کے سی آر 21سال بعد اپنے ٹریک پر رواں دواں

عبداللہ
روشنیوں کا شہر کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ ایک وقت تھا کہ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے تھے اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہوئے یہی وجہ ہے کراچی کو چھوٹا پاکستان بھی قرار دیا جاتارہا ہے۔ پھر ایک وقت وہ بھی تاریخ نے دیکھا کہ کراچی کو کسی کی نظر لگ گئی اور 80 اور 90 کی دہائیوں میں یہا ں لسانی فسادات، تشدد اور دہشت گردی نے اپنے پنجے گاڑھ لئے۔پھر بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کے لیے حکومت اور عوام کے مکمل تعاون کے ساتھ سیکورٹی فورسز کو بلاامتیاز کاروائیاں کرنی پڑیں اور اب یہ بات ببانگ دہل کہی جا سکتی ہے مافیا کا مکمل قلع قمع ہوچکا ہے اور کراچی کی امن عامہ کی صورت حال کافی بہتر ہوچکی ہے اوراب شہر میں مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار میں اضافہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ کراچی کو چھوڑ کر دوسروں شہروں میں جا بسنے والے واپس کراچی کی جانب رُخ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرنے لگے ہیں۔
دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا لیکن اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار میں کمینہیں آئی جو معاملات ڈی ریل ہوئے تھے دوبارہ ٹریک پر آ چکے ہیں مگر اِس عرصے کے دوران حکومتوں نے پھلتے پھولتے کراچی شہر میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل پرخاطر خواہ توجہ نہ دی۔ایک سرکلر ٹرین سسٹم تھا جسے کباڑ خانے کی نذر کر دیا گیا اور یوں بڑھتے ہوئے بے ہنگم ٹریفک کے باعث حادثات میں بھی کافی اضافہ ہوتا چلا گیا صرف تین ماہ کیدوران نو سو سے زائد ٹریفک حادثات میں 60 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹریفک حادثات کے باعث 66625 مرد اور 17718 خواتین متاثر ہوئیں اورریسکیو1122 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران 84 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔دستیاب اعداد و شما رکیمطابق سب سے زیادہ ٹریفک حادثات موٹر سائیکل سواروں کے ہوئے جن کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہے۔اِن حادثات کے تناسب کو کم سے کم کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ سڑکوں میں ٹریفک کو کم سے کم کیا جائے اوروہ تبھی ممکن ہے جب حکومتی سطح پر پبلک ٹرانسپورٹ کو خصوصی توجہ دی جائے۔
یہ بات خوش آئندہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 21 سال پہلے بند ہو جانے والے ماس ٹرانسپورٹ منصوبے کو پاکستان ریلویز نے دوبارہ جزوی طور پر بحال کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں بلکہ بحال کر دیا گیا ہے جس سے ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے میں کافی حد تک مدد ملے گی ڈویژنل کمرشل آفیسر (ڈی سی او) ریلویز کراچی کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے سٹیشن سے سٹی سٹیشن اور سٹی سٹیشن سے اورنگی سٹیشن تک ٹرین کی سروس بحال کی جارہی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون سے پاکستان ریلویز باقی حصے کو بھی بحال کردے گی۔ بتایا گیا ہے کہ کے سی آر منصوبے کے شروعاتی مرحلے میں 11 بوگیاں لائی گئی ہیں، جو ریلویز کے زیر استعمال رہی ہیں۔ ان بوگیوں پر پاکستان ریلویز کے ادارے کیریج فیکٹری اسلام آباد میں مرمت اور رنگ کا کام کیا گیا ہے اور اب یہ کراچی سرکلر ریلوے میں استعمال کے لیے تیار ہیں۔
کراچی کے پورٹ قاسم کے نزدیک واقع پپری کے پاس موجود مارشلنگ یارڈ ریلوے سٹیشن سے اورنگی تک 60 کلومیٹر فاصلہ ہے جس کے درمیان کے سی آر کے 22 سٹیشن ہوں گی۔ کراچی سرکلر ریلوے کی ٹرنیں صبح ساڑھے چھ بجے سے شروع ہوجائیں گی۔ ایک وقت میں دو ٹرینیں روانہ ہوں گی، ایک مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے سٹیشن سے سٹی سٹیشن تک اور دوسری اورنگی سٹیشن سے سٹی سٹیشن تک، دونوں سٹیشنوں سے ایک دن میں چار ٹرینیں چلیں گی، ہر ٹرین کے ساتھ پانچ بوگیاں ہوں گی، ہر بوگی میں 100 مسافر ہوں گے، یعنی ہر ٹرین میں 500 مسافر سفر کرسکیں گے، روزانہ آٹھ ٹرینیں چلیں گی، یعنی کراچی سرکلر ریلوے روزانہ چار ہزار مسافروں کو لے جائے گی۔ایک طرف کا تعارفی کرایہ 30 روپے رکھا گیا ہے جو ہر قسم کے مسافر کے لیے ہوگا۔ کراچی سرکلر ریلوے کوچ کے اندر آگ بجھانے کے آلات اور مسافروں کی تفریح کے لیے ٹیلی وژن بھی رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بوگی کے اندر ایک سکرین بھی نصب ہے، جس پر سٹیشن کا نام بتایا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق فی الوقت خواتین کے بیٹھنے کا علیحدہ انتظام نہیں کیا گیا ہے، مگر مستقبل میں اگر خواتین مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو ان کے لیے علیحدہ انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔‘
کراچی ریلوے کی تاریخ بہت دلچسپ ہے کے سی آر کو 1964 میں شروع کیا گیا تھا جو کراچی کے ڈرگ روڈ سٹیشن سے شروع ہوکر وسط شہر تک تھا۔ بعد میں پاکستان ریلویز نے اسے کئی سال تک گھاٹے میں چلایا اور بڑے معاشی نقصان کے بعد آخرکار 1999 میں پاکستان ریلویز کے حکام نے اس کو مکمل طور پر بند کردیا تھا۔2005ء میں جاپان انٹرنیشنل کوپریشن ایجنسی کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے نرم شرائط پر قرض دینے کے لیے رضامند ہو گئی تاہم منصوبے پر پھر بھی کام کا آغاز نہ ہوا اور اب تک التوا کا شکار ہے۔7 جون 2013ء کو سندھ کے وزیر اعلی قائم علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کرنے کے لیے 2.6 ملین امریکی ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی۔پاکستان ریلویز نے کراچی میں آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 1969ء میں کراچی سرکلر ریلوے کا آغاز کیا۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی شہر ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان ریلویز کی مرکزی ریلوے لائن پر بھی کراچی شہر – لانڈھی اور کراچی شہر – ملیر چھاؤنی کے درمیان لوکل ٹرینیں چلتیں تھیں۔ کراچی کے شہریوں نے اس سروس کو بے حد پسند کیا اور پہلے ہی سال کراچی سرکلر ریلوے کو 5 لاکھ کا منافع ہوا۔1970ء اور 1980ء کی دہائی میں جب کراچی سرکلر ریلوے عروج پر تھی روزانہ 104 ٹرینیں چلائی جاتیں تھیں جن میں 80 مرکزی لائن جب کہ 24 لوپ لائن پر چلتیں تھیں۔ لیکن کراچی کے ٹرانسپورٹروں کو کراچی سرکلر ریلوے کی ترقی ایک آنکہ نا بھائی اور انھوں نے اس کو ناکام بنانے کے لیے ریلوے ملازمین سے مل کر سازشیں شروع کر دیں۔ 1990ء کی دہائی کے شروع سے کراچی سرکلر ریلوے کی تباہی کا آغاز ہوا۔ ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں نے کراچی سرکلر ریلوے سے سفر کرنا چھوڑ دیا۔ آخر کار 1994ء میں کراچی سرکلر ریلوے کی زیادہ تر ٹرینیں خسارہ کی بنا پر بند کر دیں گئیں۔ 1994ء سے 1999ء تک لوپ لائن پر صرف ایک ٹرین چلتی تھی۔ 1999ء میں کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔کراچی شہر ریلوے اسٹیشن پاکستان کا پہلا اور قدیم ترین ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہ حبیب بینک پلازہ، آئی آئی چندریگر روڈ کے قریب کراچی میں واقع ہے۔ ابتدا میں یہ میکلوڈ روڈ ریلوے اسٹیشن کہلاتا تھا۔اب زیادہ تر ٹرینیں کراچی چھاونی ریلوے اسٹیشن منتقل ہوچکی ہیں اور صرف چند ٹرینیں یہاں سے چلتیں ہیں۔کراچی شہر ریلوے اسٹیشن میں تقریباً تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ یہاں گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے کار پارگنگ موجود ہے۔ ٹرینوں میں جگہ محفوظ کرنے کے لیے ایڈوانس اور کرنٹ ریزرویشن کے دفاتر بھی موجود ہیں۔ پلیٹ فارم ایک میں کھانے پینے اور کتابوں کے اسٹورز واقع ہیں۔
جیسے پہلے بیان کیا جاچکا ہے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) 21 سال بعد دوبارہ بحال ہوگئی۔ افتتاحی تقریب میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے 46 کلو میٹر ٹریک پر سٹی اسٹیشن سے پیپری تک سرکلر ریلوے چلے گی، اس میں سرکلر کا 14 کلو میٹر خصوصی ٹریک شامل ہے، 15 روز بعد مزید 14 کلو میٹر ٹریک کا اضافہ ہوگا اور 12 پھاٹک نصب کریں گے جبکہ ٹریک پر کراسنگ کی تعمیر مکمل کرلی جائیگی۔شیخ رشید نے کہا کہ ابتدا میں یومیہ 2 ٹرینیں چلیں گی، پھر 14 دسمبر کو 8 اور اس کے بعد سے یومیہ 20 ٹرینیں چلیں گی، سرکلر ریلوے کا کرایہ 30 روپے کردیا، مزدور طبقہ 750 روپے ماہانہ کارڈ کے زریعے سفر کرسکیں گے۔
شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 44کلومیٹرپر مشتمل کے سی آر ٹریک میں 20 اسٹیشنز اور 24 پھاٹک ہیں جس میں سے 30کلومیٹر لوپ لائن اور 14کلومیٹر مین لائن پر بنا ہے،کل 20 اسٹیشن ہیں جن میں سے 15 لوپ لائن اور 5 مین لائن پر ہیں۔پاکستان ریلوے کے مطابق پورے ٹریک پر 24 لیول کراسنگ یعنی پھاٹک قائم ہیں جن میں سے 15 لیول کراسنگ کی مرمت کے لیے سوا 15 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔کراچی سرکلر ریلوے کے کوچز کی تیاری کاکام اسلام آباد کیرج فیکٹری میں جاری ہے، 7 تیار ہیں جب کہ جنوری تک 40 کوچز تیار کرلی جائیں گی، ہرکوچ میں 96 مسافروں کے لیے 64 نشستیں اورکھڑے ہونے والے مسافروں کے لیے 32 ہینڈ ہولڈ بار لگائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ واش رومز، پنکھے، ٹی وی،وائی فائی اور موبائل چارج کرنے کی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔پاکستان ریلوے کی رپورٹ کے مطابق کے سی آر منصوبے کو 3 مراحل میں بحال کیا جا رہا ہے، پہلے مرحلے میں یومیہ 32 ٹرینز کیذریعے 16 ہزار مسافر سفر کریں گے اور کل فاصلہ آدھے گھنٹے میں طے ہوگا جب کہ اپ گریڈیشن کے بعد ٹرینوں کی تعداد 48 جب کہ مسافروں کی گنجائش بڑھ کر 24 ہزار ہوجائیگی اور سفرکا دورانیہ کم ہو کر 19 منٹ رہ جائیگا۔دوسری جانب وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں کیرج فیکٹری کا دورہ کرکے کوچز کی تیاری کاجائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کراچی سرکلر کی بحالی کیلئے 40 کوچز بنا رہے ہیں، اب تک کیرج فیکٹری میں 7 کوچز تیار کی جاچکی ہیں،3 ماہ میں 40 کوچز تیار کرلیں گے،اس کے لیے وزارت ریلوے کو 10 ارب روپیہ ملا ہے۔
بہرحال عدلیہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے باہمی تعاون اور چائنا کی مکمل سپورٹ کے بعد اب کراچی کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوچکا ہے اور سرکلرریلوے اپنے ٹریک پر پھر سے رواں دواں ہے۔کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنانا ایک اُمید تھی، ایک حسرت تھی،ایک آس تھی،ایک خواب تھا جس کو اب تعبیر مل رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com