گمنام شاعروں کے معروف اشعار

گمنام شاعروں کے معروف اشعار
محمدپرویزبونیری
ادب زندگی کاحسن ہے۔ادب کاکے ذریعے انسان اپنے خیالات، جذبات اوراحساسات کااظہارکرتاہے۔ یہ اظہار نثرمیں بھی ہوسکتاہے اورشعرمیں بھی، مگرخیالات، جذبات اوراحساسات کے لئے اکثراوقات ایک شعر وہ کام کردیتاہے جوکئی صفحات کی نثری عبارت یا طویل تقریرسے ممکن نہیں ہوتا۔ غزل کا شعروحدت خیال کی بناپر دل کی دھڑکن کاساتھ دیتاہے کیونکہ غزل سوزِ دروں کی آنچ میں تل کر تیرنیم کش بنتاہے۔بقول شاعر
غزل سوزِدروں کی آنچ سے لفظوں میں ڈھلتی ہے
فقط رنگینئی حسن بیاں سے کچھ نہیں ہوتا
ایسے اشعار جس میں حسن بیان، تغزل اورالفاظ کی رنگینی بدرجہ اتم موجودہواورجو موقع محل کی مناسب سے اظہارجذبات کے ساتھ ساتھ سامعین کے لئے باعث تاثیرہوں، ادب کی زبان میں ضرب المثل اشعارکہلاتے ہیں۔اکثراوقات پورے شعرکے مقابلہ میں ایک مصرع بھی محفل میں وہ اثرچھوڑدیتاہے کہ سننے والوں کے دل کو کیف اورروح کو سرورعطاہوتاہے۔
مجھے چونکہ اردوادب سے شروع سے شغف رہاہے۔اللہ تعالیٰ کے بے شماراحسانات جوہمیں ودیعت کئے گئے ہیں،میں ایک ادب دوستی ہے اوراس پر مستزاداردوادب کااستادہونے کاشرف بھی ہے۔ اسی وجہ سے اردوادب سے متعلق بہت سے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لئے تحقیق کی روش کبھی ترک نہیں کرتے۔آ ج میں کچھ ایسے اشعار کاکھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں جوزبان زردخاص وعام ہیں اورلوگ دوران گفتگو اسکابے دھڑک استعمال کرتے ہیں، مگربہت کم لوگوں کواسکاماخذمعلوم ہوتاہے اوراکثراوقات اردوادب کے طلبا اوراساتذہ ایسے اشعارکے بارے میں نہیں جانتے اورغلط حوالے دیتے ہیں۔آئیں کچھ ایسے اشعارکاسراغ لگالیتے ہیں۔
غافل تجھے کرتاہے یہ گھڑیال منادی
گردوں نے گھڑی عمرکی اک اورگھٹادی
سکول اورکالجوں میں خطابت کے دوران اکثراس شعرکوعلامہ محمداقبال کے ساتھ منسوب کیاجاتاہے اوراسکاپہلامصرع اس طر ح پڑھتے ہیں، جوکہ غلط ہے۔ ” غافل تجھے گھڑیال یہ دیتاہے منادی”۔یہ شعرمحمدقدرت اللہ شوق کاہے، جن کاتعلق رامپور(اترپردیش) سے ہے اورانکاسب سے بڑاکارنامہ تذکرہ شعراالمعرو ف بہ طبقات الشعراء ہے۔مذکورہ بالا شعروقت کی قدروقیمت کے حوالے سے ہے، اس لئے اسکااستعمال بہت زیادہ ہے۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہواکرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خداکرے
یہ شعرشہیرمچھلی شہری کاہے، جس کے متعلق بہت کم لوگوں کوعلم ہوگاکیونکہ شہیرمچھلی شہری کانام کچھ زیادہ معرو ف نہ ہے جبکہ انکا مذکورہ شعرکافی مشہورہواہے۔ بعض لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے یہ لوگ یہ شعربھی مفت میں اقبال کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔شہیرمچھلی شہری کااصل نام سیدمحمدنوح ہے،جوکہ 1852ء میں اترپردیش کے مچھلی شہرمیں پیداہوئے تھے۔
چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے
عاشق کاجنازہ ہے ذرادھوم سے نکلے
مذکورہ شعربھی ضرب المثل کی حیثیت اختیارکرچکاہے۔خاص طورپر اس شعرکادوسرامصرع توکافی مشہورہواہے، مگراسکے شاعر کانام شاید کسی کو معلوم ہوابلکہ اکثراوقات ادب کے اساتذہ اورطلباء بھی انکے نام سے مانوس نہیں ہوتے۔یہ شعرفدوی عظیم آبادی کاہے۔
ایک اورشعر ہے،جس کاصرف ایک مصرع ضرب المثل کی حیثیت حاصل کرچکاہے، وہ یہ ہے۔
مرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی
چونکہ اصل شعر اورشاعر کے نام سے عدم ناواقفیت کی بنا پر اکثرلوگ صرف ایک ہی مصرع سے مطلب پوراکرلیتے ہیں،اس لیے کسی نے اصل شعر کو سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ اس شعر کاپہلامصرع بھی مختلف قسم کاہے۔ایک جگہ میں ”مریض عشق پہ رحمت خداکی“ کے ساتھ شعردرج ہے، مگردرست اوراصل شعر، جوکہ مرزاعلی اکبرمضطرف کاہے، ذیل ہے۔
وصال یارسے دوناہواعشق
مرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی
اسی طرح محشربدایونی کاذیل شعراکثراوقات خطابت اوررنگین بیانی کے لئے استعمال ہوتاہے۔
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کافیصلہ
جس دئے میں جان ہوگی وہ دیارہ جائے گا
بیان میں زورپیداکرنے اورحوصلہ، ہمت اورجذبہ بڑھانے کے لئے یہ شعراکثرتقاریرکے دوران بولاجاتاہے، مگراسکے شاعربھی گوشہ گمنامی میں پڑاہواہے۔محشربدایونی کااصل نام فاروق احمدتھا،جوکہ 1922ء کو بدایون میں پیداہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعدہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور1994ء کو کراچی میں وفات ہوئے۔
کسی کے آتے ہی ساقی کے یہ حواس گئے
شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں
یہ شعر ایک دوست نے بڑے جرات کے ساتھ غالب کے ساتھ منسوب کیا اورساتھ ایک فرضی کہانی بھی سنائی کہ ایک محفل میں ایک نئے شاعرنے شعرکادوسرامصرع پڑھا۔محفل میں اسکی خوب جگ ہنسائی ہوئی، کہ اس دوران غالب نے اٹھ کر کہاکہ یہ شعرکادوسرامصرع ہے اورشعرکاپہلامصرع پڑھا،جس سے اہل محفل نے خوب داددی۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ نہ تویہ واقعہ مستند ہے اورنہ کبھی غالب نے ایساکوئی شعریامصرع کہاہے۔اصل میں یہ شعر وزیرلکھنوی کاہے۔مذکورہ شعرکاپہلامصرع اکثردوست اس طرح پڑھتے ہیں۔ ” کسی کے آتے ہی ساقی کے ایسے ہوش اڑے “۔ جبکہ درست مصرع یہ ہے۔” کسی کے آتے ہی ساقی کے یہ حواس گئے”۔ ریختہ کی ویب سائٹ پر یہ مصرع ” کسی کے آتے ہی ساقی کے ایسے ہوش اڑے ” کے ساتھ یہ شعر میرناظرحسین ناظم کے ساتھ بھی منسوب کیاگیاہے، مگراصل شعر یہی ہے۔(بحوالہ انتخاب سخن صفحہ نمبر221)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com