چراغوں کے چراغ بجھتے چلے گئے

چراغوں کے چراغ بجھتے چلے گئے
عجب سال گزرا
لکھ لکھ کر تھک گئے انا للہ وانا الیہ راجعون

حفیظ چودھری
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے نہ ہی کسی کو مجال انکار ہے اور نہ ہی مجال فرار حق تعالیٰ نے کتاب مقدس میں موت کو ” اَجَل ” سے تعبیر فرمایا ہے ” اَجَل ” کے معنی ہیں ” کسی چیز کا مقررہ وقت، جو کسی قیمت پر نہ ٹلے ” یوں تو ہر حیات کو موت ہے لیکن جو لوگ اس دنیائے بے مایہ میں بہ توفیق الٰہی کچھ قابل قدر کام انجام دے جاتے ہیں وہ اس فانی وجود کے خاتمہ کے باوجود بعد از مرگ بھی زندہ و تابندہ رہتے ہیں ان کے نقوش حیات، خیال برق آگہی تخلیات سے مدت ہائے دراز تک اکتساب فیض کیا جاتا رہتا ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قرب قیامت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ علماء ربانیین، حاملین قرآن و سنت، وارثین علوم نبوت یکے بعد دیگرے اٹھتے چلے جائیں گے چنانچہ سال 2020 میں یکے بعد دیگرے علماء و صلحا کی ایک کثیر تعداد اس دنیا سے کوچ کر گئی ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ ایک کے جانے پر ابھی آنسو خشک نہیں ہونے پاتے کہ دوسری روح فرسا خبر سنائی دیتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو اٹھتا جاتا ہے اس کا خلا پر ہوتا نظر نہیں آتا, فتنوں کے دور میں علماء دین کا برق رفتاری کے ساتھ اٹھتے چلے جانا بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔
یاد رہے! کوئی سال، دن یا کوئی مہینہ منحوس نہیں ہوتا، لیکن کوئی دن یا سال غمی یاخوشی کا دن اپنی یادداشت چھوڑ جاتا ہے، جسے تاریخ اپنے اوراق پر لکھ لیتی ہے کہ آئندہ زمانہ اسے اپنے پاس محفوظ کر لے، لیکن جب سے سال 2020 کا آغاز ہوا ہے پوری دنیا پر اک قہر طاری ہوگیا ہے، کورونا وائرس نامی اس وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، پوری دنیا اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئی ہے، دنیا معاشی و اقتصادی طور پر بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، گھروں سے نکلنا ممنوع و غیرقانونی سمجھا گیا، ہزاروں لاکھوں پریشانیوں کا سامنا ہوا۔۔۔۔۔۔ بہر حال یہ تو اللہ کی طرف حضرت انسان پر آزمائش تھی، جہاں پوری دنیا بے بس ہو کر اللہ کے آگے جھک گئی، اور پوری دنیا میں اللہ کی وحدانیت کا پرچار ہونا شروع ہوگیا۔
قلم میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ یکے بعد دیگرے جانے والے سب علماء کرام پر روشنی ڈال سکے، قرآن و حدیث کی تدریس سے وابستہ حضرات ہوں یا فصاحت و بلاغت کے بے تاج بادشاہ سبھی نے ایک دن رخصت ہو جانا ہے۔ آج جب میں تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کر رہا ہوں میرے سامنے علم و ادب سے وابستہ افراد کے ناموں کی ایک طویل فہرست ہے اب سمجھ نہیں آرہی کہ پہل کہاں سے کروں۔ سال 2020 میں جو علماء کرام رخصت ہوئے ان کے ناموں پر اگر سرسری نظر دوڑائی جائے تو 80 کے لگ بھگ ایسے جید علماء کرام پردہ فرما گئے ہیں جن کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جبکہ اس سال دنیا سے رخصت ہونے والے علماء کرام میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جن کا حلقہ احباب اتنا وسیع نہیں تھا۔
حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے زندگی کے آخری دن بھی معمول کے مطابق اسباق پڑھائے بلکہ زندگی کی آخری رات ایک بچے کے ختم قرآن کی تقریب سے تفصیلی خطاب بھی کیا، آپ کی وفات کسی بیماری کے سبب نہیں ہوئی الحمدللہ۔ آپ وقت مقررہ پر یکم جنوری 2020 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔مفتی محمد نعیم رحمتہ اللہ علیہ کی وفات 20 جون 2020 کی ہے۔ آپ گزشتہ چند سال سے دل کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ وفات کے دن بھی آپ نے جامعہ بنوریہ کی جامع مسجد میں تمام نمازوں کی امامت کے فرائض سر انجام دیئے تھے۔ایک اور چراغ بجھا اور علم کا ایک اور خزانہ گم ہوا شیخ الحدیث و التفسیر علامہ خالد محمود کی وفات 14 مئی 2020 کو ہوئی، آپ طویل عرصہ سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے، البتہ آپ کی تجہیز و تکفین مانچسٹر لندن میں کرونا وباء کے باعث احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہی کی گئی تھی۔
علامہ خادم حسین رضوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔سرکاردوجہاں کا فرمان اس قدر جامع اور سچا ہے کہ ایک عالم دین کی موت پورے عالم کی موت ہے۔19 نومبر 2020 بروز جمعرات امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ کے عظیم خادم علامہ خادم حسین رضوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک تھکے ماندے مسافر کی طرح خاموشی سے دائمی نیند سوگئے ہیں۔حضرت الشیخ زر ولی خان رحمۃ اللہ علیہ سانس اور دل کے عارضہ کے باعث آپ کی وفات 7 دسمبر 2020 کو کراچی میں ہوئی ہے۔مولانا ابن الحسن عباسی گزشتہ کچھ عرصہ سے برین ٹیومر کا شکار تھے اور 14 دسمبر 2020 کو وفات کا سبب بھی یہی بیماری بنی ہے۔وقت کی کمی اور اختصار کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت ان چند بڑے جید علمائے کرام کا تذکرہ ہی ممکن ہے کیونکہ سال 2020 میں 180 سے زائد علماء کرام اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں چند ایک بڑے اکابر کے تذکرے کے بعد بعض مشائخ کے صرف اسماء گرامی ہی لکھے جا رہے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعید پالن پوری رحمہ اللہ، پاکستان کے معروف خطیب مولانا عبیدالرحمن ضیاء، تلمیذ بنوری مولانا ہارون عباس عمر جنوبی افریقہ، مفتی محمد احمد انور شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ اشرفیہ مانکوٹ کے ماموں پیر طریقت حضرت خواجہ عزیز احمد بہلوی رحمہ اللہ،جامعہ نظامیہ بہاول پور کے بانی و مہتمم مولانا شمس الدین انصاری رحمہ اللہ،معروف روحانی معالج حضرت مولانا علامہ ارشد حسن ثاقب،مولانا شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ، پیر طریقت رہبرشریعت حضرت مولاناپیر عزیز الرحمن ہزاروی، استاد القراء قاری محمد صدیق صاحب فیصل آباد، قاری کرامت علی نعیمی صاحب فیصل آباد، حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید و دیگرورنہ بخدا اس سال نے ایسے ایسے نایاب ھیرے ہم سے چھینے ہیں کہ جن کو یاد کرنے بیٹھیں تو کئی کئی دن اور ہفتے لگ جائیں۔ گلشن کائنات کے یہ مہکتے پھول تو اپنی لطافت اور نزاکت دکھا کر چلے گئے لیکن ان کے فکر و افکار کی خوشبو قیامت تک دلوں کو مہکاتی رہے گی۔آخر میں دعا ہے اللہ تعالیٰ دنیا سے رخصت ہونے والے تمام حضرات کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے چاہنے والوں کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین یارب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com