عبادت کی اصل روح

سعدیہ یٰسین
عبادت کی اصل روح
عبادت لفظ ہم میں سے کسی کے لیے بھی نیا نہیں ہے۔ کسی سے بھی پوچھ لیا جائے تو رٹا ہوا جواب دے گا، وہی جواب جو ہم میں سے سب کو پڑھا دیا گیا بلکہ گویا ہماری گھٹی میں شامل کر دیا گیا ہے۔ نماز و قرآن پڑھنا عبادت ، روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا عبادت، ذکر و اذکار اور درود و سلام عبادت اور اگر کوئی صاحبِ استطاعت ہو تو حج و عمرہ بھی عبادت کی اعلٰی و افضل شکل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عبادت محض انہی سب کا نام ہے تو یہ تو سب حقوق اللہ ہیں جن کے بارے میں واضح احکام ہیں کہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ اگر وہ چاہے تو معاف کر سکتی ہے ۔ دوسری طرف بات آتی ہے حقوق العباد کی،جنہیں معاف کرنے کا اختیار اللہ نے صرف اپنے بندوں کو ہی دیا ہے ۔ ہم میں سے اکثریت ایسی ہے جو حقوق العباد کو بری طرح پامال کر کے عباد ت گزار بنے بیٹھے ہیں ۔
حقوق اللہ کی اہمیت سے انکار کسی صورت نہیں لیکن محض اسی پہ ہی اکتفا کر دینا بھی کسی طور درست نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کیسے پتہ چلے کہ ہم حقیقی عبادت کا حق ادا کر رہے ہیں یا نہیں ۔ سب سے پہلے آتے ہیں والدین کے حقوق۔ اگر ماں باپ آپ سے دکھی ہیں تو آپ کی سب عبادت، ریاضت کسی کام نہ آئے گی۔کیونکہ جس نے ماں باپ کو ناراض کیا ،اس نے اپنے خالق و مالک کو ناراض کیا۔ ماں باپ کے بعد زوجین کے حقوق۔بہن بھائیوں کے حقوق۔رشتہ داروں کے حقوق۔ہمسائیوں کے حقوق۔ اور راہِ زندگی میں قدم قدم پہ ایسے ڈھیروں مواقع جہاں ہم کسی کے بھی کام آسکتے ہیں ،کسی کی بھی مدد کر سکتے ہیں ۔تو مشاہدہ ِباطن کریں اور اس کا جواب حاصل کریں کہ آپ کتنے عبادت گزار ہیں ۔
آج ہم سب نمازیں پڑھ کے بھی پریشان حال زندگی گزار ہیں ، عمرہ و حج کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ، سب خود کو کسی نہ کسی عبادت گزاری کی صف میں رکھ کے بھی مطمئن نہیں تو ایسا اسی لیے ہے کہ ہم نے عبادت کا ترجمہ محض اپنی ذاتی لغت میں یہی کیا ہے کہ مکینیکل عبادات میں لگے رہو ،یہ سوچے بغیر کہ تمہارے وجود سے کس کس کو خوشی مل رہی ہے اور کس کس کو ایذا۔ ہم تو دوسروں کو اذیت پہنچاننے میں اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ اس احساس سے ہی نابلد ہو چکے ہیں کہ ہم کہاں،کب اور کس طرح اپنے اقوال و افعال سے دوسروں کو تکلیف پہنچا رہے ہیں ۔ ہمیں اس بات کی پرواہ ہی کب ہے ۔
معاشرتی زندگی میں بھی ہمارے حالات قابلِ رحم ہیں۔ ذہنی تناـؤ،کشمکش اور بہت سے دیگر پریشان کن معاملات جن کے شکار ہم سب ہیں ،لیکن افسوس کہ بھینٹ دوسرے چڑھتے ہیں۔گاڑی چلا رہے ہوں ،پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کر رہے ہوں، خرید و فروخت کر رہے ہوں یا پبلک ڈیلنگ کر رہے ہوں ، ہر جگہ ہم اخلاقی گراوٹ کا شکار نظر آتے ہیں، اگر کبھی ہم اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر رہے ہوں غلطی سے تو اس شخص کے جاتے ہی غیبت کرتے ہوئے زہر اُگلنا شروع کر دیتے ہیں۔ غیبت اور بہتان اس قدر ہمارے وجود میں سرایت کر چکا ہے کہ اس کے بغیر تو ہمیں اپنا آپ ہی نامکمل اور ادھورا لگتا ہے۔ غیبت اور بہتان میں ایک انتہائی باریک لیکن اہم فرق ہم سب پہ واضح ہونا چاہئیے اور اس سے متعلقہ تقاضوں کا بھی علم ہونا چاہئے ۔کسی کے اندر موجود برائی کو بیان کرنا غیبت ہے اور کسی ایسی برائی کا ذکر کرنا جو اس کے اندر موجود نہ ہو ، وہ بہتان کہلاتا ہے۔مذہب اسلام میں دونوں افعال کی سختی سے ممانعت ہے ،ایسی برائی کا ذکر کرنا جو کسی میں ہو اور اس کا بھی جو اس میں نہ ہو۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیب پوشی کرنا کتنی عظمت اور اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے ۔
اسلام محض رسمی عبادت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اورنہ صرف زندگی کے ہر پہلوؤں میں بلکہ عبادت میں بھی حسنِ معاشرت کو اس خوبصورتی سے تلازم کیا گیا ہے کہ ہم اسے نظرانداز نہیں کر سکتے ۔ اسلام ہمیں درس دیتا ہے حُسنِ اخلاق کا۔ آج اکثریت کی زبان پہ گالی ہے چاہے وہ پیار سے دی جائے یا نفرت سے۔آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق تو ہم میں سے بہتر وہی ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو۔تو کیا کبھی ہم نے اپنا محاسبہ کیا کہ ہم اخلاق کے کن درجات پہ فائز ہیں ؟ کیا ہم نے بولتے ہوئے کبھی سوچا کہ ہمارے الفاظ دوسرے پہ کس قسم کا اثر ڈال رہے ہیں ؟ یہی الفاظ جو ہم دوسروں کے لیے بول رہے ،کیا یہ اس قابل ہیں کہ اگر یہ ہمارے لیے بولے جائیں تو خوشی خوشی انہیں قبول کر سکیں ؟۔اگر ایسا نہیں ہے تو ہمارے نامئہِ اعمال کے پلڑے میں ایسا کچھ نہیں جس وزن روزِ محشر سب سے زیادہ ہو۔
اسلام حسنِ معاشرت کا درس دیتا ہے، عفو و درگزر،رحمدلی،نرمی، رواداری،مساوات،اخوت و بھائی چارہ جیسی صفات ایک مسلمان کے کامل ایمان کو ظاہر کرتی ہیں ۔ہمیں حکم دیا گیا کہ اپنے گھر والوں کے حقوق کاخیال رکھیں ، اپنے ہمسایوں کا خیال رکھیں ، ان کے کھانے پینے ، آرام کا خیال رکھیں ۔اس سے بہترین باہمی گٹھ جوڑ کی مثال کیا ہوگی جو ہمیں ایک دوسرے سے نہ صرف باخبر رکھتی ہے بلکہ پیار و محبت سے ایک دوسرے سے جوڑے بھی رکھتی ہے۔
کسی بھی معاشرے الغرض ملت ِاسلامیہ میں غربت دُور کرنے کا ایک سنہرا اصول دینِ اسلام میں زکوٰۃ کی شکل میں موجود ہے ،جس پہ اگر مکمل طور پہ عمل کیا جائے تو دولت چند ہاتھوں میں منجمد ہوکے اندھا دھند بڑھنے کی بجائے تمام حق داروں تک بھی پہنچے گی جو نہ صرف بقایا دولت کو پاک کرنے کا سبب بنے گی بلکہ سرمایہِ آخرت کی شکل میں ہماری بخشش کا وسیلہ بھی بنے گی۔اگر اس اصول کی پیروی کرتے ہوئے صاحبِ استطاعت صدقات و زکوٰۃ حقداروں تک پہنچانا شروع کر دیں تو ہماری دولت ان کے چہروں پہ آئی خوشیوں کے ساتھ ساتھ بڑھنا شروع ہو جائے گی، کیونکہ ہر نیک کام میں بے شمار برکت ہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ آج کے دن دین مکمل ہو گیا۔ اور آج چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے پر ایسا کچھ بھی نیا نہیں جو آج کے مسلمانوں کو سکھایا جائے ، بس یہ ایک بھولا ہوا سبق ہے جسے یاد کروانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے کہ شاید دلوں کے اوپر جمی گرد تھوڑی صاف ہو سکے اور ہم اپنا اصل پہچانتے ہوئے حقیقی طور پر عبادت گزار بن سکیں ۔
بقول شاعر
کھول دریچہ کوئی کالی دیواروں سے
باہر دیکھو کیسا اُجلا اُجلا دن ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com