عثمان بزدار بے اسراء بچوں کیلئے سہارے کی اُمید

محمد رامیش اصغر
اِس حقیقت سے کسے انکار ہے کہ بے آسرا بچوں کی دیکھ بھال کی ساری ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، جوں جوں آبادی میں اضافہ ہورہا ہے معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ خاندانی مسائل بھی سراُٹھا رہے ہیں المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی کفالت سے ہی دستبردار ہونے لگے ہیں۔’آپ کماؤ آپ کھاؤ‘کی قابل افسوس سوچ کے تحت بچوں گرم تپتے ہوئے بھٹوں کے سامنے کام کیلئے ڈال دیا جاتا ہے یا پھر لاوارثوں کی طرح گھرسے بے دخل کر دیا جاتا ہے او ریوں ننھے منے بچے جن کے ہاتھو ں میں قلم و دوات ہونی چاہیے تھی کشکول تھامے دربدر پھرنے لگتے ہیں جن کے منہ میں ماں کی ہاتھ کی بنی ہوئی نرم نرم چوری ہونی چاہیے تھی کوڑے دانوں اور کچروں میں پڑی ہوئی بچی کھچی سوکھی روٹی کے نوالے ہیں۔جنہیں اپنے والدین کی آغوش میں میٹھی نیند سونا چاہیے تھا سڑک کنارے فٹ پاتھوں پرپھٹے پرانے کپڑوں میں سرد راتوں میں بھی بغیر چادر اور تکیے کے پڑے ملتے ہیں۔
کہنے کو بچے تو قوم کا سرمایہ اور مسقتبل ہویا کرتے ہیں مگر افسوس ماضی میں اِن بے آسرا بچوں کے سروں پر حقیقی طور پر ایسا دست شفقت نہ رکھا گیاجس کا وہ حق رکھتے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں سے بھیگ منگوانا تو ایک طرف اِن کلیوں سے جنسی ہراسگی اور فحش ویڈیو بنانے یا پھر ان کے قیمتی اعضاء کی خریدوفروخت جیسی خرافات بھی عام ہو نے لگیں اور یوں ایسے معاملات دنیا بھر میں پاکستان کے لئے بدنامی کا باعث بھی بنتے رہے اگر سابقہ حکمران تھوڑی سی توجہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو پر بھی مرکوز کر لیتے تو کئی جانوں کو نئی زندگیاں دی جاسکتی تھیں
اِس سے بڑھ کر بدنصیبی بھلا اور کیا ہوگی کہ سابق دور میں بارہ سال تک بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بلند وبانگ نعرے،دعوے اور وعدے تو خبروں کی زینت بنتے رہے مگر سنجیدگی کا یہ عالم رہا کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیور کے بورڈ آف گورنر کا ایک اجلاس تک منعقد نہ ہوسکا،چند روز قبل ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ بزدار نے بارہ سال تک چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس نہ ہونے کو ایک بدترین غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ سے زیادہ اہم کام کوئی نہیں ہوسکتا مگر سابق حکمرانوں نے اپنی نااہلی اور بدانتظامی سے ہر شعبہ تباہ کر دیا ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیوروکے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں بے سہارا بچوں کے حقوق کے یقینی تحفظ کیلئے تمام تر وسائل فراہم کرنے کے عزم کااظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت سابق دور میں بوئے ہوئے کانٹوں کو چن چن کر صاف کر رہی ہے اوربھیک مانگنے والے بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے اقدامات بھی کر رہی ہے۔ سال 2019میں بھی پنجاب چائلڈ ڈومیسٹک لیبر پر ایکٹ متعارف کرایا گیاتھا جس کے تحت کم عمر بچو ں سے کام نہیں کروایا جا سکتا بلکہ ایسا کرنے والے کو سزا کے علاوہ بھاری جرمانا بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔اب یہ بات بھی حوصلہ افزاء ہے کہ حالیہ اجلاس میں آرگنائزیشن منیجنگ اکاموڈیشن رولز 2018کے حوالے سے حتمی منظوری پنجاب کابینہ سے لینے کا فیصلہ بھی کر لیا گیاہے،مزید براں ڈائریکٹر ایڈمن کے خلاف شکایات کی انکوائری وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم سے کرانے کا حکم بھی جاری کردیا گیا اور اِس ضمن میں پندرہ روز میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے بھی ہدایت جاری کر دی گئی جو اِس بات منہ بولتا ثبوت ہے کہ حکومت کچھ کر گزرنے کے پختہ ارادے پر قائم ہے جبکہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے سٹاف کے خصوصی الاؤنس کے مطالبے جیسے معاملے کا بھی نوٹس لیتے ہوئے اِسے کا بینہ سٹیڈنگ کمیٹی برائے فنانس و ڈویلپمنٹ کے سپرد کردیا گیا ہے تاکہ سٹاف کی دلجوئی کیلئے جلد ازجلد عملی طور پر مثبت پیش رفت سامنے آسکے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورومیں رہنے والے بچے ہمارے بچے ہیں اِن کو فراہم کی جانے والی سہولتوں میں مزید بہتری لائے جائے گی اور اِن کے حقوق کے تحفظ کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیوروکے تمام فیصلے بورڈ آف گورنرز کی مشاورت اورقواعد و ضوابط کو مدنظر رکھ کرکیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی درد مندی کا اندازہ اِس بات سے باخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ وہ صرف احکامات اور ہدایات ہی جاری نہیں کرتے بلکہ خود بھی چائلڈ بیورو کا دورہ کرتے ہیں اور زیرکفالت بچوں کی دادرسی بھی کرتے ہیں اُن میں گھل مل جاتے ہیں اور تحائف بھی پیش کرتے ہیں۔ اپنائیت کے اِس اظہار سے معصوم چہروں پر مسکراہٹ کھِل جاتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں دو برسوں کے دوران تقریباً گیارہ ہزار بچوں کو ریسکیو کیاگیا،چائلڈ ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی 8669شکایات کا ازالہ کیا گیا اور بھیگ منگوانے والے دو گینگ کو گرفتار کرایا گیا،فیملی ٹریسنگ یونٹ کی موثر حکمت عملی سے 1500بچوں کو اُن کے والدین کے سپرد کیا گیاہے۔علاوہ ازیں ساہیوال اور قصور میں چائلڈ پروٹیکشن بھی قائم کیا جاچکا ہے جبکہ فیصل آباد میں بھی چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیوروکی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔حال میں شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے اگست تک 368بیورو لائے گئے جبکہ 172بچے وہ ہیں جن کے اپنے ماں باپ ان ننھی منی معصوم جانوں کو اپنے گلے کا طوق سمجھ کر سٹرک پر اُتارپھینک کر اپنے فرائض سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سبکدوش ہوکر اپنے گھرو ں کو ہو لئے اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 100بچوں کی عمریں صرف 6سے 10سال تک ہے جبکہ اِس سے بھی ہوشربا بات یہ ہے کہ اِن میں 26بچوں کی عمریں تو 5سال سے بھی کم ہیں یعنی وہ کونپلیں جو ابھی کھلیں بھی نہیں۔یہ خوش آئندبات ہے کہ حکومت پنجاب ایک طرف بچوں کیلئے ٹیوٹا اور دیگر اداروں میں فنی تربیت کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے اور دوسری طرف بچوں سے زبردستی بھیگ منگوانے والی مافیاکے خلاف بلاامتیاز کاروائیوں کا آغاز بھی کر رہی ہے ورنہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ بچوں کوکسی حد تک ریسکیو تو کیا جاتا رہا تا کہ اپنی فائلوں میں چند صفحات کا اضافہ کیا جاسکے مگراُن مافیاپرہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کی گئی اور یوں جن بچوں کا فائلوں میں بازیابی اندراج ہوا ایک بار پھر مافیاکے ہاتھوں میں چلے گئے مگراب بزدار حکومت کی موثر حکمت عملی سے یہ سلسہ بھی ماضی کا قصہ پارینہ بننے جارہا ہے کہ ایک بار بازیاب کرائے گئے بچے پھر کبھی غلط گرفت میں نہیں آسکیں گے۔
اِس وقت چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تینوں یونٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ،چائلڈ پروٹیکشن کورٹ اور چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ موثرانداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف عمل ہیں جبکہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے تمام سیکشنز بھی مکمل طور 24/7 فعال ہیں جن میں سوشل سیکشن، اوپن ریسپشن سینٹر، لیگل سیکشن، میڈیکل سیکشن، سائیکالوجیکل سیکشن، ماس اویئرنیس سیکشن، چائلڈ پروٹیکشن سکول اور ہیلپ لائن 1121شامل ہیں۔یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بزدارحکومت کی اچھی حکمت عملی کے تحت چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تحویل میں آنے والوں بچوں کو بہتر ماحول او ر سیکیورٹی میں احسن انداز میں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اب عوام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حکومت کے ساتھ اِس حوالے سے تعاون کرے اور چائلڈ ہیلپ لائن 1121پر گھر سے مفرور، گمشدہ، یتیم، لاوارث،جبری مشقت اورگھرتشدد کا شکاربے سہارا بچوں کے بارے اطلاع ضرور دیں تاکہ اُن کی اچھی دیکھ بھال سے اُنہیں اِس قابل بنایا جاسکے کہ معاشرے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کلیدی کردار ادا سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد رامش اصغر کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان سے ہے،تعلیمی قابلیت ایم بی اے ہے جبکہ گزشتہ 4 سال سے قلم و قرطاس سے بھی تعلق استوار کئے ہوئے ہیں
ramishasghar@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com