ماہِ صیام……….لوٹ مار کا بازار گرم

ماہِ صیام……….لوٹ مار کا بازار گرم
خان فہد خان
ماہ ِرمضان المبارک کے آغاز سے ہی روحِ زمیں پر ہر جانب رحمتوں کی برسات شروع جاتی ہے۔اس ماہ مقدس میں اللہ رب العزت شیطان سرکش کو قید اور جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مقدس کو بہت فضیلت بخشی ہے۔ رمضان المبارک کا ہر لمحہ بہت برکتوں اور رحمتوں والا ہے۔یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم ایک اور ماہ ِصیام کی پُر نور با برکت ایام سے مستفیدہورہے ہیں۔ہماری زندگی میں کئی دوست،عزیز،رشتہ دار یا محلہ دارایسے ہونگے جو گزشتہ رمضان ہمارے ساتھ تھے لیکن اس رمضان وہ ہم میں نہیں تو یقینا ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے توبہ اور اپنی بخشش ومغفرت کروانے کا ایک اور موقع دیا۔اب یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہیں یا نہیں۔ویسے تو ہر مسلمان ہی رمضان المبارک کی آمد پر بہت خوش ہوتا ہے لیکن دو طرح کے لوگ زیادہ خوش بلکہ پُرجوش ہوتے ہیں۔ان دونوں طرح کے لوگوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سے خوب مستفید ہوں لیکن فرق یہ ہے کہ ایک لوگوں کا گروہ وہ ہے جو رمضان المبارک کوآخرت سنوارنے کا موقعہ غنیمت جان کر اس ماہ مقدس میں نیکیوں کی لگی لوٹ سیل سے اپنی آخرت کا سرمایہ اکٹھا کرتے ہیں جبکہ دوسرا گروہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جو رمضان المبارک کو دنیاوی مال ودولت سمیٹنے کا نادر موقع سمجھتا ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق اسے عطا کرتا ہے جو آخرت کا سوچ کرماہ رمضان سے محبت کرتے ہیں اور اس کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کی امت محمدؐ سے محبت دیکھو کہ اس ماہ میں نیکیوں کا اجر بڑھا دیتا ہے۔اگر میں یوں کہوں کہ نیکیوں کی سیل لگا دیتا ہے غلط نہ ہوگا جس میں چھوٹی سی نیکی کا بڑا اجر و ثواب ملتا ہے۔ رمضان المبارک کی بے حد برکات ہیں اس ماہ میں نفل عبادت کا ثواب فرض اور فرض عبادت کا ثواب ستر گنا تک بڑھ جاتاہے۔ماہ رمضان کی اہم عبادت روزہ ہے جو ہر عاقل وبالغ مسلمان پر فرض ہیں۔ ماہ رمضان بہت فضیلتوں والا مہینہ ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے “حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ؐنے ارشاد فرمایاجس نے ایمان ا ور احتساب کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے اس کے اس سے پہلے کے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ” (المسلم۰۶۷)۔ رمضان شریف کے روزوں کا بڑا اجرو ثواب ہے یہ قربت الٰہی حاصل کرنے کا ایک نایاب موقع ہوتا ہے۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ روح زمیں پر بے حساب برکتیں،رحمتیں اور نعمتیں برساتا ہے جن کو سمیٹنے میں پہلے گروہ کے لوگ بڑے سرگرم رہتے ہیں اور ہر رحمت اور نعمت کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ان کا مقصد ہوتا ہے کہ اس ماہ وہ ڈھیروں نیکیاں کمائیں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکیں۔اس لیے یہ لوگ ماہ رمضان کی آمد پرگھروں اور دفاتر میں عبادات کا خصوصی انتظامات کرتے ہیں تو مساجد کو ماہ صیام کی آمد پر سجاتے، سنوار تے ہیں اور دل کھول کرمسجد کی خدمت کرتے ہیں۔مساجدمیں نمازوں اور عبادات کیلئے ان لوگوں کا آنا جانا مساجد کی رونقیں بڑھا دیتا ہے اور گھروں میں بھی ایک مسرور اسلامی ماحول بن جاتا ہے۔گھروں میں فلموں ڈراموں کی جگہ روزہ،نماز اور تلاوت قرآن پاک کا معمول بن جاتا ہے۔یہ لوگ فرض عبادات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کابھی خوب اہتمام کرتے ہیں یوں رمضان المبارک کی رونقیں بنی رہتی ہیں۔ان نیک لوگوں کی اللہ اور اس کی مخلوق سے محبت اور بھائی چارہ سے معاشرے میں بہت سکون محسوس ہوتاہے۔یوں لوگوں کے درمیان محبت،خلوص،اخوت وبھائی چارے اور خدمت کا ایک بھر پور جذبہ نظر آتا ہے جو کہ سارا سال نظر نہیں آتا۔اب اگر دوسرے گروہ کی بات کی جائے تو وہ بھی ماہ رمضان کی آمد سے بہت پہلے اپنے مقصدکے حصول کیلئے سرگرم ہو جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی دی ہوئی نعمتوں تک غریب عوام کی رسائی مشکل بنا دیتے ہیں اگر کوئی چیز پہنچ میں ہو تو وہ بھی ملاوٹ شدہ۔جی ہاں بالکل درست سمجھ گئے ہیں کہ میں ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور ملاوٹ مافیاکی بات کررہا ہوں۔رمضان کی آمد سے پہلے ہی ذخیرہ اندوز مخصوص اشیاء و خوردونوش کو سٹور کر کے مصنوئی قلت پیدا کر دیتے ہیں اور پھررمضان میں ان اشیاء کی طلب بڑھنے پر مہنگے داموں بیچتے ہیں۔آپ کھجور کی مثا ل لے لیں عام دنوں میں 200،250روپے فروخت ہونے والی کھجور 300 سے 700روپے تک فروخت ہورہی ہے۔اس صورت حال میں غریب آدمی کھجور سے روزہ افطار بھی نہیں کرسکتا۔منافع خور کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ماہ صیام شروع ہوتے ہی عیدی بنانے کے چکر میں اشیاء کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیتے ہیں۔رمضان المبارک کی آمد سے قبل 70سے 80روپے فی درجن فروخت ہوتے کیلے یک دم 150سے 200روپے درجن ہوگئے۔100روپے کلو والے لیموں بھی 400روپے کلو پر پہنچ گئے۔یہ تو صرف ایک دو اشیاء کی مثالیں دی ہیں۔ویسے آمد رمضان کے ساتھ ہی مارکیٹ میں پھلوں،سبزیوں اور دیگر اشیاء 50سے 200فی صد تک مہنگی ہوگئی ہیں۔سحر و افطار میں گیس کی بندش کی وجہ سے ایل پی جی بھی 90روپے کلو سے بڑھ کر 120روپے کلو ہوگئی ہے۔ منافع خور یوں رمضان المبارک کا فائدہ اٹھاتے ہیں اورخوب کمائی کرتے ہیں۔اس ہی طرح رمضان میں افطار کا مزہ سموسوں،پکوڑوں اور بھلوں سے ہی آتا ہے تو رمضان سے قبل ہی ملاوٹ مافیا ں بھی بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ بیسن،معدہ،مصالحہ جات اور ان سے تیار ہونے والی اشیاء تیار کر لیتی ہے اور سارا رمضان ان اشیاء کو مہنگے داموں فروخت کرکے خوب مال کماتی ہے۔یہ بے رحم مافیا ملک و قوم کے مشکل ترین دور میں بھی اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہے اور بدقسمتی سے ان بد بختوں کو لگام ڈالنے والا کوئی نہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور دیگر اداروں کے افسران نے خود قرنطینہ کیا ہوا ہے یہ ہی لوگ ہے جو سٹے ہوم سیو لائیوز کے حکومتی احکامات کی مکمل پیروی کرر ہے ہیں اور عوام اس مافیا کے ہاتھوں لٹ رہی ہے اور لٹتی رہے گی۔خیر اللہ رب العزت اس ماہ مبارک میں دونوں گروہوں کے افراد کو ان کی نیت اور ارادے کے مطابق نوازتا ہے۔اس لیے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ماہ رمضان المبارک میں آخرت کی فکر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سخاوت اور عبادت کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com