عوام کو رلیف نہیں تو زندہ رہنے کا حق دیں

عوام کو رلیف نہیںتو زندہ رہنے کا حق دیں!
تحریر:شاہد ندیم احمد
ملک بھر کے بڑے شہروں میں سردی کے موسم میں گیس کے بحران کا سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے جس سے گھریلو صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ حکومت نے گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی خاطر 2ہفتوں کیلئے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو سپلائی بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، اس کے بعد گیس بحالی کا دارومدار سردی کی شدت پر ہے، دوسری طرف گھریلو صارفین کو بھی شدید گیس دشواری کا سامنا ہے۔ موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی گیس کی کھپت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور گھریلو صارفین کو ملنے والی گیس کا پریشر اِس قدر کم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کو لکڑیاں جلا کر کھانا بنانا پڑتا ہے۔ حکومت کو اس بات کا احساس کرتے ہوئے سردیوں سے قبل ان عوامل کے خاتمے کے اقدامات کرنا چاہئیں تھے جن کے باعث سردیوں میں گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے،مگر ہمیشہ کی طرح بروقت ببحران میں بدحواسی حکومتوںکا وطیرہ رہا ہے،موجودہ صورت حال بھی اسی ناقص منصوبہ بندی کانتیجہ ہے،ایک طرف گیس کمی کا بحران ،جبکہ دوسری طرف گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں،حکومت گیس ،بجلی کی قیمتیں آئے وز بڑھائے جارہی ہے ،مگر مہنگی ترین گیس ،بجلی دینے میں بھی ناکام ہے ۔حکومت گیس بحرا ن کی وجوہات کے سد باب کی بجائے عوام کو روشن مستقبل کے سہا نے خواب دکھانے میں مصروف ہے ،جبکہ گیس کے بحران میں بڑی وجہ چوری کا بڑھ جانا اور پائپ لائنوں کی مینٹی ننس میں بیقاعدگی سے گیس کا لیک ہو جانا سب سے بڑا عنصر ہے۔ ملک میں یومیہ گیس کی کل پیداوار 3.8سے 4.2ارب مکعب فٹ، جبکہ طلب عام دنوں میں 6اور شدید سردی کے دنوں میں مزید بڑھ کر آٹھ مکعب فٹ ہو جاتی ہے۔اس صورت حال میں جب عام صارفین گیس کی عدم دستیابی کا شکار ہیں،بڑے سرمایہ دار اور بااثر لوگ گیس کمپریسر لگا کر گھریلو صارفین کی حق تلفی کرتے ہیں۔ حکومت گاہے بگاہے گیس ،بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈائون کے اعلانات تو بہت کرتی ہے ،مگر چندچھوٹے موٹے چوروں کو پکڑ نے کے بعد مہم سازی محکمانہ کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے ۔حکومت کو اس صورتحال میں گھریلو صارفین کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے گیس چوری اور اس کے ضیاع کے خاتمے کے ٹھوس اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کے متذکرہ شیڈول پر بھی نظر ثانی کرنی چاہئے، عوام بڑھتی مہنگائی برداشت نہیں کرسکتی ،گیس ،بجلی کی قیمتوں میں نظرثانی کے ساتھ موسم تبدیلی ہوتے ہی گیس،بجلی کی رسد کو طلب کے مطابق بڑھایا جائے، تاکہ کسی بھی موسم میں گھریلو صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس میں شک نہیں کہ تحریک انصاف حکومت عوام کو رلیف دینا چاہتی ہے ،مگر ملکی حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان جہاں عوام کو مشکل حالات میں صبروتحمل کی تلقین کرتے ہیں ،وہاں کابینہ کے اجلاس بلاکر وزراء کو عوامی مسائل کے تدارک کے حوالے سے سر زنش بھی کرتے رہتے ہیں ،مگر حکومتی وزراء ایک کان سے سننے کے بعد دوسرے کان سے نکالنے کے عادی ہو چکے ہیں ،اُن کی ترجیحات عوام کی بجائے اپوزیشن پر تنقید کرنا اور زاتی مفادات کے حصول میں متحرک رہنا ہے ،وہ عوامی بحرانوں سے بے غرض نظر آتے ہیں،ملک بھر میں گیس نے شہریوں کا جینا محال کر دیا،مگر عوامی نمائندگان کی دور تک کوئی خبر نہیں ، عوام حکومت کو کوستے نظر آتے ہیں،جبکہ منتخب نمائندے خاموش تماشائی بنے منظرسے غائب ہیں۔عوام سراپہ احتجاج گیس دفاتر میں دادرسی کے لیے جاتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ سردیوں میں اسی صورت حال میں گزارا کرنا پڑے گا ،جبکہ گیس استعمال کیے بغیر ہزاروں کے بل دینا عوام کی مجبوری بن گیا ہے ۔وزیر پٹرولیم کا خیال ہے کہ گیس کے ہیٹر اور گیزر استعمال کرنے کی وجہ سے گیس کے بل زیادہ آئے ہیں۔ حکومت کے کرتا دھرتا سمجھتے ہیں کہ گیس کے ہیٹر اور گیزر غریبوں کے لیے ضروری نہیں ، صرف صاحب استطاعت کو ہی یہ استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ایک طرف گیس کے بلوں نے عوام کے ہوش ٹھکانے لگا دیے ہیںتو دوسری طرف نیپرا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔عوام کے لیے سردیوں گیس اور گرمیوں میں بجلی نایاب ہے ،مگر تمام موسموں میں ہزاروں کے بل ضرور دستیاب ہوتے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ عوام مایوس اورپریشان ہیں، لیکن وزیر اعظم کے وزراء بے خبر ہیں۔ ہر ظلم ہونے کے بعد وزیر اعظم کوپتہ چلتا ہے تو وہ اس ظلم پر نوٹس لے لیتے ہیں۔ ملک میں گیس کا بحران کوئی نیا نہیں،ہمیشہ سردیوں میںگیس کی شدید قلت ہوتی ہے۔محکمہ گیس ،بجلی سب کچھ جانتے ہو ئے بھی بحران سے قبل بحران کے سدباب کی کوئی پیش بندی نہیں کرتے ، کیو نکہ یہ بحرانی کیفیت ہی ذاتی مقاصد کے لیے ساز گار ہے ۔گزشتہ سال بھی گیس کی قلت پر شور مچا توزیر اعظم نے نوٹس لیا تھا، لیکن جب شور بڑھ گیا تو دو ایم ڈی فارغ کر دیے گئے تھے، مگر گیس کی کمی دور نہیں ہوئی تھی ۔اس بار بھی حکومتی نوٹس پرکچھ اہلکار فارغ ہو سکتے ہیں ،مگر اس سے نہ تو گیس کا بحران ختم ہو گا اور نہ اضافی بل واپس ہوں گے
بلا شبہ حکومتی اقدامات سے عوام کی طرز زندگی پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں ،جبکہ وزیر اعظم عمران کا کہنا ہے کہ ملک حالات میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے ،وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ حکومتی اقدامات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے ۔عوام کو وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ایک طرف ملک سے غربت ختم کرنے کی بات کر تے ہیںتودوسری طرف مہنگائی اور بے ورزگاری میں اتنی تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں کہ مڈل کلاس کے لیے زندگی مشکل سے مشکل ترین ہو گئی ہے۔ اگر ملک میں معاشی ڈپریشن کی یہی صورتحال رہی تو مڈل کلاس بھی غریبوں میں شمار ہو جائے گی،لیکن وزیر اعظم کی کابینہ اور مشیر ان کو کوئی احساس نہیں،وہ ملک کی معاشی حالت خراب ہونے کا واویلا کرکے عوام کو سبسڈی نہ دینے کے مشورے دیتے ہیںاور خود تمام حکومتی مراعات سے مستفید ہوتے ہیں، کیا یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ نہیں ہے، عوام سے تو ہر سبسڈی چھینی جا رہی ہے، لیکن حکومتی ارکان کی عیاشیاں جاری ہیں،عوام کو بے شک رلیف نہ دیں ،مگر انہیں زندہ رہنے کا حق تو دیں ،گیس ،بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے عوام سے روٹی کا آخری نوالہ بھی چھینا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com