اُمید آخر | عارف محمود قریشی

مجھے آج ایک بات کا جواب چاہیے آپ سب میرے محترم قارئین پاکستانی اور سمندر پار تمام پاکستانیوں سے کہ ہم زندگی کی اس تیز ترین رفتار میں سب سے پیچھے کیوں ہیں؟؟؟صرف کچھ لمحات اس سوال کے جواب کے لیے وقف کر دیں اور خُدارا مجھے جواب دیں کیونکہ میں نے جویہ تین سال متحدہ عرب امارات میں بسلسلہ ملازمت گزارے ہیں اس مشاہدے کے دوران میں بہت مایوس ہو گیا ہوں اور دل کی مایوسی اس قدر ہے کہ شاید میں اپنے اس کالم میں مکمل طور پر بیان بھی نہ کر سکوں گا۔مجھے شرم بھی آتی ہے اور دکھ بھی ہوتا ہے کہ ہم سب مسلمان، پاکستانی اور اللہ رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جس کا ایمان ایک زمانے میں ایسا ہوا کرتا تھا کہ گولی ہو یا تلوار، ظالم ہو یا مظلوم، ایک ہو یا گروہ ہم لوگ بلا خوف و خطر کلمہ حق بلند کرنے والے تھے اور آج کے دور میں ہمارا وہ حال ہو رہا ہے کہ بس پوچھیں مت۔متحدہ عرب امارات سمیت تمام دیگر ممالک میں جہاں دنیا بھر کے لوگ اپنوں سے دور ملازمت اور کاروبار کر رہے ہیں وہا ں ہر ملک میں ہم مسلمان اور پاکستانی بھی ہیں جو برسر روزگار ہیں اور اپنوں کی خوشیوں، ضروریات اور خواہشات کے لیے دیار غیر میں جدائی کا عذاب برداشت کر کے ملک و قوم کی خوشحالی کے لیے برسر پیکار ہیں۔مگر ہمارے کام کرنے کے طریقے باقی تمام لوگوں سے مختلف اور عجیب و غریب ہیں۔آج پاکستانیوں کے لیے آسانی سے ورک ویزہ کیوں دستیاب نہ ہے؟ہم لوگ ایجنٹ حضرات کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں کہ کوئی اچھا ویزہ مل جائے ہم دوبئی چلیں جائیں وہا ں جا کہ درہم کمائیں گے اور نواب رئیس بن کر وطن واپس لوٹیں گے۔مگر افسوس کہ اگر ہم لوگ دوبئی آبھی جائیں تو ہماری وہ عزت و احترام نہیں جو ایک بھارت سے آئے ہوئے فرد کی ہوتی ہے اگر مختلف نیشنیلٹی سے آئے ہوئے لوگ کسی بھی ادارے یا کمپنی میں جاب کے لیے انٹرویو دینے جائے تو مثال کے طور پرایک پاکستانی، تین انڈین، ایک نیپالی، ایک بنگالی اور ایک نائجیریا امیدوار ہو تو ایمپلائر وہ تینوں انڈین اورباقی میں سے ہر ایک کو رکھ لے گا مگر پاکستانی کو نہیں رکھے گایا مستقبل کے لیے لارا لگا دے گا کہ اگلی مرتبہ آپ کو امید ہے جاب مل جائے گی۔اس کی کیا وجہ ہے؟؟؟؟؟؟تمام انڈین چاہے وہ انجینئر ہے، ڈرافٹ مین ہے، فورمین ہے، الیکٹریشن ہے یا کوئی مزدور اس کی نس نس میں صرف یس سر اور مافی مشکل کے دو لفظ رچے بسیں ہوئے ہیں۔یہ ہیں بھارتی افراد جن کے اندر کوئی بھی ایمانی قوت نہیں ہے، بزدل اور ڈرپوک حد درجے کے ہیں،آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتے ہیں۔مگر ان کی یہ خوبی کہ یس سر (جی جناب/ہاں جناب)اور مافی مشکل(یعنی کوئی مشکل نہیں ہے)بہت معنی رکھتی ہے چاہیے بظاہر یہ صرف دو الفاظ ہیں۔دراصل دنیا کو کوئی بھی ملک ہو چاہے یو اے ای، گلف یا یورپین ممالک جب آپ کسی بھی ایمپلائر کو یس سر کہتے ہیں تو وہ آجر یہ سمجھتا ہے کہ آپ نے اس کو وہ عزت دی ہے جو کہ اس کی اپنی بیوی بھی شاید نہیں دیتی ہے۔اور وہ دو لفظ سن کر سمجھ لیتا ہے کہ یہ میرا تابعدار ہے اور یہ تابعداری ایسی چیز ہے کہ اللہ کریم کو بہت پسند ہے جب کوئی انسان اپنے اللہ کریم کا تابعدار بند جاتا ہے تو اس کے حقوق بندوں کے حقوق کے ساتھ بجا لاتا ہے۔نماز پڑھتا ہے روزہ رکھتا ہے زکوٰۃ دیتا ہے، حج کرتا ہے اور کسی بھی انسان کا دل نہیں دکھاتا بلکہ اس کی ہر مشکل میں مدد کرتا ہے۔ جو بندہ کسی آجر کا تابعدار ہو تا ہے تو وہ اس کی دل سے عزت کرتا ہے۔جبکہ اس کے برعکس پاکستانیوں میں جھوٹی اناکا جو گھمنڈ اور خول ہے وہ اس سے کبھی باہر نہیں نکلتا۔جب بھی کسی آجر نے کسی سینیئرنے بات کی غصے میں تو بس آپے سے باہر ہوگئے۔برداشت کی کمی ہے اور یہ کمی ایسی ہے کہ جس شخص میں ہو وہ ملازمت تو دور کی بات ہے اپنے ہی گھر میں گزارہ نہیں کر سکتا۔اگر سوچا جائے تو یہ درس ہمیں ہمارے رسول کریمﷺ نے دیا ہے صبر اور برداشت کیونکہ ایسا کرنے والے کاساتھ اللہ کریم خود دیتا ہے۔ہم کس طرح اپنے ملک کو خوشحالی کی طرف لے کر جائیں گے؟ہمارے تو ملک کے سربراہوں کے اندر بھی صبر حوصلہ اور برداشت کا فقدان ہے۔سربراہان سے نیچے جو وزراء، سرکاری و غیر سرکاری، پرائیوٹ آفیسر ہیں ایم این اے ز ایم پی اے ز ہیں سب کی طبیعت اور مزاج ایک جیسا ہے۔انسان کا ایما ن کامل ہونا چاہیے کہ عزت، ذلت اوررزق صرف اللہ کریم ہی دیتا ہے اور دے گا۔پھر یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کسی انسان نے دوسرے کی تذلیل کی ہے بس جہاں تک ممکن ہو صبر حوصلہ اور برداشت پر استقامت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔آپ کمپنیوں میں جاکر مشاہدہ کریں یا کسی بھی دفتر یا ادارے میں ایک انڈین کو دفتر میں ارباب(مالک) جتنا مرضی ذلیل کرے بر ا بھلا کہے مگر مجال ہے کہ وہ اس کو جواب دے باوجود اس کے کہ خواہ اس کی غلطی ہی نہ ہو مگر وہ بدتمیزی سے پیش نہیں آئے گا دوسری طرف ایک پاکستانی کسی بھی اپنے سینیئر کی بات نہیں سنے گا چاہے اس کی غلطی ہی کیوں نہ ہو۔ایک انڈین چاہے گا کہ وہ اپنے سارے ہندوستانی بھائیوں کا ویزہ فری نکلوا کر ان کو اپنے ساتھ کمپنی یا دفتر میں ورک ویزہ دلوائے۔مگر ایک پاکستانی اپنے ہی بھائی کی لیگ پولنگ کرکے دوسروں کی نظر میں اس کو نیچا دکھانے کی اور اس کو کمپنی سے نکلوانے کی کوشش میں لگا رہے گا۔یہ فرق ہے ایک مسلم اور غیر مسلم میں کہ آج ہم اگر تجزیہ کریں تو ہم لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں عمل ہمارا اس سے بلکل مختلف ہے۔میں نے اپنی ہی کمپنی میں پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہوئے دیکھا ہے ایک کی بات دوسرے کی پیٹھ پیچھے کرتے ہوئے دیکھا۔خود کو اچھے سے اچھا اور دوسرے کو اچھے سے برا بنانے کی کوشش کر کے ذہنی تسکین حاصل کرتے ہوئے دیکھا۔یہ سرا سر غلط ہے۔ہم لوگ کبھی بھی اس طرح کے رویوں سے خوشحال نہیں ہو سکتے۔نہ ہم اپنے پیارے ملک کو خوشحالی کے راستے پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ہم لوگ ابھی تک لینے والوں کی صف میں کیوں ہیں؟ اس لیے کے ہم نے ابھی تک اپنا مائنڈ دینے والوں کی لسٹ میں سیٹ کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ہمیں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ دینا اللہ کریم کی صفت ہے اور جو اس صفت کو اپنا سلیقہ شعار بناتا ہے تو پھر اللہ کریم اسے کبھی بھی کسی کا محتاج نہیں کرتا اس کو اتنا دیتا ہے کہ اس کا دامن بھی اللہ کریم کی نعمتوں کو سمیٹنے سے کم پڑ جاتا ہے۔ آخر کب تک ہم ایسے ہی مصنوعی لائف گزارتے رہیں گے۔اور ہاں ہم لوگ تجربے تو کرتے ہیں پر اس تجربوں سے سیکھتے نہیں اور پوری زندگی دوسروں کو سیکھانے میں وقف کر دیتے ہیں۔یہ سال بھی ختم ہونے کو ہے اور ہماری سانسوں کی گاڑی اس قدر تیزی سے چل رہی ہے کہ کب قیامت برپا ہو جائے کوئی نہیں جانتا ابھی کچھ عرصہ قبل ایک وبائی مرض منظر عام پر آیا تو لوگوں کو اپنی آخر ت کی فکر ہونا شروع ہوگئی۔اس لیے اب یہ آخری اُمید ہے کہ پلیز اس نقطہ نظر کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ بنا صبر، حوصلے اور برداشت کے ہم کبھی اپنی منزل کو نہیں پا سکتے ہیں۔اور ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے کی بجائے اپنے لوگوں کا درد رکھ کر اپنے مستقبل کے ساتھ اپنے مسلم اور پاکستانی بھائیوں کے لیے بھی کوشش کو اولین ترجیحات میں شامل کرلیں زندگی کی رونقیں بڑھ جائیں گی۔اور اللہ کرے کہ ہم اور ہمار ا ملک صحیح معنوں میں خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو جائے ورنہ ہمارا مستقبل بہت برا تھا، حال بھی اچھا نہیں ہے اور مستقبل تاریک رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com