یہ سیاسی ہلچل بے مقصد نہیں ہے

یہ سیاسی ہلچل بے مقصد نہیں ہے !
شاہد ندیم احمد
عمران خان جب اقتدار میں آئے تھے توان کے عزائم بہت مضبوط اور بلند تھے۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد انہوں نے بڑے جوشیلے انداز میں قانون کی عملداری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا،ایسا لگ رہا تھاکہ جیسے دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں اور ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔ اس وقت بھی بعض ہمدردوں نے دبی دبی آوازوں میں عمران خان کو حکومت بنانے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ تحریک انصاف جو ایجنڈا لے کر اقتدار میں آئی تھی، اس کے لئے لولی لنگڑی حکومت کارگر ثابت نہیں ہو سکتی تھی، مگر وہ بائیس برسوں سے جس اقتدار کے لئے جدوجہد کررہے تھے، اسے اتنے قریب پا کر شائد کھونا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے چند نشستیں رکھنے والی پارٹیوں سے کڑی شرائط پر اتحاد کر کے حکومت بنانے کو تر جیح دیا،مگربڑے سیاسی ومعاشی چیلنجز کے ہداف پورے نہیں ہو پا رہے، اُلٹا مسائل میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکو مت کر اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری طرف اتحادی جماعتیں چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی ہیں۔حکو مت اور اتحادیوں کی سیاسی کشمکش میں تحریک انصاف کے اندر بھی گروپ بندی اور فارورڈبلاک بننے کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔ اپوزیشن کو بظاہر دیوار سے لگا دیا گیا ہے، اس میں اپوزیشن کا اپنا کتنا کردار رہا اور حکومت نے اسے ناکام بنانے کے لئے کیا جادو پھونکا ، اس سے قطع نظر اپوزیشن جتنی بھی کمزور اور ناکام ہو جائے، اس سے حکومت کو کبھی تقویت یا کامیابی نہیں ملے گی، کیونکہ حکومت کی اپنی کارکردگی بہتر ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ اتحادی جماعتیںحکومت سے نکلنے کی درجن بار دھمکی دے چکی ہیں،مگر انہیں نئے سرے سے کچھ یقین دہانیاں کراکے چپ کروا دیا جاتا ہے، تاہم وہ بخوبی جانتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت ان کے سہارے کی مرہونِ منت ہے، اس لئے گاہے بہ گاہے اپنی اہمیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ ایک طرف عمران خان بہت مضبوط وزیراعظم نظر آتے ہیں تو دوسری جانب انتہائی کمزور کہ کوئی ایک اتحادی جماعت اونچی آواز میں کھانس بھی لے تو حکومت کے در و دیوار ہل جاتے ہیں اور انہیں منانے کے لیے وزیروں مشیروں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔اس بدلتی صورت حال میں اپوزیشن کے مردہ گھوڑے میں بھی جان پڑنے لگتی ہے ،وہ بھی وزارتوں کی پیشکش کرتے ہوئے حکومت گرانے کی دعوت دینے لگتے ہیں۔اپوزیشن کی جماعتیں حقیقی طور پر کیا چاہتی ہیں، یہ واضح نہیں ہو رہا ہے ، کیونکہ اگر وہ ان ہاؤس تبدیلی لانے کی خواہشمند ہیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اکٹھی ہوجائیں تو ان ہاؤس تبدیلی آ سکتی ہے، مگر وہ حکومت گرانے کے لیے کوئی سنجیدہ اتحاد نہیں کررہی ہیں، البتہ گا ہے بگاہے حکومت گرانے کی خواہش کا اظہار ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہی ہو سکتا ہے کہ مو جودہ حکومت کو خوفزدہ رکھا جائے، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس وقت ملک کے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں، اس کی ذمہ داری اٹھانے کی بجائے اچھے بُرے فیصلے تحریک انصاف حکومت سے ہی کرائے جائیں، تاکہ آئندہ کے لئے عوام تحریک انصاف کو ووٹ دینا تو کجا، اس کا نام تک سننا گوارا نہ کرے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی دھن میں ملک کو ٹھیک کرنے پر لگے ہوئے ہیں، لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اس ملک میں کروڑوں عوام بھی رہتے ہیں، جن کے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کی سمت درست نہیں، ایک خود ساختہ خواب کے پیچھے اندھا دھند دوڑ ے چلی جا رہی ہے۔
اس صورت حال کے پیش نظر عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا فطری ردعمل دانش مندانہ ہونا چاہیے ،اتحادیوں کے جائز مطالبات کی پذیرائی کے علاوہ اپوزیشن اور اداروں کے ساتھ تعلقات کار میں مزید بہتری پیدا کی جائے ،تاکہ مخالفین کا پروپیگنڈا بے اثر اور اداروں کی غیر جانبداری کا تاثر حکومت کی کمزوری کو عیاں نہ کرے۔اس وقت حکومت کا بیانیہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر اپوزیشن کا تعاون حاصل کر کے سیاسی پختگی کا ثبوت دیااورباہمی تلخیاں ختم کیں ہیں۔حکومت اور اپوزیشن نے مل کرپارلیمنٹ کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ سیاستدان اپنے معاملات کسی دوسرے کی مداخلت کے بغیر طے کرنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں،پارلیمنٹ کی مضبوطی کا سب سے زیادہ فائدہ حکومت وقت کو ہوتا ہے اور حکومت کا کسی ماتحت ادارے پر انحصار اس کی رٹ کو کمزور کرتا ہے،مگر فیصل وائوڈا اور دیگر نادان دوست ثابت کرنے پر تُلے ہیں کہ اپوزیشن نے ترمیمی بل پر ووٹ حکومت کے ساتھ تعاون کے جذبے یاپارلیمنٹ کے استحکام اور قومی مفاد کے تحت نہیں بلکہ کسی ادارے کے دبائو پر یا سیاسی لین دین کے عوض دیا ہے۔
عمران خان نے جس طرح گزشتہ فواد چودھری کے اقدامات پر خاموشی اختیار کی اسی طرح فیصل وائوڈا کی حرکتوںپر بھی نیم رضامندی کا تاثر دے رہے ہیں، لیکن شائد کوئی دانا مشیر انہیں سمجھانے والا نہیں کہ یہ وفاداری بشرط استواری کا مظاہرہ اپوزیشن کو شرمندہ کرنے کا اقدام نہیں ،بلکہ وزیر اعظم ،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے سامان ندامت و رسوائی ہے۔ حکومتی مشیران کے ایسے طرز عمل کے باعث ایک طبقہ تسلسل سے بیانیہ پرموٹ کر رہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اپنی کوئی اوقات نہیں،یہ اشاروں پر چلنے والی کٹھ پتلیاں ہیں، جبکہ اپوزیشن بھی اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے نہ عوام کے جذبات کے مطابق کوئی اقدام کرنے کے قابل رہی ہے۔ ترمیمی بل پرمقتدر اداروں نے جو چاہا کر وا لیا، اس میں عمران خان کا کوئی کمال ہے نہ اپوزیشن کا کسی پر احسان ہے۔یہ تاثر حکومت کے لئے تباہ کن ہے، البتہ اپوزیشن اپنے کارکنوں کے روبرو ندامت اور سول بالادستی کے بیانئے سے دستبرداری کی بھاری قیمت اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداری کی صورت میں وصول کرنے کا تاثر دے سکتی ہے ۔ پارلیمنٹ میںبل منظوری کے بعد وزیروں کی برہمی اور نواز شریف کی صحت پر سیاست سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ میاں شہباز شریف مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں مقتدر قوتوں کو عمران خان سے بدظن کرنے میں کامیاب رہے ہیں،لیکن اس کے ساتھ نادان دوستوں کی کائوشیں بھی کار گر ہوتی نظر آتی ہیں ۔ حکو مت مخالف قوتوں کا عمران خان کو چاروں طرف سے گھیرنے کا مقصد غصہ دلا کر اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات پر مائل کرنا ہو سکتا ہے، لیکن کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ کی یادداشت واقعی عوام سے زیادہ کمزور ہے کہ وہ عوام ہی کی طرح باربار آزمائے ہوئے شریف و زرداری خاندان پر اعتبار کر سکتے ہیں،یہ مشکل ضرور ،ناممکن نہیں ہے ۔اس ملک میں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ،یہ سیاسی ہلچل بے مقصد نہیں ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com