مشکل حالات میں نرسوں کا کردار

مشکل حالات میں نرسوں کا کردار
تحریر:ملک آصف شہزاد
سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں،زلزلہ کی ہولناکیاں ہوں،طاعون کی وباء ہو،ڈینگی کا وار ہو،ہسپتال کی اوپی ڈی ہو،آئی سی یو ہو،ایمرجنسی میں کوئیک رسپانس چاہیے ہو یا میڈیکل کیمپ ہو جہاں ڈاکٹرز کا طریقہ علاج قابل تعریف ہے وہاں نرسز کا کردار بھی رد نہیں کیا جاسکتا سہولیات یا بغیر سہولیات پہلی صفوں میں لڑنے والی،ایک فوجی کی طرح اپنی جان کی پرواہ نہ کرنے والی نرسیں ہمارے ماتھے کا جھومرہیں۔ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہوئیں تو نرسوں نے دوردراز علاقو ں میں جا کر گہرے اور بپھرتے پانی کی لہروں کی پرواہ نہ کرنے والی نرسوں نے دن رات ایک کرکے کیمپوں میں موجود مریضوں کی ایک ماں کی طرح دیکھ بھال کی۔ملک کی زمین زلزلوں سے لرزی تو انہی نرسوں نے اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر زلزلہ زدگان کی جان بچانے کے لیئے سب سے پہلی پکار پر لبیک کہا اور ان تباہ شدہ علاقوں میں جاکر انہیں طبی امداد دی۔طاعون نے سراٹھایا تو حفاظتی سہولیات کے فقدان کے باوجود طاعون سے آلودہ مریضوں کی دیکھ بھال کی ان میں سے کئی نرسوں نے تو اپنی جان کی بازی بھی ہار دی۔ڈینگی نے اپنے وار تیز کیئے تو انہی نرسوں نے اپنے ڈاکٹرزکے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس کا مقابلہ کیا۔اوپی ڈی کے معاملات ہوں،آئی سی یو میں سیریس مریض ہویاپھر ایمرجنسی کا سی پی آر روم ہر جگہ اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر مریضوں کی جان بچانے کا عزم اور امہیں بہتر سے بہتر طبی سہولیات دینے کی کوشش ان نرسوں کا SOP رہی ہے۔ابھی حال ہی میں پوری دنیا کرونا وائرس جیسے موذی مرض کی لپیٹ میں آئی ہوئی ہے ایسے میں جہاں ڈاکٹرز و دیگر پیرا میڈیکل سٹاف اس موذی مرض سے نپٹنے میں نبردآزما ہے وہاں نرسیں بھی ان کے شانہ بشانہ بلکہ ان سے بھی ایک قدم آگے حفاظتی کٹس اور احتیاطی انتظامات کے بغیر مریضوں میں تندہی سے خدمت کرنے میں مصروف ہیں۔ سرکاری ہسپتال ہو یا پرائیویٹ ہرجگہ بلا تمیز،رنگ اور مذہب کے اپنے فرائض کی بجاآوری میں مشغول ہیں جب اس موذی مرض میں مبتلا ہوکرمریض ان کے پاس آتاہے تو ان کا دل غم سے بھر جاتا ہے اور وہ اس کی ریکوری میں کوئی سر اٹھا نہیں چھوڑتیں اور جب وہی مریض ٹھیک ہو کر واپس گھر جاتاہے تو ان نرسوں کی آنکھوں میں مارے خوشی سے آنسو آجاتے ہیں۔اس موذی مرض کے ابتدائی ایام میں فاطمہ میموریل ہسپتال میں بطور نرس مینجر اپنے فرائض سرانجام دینے والی نرس شاہدہ ارشاد بھٹی کی ڈیوٹی جب کرونا وارڈ میں لگائی گئی تو وہ اس موذی مرض کے ساتھ لڑتے مریضوں کی ریکوری اور ان کی خدمت کے لیئے پرجوش تھیں جب ان کے ہاں ایک مریضہ لائی گئیں جو اس موذی وائرس کا شکار ہو چکی تھیں تو شاہدہ بھٹی نے ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر اس مریضہ کی تیمارداری میں کوئی کسر روا نہ رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی دنوں میں وہ خود اس وائرس کا شکار بنتے بنتے رہ گئیں طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ اس مریضہ کی طبی امدادمیں کوشاں رہیں مگر ڈاکٹرز اور ہسپتال انتظامیہ کے کہنے پر جب اس نے چھٹی کی اور کچھ دن ریسٹ کی اپنی لیب رپورٹس کروائیں تو انکشاف ہوا کہ وہ اس موذی وائرس کا شکار بنتے بنتے رہ گئی ہیں ابھی وہ پوری طرح اس پر حاوی نہیں ہو ا تھا ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز نے اس کے جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے شاباش دی اور کچھ روز گھر میں رہ کر قرنطینہ کا حصہ بننے کا کہا تاکہ وہ دوبارہ صحتیاب ہو کر اپنے مشن پر لگ جائے۔یہ وہی شاہدہ ارشاد بھٹی ہیں جنہوں نے 2005 میں آنے والے زلزلہ میں زلزلہ ذدگان اور 2011 میں ڈینگی کے ڈنگ کا شکار بننے والے مریضوں کی تیمارداری کی اور اب 20 سال سے فاطمہ میموریل ہسپتال کے مختلف شعبوں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔فاطمہ میموریل ہسپتال ان کی ان خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناداور ایوارڈز سے بھی نواز چکاہے۔ ہم جہاں ڈاکٹرز و دیگر اداروں کے افراد کو سیلوٹ پیش کرتے ہیں وہاں ہمیں ان نرسوں کو بھی ایک پرجوش اور خلوص سے بھرا سیلوٹ بھی کرنا ہوگا جس کی یہ حقدار ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر سب سے ایک قدم آگے رہتے ہوئے ان بیماریوں کا دیوانہ وار مقابلہ کرتی ہیں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں اپنی صحت اور اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com