہے، بلکہ اپنی ناک رکھنے کے لئے تمام تر توجہ اسے جہیز دینے پر ہوتی ہے کہ سسرال میں اسی سے عزت ہو گی۔ اسی رجحان کی وجہ سے لڑکے والے بھی اپنے بیٹے کی قیمت لگاتے ہیں کہ جہاں سے ریٹ بہتر مل گیا وہاں ڈیل طے ہو گئی۔ اس طرح غریب والدین کے اوپر بھی دباؤ اور بوجھ بڑھتا ہے، اچھے رشتے نہیں ملتے، ان کو بھی اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی حیثیت سے بڑھ کر دینا پڑتا ہے۔ اس لئے والدین سے درخواست ہے کہ رشتے کے نام پر کی جانے والی ونڈو شاپنگ بند کریں۔ اپنے معیارات طے کریں بچوں کی اچھی تربیت کریں، اخلاق کے زیور سے آراستہ کریں، بہترین تعلیم پر توجہ دیں تا کہ معاشرے میں پائے جانے والے ان منفی رجحانات کی بیخ کنی کی جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com