سچ تویہ ہے

سچ تویہ ہے
محمدصدیق پرہار
سعیداحمد۔۔۔۔۔مولوی صاحب آپ بتاناپسندکریں گے یہ کس طرح کے معاملات ہوتے ہیں
کریم بخش۔۔۔۔۔میںبتاتاہوں زمین ،جائیداد کے معاملات زیادہ ترگھروں اورخاندانوں کے ہوتے ہیں یہ معاملات آپس میں حل نہ ہوسکیں توپٹواریوں اورتحصیلدارکے پاس جاناپڑتاہے اس طرح اوربھی کئی معاملات ہیں جن کوسلجھانے کے لیے ہمیںمعاشرے میںکسی نہ کسی کے جاناپڑتاہے
مولوی صاحب۔۔۔۔کریم بخش درست کہہ رہاہے
اسی دوران دولڑکے گرم گرم دودھ پتی لے آتے ہیں ۔مولوی صاحب کے کہنے پرایک لڑکادودھ پتی پیالیوںمیں ڈالتاہے اوردوسرالڑکامہمانوںکے سامنے رکھ دیتاہے۔دونوںلڑکے سلام کرکے چلے جاتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔پیالی ہاتھ میںلے کر۔۔۔۔ایسی کون سی الجھن ہے جس کے لیے آپ میرے پاس آئے ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔مولوی صاحب آپ توہم سے بہترجانتے ہیں کہ رشتے کرنے سے پہلے کیاکیانہیںکرناپڑتا لڑکی والے یہ ضرورپوچھتے ہیں کہ لڑکاکیاکرتاہے۔اس کی آمدنی کتنی ہے
مولوی صاحب۔۔۔۔آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اس دورمیںایساہی ہوتاہے
سعیداحمد۔۔۔۔آپ یہ بھی جانتے ہیں رشتہ طے کرنے سے پہلے لڑکے کے روزگارکوبھی دیکھاجاتاہے
مولوی صاحب۔۔۔۔۔یہ بات توہرایک جانتابھی ہے سمجھتابھی
سعیداحمد۔۔۔۔ہم یہی بات اپنے بیٹے عارف کوباربارسمجھانے کی کوشش کرچکے ہیں اس کوہماری بات سمجھ ہی نہیںآتی
کریم بخش۔۔۔۔اس لیے آپ کے پاس آئیں آپ اسے سمجھائیں ہوسکتاہے وہ آپ کے سمجھانے سے سمجھ جائے
مولوی صاحب۔۔۔۔۔نمازکاوقت ہوچکاہے اب نمازاداکرتے ہیں بعدمیںباتیںکریں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۳۲
ایک گھرکے صحن پچاس کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔ سامنے سٹیج پردس کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔ان کرسیوںپرخواتین بیٹھی ہیں۔ایک خاتون قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے۔ایک خاتون پیرنصیرالدین نصیرکی لکھی ہوئی نعت شریف سناتی ہے۔اس کے بعدگفتگوکاسلسلہ شروع ہوتا ہے
پہلی خاتون۔۔۔۔میری بہنو ہمارے ذمے جوکام لگایاگیاتھا وہ ہم نے کرلیاہے اس کے لیے دوسرے مرحلے میںدوکمیٹیاںبنائی گئی تھیں میں ان کمیٹیوںسے کہوں گی کہ ان کی ایک ایک ممبران سب خواتین کواپنی کارکردگی بتائیں
دوسری خاتون۔۔۔۔ہم گھروںمیںگئیں خواتین سے ملاقاتیںکی ان کومشکل آسان فنڈکے بارے میںبتایا
تیسری خاتون۔۔۔۔ہم جتنے گھروںمیںگئیں اکثرگھرانوںکی خواتین نے توانکارکردیا کئی خواتین نے کہا کہ وہ اپنے مردوں سے بات کریںگی ۔صرف دوخواتین نہ چاہتے ہوئے اجتماعی شادیوںمیں شادیاںکرانے پرآمادہ ہوئیں
چوتھی خاتون۔۔۔۔اس کے بعدکیاپروگرام ہے۔
پانچویں خاتون۔۔۔۔اس صورت حال سے تولگتاہے کہ اب شادیوںکاپروگرام منسوخ کرناپڑے گا
پہلی خاتون۔۔۔۔ہمارے ذمے جوڈیوٹی لگائی گئی تھی وہ توہم نے پوری کردی ہے اس کے بعدکیاکرناہے کیانہیںکرنا اس کافیصلہ مردوںکی کمیٹی کرے گی ہم انہیں اپنی کارکردگی بتادیں گی اس کے بعدہم پر جوذمہ داری لگائیں گے ہم اس پرعمل کریں گی کھاناتیارہے سب خواتین کھاناکھالیں اس کے بعدسب کوجانے کی اجازت ہوگی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۳۳
افضل کریم بخش سے کہتاہے ۔ابومیزدروازے کے ساتھ پڑی ہے۔
کریم بخش گھرمیںآتاہے
کریم بخش۔۔۔۔نورالعین سے۔۔۔۔میرامہمان آیاہے اس کے لیے کھانے کا بندوبست کرو
نورالعین۔۔۔۔۔گھرمیںدال مونگ اورآلوپڑے ہیں
کریم بخش۔۔۔۔افضل سے۔۔۔۔افضل بیٹا ایک مرغی پکڑکرچچاسے ذبح کراکے آئو
یہ کہہ کرکریم بخش میزاٹھاتاہے اورعبدالمجیدآجاتاہے
کریم بخش۔۔۔۔میزرکھ کر۔۔۔۔عبدالمجیدسے۔۔۔۔میرے بچے نے آپ سے کوئی شرارت تونہیںکی
عبدالمجید۔۔۔۔اس نے کوئی شرارت نہیںکی وہ توکھیل کودمیں اتنامصروف تھا کہ اسے پتہ نہیںچلاکہ اسے کوئی دیکھ رہاہے
کریم بخش۔۔۔۔بچے جب کھیل رہے ہوتے ہیں توایساہی ہوتاہے
عبدالمجید۔۔۔۔آپ نے اپنے بیٹے کوحدسے زیادہ چھوٹ دے رکھی ہے
کریم بخش۔۔۔۔۔حدسے زیادہ چھوٹ آپ کیاکہناچاہتے ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔میںنے اس سے پوچھا تیراباپ تجھے کھیلنے سے منع نہیںکرتا اس نے کہانہیں اس نے تویہ بھی کہا کہ یہ اس کے کھیلنے کاوقت ہے
کریم بخش۔۔۔۔۔میں وہ باپ نہیںہوں جوبچوںپربلاوجہ پابندیاںلگاتے ہیں۔ ہروقت بچوںکوڈانٹتے رہتے ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔اتنی چھوٹ بھی نہیںدینی چاہیے
کریم بخش۔۔۔۔۔یہ چھوٹ نہیں بچے کاحق ہے بچوںکواس کام سے روکناچاہیے جوان کے لیے نقصان دہ ہو بچہ کوئی غلط کام کرے تواس سے روکناچاہیے
عبدالمجید۔۔۔۔میںتوکہتاہوں بچوں پرہروقت سختی کرنی چاہیے تاکہ وہ غلط کام کاسوچ بھی نہ سکیں
کریم بخش۔۔۔۔ہروقت کی سختی سے بچوںکی سوچنے کی صلاحیت متاثرہوتی ہے
عبدالمجید۔۔۔۔بچوںکوکھیلنے دیں سختی نہ کریں تو وہ آوارہ ہوجاتے ہیں
کریم بخش۔۔۔۔چوبیس گھنٹو ںمیں بچے ایک دوگھنٹے کھیل لیتے ہیں تواس سے وہ آوارہ نہیںہوتے اس سے ان کے جسم میں چستی آتی ہے
کریم بخش۔۔۔۔آپ کے کتنے بیٹے اوربیٹیاں ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔میرے دوبیٹے اورایک بیٹی ہے
کریم بخش۔۔۔۔تیری باتوںسے لگتاہے تونے بچوںکو گھرمیں قید کرکے رکھاہے
عبدالمجید۔۔۔۔میں اپنے بڑے بیٹے کی وجہ سے پریشان ہوں
کریم بخش۔۔۔۔۔کیوںکیاہوا
عبدالمجید۔۔۔۔وہ میرانافرمان ہے جھوٹ بولتاہے بات بات پربحث کرنے لگ جاتاہے
کریم بخش۔۔۔۔۔یہ آپ کی غیرضروری سختی کانتیجہ ہے
عبدالمجید۔۔۔۔یہ میری غیرضروری سختی کانہیں اس کی ماں کے غیرضروری پیاراورلاڈ کانتیجہ ہے
کریم بخش۔۔۔۔یہ اس کی ماں کے لاڈ کانتیجہ نہیں ہے
کریم بخش اپنے گھرمیںآجاتاہے ۔نورالعین مرغی کاسالن تیارکررہی ہے
کریم بخش۔۔۔۔نورالعین سے۔۔۔۔جب تک کھاناتیارہوتاہے اچھی سی چائے بناکرافضل کودے دینا مہمان کے پاس لے آئے گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۳۴
راشدہ۔۔۔۔پھرکیاہوا
احمدبخش۔۔۔۔میںنے دکاندارسے کہا چچاجان میں بیٹھنے نہیںآیا مجھے سامان دیں میںگھرجائوں پہلے ہی دیرہوگئی ہے دکاندارنے کہا خاموشی سے بیٹھا رہ اب تیراباپ میرے پیسے دے گا اورتجھے لے جائے گا میںنے کہا میںابوسے کہہ دوںگا ابوآپ کے پیسے دے جائیں گے اس نے کہانہیں تیرے باپ نے جب بھی ادھارسامان لیناہوتاہے تجھے بھیج دیتاہے اب توگھرنہیںجائے گا توتیراباپ خوددکان پرآئے گا میںنے کہا آپ سامان ادھارپرنہیںدیناچاہتے تونہ دیں مجھے توجانے دیں اس نے کہانہیں تیراباپ ہی تجھے لے جائے گا
راشدہ۔۔۔۔پھرتوگھرکیسے آگیا
احمدبخش۔۔۔۔۔میںنے کہا ابونہیںآئیںگے اس میںمیراتوکوئی قصورنہیں ہے جوآپ نے مجھے بٹھارکھاہے گاہک ہماری باتین سن رہے تھے وہ بول پڑے اسی دوران فیاض بھی دکان پرآگیا گاہکوںنے کہا آپ باپ کے کیے کی سزااس کے بچے کو کیوں دے رہے ہیں اس کوجانے دو دکاندارنے کہا نہیں گاہکوں کے باربارکہنے پراس نے مجھے گھرآنے دیامیں اورفیاض ایک ساتھ آئے ہیں
راشدہ۔۔۔۔عبدالمجیدسے۔۔۔۔سن لیا تیرے کیے کی سزا میرے بیٹے کومل رہی تھی
عبدالمجید۔۔۔۔یہ جھوٹ بولتاہے یہ دکان پرگیاہی نہیں یہ راستے میں کھیل کھیل کرآگیاہے
احمدبخش۔۔۔۔۔میں جھوٹ بول رہاہوںتوفیاض سے پوچھ لیں وہ توجھوٹ نہیںبولے گا
عبدالمجید۔۔۔۔یہ اب زبان چلانے لگ گیاہے
عبدالمجید۔۔۔۔پائوں سے جوتااتارتے ہوئے۔۔۔۔میںاسے بتاتاہوں باپ کے سامنے زبان کیسے چلاتے ہیں
راشدہ۔۔۔۔اس نے کب زبان چلائی ہے اس نے توکہاہے فیاض سے پوچھ لیں سچ ہے یاجھوٹ پتہ چل جائے گا
عبدالمجید۔۔۔۔میںاس سے کیوںپوچھوں یہ جھوٹ ہی بول رہاہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۳۵
سمیرااوراریبہ ایک ہی چارپائی پربیٹھی ہیں۔بشیراحمدریڑھی لے کرآجاتاہے سمیراباپ کے پاس چلی جاتی ہے ریڑھی کی کنڈیاں کھولتیہے۔بشیراحمدبھی ریڑھی کی کنڈیاںکھولتاہے۔ریڑھی کھڑی کرکے گدھاریڑھی کے ساتھ باندھ دیتاہے۔دونوںباپ بیٹی اریبہ کے پاس آجاتے ہیں۔
بشیراحمد۔۔۔۔فیاض ابھی تک نہیںآیا
سمیرا۔۔۔۔آجائے گا ابھی تک نہیںآیا
اریبہ۔۔۔اسے پرانے کپڑے مرمت کرنے کے لیے دیے تھے اتنے دن ہوگئے وہ نہیںلایا
بشیراحمد۔۔۔۔وہ اپنی مجبوری کئی باربتاچکاہے جب مرمت ہوجائیں گے لے آئے گا
دروازے پردستک ہوتی ہے
سمیرا۔۔۔۔لگتاہے بھائی آگئے ہیں میں دیکھ کرآتی ہوں
سمیرادروازہ کھولتی ہے دیکھتی ہے کہ فیاض نے کپڑوںکی گٹھڑی اورمٹھائی کاڈبہ اٹھایاہواہے دونوںگھرمیں آتے ہیں
سمیرا۔۔۔۔امی بھائی کپڑے بھی لائے ہیں اورمٹھائی بھی
بشیراحمد۔۔۔۔مٹھائی کس لیے
اریبہ۔۔۔۔اس لیے کہ کپڑے مرمت ہوگئے ہیں
سمیرا۔۔۔۔بھائی سے توپوچھیں کہ وہ مٹھائی کس لیے لائے ہیں
بشیراحمد۔۔۔اریبہ سے۔۔۔۔کپڑوںکی خوشی میںتومٹھائی تجھے بانٹنی چاہیے
اریبہ۔۔۔۔ایک توکپڑے اتنے دنوںکے بعدلایاہے مٹھائی میںبانٹوں؟
سمیرا۔۔۔۔ابو ٹھیک کہہ رہے ہیں امی آپ کوابوکی بات پر عمل کرناچاہیے
اریبہ۔۔۔۔مٹھائی کے لیے باپ بیٹی ایک ہوگئے ہیں
سمیرا۔۔۔۔بھائی سے توپوچھیں
بشیراحمد۔۔۔۔فیاض بیٹا یہ ڈبہ کس خوشی کی وجہ سے لایاہے
فیاض۔۔۔۔خوشی کی وجہ سے نہیں خوشیوںکی وجہ سے
سمیرا۔۔۔۔خوشیوںکی وجہ سے؟
فیاض۔۔۔۔جی استادصاحب نے پرانے کپڑوںکی مرمت کے لیے الگ سے دکان بنائی ہے اور
بشیراحمد۔۔۔اور
فیاض۔۔۔۔میںنے آج قمیض کی سلائی شروع کی ہے
بشیراحمد۔۔۔۔مبارک ہوبیٹا
بشیراحمد۔۔۔۔اریبہ سے۔۔۔۔بیٹے کومبارک تودے دو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۳۶
جاویداوررحمتاں گھرکی چاردیواری کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رحمتاں۔۔۔۔بچیوںنے توہمیںمشکل میںڈال دیاہے
جاوید۔۔۔بچیوںنے ہمیںمشکل میںنہیںڈالا
رحمتاں۔۔۔۔آپ نے سناہے کیا آج تک کسی لڑکی نے یہ کہاہو کہ اسے اس طرح کا دولہاچاہیے
جاوید۔۔۔۔بچیاں ٹھیک ہی کہتی ہیں دولہاایساہی ہوناچاہیے
رحمتاں۔۔۔۔توکیا پیسہ ، جائیداد،آمدنی،ملازمت کی کوئی اہمیت نہیں
جاوید۔۔۔۔ان چیزوںکی اپنی اہمیت ہے اورضرورت بھی
رحمتاں۔۔۔ایساہے توبچیوںنے ایسی کوئی بات نہیں کی اورآپ کہتے ہیں بچیوںنے ٹھیک کہاہے
جاوید۔۔۔۔بچیوںکی باتیںمیںاچھی طرح سمجھ چکاہوں
رحمتاں۔۔۔۔مجھے بھی سمجھادیں
جاوید۔۔۔۔بچیوںنے معاشرے کی سوچ بدلنے کی کوشش کی ہے
رحمتاں۔۔۔۔گھرمیں اوررشتہ داروںمیں ایسی باتیںکرکے معاشرے کی سوچ کیسے بدلی جاسکتی ہے
جاوید۔۔۔۔معاشرے کی سوچ ایسے ہی بدلی جاسکتی ہے
رحمتاں۔۔۔۔مجھے بھی توپتہ چلے
جاوید۔۔۔۔بدمزاج امیرسرمایہ دارسے خوش مزاج غریب بہترہے
رحمتاں۔۔۔۔میںسمجھی نہیں
جاوید۔۔۔۔شوہربدمزاج ہوگا تو آئے روزگھرمیں لڑائیاںہوں گی بات بات پرمارکٹائی کرے گا بیوی اوربچوںکی زندگیاںمشکل بنادے گا
رحمتاں۔۔۔۔بیوی بھی اسی مزاج کی ہوتو
جاوید۔۔۔۔تب بھی گھرمیںلڑائیاںہوں گی گھرمیںسکون نہیںہوگا شوہراوربیوی میںسے کسی ایک کی بدمزاجی کی وجہ سے گھرکاسکون ختم ہوجائے گا بچوںپربرااثرپڑے گا
رحمتاں۔۔۔۔شوہرخوش مزاج ہوتو اس کاکیافائدہ ہے
جاوید۔۔۔۔اس موضوع پرپھرکبھی بات کریں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۳۷
ایک کھلے میدان میں بیس میزیںرکھی ہوئی ہیں ہرمیزکے اردگردآٹھ آٹھ کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔سٹیج کے طورپرلائن میں چارمیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ان میزوںکی لائن کے تین اطراف میںکرسیاںرکھی ہوئی ہیں۔ہرمیزپرپلیٹوںمیںکٹے ہوئے فروٹ ،کھجوراورمٹھائیاں رکھی ہوئی ہیں۔پانی کے جگ ،گلاس اورخالی پلیٹیں بھی پڑی ہوئی ہیں۔کرسیوںپرمہمان بیٹھے ہیں۔ایک شخص قرآن پاک کی تلاوت کرتاہے۔ ایک شخص نے محمدعلی ظہوری کالکھاہوانعتیہ کلام سنایا اس کے بعدگفتگوکاسلسلہ شروع ہوتاہے
اخترحسین۔۔۔۔اجتماعی شادیوںکے پروگرام کاجورزلٹ سامنے آیاہے اس سے ہم پہلے سے ہی واقف تھے یہ ہم نے اس لیے شروع کیاتھا تاکہ عوام کی رائے اوران کے حالات زندگی سے مزیدآگاہی مل جائے
عبدالغفور۔۔۔۔خواتین نے ہمارے ساتھ بھرپورتعاون کیا ہم ان خواتین کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں
ناصراقبال۔۔۔۔اس کے بعداب کیاپروگرام ہے لوگ توخودداری کی وجہ سے امدادبھی نہیں لے رہے
اخترحسین۔۔۔۔۔میرے پاس ایک ایساپروگرام ہے جوضرورکامیاب ہوگا
عمیرنواز۔۔۔۔یہ آپ اتنے یقین سے کہہ سکتے ہیں حالانکہ دوتجربات ہمارے سامنے ہیں
رشیداحمد۔۔۔۔ضروری تونہیں کہ ہرمرتبہ ایک ہی نتیجہ آئے یہ مایوسی کی باتیں ہیں مایوسی کفرہے
ارشدجمال۔۔۔۔ہمیںمایوس نہیںہوناچاہیے اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے اللہ تعالیٰ سے بہتری کی دعاکرتے رہناچاہیے
ظفراقبال۔۔۔۔ہم سب اپنی اپنی باتیںکرنے لگ گئے ہیں اخترحسین سے توپوچھیں کہ وہ اب کیاکرناچاہ رہے ہیں جس کی کامیابی پرانہیں اتنایقین ہے
اخترحسین۔۔۔۔یہ ایساپروگرام ہے جس میںلوگ ضرورشامل ہوں گے کوئی بھی اس سے انکارنہیںکرے گا آپ اتنی دیرسے اس انتظارمیں ہیں میںاب کیاکرناچاہ رہاہوں غورسے سنو اب ہم مختلف مقابلے کرائیں گے اورجیتنے والوںکوانعام دیں گے ہمیںکون کون سے مقابلے کرانے چاہییں سب دوست اس بارے سوچیں اس پرمزیدگفتگوہم آئندہ اجلاس میںکریں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com