صحافی ہیرو کیوں نہیں؟

صحافی ہیرو کیوں نہیں؟
تحریر۔ طاہر محمود آسی
پاکستان ایک مقدس خطہئ ارض ہے۔ اسکے قیام کیلئے لاکھوں قربانیاں دی گئیں۔ اس کی بنیادوں میں مسلمانوں کا لہو، ہزاروں عصمتوں کی تڑپ، آنسوؤں اور آہوں کی ایک دنیا بھی موجود ہے۔ اس کی عزت و عصمت کی حفاظت ہمارا فرضِ اولین ہے کیونکہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے فوراََ بعد سے مسلسل انحطاط کی طرف رواں دواں ہے۔ آج تک ہماری فکر اور سوچ کو انفرادی سطح سے بلند نہ ہو سکی ہے۔ اجتماعی سوچ کو پروان چڑھانے کا کبھی بھی سوچا نہیں گیا ہے۔ تاریخ عالم شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی اس دنیا میں عروج پایا ہے اس کی قیادت اور عوام نے شانہ بشانہ اجتماعی مقاصد کے حصول کیلئے جدوجہد کی لیکن جب اجتماعی مقاصد پر انفرادی مفادات کا سایہ گہرا ہونے لگے تو قومیں آہستہ آہستہ زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ سب بد قسمتی سے ہمارے ملک کے ساتھ بھی ہوا ہے اور ہو بھی رہا ہے۔ موجودہ کرونا کے حملے کے پیشِ نظر معیشت کا پہیہ ڈاواں ڈول ہے۔ غریب بے چارے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ وزیروں کے گھروں کے باہر غریبوں کا ہجوم لگا ہوا ہے۔ لوگ بھوکے پیاسے تھک ہار کر سارا دن گزار کر خالی ہاتھ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ ٹی وی بیانات اور خباری پرنٹ میڈیا وزیروں اور مشیروں کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے۔ وزیرِ اعظم اور صوبائی وزرائے اعلیٰ بھی مختلف پیکجز کے ذریعے عوام کے دلوں کو خوش کر رہے ہیں۔ مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈکس کیلئے حکومتی پیکج آچکا ہے۔ سرکاری ملازمین کو بھی خصوصی پیکج دیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو زمانے بھر میں آپ کی باتوں کو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچا رہے ہیں۔ ان کو نظر انداز کر کے نہایت دل آزاری کی گئی ہے۔ وزیروں کے بیانات نہایت عجیب و غریب ہیں۔ جن سے بظاہر یہ مطلب نکل رہا ہے کہ صحافیوں کو پہلے بیمار ہونا پڑے گا یعنی کرونا زدہ ہونا پڑے گا اور مرنا پڑے گا پھر کچھ نہ کچھ مدد کے آثار پیدا ہونگے۔ اللہ پاک خیر کرے۔ یہ زمانہ تسلیم کر چکا ہے کہ صحافت ایک علمی ستون اور تمام تر ملکی ترقی اور خوشحالی کا انحصار علمی ستونوں پر ہے۔ علم کی بے پناہ قوت اس عمارت کو سہارا دیتی ہے اور اسے شر کے طوفانوں اور جہالت کی یلغار سے محفوظ رکھتی ہے۔ صحافیوں کی برِ صغیر میں تاریخ 400سال پرانی ہے۔ مغل بادشاہوں نے سرکاری طور پر خفیہ خبر نویس رکھے ہوئے تھے۔ جو تحریری طور پر خبروں کو جاری کیا کرتے تھے۔ بہادر شاہ ظفر کا دور اس امر کا شاہد ہے۔ آج کا دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دلیرانہ صحافت کے امین سمجھے جانے والے صحافیوں میں مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر کا نام سنہری حروف میں لکھا جا چکا ہے۔ انہیں زمانہ نڈر صحافی کے نام سے یاد کرتا ہے۔ انگریزوں کے خلاف ہمیشہ حق و صداقت کی آواز بلند کی ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کو صحافت کے اوراق بے باک صحافی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں، حسرت موہانی، چراغ حسن حسرت کو ابھی تک زمانہ یاد کرتا ہے کیونکہ حق و صداقت کی صحافت کو ہمیشہ زندہ رکھا ہے۔ قید و بند کی سزاؤں کو جھیل کر صحافت کے ایوانوں میں بہت نام کمایا ہے۔ یہ صحافی نہ بکے ہیں، نہ جھکے ہیں اور نہ رُکے ہیں۔ بس زندگی کی سانسیں ہی رکنے پر کام تمام ہوا ہے۔ لیکن آج کا دور کافی بدلا ہوا ہے۔ صحافت کے انداز بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ رسم و رواج بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ حالات کیساتھ ساتھ تبدیلی کا آنا بہت ضروری ہے۔ آج کا میڈیا ماضی کے میڈیا سے کچھ زیادہ موافقت نہیں رکھتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی نے زندگی کو بہت تبدیل کر دیا ہے۔ صحافت میں آزادی کو آج جو مقام حاصل ہے اس کا سہرا سابق صدر جنرل مشرف کے سَر ہے۔ ہمیں کسی کے کردار کو زیرِ بحث لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس حق دار تک اس کا حق پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ صحافی ہوں اور قلم کا مزدور ہوں۔ اہلِ قلم اگر بات نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ اچھا دوست وہ ہوتا ہے جو آپکی خامیاں گنوائے اور کامیابیوں کی طرف لے کر جائے۔ پاکستان میں کرونا کرونا ہو چکا ہے۔ ڈاکٹرز، نرسزاورکئی پیرا میڈکس میں بھی کرونا ٹیسٹ پازیٹیو آچکا ہے۔ اللہ پاک ہر کسی کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی جوانمردی کے ساتھ اس موذی مرض کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ ویل اینڈ گُڈ لیکن حکومت کے ایوانوں میں اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کہ قلم کے مزدور اور صحافی بھی اس جنگ میں اپنا مکمل کردار ادا کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے پے سکیلوں پر کام کرنے والوں پر تو عنایات کی بارشیں ہو رہی ہیں لیکن جن کی کوئی تنخواہ نہیں وہ محرومیوں کا شکار نظر آرہا ہے۔ کیا صحافیوں کے بغیر سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے بغیر حکومتی آواز گھر گھر پہنچ سکتی ہے؟ کیا صحافیوں کے بچے نہیں ہیں؟ کیا ان کے ماں باپ نہیں ہیں؟کیا یہ معاشرے کا حصہ نہیں ہیں؟ کیا انہیں دیکھ کر کرونا اپنا راستہ بدل جاتا ہے؟ کیا انہیں حفاظت کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا انکی کوئی ضروریات نہیں ہیں؟ کیا ان کا ورلڈ بینک سے ڈائریکٹ رابطہ ہے؟ کیا ایشیائی بینک ان قلم کے مزدوروں اور صحافیوں کے وسیلے سے چل رہا ہے؟ ذرا سوچو تو۔۔۔؟ یہ ناروا سلوک انصاف کے نام پر قائم ہونے والی حکومت کیلئے ناانصافی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔ جعلی اور جلالی صحافی ہر جگہ موجود ہیں اور اہلِ کرم کو ان کا سب پتہ ہے۔
ہم سے الجھو گے تو جیو گے کیسے
ہم تو ظلم کی ہر دیوار گرا دیتے ہیں
سَچا اور سُچا صحافی ملک و ملت کا وفادار سپاہی ہوتا ہے۔ مسائل کو اصلاح کی غرض سے اجاگر کرنا اور ریاست کو علم و آگہی کے سانچے میں ڈھالنا صرف اورصرف مجاہدانہ صحافت کرنے والوں کا کام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صحافی تحریر و بیان کی حرمت اورتقدس کو سمجھنے والا طبقہ ہے مگر دورِ حاضر میں کچھ کمیاں اور کوتاہیاں ہمارے صحافی بھائیوں میں بھی موجود ہیں۔ اصلاح کا پہلو ہمیشہ موجود رہتا ہے اور رہے گا۔ صحافیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ہے۔ ولی خان بابر کی شہادت اور ڈاکٹراکرام حیدر کی قربانی کون بھول سکتا ہے۔ بہت صعوبتیں برداشت کی ہیں اور ملک و ملت کی خاطر ہم سب کچھ کریں گے۔ کیونکہ ہم وفادارانِ وطن ہیں اور وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ایمان کی طاقت سے جگہ جگہ سڑکوں پر تقریبات کی کوریج کرتے ہوئے یہ نڈر اور بے باک سپاہی کرونا وائرس سے عملی جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیا حفاظتی کٹس، ماسک اور دیگر سہولیات کیلئے یہ اہل نہیں ہیں۔ بے تیغ لڑے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ملکی وقار کا مسئلہ ہے۔ انسانیت کو تباہی سے بچانے کا عزم ہے۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
قارئینِ کرام! جعلی صحافیوں کی پورے ملک میں لائنیں لگی ہوئی ہیں۔معذرت کیساتھ انگوٹھا چھاپ ہمارے ملک میں وزیر اگر بن سکتے ہیں تو صحا فی کیوں نہیں۔ لیکن معیاری کام کیلئے معیاری کاریگر کا ہونا ضروری ہے۔ رہنماؤں کے غلط فیصلے قوموں کیلئے زوال کا سبب بنا کرتے ہیں۔ یہ بات بھی ایوانوں میں بیٹھے اہلِ دانش جانتے ہیں کہ قافلے دلدلوں میں اگر ٹھہر بھی جائیں تو رہنما پھر بھی رہنما ہوتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ سیاستدانوں کے وعدوں میں صداقت اور زبانوں میں حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔ صرف وقتی بول بچن کے ماہر ہوتے ہیں۔ اپنوں کے سوا کسی پر مہربانی نہیں کرتے اسی لیئے ان کی آواز دلوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ سب سیاستدان ایک جیسے نہیں ہیں۔ ہر کوئی بھٹو نہیں ہے اور ہر کوئی بینظیر نہیں ہے اور ہر کوئی نواز شریف نہیں ہے۔ اسی طرح عمران خان کا بھی عوامی رائے میں ایک الگ مقام ہے۔ قوم کیلئے جو بھی لیڈر اچھا کام کرے گا عزت اور مقام پائے گا۔ اگر قوم تنگ ہو گی تو ذلیل و خوار ہو کر میدانِ سیاست سے آؤٹ ہو جائے گا۔ اب موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان بے باک، نڈر قلم کے مزدوروں اور صحافیوں کیلئے بھی خصوصی مراعات کا اعلان ہونا چاہیے۔ درمیان سے مرنے کی شرط کو ہدف کر کے کچھ نہ کچھ کیا جائے۔ ہمیں پتہ ہے کہ یہ قوم مردوں کے منہ پر گھی اور شکر کے نوالے رکھتی ہے۔ پیروں کی طرح پوجتی ہے۔ زندوں کا مذاق اڑاتی ہے۔ خدارا خدا ترس بن کر سوچئے کہ کس کا کیا حق ہے۔ قول و فعل کے تضاد کو ختم کر کے عوامی امنگوں پرپورا اترنے کی کوشش کیجئے۔ یہ بات مدِ نظر ہونی چاہیے کہ حساب دنیا ہو گا۔
روٹی، روزی کا، نام و نمود کا۔ انسان فانی ہے، گناہ نادانی ہے۔
قید میں پنچھی شکاری سے بھی پیار لیتا ہے۔ بھوک جب ستائے مانگ کر بھی کھا لیتا ہے۔
بیاں گرچہ کچھ شوخ نہیں ہے
شاید کی تیرے دل میں اتر جائے میری بات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com