دنیا بدل گئی۔

دنیا بدل گئی۔
کالم: راؤ عمران سلیمان
دنیا میں اب طاقت کا معیار بدل چکاہے بڑے بڑے سپر پاور ملکوں کا غرور خاک میں مل چکاہے کیونکہ آج اس کرونا وائرس نے اس بات کو ثابت کردیاہے کہ نیو کلیئر ہتھیار اورکسی بھی قسم کا خطرناک اسلحہ ہمیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکتا،پوری دنیا اسلحے کی دوڑمیں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی فکر میں لگی رہی اور آج صدیوں سے قائم ودائم حکومتیں اس کرونا وائرس کے سامنے بے بس اورلاچار نظر آتی ہیں ایک ایسے وائرس کے آگے جو اپنی مرضی سے ہل جل بھی نہیں سکتاایک بے جان سے زرہ۔ کیونکہ اس کرونا کو کیا فرق پڑتاہے کہ آپکے پاس پلک جھپکتے میں کسی بھی خطے کو تباہ کردینے والا میزائل موجود ہے اس کرونا کو اس بات سے کیا لینا دینا کہ آپ ایٹمی قوت ہیں اور آپ کے پاس نیوکلیئر ہتھیاروں کاناختم ہونے والا زخیرہ ہے اوراس کرونا کو اس بات سے کیا لینا کہ آپ اپنا اگلا گھر چاند پربنانے جارہے ہیں۔یہ جو بلند وبالاعمارتیں ہیں جن میں دنیا کی ہر آسائش موجود ہے کیاکسی انسان کو اس کرونا وائرس سے بچا پارہی ہیں؟، گھنٹوں کاسفر منٹوں میں طے کرنے والی لمبی لمبی گاڑیاں اور جہازاب آپ کے کس کام کی ہیں۔؟ سب کچھ تو ٹھپ پڑاہے ریلوئے اسٹیشن ویران ہیں بلندوبالا عمارتیں بنانے والا مزدوراور اس کاٹھیکیدار آج اپنے گھر میں سہما بیٹھاہے،ہم نے ماضی میں دیکھا کہ لوگوں کو بس ایک ہی فکر لگی رہتی تھی کہ بس کسی نہ کسی طرح سے پیسہ بنالیاجائے یہاں تک کہ ادھر ادھرسے مال جمع کرنے کی اس ہوس نے انسان کو انسانوں سے کس قدر دورکردیاتھا اور آج یہ ہی انسان اپنے پیسے کو جیب میں ہاتھ ڈال کر اس حسرت سے دیکھ کر پوچھتا ہے کہ بتا تجھے ساری دنیا سے لڑ کر میں کمایاحتیٰ کہ تیری ہوس میں میں نے پتہ نہیں کتنی بار اپنے رب کو ناراض کیا اور آج تو میرے کسی کام کا نہیں ہے کیونکہ آج کوئی بھی انسان اپنی دولت کو سامنے رکھ کربھی اپنی زندگی کا تحفظ نہیں کرسکتا،اس لیے کہ جہاں یہ کرونا وائرس کسی غریب کے لیے مہلک ہے تو وہاں یہ شہزادوں وزیروں اور وزیراعظموں کو بھی تگنی کا ناچ نچارہاہے،امریکا اور وہ یورپین ممالک جہاں میڈیکل سائنس میں اس قدر ترقی ہوئی کہ جس کو دیکھ کر آنکھیں اور سوچ دنگ رہ جایا کرتی تھی ہیں آج اس چھوٹے سے وائرس کے سب کچھ ہیچ نظر آتاہے اس کرونا وائرس نے پوری دنیا کی میڈیکل سائنس کی بساط کو ہی الٹ کر رکھ دیا ہے ان یورپین ممالک کی جنت نظیر میں اٹھتے ہوئے ہزاروں جنازے چیخ چیخ کر ان زندہ انسانوں کو کہہ رہے ہیں کہ اے انسان جاگ اور اپنے اصل طبیب کو پہچان اے انسان بیدار ہو اوراس خالق کائنات کو پہچان جس نے تیری ترقی سے قبل اس دنیا کی تخلیق کی جس کی نعمتوں کا کوئی نعم البدل نہیں جس کی طاقت کی کوئی انتہا نہیں،آج ہم نے دیکھا کہ مختلف مذاہب کے لوگ اپنے حقیقی رب کی تلاش میں ہے وہ دنیا بھر کی سائنس اور تحقیق پر مایوس ہیں۔آج اس وائرس کی وجہ سے لوگ اللہ سے اپنے رشتے کو مضبوط کررہے ہیں ہم نے ماضی میں دیکھا کہ لوگ ظاہر اللہ سے لگاؤ رکھتے تھے لیکن حقیقت میں اس کے احکامات کو نظرانداز کرتے تھے اب جب دنیا بدل رہی ہے اب زیادہ توجہ عملی طورپر مذہب کے اصولوں پر ہوگی،خصوصا ً وہ اصول جس میں ایک انسان کا دوسرے انسان سے تعلق جڑا ہوگا،یہ جو مساجد بند ہیں اس میں کسی کی کیا مجال جو اللہ کے گھر کو بند کرسکے کیونکہ اسے تو اپنی عبادت کے لیے جن و فرشتے ہی کافی ہیں وہ تو خود فرماتاہے کہ میں حقوق اللہ تو معاف کرسکتاہوں مگر حقوق العباد نہیں، مگر ہم نے تو جہاں اپنے تھوڑے سے مفاد کے لیے دوسرے لوگوں کے پیٹ کاٹنا شروع کیے تھے وہاں ہم نے اللہ کی جانب سے دی گئی نعمتوں پر بھی اپنا کاروبار بنارکھا تھا ہم نے درختوں کو کاٹ کر ماحولیات کو نقصان پہنچایا اللہ کی بڑی نعمت پانی کی قدر نہ کی اپنے ہاتھوں اپنی آنکھوں کی حفاظت نہ کی بس اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کی فکر نے ہمیں اندھا کیے رکھا آج اللہ نے اپنا حکم نامہ منوانے کے لیے اپنا گھر تک بند کردیا اور پھر حقوق العباد کا ایک نظارہ پوری دنیا میں رائج ہو ا ہم نے اسے بھی راشن بیگ اور لوگوں کی مددکرتے دیکھا جس نے ساری عمر لوگوں کا حق مارا آج وہ تاجر اپنے دکانداروں کا کرایہ معاف کررہاہے جس نے اپنی بلڈنگوں کو قبضے سے بنایا اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ان سب ظالموں کو اپنے سامنے موت دکھائی دیتی ہے سب ہی اب ایک دوسرے کی مدد کرکے اللہ کو راضی کرنے میں لگے ہوئے ہر طرف حقوق العباد کا سکہ رائج ہوتا ہوا دکھائی دے رہاہے مگر ایسے میں بھی ابھی یہ کرونا وائرس تیزی سے تباہی پھیلارہاہے کیونکہ ابھی جہاں بہت سے لوگ توبہ کرچکے ہیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافیاں مانگ رہے وہاں کچھ ایسے بددیانت لوگ بھی موجود ہیں جو زخیرہ اندوزی سے باز نہیں آرہے جو ایک روپے کی چیز دس روپے میں بیچ رہے ہیں اور لوگوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔ایسے ہی تو وہ لوگ ہیں جو مسلسل اللہ کے غیض وغضب کو پکار رہے ہوتے ہیں یہ وبا ایسے ہی ظالم لوگوں کے ظلم کا نتیجہ ہے جو ایک روز ضرور اپنی غلطی پر پچھتائیں گئے۔ اور وہ قومیں جو اسلام اوردین سے ہٹ کر اپنی دنیابناکر بیٹھی ہیں وہ اپنے دیوتاؤں سے نالاں ہوکر اس معبود کی جانب دیکھ رہے ہیں جو ان کی شرک والی زندگیوں کے باوجود ان کو ڈھیل دیئے ہوئے ہے،نیدرلینڈ،فرانس،اسپین ڈنمارک اٹلی اور وہ یورپین ممالک جو مسلم خواتین کے برقعہ کے نام پرقوانین لائے اور برقعہ پہننے والی مسلم خواتین پر مقدمات بنائے گئے آج ان ممالک کی خواتین تو دور کی بات ان کے مرد بھی سر سے لیکر پاؤں تک ایک ایسے لبا س میں چھپے نظر آتے ہیں جو برقعے سے بھی زیادہ بدن کو چھپائے ہوئے ہے،اور اللہ کی شان آج ان ممالک میں ہم اللہ اکبر کی صداؤں کو گونجتا ہوا دیکھ رہے ہیں، آج ہم مغرب میں جو ازانوں کی آوازیں سن رہے ہیں یہ وہ صداہے جو کبھی انسانوں کو گمراہی سے نکال کر اللہ کے گھرمیں بلایاکرتی تھی مگر آج ان صداؤں میں یہ گونج بھی نمایاں ہے کہ صرف اللہ ہی رازق ہے اللہ ہی معبود ہے وہ ہی بیماریاں دیتاہے اوروہ ہی بیماریوں کوٹتاہے اللہ کے سوا سب کچھ فناہے اور اللہ ہی ایک حقیقت اور طاقت ہے۔ سب اس بات کو مان چکے ہیں کہ پوری دنیا میں اس وائرس سے تباہی کی بڑی وجہ اللہ پاک کی ناراضگی ہے اور جس دن یہ ناراضگی ختم ہوگی اس دن اس کروناوائرس کا علاج پوری دنیا کے سمجھ میں آجائے گا ہر میڈیکل سائنس ہر ڈاکٹر اور لیباررٹری سے یہ آواز آئے گی ہم نے اس وبا کا علاج دریافت کرلیا ہے معاملہ صرف اتنا ہے کہ فی الحال ان تمام تحقیق دانوں کے دماغوں پر رب کائنات کی طرف سے ایک ایسا پردہ پڑ چکاہے جس نے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو سلب کیا ہواہے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتے مگر جس روز اللہ نے اپنے کسی بھی اپنے نیک بندے کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کو ختم کیا اس روز یہ وائرس ایک معمولی دوا سے ہی ٹھیک ہوجائے گا۔ختم شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com