ہم بچوں کو سکول کیوں بھیجتے ہیں؟؟

ہم بچوں کو سکول کیوں بھیجتے ہیں؟؟
پروفیسرتنویراحمد
آجکل کے دور میں بچے اور سکول لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ بچے کی پیدائش سے ہی یہ سوال شروع ہوجاتا ہے کہ یہ سکول کب جائے گا؟۔اب تو مائیں چاہتی ہیں کہ بچہ تین سال کی عمر میں ہی سکول چلا جائے۔ پلے گروپ میں بچوں کو صر ف کھلانے کی فیس لی جاتی ہے۔ اور اس کی سکول ٹائمنگ بھی تین سے چار گھنٹے ہوتی ہے جس کے لیئے ہم سکول کو ہزاروں روپے دیتے ہیں۔ لیکن بچوں کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتے کہ بچے مائوں کے قابو نہیں آتے۔ موبائل کے آنے سے ایک فائدہ مائوں کو یہ بھی ہو ا ہے کہ جب بھی بچہ ان کو تنگ کر رہا ہوتا ہے وہ اس کے حوالے موبائل کر کے خود آذاد ہو جاتی ہیں ۔ جدید تحقیق کے مطابق دس سال سے کم عمر بچوں کے لئیے موبائل سے نکلنے والی شعائیں انتہائی خطرناک ہوتی ہیں اور وہ اس کے دماغ اور پورے جسم پر اثر انداز ہو کر اس کی جسمانی نشوونما کو انتہائی متاثر کرتے ہیں اور بچے کا قد اور وزن بڑھنے سے رک جاتا ہے۔ بچے کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں میں حیرت ناک حد تک کمی ہو جاتی ہے۔ موبائل کا حد سے ذیادہ استعمال ان کو جسمانی اور ذہنی معذوری کی طرف بھی لے جاتا ہے۔
ایک انگریز بزنس مین کا ایک انٹرویو میں سن رہا تھا۔ اس میں اس سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے بچوں کو سکول کیوں نہیں بھیجتے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت خود کرنا چاہتا ہوں اور کسی سکول کے سپر دان کو نہیں کرنا چاہتا۔پھر اس سے پوچھا گیا کہ باقی سب لوگ اپنے بچوں کو سکول میں کیوںبھیجتے ہیں ؟تو اس نے جواب دیا کہ سب لوگ سُست ہیں او روہ اپنے بچوں کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھانے کی بجائے ان کو سکول کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔جہاں پر موجود عملے سے آپ کسی طور واقف نہیں ہوتے۔ بچے ہمیشہ اپنی ماں کی طرح مسکراتے ہیں اور غصہ اپنے باپ کی طرح کرتے ہیں کہ یہی وہ چیزیں ہوتی ہیں جو وہ اس دنیا میں آنے کے بعد اپنے سامنے دیکھتے ہیں۔ہم سب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے ہمیشہ کہنے سے سیکھتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہیں۔ بچے ہمیشہ وہ سیکھتے ہیں جو وہ اپنی آنکھوں سے سامنے ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ٹیچرز کی حرکات اور ان کی تما م تر محرومیاں بچوں میں منتقل ہو رہی ہوتی ہیں۔ بچہ ہر ہونے والے کام کو بغور دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ٹیچر اپنا سارا دن اس پریشانی میں گزار دیتی ہیں کہ ہماری تنخواہ کم ہے۔ ہمیں اپنی تنخواہ ابھی تک ملی نہیں۔ آ ج ہمارے گھر میں لڑائی ہوئی تھی۔ آج کسی کی فوتگی ہوئی تھی ۔ ان سب کی وجہ سے ٹیچرز اپنی تمام ترذہنی اور جسمانی عادات بچوں میں منتقل کر دیتی ہیں۔بچہ سکول میں چوکیدار سے لے کر پرنسپل سب کو حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہا ہوتا ہے۔ اور ہم ان سب باتوں کو یہ کہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ابھی بچہ ہے۔ اس کو کیا علم ؟ْ۔ لیکن سب سے بڑی غلطی یہی پر ہوتی ہے۔ جب تک ہم بچے کو بچہ تصور کریں گے وہ ہمیشہ بچہ ہی رہے گا۔ جب تک ہم اس کو بڑا نہیں سمجھیں گے وہ بڑا نہیں ہوگا۔ اگر آپ والدین ہوکر اس کے ساتھ سب کچھ شیئر نہیں کریں گے تو وہ ان سب باتوں کو دوسروں سے سنے گا اور ہو سکتا ہے وہ غلط انداز میں سنے جس کے نتیجے میں اس کی ساری تربیت غلط ہوجائے گی۔ گھر میں بھی بچے کو یہی کہا جاتا ہے کہ ہمیشہ کتاب کھول کر بیٹھے رہواور پڑھتے رہوں۔ بچہ اس طرح نہیں پڑھتا جب تک اس کے ساتھ متعلقہ موضوع تفصیل کے ڈسکس نا کیا جائے۔
بچوں کو سکول بھیجنا غلط نہیں لیکن بچوں کو سکول بھیج کر ان کی تعلیم و تربیت سے بے فکر ہو جانا غلط ہے۔ ہم چند ہزا رفیس دے کر ساری کی ساری ذمہ داری سکول پر ڈال دیتے ہیں کہ سب کچھ سکول نے ہی کرنا ہے۔ ماہانہ میٹنگ میں بھی ٹیچرز بچوں کے بارے میں والدین سے ڈسکس کرتے ہیں لیکن والدین کے پاس ایک ہی مضبوط پوائینٹ ہوتا ہے کہ ہم آپ کو فیس دیتے ہیں تو تمام ذمہ داری آپ کی ہے۔
سکول انتظامیہ بھی اپنے اخراجات کو کم کرنے کے لئے کم تعلیم یافتہ عملہ کو منتخب کرتی ہے اور وہ اساتذہ بچوں کی درست تربیت نہیں کرپاتے کہ وہ خود اس قابل نہیں ہوتے۔ اکثر سکولوں میں اساتذہ کو کبھی یہ بھی نہیں بتا یا جاتاکہ انہوں نے پڑھانا کیسے ہے؟ نوے فیصد سکولوں میں کبھی ٹیچرز ٹریننگ یا ریفریشر کورس نہیں ہوتا۔
میرے خیال میں بچوں کو سکول بھیج کر والدین ان کی ذمہ داری سے آذاد نہیں ہوتے بلکہ ان کی ذمہ داری میں اور اضافہ ہو جاتا ہے اور سکول اور والدین کو مل جل کر اس ذمہ داری کو پورا کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com