خون سفید ہوگیا ہے

نثارکیانی
راولپنڈی تھانہ ائرپورٹ کے علاقہ کارچوک میں فائرنگ کرکے شقی القلب شخص نے باپ اور حقیقی بھائی کوموت کے گھاٹ اتاردیا۔وقوعہ معمولی تلخ کلامی پر پیش آیا،بیٹے نے طیش میں آکر باپ اور بھائی کو گولیوں سے چھلنی کیا، افسوسناک وقوعہ کے روز گھر میں شادی تھی اور متوفی کی بیٹی کی رسم حنا تھی۔ دل خراش سانحہ کے بعد خوشیوں کا گھرماتم کدہ بن گیا۔مقتولین کا تعلق ضلع پونچھ آزادکشمیر عباسپور کے نواحی گاؤں سہر مدارپور سے تھا ۔ اور عرصہ دراز سے راولپنڈی چکلالہ سکیم 3میں ان کا گاڑیوں کا شو روم تھا۔مبینہ طور پر واقعہ رقم کے لین دین پرہوا جس پر مذکورہ شخص نے اپنے باپ اور بھائی کو گولیو ں سے چھلنی کیا اور فرار ہوگیا،گذشتہ روز آزادکشمیر پولیس نے اس دوہرے قتل کے مذکورہ ملزم کو تھانہ ہجیرہ کی حدود سے گرفتار کرلیا ہے۔داستانوں اور محاوروں میں عموما یہ سبق سنایا جاتا تھا کہ لڑائیوں جھگڑوں اور حقارتوں کی تین وجوہ ہوتی ہیں،زر،زن اور زمین، یہی وجوہات ہمیشہ سے ہی انسان کے لیے جھگڑے کا سبب بیتی ہیں۔ دیکھا جائے تو جب بھی انسان کا کوئی جھگڑا ہوا، قتل ہوا، ان تینوں عوامل میں سے کوئی ایک نہ ایک چیز وجہ تنازع ضرور بنتی ہے۔ ویسے آج کل انسانوں میں برداشت کامادہ بھی کم ہوتا جارہاہے۔ ذرا ذرا سی بات پر انسان لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں۔دنیا کا سب سے پہلا قاتل قابیل ہے جس نے رشتے کے تنازعے میں اپنے بھائی حضرت سیدنا ہابیل رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کردیا۔ خون بہاتے ہی قابیل کا چہرہ سیاہ اور بدصورت ہوگیا۔ حضرتِ سیدنا آدم علیہ السلام نے شدید غضب کے عالم میں (اپنے بیٹے)قابیل کو اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور وہ عدن(یمن) کی طرف چلا گیا، وہاں شیطان کے ورغلانے پر آگ کی پوجا کرنے لگا، قابیل جب بوڑھا ہوگیا تو اس کے نابینا بیٹے نے پتھر مار کر اسے قتل کردیا، یوں یہ کفر و شرک کی حالت میں مارا گیا۔ حدیث شریف ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ: کوئی بھی شخص ناحق قتل ہوتا ہے تو اس قتل کا گناہ حضرتِ آدم(علیہ الصلو والسلام)کے بیٹے(قابیل)کو ضرور ملتا ہے کیونکہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ رائج کیا۔دنیا کے پہلے قتل سے لے کر اب تک بے شمار لوگ طبعی موت کے بجائے قتل ہوکر دنیا سے رخصت ہوچکے مگر تاحال یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تیزی آتی جارہی ہے اورنِت نئے طریقوں سے لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے، جس کا کوئی پیارا قتل ہوتا ہے اس پر جو گزرتی ہے، اسے کن کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے! یہ حقیقتا وہی سمجھ سکتا ہے۔ جائیداد کا لالچ،غیرت، گھریلو جھگڑے، جرم چھپانے کی کوشش، شادی کیلئے رشتہ دینے سے منع کرنا،ناجائز تعلقات کا شبہ،اِغوا برائے تاوان میں تاوان ملنے میں ناکامی، عشقِ مجازی، بغض و کینہ، خاندانی دشمنی وغیرہ قتل کی وجہ ہیں۔حقیقی باپ اور بھائی کو قتل کرنے کی خبریں سامنے آنے پر بعض اوقات یقین نہیں آتا کہ انسان اتناگِرسکتا ہیکہ اپنے پیارے،باپ، بھائی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرڈالتا ہے! ایسا لگتا ہے کہ انسان کو قتل کرنامچھر کے ہلاک کردینے سے آسان سمجھا جانے لگا ہے۔اللہ پاک قرانِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔ (پ6)،المائد:32)) ہمارے معاشرے میں اپنے بچوں کی پرورش کے لئے جتنی قربانی باپ دیتا ہے۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔ جب ایک بیٹا کمانے لگتا ہے تو والدین کو اس کی کمائی پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔شادی کے بعد وہ فورا اپنے الگ گھر کے خواب سجا لیتا ہے،اس کے بعد دولت کے نشے میں ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماؤف ہو جائے تو اس پر کیا کہا جا سکتا ہے۔سچے دور میں افراتفری اور دولت کی اندھی دوڑ کے عذاب میں پورا معاشرہ مبتلا نہ تھا۔ اس سے رشتوں میں کچھ خلوص، جذبوں میں کچھ سچائی اور لہو میں الفت کی گرمی آج کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔لیکن آج جس طرح اس ہوسِ زر نے زندگیوں کو اتنا تیز اور سفر کواتنا سست کردیا ہے اس سے مجروح ہونے والا ہر انسانی رشتہ اور محبتوں کا بندھن آج حسد،مقابلہ بازی اور دوسروں کو دولت کے حصول کی لڑائی میں روند دینے کی اذیت میں مبتلا ہے۔ آج کا خاندان اس پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جو لالچ اور حسد کی آگ میں سلگ رہا ہے۔پرانی کہاوت ہے کہ” برے وقت میں تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن انسان ہے کہ مانتا نہیں۔ سب کچھ جان کر بھی جھوٹے رشتوں اور سردمہر آسروں پر تکیہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔طبقاتی کشمکش نے معاشرے کے ہرڈھانچے ہر رشتے کو کھوکھلااور ناقابل اعتبار بنا دیا ہے۔ رشتوں کی پہچان اب مالیاتی حیثیت اور سماجی رتبوں پر مبنی ہو کر رہ گئی ہے۔ اب سماجی حیثیت خاندانی رتبے کا تعین کرتی ہے۔ یہ سماجی حیثیت دولت اور طاقت کی لونڈی ہوتی ہے۔ خاندان میں مقام بنانے کے لیے ہر نا طہ ہر خونی رشتہ اور ہر جذباتی لگاؤ کا تعلق صرف یہی ترغیب دیتا ہے کہ ” معاشرے میں اپنا مقام بناؤ! یہ مقام بنانے کے لیے اس معاشرے میں نہ صرف ضمیر کے سودے کرنے پڑتے ہیں بلکہ دولت کے حصول کی اس اندھی دوڑ میں ہر کسی کو روند کر آگے بڑھنے کی دیوانگی اپنے خونی رشتوں اور قریبی عزیزوں کو بھی معاف نہیں کرتی۔ ہوس زر کے اس استحصالی نظام میں ہر خونی رشتہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ خون جس میں محبتوں اور جذبوں کی حرارت دوڑا کرتی تھی اس کو اس نظام ِ زر نے ”سفید خون کردیا ہے۔ انفرادی حیثیت میں معاشی طور پر مضبوط ہونے کی دوڑ کسی لعنت سے کم نہیں ایسی کیفیت میں چکلالہ سکیم تھری والے سانحات ہوتے ہیں۔ انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ نسل انسانی کی فلاح کیلئے خود کو وقف کرے۔اس عمل سے معاشرے میں اخلاقی اور انسانی قدروں بھی مضبوط ہوں گی اور ہم ایسے خوفناک واقعات سے بچ سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com