اخلاص کی حقیقت فضیلت فوائد اور ثمرات

اخلاص کی حقیقت فضیلت فوائد اور ثمرات
مولانا رضوان اللہ پشاوری
اخلاص تمام اعمال کی روح ہے اور وہ عمل جس میں اخلاص نہ ہواُس جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو، گویا اخلاص عبادات وا عمال میں روح کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہر انسان کابنیادی مطمح نظر یہی ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اس کی رضاکوحاصل کرے اور جنت کادخول انھیں نصیب ہو، اس مقصدکے لیے اخلاص کا ہونا ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کاحسن معتبرہے نہ کہ محض کثرت، جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے : لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ احْسَنُ عَمَلاً (الملک) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اَعمال کے حسن کو جانچنے کا تذکرہ کیاہے ،کثرت کا نہیں،چنانچہ اعمال کی قبولیت اور اس پراجروثواب کے حصول کے لیے اس میں روحانیت واخلاص اور کیفیت کااعتبار ہے نہ کہ محض تعدادیاقلت وکثرت کا۔ حضرات مفسرین نے آیت کے لفظ’’اَحْسَنَ عَمَلاً‘‘ کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے وہ عمل مراد ہے جو اخلاص پر مبنی ہو اور شریعت کے مطابق ہو۔اس آیت کے پیش نظر علماء محققین نے اعمالِ صالحہ کی قبولیت کے لیے دو شرطیں ذکر کی ہیں:(۱)اخلاص یعنی وہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کیاجائے ۔(۲)اتباعِ سنت یعنی وہ عمل قرآن وسنت کی تعلیمات کے موافق ہو۔ بدعت یاکسی اور طرح سے خلاف شرع نہ ہو۔
اخلاص کی حقیقت:
اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل سے محض اللہ واحد کی قربت کا طالب ہو،اہل علم نے اخلاص کی کئی تعریفیں ذکر کی ہیں جو ایک دوسرے سے قریب قریب ہیں:(۱)ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اطاعت میں تنہا مقصود جاننا اخلاص کہلاتا ہے ۔(۲)ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ بندہ کے اعمال ظاہر و باطن ہر دو صورت میں برابر ہوں اور ریاکاری یہ ہے کہ بندے کا ظاہر اس کے باطن سے بہتر اور اچھاہو، اور سچا اخلاص یہ ہے کہ بندے کا باطن اس کے ظاہر سے زیادہ پختہ اور پائیدار (بارونق)ہو۔(۳)ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ عمل کو ہر طرح کی آمیزش سے پاک وصاف رکھنا اخلاص کہلاتا ہے۔(مدارج السالکین از ابن قیم رحمہ اللہ )
سابقہ تعریفوں سے واضح ہوا کہ اخلاص:عمل کو اللہ واحد کی طرف پھیرنے اور اس سے قربت حاصل کرنے کا نام ہے، جس میں کوئی ریا ونمود، زائل ہونے والے ساز و سامان کی طلب اور بناوٹ نہ ہو،بلکہ بندہ صرف اللہ واحد کے ثواب کی امید کرے ،اس کے عذاب سے ڈرے اور اس کی رضا مندی کا حریص ہو۔اسی لئے امام قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’لوگوں کی وجہ سے عمل ترک کردینا ریاکاری اور لوگوں کی خاطر عمل کرنا شرک ہے ۔اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں چیزوں سے عافیت میں رکھے ۔(مدارج السالکین از ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ)
مسلمان کی زندگی میں اخلاص یہ ہے کہ وہ اپنے قول و عمل، جملہ تصرفات اور ساری تعلیمات و توجیہات سے صرف اللہ واحد کی ذات کا قصد کرے جس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے ۔
اخلاص کے متعلق ایک عجیب واقعہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ فرماتے ہوئے سنا، تم سے پہلے کسی امت کے تین آدمی سفر پرروانہ ہوئے ۔ راستے میں رات گزارنے کے لئے ان کو ایک غار ملا۔ وہ اس کے اندر داخل ہو کر سو گئے ۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان پھسلی اور غار کے منہ پر آ گئی جس سے غار کا راستہ بالکل بند ہو گیا۔ صبح بیدار ہوکر جب انہوں نے آپس میں کہا کہ اس چٹان کی مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنی اپنی زندگی کے سب سے زیادہ اچھے اور نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ تعالی سے دعا کرو۔ تو ان میں سے ایک مسافر نے کہا اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے بہت بوڑھے عمر رسیدہ ماں باپ تھے اور میں ان سے پہلے اپنے کسی بیوی بچے ، لونڈی یا غلام کو شام کا دودھ پینے کے لئے نہیں دیا کرتا تھا۔ پہلے والدین کو پلاتا پھر دوسروں کو۔ یہ روز کا معمول تھا۔ اتفاق سے ایک دن میں چارے کی تلاش میں بہت دور نکل گیا اور گھر اتنی دیر سے واپس آیا کہ میرے ماں باپ انتظار دیکھتے دیکھتے بھوکے سو گئے ۔ میں ان کے لئے بکریوںکا دودھ نکال کر لایا۔ دیکھا کہ دونوں گہری نیند میں سو رہے ہیں۔ میں نے ان کے آرام کا خیال کرتے ہوئے نہ ان کوجگانا پسند کیا اور نہ ہی ان سے پہلے بیوی بچوں وغیرہ کو دودھ پلانا گوارا کیا اور رات بھر ان کے سرہانے دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لئے کھڑا رہا اور ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور بچے رات بھر بھوک سے میرے قدموں میں پڑے بلکتے رہے ۔ بہرحال جب وہ بیدار ہو گئے اور انہوں نے اپنے حصے کا دودھ پی لیا پھر ہم سب نے پیا۔ اے اللہ! اگر میں نے ماں باپ کا یہ احترام اور خدمت تیری رضا کے لئے کیاہو تو اس نیک عمل کے واسطے سے ہم سب کو اس چٹان کی مصیبت سے نجات دے ۔ اس دعا کے بعد وہ چٹان تھوڑی سی ہٹ گئی مگر اس سے وہ نکل نہیں سکتے تھے ۔ دوسرے مسافر نے کہا اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ دوسری روایت میں ہے کہ مجھے اس لڑکی سے اس سے بھی زیادہ شدید محبت تھی جتنی کسی مرد کو ایک عورت سے ہوتی ہے ۔ میں نے اس کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کے لئے کافی ڈورے ڈالے ۔ مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ اتفاق سے ایک موقع پر وہ خاندان کے ساتھ شدید ترین قحط میں مبتلا ہو گئی۔ فقروفاقہ سے مجبور ہو کر وہ میرے پاس مدد مانگنے آئی تو میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ مجھے تنہائی میں اپنے نفس پر قدرت دے ۔ مجبوراً وہ اس پر آمادہ ہو گئی۔ جب میں نے اس پر قابو پا لیا۔ ایک روایت کے مطابق جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے بڑی عاجزی سے کہا اے خدا کے بندے اپنے پروردگار سے ڈر، حق کے بغیر اس مہر کو مت توڑ، یہ امانت ہے الٰہی تیرے خوف سے میں فوراً ہٹ گیا۔ حالانکہ مجھے اس سے بے انتہا محبت تھی۔ قابو بھی پا چکا تھا۔ جو چاہتا کرتا اور وہ سونے کے سکے جو میں نے اس کو دیئے تھے اسی کے پاس چھوڑ دیا۔ اے خدا! اگر میں نے یہ نیک کام صرف تیری رضا کے لئے کیا ہو تو اس مصیبت کو جس میں ہم گرفتار ہیں دور کر دے ۔ اس دعا کے بعد چٹان اور تھوڑی سی ہٹ گئی مگر پھر بھی وہ غار سے نہیں نکل سکتے تھے ۔ تیسرے مسافر نے کہا اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک بار چند مزدوروں سے کام کرایا اور کام ختم ہونے کے بعد میں نے ان سب کی اجرت بھی دے دی۔ ایک مزدور نے کسی وجہ سے اجرت نہیں لی اور چلا گیا تو میں نے اس کی مزدوری کی رقم کو کاروبار میں لگا دیا۔ یہاں تک کہ وہ رقم بڑھتے بڑھتے بہت زیادہ مال بن گئی۔ تب وہ مزدور ایک دن آیا اور اس نے کہا اے اللہ کے بندے ! میری اجرت مجھے دے دے ۔ میں نے کہا یہ اونٹ، گائیں، بکریاں اور لونڈی غلام سب تیری اجرت کی پیداوار ہیں آو اور شوق سے لے جاؤ۔ مزدور نے کہا اللہ کے بندے ! مے رے ساتھ دل لگی نہ کر۔ میں نے کہا میں تمہارے ساتھ کچھ بھی مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ یہ تمام چیزیں درحقیقت تمہاری اجرت کا نتیجہ ہے ۔ اس نے وہ سب مویشی اور لونڈی غلام مجھ سے لے لئے اور سب کو ہانکتاہوا لے گیا اور کچھ نہیں چھوڑا۔ اے اللہ! اگر یہ نیک کام میں نے صرف تیرے لئے کیا ہے تو اس کے طفیل میں اس مصیبت کو دور کر دے جس میں ہم تمام گرفتار ہیں۔ چنانچہ چٹان غار کے منہ سے بالکل ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل آئے ۔ (ریاض الصالحین )
یہ واقعہ بیان فرماکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسے نیک اعمال اور بلند کردار کی ترغیب دی ہے جو اخلاص اور تقویٰ پر مبنی ہو یعنی رات کی تاریکی اور تنہائی میں بھی عمل اور کردار کا وہی نہج رہے جو دن کے اجالے اور لوگوں کی عام نگاہوں میں ہوا کرتا ہے ۔ کوئی بھی عبادت اور عمل انجام پاتے ہوئے بندے کا اللہ تعالیٰ سے راست تعلق ہونا چاہئے ۔ جو غیر کی شرکت سے بالکل پاک اور منزہ ہو۔ جب کسی کام کا محرک محض نیک جذبہ اور اللہ کی رضا ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی بنیاد میں اخلاص کا پانی شامل ہے جو بہت جلد ایک معمولی تحریک کو تناور درخت کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ ہر انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہئے کہ اخلاص کی کتنی قوت ان میں شامل ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نام و نمود اور ریاکاری کی جڑیں آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں میں مضبوط ہو جائیں اور ان کی نحوست نماز، روزہ اور دوسری عبادتوں کو بے جان اور کھوکھلی بنا دے ۔
اخلاص کے فوائدوثمرات:
اخلاص کے بڑے اچھے ثمرات اور بڑے عظیم اور جلیل القدر فوائد ہیں، ان میں سے چند فوائد درج ذیل ہیں:
٭…دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اخلاص کے فضائل و ثمرات میں سے ہیں۔
٭…اخلاص اعمال کی قبولیت کا سب سے عظیم سبب ہے ،بشرطیکہ نبی کریم ﷺکی اتباع شامل ہو۔
٭…اخلاص کے نتیجہ میںبندے کو اللہ کی اورپھر فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے اور زمین (والوں کے دلوں)میں اس کی مقبولیت لکھ دی جاتی ہے ۔
٭…اخلاص عمل کی اساس اور اس کی روح ہے ۔
٭…اخلاص تھوڑے عمل اور معمولی دعا پر بیش بہا اجر اور عظیم ثواب عطا کرتا ہے ۔
٭…مخلص کا ہر عمل جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو لکھا جاتا ہے ، وہ عمل مباح ہی کیوں نہ ہو۔
٭…مخلص جس عمل کی بھی نیت کرے لکھ لیا جاتاہے گر چہ اسے انجام نہ دے سکے ۔
٭…مخلص اگر سو جائے یا بھول جائے تو معمول کے مطابق جو عمل کرتا تھا اسے لکھا جاتاہے ۔
٭…اگر مخلص بندہ بیمار ہو جائے یا حالت سفر میں ہو تواس کے اخلاص کے سبب اس کے لئے وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ حالت اقامت وصحت میں کیا کرتا تھا۔
٭…اخلاص کے سبب اللہ تعالیٰ امت کی مدد فرماتا ہے ۔
٭…اخلاص آخرت کے عذاب سے نجات دلاتا ہے ۔
٭…دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات اخلاص کے ثمرات میں سے ہے ۔
٭…اخلاص کے سبب آخرت میں درجات کی بلندی حاصل ہوتی ہے ۔
٭…حسن خاتمہ نصیب ہوتا ہے ۔
٭…دعاؤں کی قبولیت حاصل ہوتی ہے ۔
٭…قبر میں نعمت اور شادمانی کی بشارت ملتی ہے ۔
٭…جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات عطاہوتی ہے ۔( از اخلاص کے ثمرات اور ریاکاری کے نقصانات از شیخ سعید بن علی بن وھف القحطانی)
اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے(آمین بجاہ سید المرسلین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com