وقت اور زندگی کا کیا بھروسہ

وقت اور زندگی کا کیا بھروسہ
علی رضا رانا
کہتے ہیں وقت کبھی نہیں رکتا، چلتا رہتا ہے، رخ ہمیشہ آگے کی طرف اور سڑک بھی ایسی سیدھی کہ جس پر کوئی گول چکرہے نہ کسی سمت مڑنے کا اشارہ، تھکتا بھی نہیں کہ چند لمحے سستا ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں اس کا ریموٹ ہے یہ اس کا اتنا تابع ہے کہ اک پل فرض سے کوتاہی ممکن نہیں۔کائنات میںموجود ہر شے احساس سے بندھی ہے حتٰی کہ خالصتاً مادی اشیا ہمارے احساسات کی زد میں آکر محسوس کرنا شروع کردیتی ہیں۔ وقت کے ہاتھ پر بندھی گھڑی کے سیل میعاد پوری کرلیں تو وہ وقت کے بارے میں اطلاعات دینا بند کردیتی ہے مگر وقت کی نبض نہیں رکتی۔ سانس بھی ہموار رہتا ہے نہ ایندھن ختم ہوتا ہے نہ حوصلہ قوت کا طاقتور جنریٹر اسے مسلسل چارج کرتا رہتا ہے۔ یہ اپنی طے شدہ مخصوص رفتار کے مطابق چل رہا ہے مگر انسانی دل کے اشیا اور کائنات کے چلن کو ماپنے کے اپنے پیمانے ہیں۔ سو ہماری دلی کیفیت اس میں کمی اور تیزی کو محسوس بھی کرتی ہیں بلکہ جھیلتی بھی ہیں۔جیسے کے اس شعر سے واضح ہے۔

’’وقت کا قافلہ آتا ہے گزر جاتا ہے
آدمی اپنی ہی منزل میں ٹھہر جاتا ہے‘‘

اگر آج ہم سے کوئی یہ پوچھے کہ ’’زندگی میں وہ کیا چیز ہے جسے پانے یا حاصل کرنے کی ہم سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں‘‘ تو کچھ نمایاں جوابات ہوں گے۔ عزت، دولت، مرتبہ، شہرت، سکونِ قلب، وقار، اطمینان، علم، شعور، آگہی، آسائش، آرام، یہ وہ بنیادی زمرے ہیں جن کی وسعت میں وہ تمام چیزیں سما جاتی ہیں جو ہماری خواہشات میں شامل ہیں۔ مگر اس دوڑ میں مزید اضافہ کردیتی ہیں جو کہ شاید زندگی کے اختتام پر ہی رک سکتی ہے۔

’’دنیا کے عیش و آرام کے اسباب ختم نہیںہوتے، ہم ہی ختم ہوجاتے ہیں،ہم نے انہیں نہیں کھایا بلکہ خود ہم ہی ان کا نوالہ بن گئے، وقت ختم نہیں ہوا ہمارا عرصہ حیات ختم ہوگیا، خواہشات کبھی بوڑھی (کمزور) نہیںہوتیں، ہم ہی بوڑھے ہوگئے اور مرگئے۔‘‘ اس طرح مٹی میں مٹی مل گئے، آج انسان مٹی سے بن کر مٹی میں ہی سوگیا مگر خواہشات نامکمل رہیں۔
خواہش، طلب، آرزو، چاہت، یہ وہ چند الفاظ میں جن سے ہماری زندگی کبھی خالی نہیں ہوتی۔ کبھی یہ خواہش ایک ایسے دریا کی مانند جو سوکھنے کے قریب ہے سمٹ کر محض ضرورت بن جاتی ہے تو کبھی کسی بپھرے ہوئے سمندر کی شکل اختیار کرکے جنون اور دیوانگی میں بدل جاتی ہے۔ خواہش کی ابتدا کیا ہے اور انتہا کیا؟ یہ حدیں شاید ہر انسان کیلئے مختلف ہیں۔اسی لئے انہیں ہر کوئی اپنے انداز میں بیان کرتاہے اور بقول غالب کہ ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔‘‘ تو حقیقت یہ کہ انسان کا خواہش کے ساتھ تعلق تب سے ہے جب وہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے اور یہ سلسلہ اس کے اس دنیا سے کوچ کرجانے تک چلتا رہتا ہے اور پھر بڑوں سے سنابھی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ’’وقت کبھی کسی کے ہاتھ میں نہیںہوتا۔‘‘ اس کا کام بدلنا ہے اور یہ بدل کر رہتا ہے۔ ہم انسان وقت کے بارے میں بہت انجان ہیں اور ہمیشہ ہی اس کو سمجھنے میںناکام رہتے ہیں۔ ہم جب کامیاب ہوتے ہیں توایسے محسوس کرتے ہیں کہ یہ وقت سدا ایسا ہی رہے گااور کبھی بدلے گا نہیں اور ایسے ہی مہربان رہے گا۔ اس لئے جب بھی بہتر وقت آتا ہے تو سب سے پہلے انسان کا رویہ تبدیل ہوتا ہے۔ اس کو دنیا اپنے ماتحت لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ یہ بادشاہی ہمیشہ ایسی ہی رہے گی اور اس کو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب کبھی وقت پلٹا نہیں کھائے گا مگر انسان کو مایوسی اس وقت آگھیرتی ہے جب وقت پلٹا کھاتا ہے تو انسان کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں کہ ’’یہ وقت کبھی کسی کا نہیں رہتا۔‘‘
وقت کی پیمائش بھی ہمیشہ انسان کیلئے ایک مسئلہ ہی رہی ہے، سورج اور ستاروں کی چال سے لیکر فرقِ یاد کی طوالت اور وصل کی مختصر گھڑیاں، عرض وقت کو ناپنے کے سب پیمانے ایک وقت تک ہی انسان کا ساتھ دیتے ہیں اور پھر انسان سوچتا ہے کہ پلوں کے نیچے سے جتنا پانی بہہ گیا، وقت کیلئے بہائے گئے اس کے پیمانے اس کا ادراک نہیں کرسکے۔
جوکہ اس شعر سے واضح ہے

وقت کے در پر بھی ہے بہت کچھ وقت کے در سے آگے بھی
شام و سحر کے ساتھ بھی چلئے شام و سحر سے آگے بھی

بدلائو قدرت کا اصول ہے، کچھ بھی ہمیشہ کیلئے نہیں ہے۔ اسی طرح وقت اگر عروج دکھاتا ہے تو زوال بھی انسان کو یہ سہنا پڑتا ہے۔ انسان بنیادی طور پر جذباتی واقع ہوا ہے۔ اگر کوئی کامیابی ملنا شروع ہوجائے تو آسمان پر اڑنا شروع کردیتا ہے اور اگر زوال آجائے تو پھر مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیںکہ وقت کبھی بھی دبے پائوں نہیں بدلتا، یہ پلٹنے سے پہلے اپنی کچھ نشانیاں ظاہر کرتا ہے، انسان کو وقت بار بار باور کراتا ہے کہ میں کسی کا نہیں ہوا، اس لئے میرے بہتر ہونے پر کبھی خودکو نہ بدلنا بلکہ کوشش کرنا کہ جب میں اچھا ہوں تو تمہارا رویہ اس حد تک بہتر ہونا چاہئے کہ میرے بدلنے پر مشکل میں کوئی تمہارے ساتھ کھڑا ہوسکے۔ مگر انسان اپنی دھن میں چلتا رہتا ہے، جب اسے ٹھوکر لگتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش میں خود کو سدھار لیتا تو اتنی تکلیف نہ اٹھاتا۔افسوس پر اب وقت گزر گیا۔

جیسا کہ اس شعر سے واضح ہے
’’زمانہ بڑ ے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سوگئئے داستان کہتے کہتے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com