‘”ع سے عورت“

‘”ع سے عورت“
تمنا ظفر
تاریخ سے آج تک دیکھا جائے تو مرد نے عورت کے کردار کو اپنے گرد ہی محدود کیا ہے اس نے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لیے اور گھریلو غلام کے طور پر ہر طرح سے ہی مرد کے حوالے نظر آتی ہوئی دیکھی ہے – کبھی ماں کے روپ میں تو کبھی بہن کے، تو کبھی بیٹی کے کبھی بیوی کے، کبھی بہوکے کردار میں یہ تمام رشتے مرد کی نسبت سے ہیں جہاں وہ اپنے مرد کے لیے زندہ رہتی ہے اور قربانی دے کر مرد کی عزت وقار بلند کرتی ہے، یوں مرنے کے بعد اس کی تمام قربانیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں – لیکن ہوا یوں ہے کہ عورت مرد کی نسبت فطرت کے زیادہ قریب رہی ہے اور سماج نے ہمیشہ فطرت کو تباہ و برباد ہی کیا ہے عورت نے فطرت سے سیکھا ہے اس میں مرد کا کوئی عمل نہیں ہے ہم دیکھتے ہیں کہ عورت کے تمام کارنامے اور تخلیقات بھی فطرت اور حالات کے مطابق ہیں کوئی مشکل ترین کام عورت ہی سر انجام دیتی ہے جیسا کہ خوراک کا بندوبست سماج کی تخلیق میں اپنا کردار مختلف چیزوں کو ایجاد کرنا تاکہ وہ اپنے آپ کو اور دیگر افراد کو محفوظ رکھ سکے ایسے ہر صورت میں عورت نے بھر پور اپنا کردار ادا کیا ہے – مثال کے طور پر اگر خدا نے مرد کے پہلو سے عورت کو وابستہ نہ کردیا ہوتا تو شاید مرد اس وقت صحراؤں کوہستانوں میں درندوں کے ساتھ رہ رہ کر ایک زبردست درندے کی صورت میں پایا جاتا اور ساری کائنات سوگوار مضمحل ہوتی –
”عورت، عورت ہونے کے لحاظ سے ساری دنیا میں ایک ہے اگر مغرب کی عورت اپنے رنگین و قیمتی ملبوس میں گھر کی رونق اور مرد کے لیے آرام سکون ہے” تو جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا ویسے عورتوں کی قدر قیمت کم ہوتی گئی یہاں تک کہ اب عورتوں کی کہانیاں کیسی کیسی درد انگیز اور خود آلود کہانیاں سامنے آرہی ہیں ان کو سن کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اتنی درد ناک کہانیاں ہیں اور دورِ جہالت سے آج بھی ایک اچھی یا بری رسم دقیانوسی خاندانوں میں پائی جاتی ہے شادی کے وقت لڑکی کے ساتھ اس کی پھوپھی، چچی، یا ممانی بہن جاتی ہے تین دن سے سات دن ساتھ رہنے کہ عورت کے کردار کی خوشخبری لے آتی ہے یہ رسم آج بھی پائی جاتی ہے مگر جو تاریخ میں اچھی رسم تھی پاکیزہ باکردار لڑکی دینی ہے تو جہیز اور دیگر فضول رسومات کی کوئی ضرورت نہیں اچھی رسموں کا خاتمہ ہو گیا مگر بری رسموں کو آج بھی قائم رکھا گیا ہے- اب کسی لڑکی کا معمولی سا بھی تعلق یا بات چیت محدود ہو کسی سے تو ایسی لڑکیوں کے رشتے ہی نہیں آتے شک وہم میں اپنوں سے دوری شدید قسم کی پاکر گھر بسانے کے لیے کسی غیر کو تلاش کیا جاتا ہے – یاد کیا جائے اگر چہ تو زمانہ قدیم سے کسی بھی تاریخ میں کوئی مثال ایسی نہ پاؤگے کہ مرد نے عورت کی شدید تکلیف کو اپنے خفیف سے جنبش جسم سے بھی کم کرنے کی کوشش کی ہو -” کیوں کہ آج تو یہاں معاشرتی زندگی میں اچھی بیوی سے زیادہ قیمتی اور اہم چیز کوئی نہیں ہے-” وفادار بیوی کو ایک قابل قدر چیز سمجھنا یقیناً اس لحاظ سے بھی ہے کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک پر خلوص معاون و عہدِ ہے لیکن اس کی حقیقی عزت و عظمت کا انحصار صرف اس وفاداری پر ہے جو وہ اپنے شوہر کے لیے اولاد پیدا کرنے کے مسئلے میں ظاہر کرتی ہے، یہ خصوصیت اس کی زمانہ قدیم سے اب تک ہے- آج بھی معاشرتی نظر سے صرف اس خیال پر قائم ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے وفادار ثابت ہے، اور خاندان کا شیرازہ اس کی ذات سے قائم رہے ہمارے معاشرے میں کئی زمہ داریاں عورتیں خود نبھاتی ہیں بالکل ایسے جس طرح جانوروں میں مادہ اپنے بچوں کے لیے گھونسلہ یا بھٹ تیار کرتی ہے اسی طرح عورت نے بھی سب سے پہلے زندگی کے اس اہم ترین مسئلے کی طرف توجہ دی ہے زمینی حقائق پر دیکھا جائے تو عورتوں کو ڈپریشن کی وجہ سے وقت سے پہلے جسمانی بیماریوں نے گھیرا تنگ رکھا ہوا ہے اور وہ اس چنگل سے نکلنا چاہتی ہیں – دیہات کو چھوڑ کر ملک کے بڑے بڑے ماڈرن شہروں میں بھی ایسی خواتین کا سراغ ملتا ہے جن کو جائز حقوق سے بھی زیادہ دبا کر رکھا ہوا ہے، چار دیواری میں مفید زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں صرف روٹی ملتی ہے ان سے نو کرانیوں کی طرح کام لیا جاتا ہے عزت اور شاپنگ کا تو شاید نام ہی سنا ہے باعزت نامی چیز کو فلموں ڈراموں میں ہی دیکھا ہوگا- یہ تو باتیں صرف کتابوں میں رہ گئیں ہیں کہ عورت کی خدمات اس قدر اہم ضروری ہیں کہ دنیا کو ہمیشہ ان کی ضرورت تھی اور رہے گی اس نے اس کا اپنی حقیقی فرائض سے مخرق ہوجانا نظامِ عالم کا مضطرب ہوجاتا ہے اور اس کمی کو جو عورت کے جادوہ اعتدال سے ہٹانے سے پیدا ہوجاتی ہے اگر وہ اپنی زندگی کے اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر ترقی کرنا چاہتی ہے تو مبارک ہو اس کے اس خیال کو کیوں کہ عورت کی فطرت اس سے یہ ہی چاہتی ہے لیکن اس خیال سے علیحدہ ہو کر ترقی کرنے کی آرزو مند ہے تو یقیناً وہ مردوں کی زندگی کو معطل کردے گی- کیوں کہ عورت تو مردوں کے بہت سے مشاغل اختیار کرسکتی ہے – ہم سب جانتے ہیں مزدوری پیشہ طبقوں میں تقریباً حصہ عورتوں کا ہے جو ہر قسم کا کام کام کرتیں ہیں، بوجھ اُٹھانا گارہ لے جانا، اینٹیں ڈھونا، سڑکیں جھاڑنا، پانی بھرنا، لکڑیاں، گھاس، ترکاری وغیرہ لاکر بازار میں فروخت کرنا یہ سب عورتیں ہی کرتیں ہیں اور لطف تو یہ ہے کہ وہ یہ سب کر کے بھی خوش و مطمئن ہیں – دوسری طرف ”فیس بک کہنے کو تو ایک کتاب ہے” یہ نام لیا گیا ہے لیکن جہاں آپ پوسٹ لکھتے ہیں فیس بک پر آپ کی اسی جگہ کو وال یعنی دیوار کہا جاتا ہے – یہ تو واقعی دیوار کا ہی کام کرتی ہے جس کے پیچھے چھپ کر کئی مرد عورتیں جعلی ناموں سے ایک دوسروں پر غلاظت پھینکتے ہیں اسی طرح ایک دوسرے کی کلاس لیتے ہیں اور آنکھوں کے اس ملاپ سے عورتیں کیسے بچی جاتیں جس سے شرمندگی یا خفت کا احساس ہوتا ہے عام زندگی میں تو جن عورتوں کو پیار کی ضرورت ہوتی ہے یا اپنے گھر میں پیار عزت نہیں ملتا تو وہ نامحرم کی باتوں میں اور جھوٹی محبت میں گرفتار ہونا عورت کے لیے ایک فطری بات ہے یا دوسری طرف چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو پر کہیں نہ کہیں ایک کمی سے بھی وہ نامحرم کی متوجہ ہوئی جاتی ہے- عورت دوستی کرنا یا سوشل میڈیا کا سہارا لینے کی وجہ تو اکثر یہ ناپسند کی شادیاں ہیں اور والدین کی سختیاں جس کی وجہ سے عورتیں اکثر ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں کیوں کہ پھر اسی حالت میں عورت ذات کو کسی نا کسی مخلص دوست کی ضرورت ہوتی ہے جن کو وہ اصلی زندگی سے ہٹا کر خیالوں کی زندگی میں رکھتی ہیں – کیوں کہ عورت خذباتی ہے اکثر عورتوں کو یہ ماحول گھر میں نہیں ملتا کیوں کہ گھر میں تو کچھ مصلحت کے تحت کچھ باتیں چھپانی پڑتیں ہیں – میں مانتی ہوں ہمارے معاشرے میں عورت کا اگر کردار ٹھیک ہے تو باقی ہر بری عادت کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے اگر اس کو کھانا بنانانہیں بھی آئے زبان درازی کو بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے مگر شاید برے کردار کو خدا معاف بھی کردیتا ہے مگر معاشرہ نہیں – تو بنیادی اصول اور فطرت کا خیال نہ کرتے ہوئے عورت کی تباہی کردار خراب پر آ پڑتی ہے – موجودہ دور میں دیہاتی علاقوں میں مرد ہی ہر جگہ آگے آگے نظر آتے ہیں کبھی خواتین کو چولہے سے آگے بڑھنے دیا ہی نہیں گیا ہے لیکن پھر بھی پاکستان کی ترقی میں خواتین نے کچھ کم کام نہ کیا جہاں پاکستان کے جوانوں نے ہمارے لیے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا وہاں عورتوں نے بھی اپنا جوش جذبہ دکھایا ہے ہمارے اسکولوں کے کتاب میں بھی مردوں کے کارناموں کے ذکر واجب ہیں مگر نبیﷺ کے دور میں بھی جنگ ہوتی تھی عورتیں جنگی مجاہدین کو پانی پلایا کرتی تھیں میدان جنگ میں شامل رہتی تھی اور سب سے اہم بات کہ اگر عورتیں نہ ہوتیں تو عثمان و عمر کیسے پیدا ہوتے؟ کیا ابو بکر سلیمان فارسی ہوتے؟ یا امیر معاویہ سے لیکر حسن ؑ حسینؑ اور محمّد بن قاسم سے لیکر جتنے بھی مرد مجاہدین کے قصے ہیں ان پیدا کرنے والی اور پروان چڑھانے والی ایک عورت ہی ہوتی ہے یہ حوصلہ ایک عورت کا ہی ہے وہ جوان بیٹے کو اپنے دین کے لیے وطن کے لیے قربان کرتی ہے – جیسے سیدہ فاطمہؓ اپنے دودھ کے ساتھ اپنے خون میں موجود صبر، استعفامت اور حوصلہ بھی بچے کی گود میں ڈالتی ہے- بالکل اسی طرح ہمارے ملک کی عورتیں بھی اس لیے آنسوؤں نہیں بہاتی کیوں کہ ان کے لخت جگر پرچم میں لپیٹا ہوتا ہے، صرف ماں ہی نہیں یہ ہمت اللہ نے عورت کو ہر روپ میں دی ہے اپنے باپ کی موت پر صبر کرتی ہے کہ وہ جنت میں جارہا ہے بیوی اپنے سہاگ پر صبر کرتی ہے اگلی ملاقات ہی سہی آخرت میں اجر ہی سہی یہ نظام عورت ہی سے چلا آ رہا ہے لیکن بیشرطہ خاندانوں کے ریت و رسم کو کسی حدود کو توڑنے والی پاکستان کی پہلی پائلٹ عائشہ فاروق بھی ایک عورت ہی تھی، دنیا کی کم عمر ترین مائکرو سوفٹ اسپیلیشٹ ارفع کریم، منیبہ مزاری پینٹنگ، سے لیکر بلاکنگ کرنے والی بھی ایک عورت تھی دورِ حال میں بلقیس ایدھی سوشل ورکنگ کا کوئی ثانی نہیں……… مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اور انجینئر سے آگے سوچا ہی نہیں جاتا بس لوگ کیا کہیں گے آخری جملے سے عورتوں کے جذبات و قدر قیمت کھو بیٹھا ہے ہر طبقہ میں جانتی ہوں عورت ذات پر کچھ کم نہ لکھا گیا ہے مگر یہ وہ نازک مزاج طبقہ معاشرے میں ہے جن کی قربانیاں اور قدر و قیمت کو اجاگر کرنا ہر دور میں ہونا چاہیے -. اور روزِ محشر میں جب اس کو بلایا جائے،
”اے عورت اُٹھ دنیا حیات میں آ،
تو اپنے خدمت بحثیت بیوی، بیٹی، بہن، ماں، بہو، ہونے کے نہایت اچھی انجان دی ہیں،”….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com