غریب غیر محفوظ تو کوئی محفوظ نہیں

غریب غیر محفوظ تو کوئی محفوظ نہیں!
شاہد ندیم احمد
کرونا وائرس سے جہاں دنیا بھر میں خوف و حراس پھیلا،وہاں اس نے تمام ممالک کی معیشتوں کو بھی نچوڑ کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث ترقی یافتہ ممالک کے عوام کیلئے بھی بے روزگاری سمیت بے شمار اقتصادی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور آنیوالے دنوں میں یقیناً انسانی بقاء کا مسئلہ لاحق ہوگا۔ ایک ترقی پذیر اور کم وسائل والے ملک کی حیثیت سے پاکستان کو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے جزوی لاک ڈاؤن کے اٹھائے گئے اقدام سے بھی نئے مالی اور اقتصادی بحران درپیش آئے ہیں اور مارکیٹس‘ تجارت‘کاروبار اور صنعتی پیداوار بند ہونے کے نتیجہ میں ملک میں بے روزگاری کا نیا طوفان کھڑا ہوا اور غریب عوام کیلئے عملاً فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے۔لاک ڈاؤن کے باعث بھوک وافلاس کا بڑھ جانا خطرے سے خالی نہیں، اس کے نتیجے میں انتہائی المناک انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں،جبکہ پاکستان کا تو یہ بھی المیہ رہاہے کہ ماضی کی تمام حکومتوں نے صحت کے شعبے کو یکسر نظر اندازکیے رکھا،اس لیے آج بھی بائیس کروڑ عوام کے لیے علاج معالجے کی سہولتیں ناکافی ہیں اور ہر پاکستانی حکومت کے تمام تراقدامات کے باوجود خودکوغیرمحفوظ سمجھ رہا ہے۔
یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ غریب عوام بھوک و افلاس کا شکار ہیں،مگر آج بھی وطن عزیز میں طبقہ اشرافیہ صرف لاک ڈاؤن کو ہی کورونا مسئلے کا حل سمجھتا ہے، جب کہ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ اس لاک ڈاؤن کے بھیانک نتائج غریبوں پر مرتب ہونگے، ہمیں بحیثیت قوم ایک جانب تو اس وبا سے نبرد آزما ہونا ہے تو دوسری جانب بھوک اور بیماری سے بھی خود کو محفوظ کرنا ہے، اس لیے کوئی درمیانی راستہ ہمیں نکالنا پڑے گا۔وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ ایس او پیز بنا کر سافٹ لاک ڈاؤن کی طرف جائیں، مساجد،شادی ہال اور اسکول وغیرہ بندکردیں جب کہ دیہاڑی دار اورچھوٹے چھوٹے کاروبار اورمعاشی سرگرمیاں چلتی رہیں۔ اب گیند وفاقی حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ کتنی جلد معاشی اورکاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان کرتی ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا راستہ ختیارکرتی ہے۔اس مشکل کی گھڑی میں ہمارے ملک کا مزدور دھاڑی دارطبقہ سب کی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے، مزدور اوردیہاڑی دار افراد جو موسموں کی سختیوں کی پرواہ کیے بغیر رزق حلال کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں،آج کورونا وبا کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں،ہمیں بحیثیت مسلمان اس ماہ مبارک میں مزدور طبقے کا ہرممکن خیال رکھنا چاہیے، یہ عمل بلاشبہ اللہ کی رضا کا سبب بنے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے عوام کیلئے پیدا ہونیوالی اس گھمبیر صورتحال کا احساس و ادراک کرتے ہوئے متعدد ریلیف پیکیجز کا اعلان کیا ہے، جن پر عملدرآمد بھی شروع ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ٹائیگر فورس کو بھی متحرک کیا جارہا ہے جو ہر گھر جا کر اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی مستحق امداد سے محروم تو نہیں رہ گیا اور لاک ڈاؤن کے باعث کسی گھر میں فاقہ تو نہیں ہے۔ وزیراعظم کے بقول کرونا وائرس نے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سکھا دیا ہے، اگر کرونا کا شکار صرف غریب ہوتے تو اشرافیہ طبقات امدادی کاموں میں تیزی نہ دکھاتے، جبکہ بلاامتیاز سب کو لپیٹ میں لینے والے کرونا وائرس نے یہ سبق تو سکھایا ہے کہ ہم غریبوں کا خیال نہیں رکھیں گے تو امیر آبادیاں بھی محفوظ نہیں رہیں گی،اسی لیے بڑی حدتک قوم میں ایثار و قربانی اور صلہ رحمی کا جذبہ نظر آرہا ہے اور بالخصوص باوسائل طبقات کرونا متاثرین کے گھرانوں اور بے روزگار ہونیوالے افراد کی کفالت کیلئے دل کھول کر حکومت کی معاونت کررہے ہیں۔ اگر ناجائز منافع خور اور گراں فروش طبقات میں بھی انسانی ہمدردی کا جذبہ عودکر آئے اور وہ آزمائش کے ان مراحل میں ناجائز منافع خوری سے ہاتھ روک لیں تو عوام کو مہنگائی میں بھی خاصہ ریلیف مل سکتا ہے۔
یہ انتہائی دُکھ کی بات ہے کہ ہم نے ماضی کی طرح اس وبا سے بھی سبق حاصل کرنے کو نظر انداز کیا ہے، ہم عذاب الہی میں بھی ذخیرہ اندوزی اورناجائز منافع خوری ترک کرنے کو تیار نہیں، سماجی دور ی کو ہوا میں اڑا دیا، عبادت پر بحث چھیڑ دی، مساجد والے ہدایات اور عمل کو نظر انداز کرنے پر تلے ہیں اور بے عمل حضرات دین کا مذاق اڑانے کے لئے فضا کو ساز گار پا رہے ہیں۔ حکمران، سرکاری مشینری، سیاست دان، سیاسی کارکن، تاجر، صنعت کار، دکاندار، عالم، فاضل اور عام انسان ابھی تک خود فریبی میں مبتلا حقیقی توبہ پر آمادہ نہیں ہورہے ہیں، رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہر وہ کام سامنے آ رہا ہے جو ہماری گھٹی میں پڑا ہے، ہم کسی ضابطے، قانون اور اخلاق کے پابند نہیں کررہے ہیں اور ہرممکنہ غلط کام کرتے جارہے ہیں۔کورونا وبا سے نجات لاک اؤن کی بجائے توبہ استغفار کی ویکسین سے ہی ممکن ہے،ہم یہ موقع بھی گنوا رہے ہیں جو وبائی انتباہ کی صورت میں ملا ہے، ہمارے پاس ا بھی موقع اور وقت ہے کہ ہم توبہ استغفار کرکے سدھر جائیں اور غریب عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں،کیو نکہ غریب غیر محفوظ تو کو ئی محفوظ نہیں رہ سکتا،ہم بحیثیت قوم حالات جنگ میں ہیں، ہمیں بے جا ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ اپنی انا کے بت پاش کرتے ہوئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے، اگر ہمارے ملک کے تمام طبقہ فکر کی قیادتیں ایک پیج پرآجائیں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونے سے بچ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com