انسانیت کے قاتل

انسانیت کے قاتل
شیخ توصیف حسین
ایک وقت تھا کہ جب حکیم ہو یا پھر ڈاکٹر محدود وسائل کے ہونے کے باوجود غریب مریضوں کا علاج معالجہ عبادت سمجھ کر ادا کرتے تھے جن کی نیک نیتی کی وجہ سے خداوندکریم اُن پر اپنی رحمت کی بو چھاڑ کر دیتا جس کے نتیجہ میں اُن کے لا تعداد مریض جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتے تھے صحت یاب ہو کر اپنے خاندان کیلئے سایہ شجر دار بن کر اپنی منزل کی طرف گامزن ہو کر رہ جاتے تھے جس کے نتیجہ میں عوام اُنھیں اپنا مسیحا سمجھ کر اُن کی عزت و احترام دل و جان سے کرتی تھی لیکن بعد ازاں بے رحم وقت نے ایسی کروٹ بدلی کہ آج وہی ڈاکٹرز جہنیں عوام اپنا مسیحا سمجھتی تھی ڈریکولا کا روپ دھار کر غریب مریضوں کا خون چوس کر اپنے مقدس پیشے کے نام پر ایک بد نما داغ بن کر رہ گئے ہیں اگر آپ حقیقت کے آ ئینے میں دیکھے تو یہ وہ ناسور ہیں جو حکومت پاکستان سے بھاری تنخواہیں اور لا تعداد وسائل پا لینے کے باوجود ادویات میں کمیشن ٹیسٹوں کی مد میں کمیشن میڈیکل سر ٹیفیکیٹ کی مد میں منہ مانگی رقوم حاصل کرنے کے باوجود اپنے پرائیویٹ کلینکوں میں ٹوکن فیس سے لیکر ہزاروں روپے کمروں اور رائونڈ فیس کے علاوہ ادویات اور بے جا آ پریشن کی مد میں منہ مانگی رقوم حاصل کر کے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کر کے نہ صرف اپنے ضمیر بلکہ انسا نیت کا قتل عام کر رہے ہیں جن کے اس گھنائونے اقدام کے نتیجہ میں کئی گھروں کے چراغ گل ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے کئی گھروں کی غریب بہو بیٹیاں بھوک اور افلاس سے تنگ آ کر جسم فروشی جیسے گھنائو نے دھندے میں ملوث جبکہ معصوم بچے تعلیم جیسے زیور سے آ راستہ ہونے کے بجائے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو کر رہ گئے ہیں لیکن افسوس صد افسوس یہ انسا نیت کے قاتل ان حالات کو بخو بی جا ننے کے باوجود اپنے فرائض و منصبی دہاڑی لگائو اور مال کمائو کی سکیم پر عمل پیرا ہو کر ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں جہنیں مسیحا کہنا بھی مسیحا لفظ کی تو ہین ہے تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ ایک دفعہ ایک نئی نویلی دلہن نے اپنے خا وند کو کہا کہ ہمارے غسل خا نے کے قریب جو درخت ہے اسے فوری طور پر کٹوا دو چونکہ جب میں غسل خا نے میں نہا رہی ہوتی ہوں تو اس درخت پر بیٹھے ہوئے پرندے مجھے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے مجھے بڑی شرم آ تی ہے یہ سن کر اُس کا خا وند بڑا خوش ہوا کہ اس کی بیوی تو نیک نامی کی ایک منہ بولتی تصویر ہے لہذا اُس نے بڑی خو شی کے ساتھ اُس درخت کو کٹوا دیا جو اُس کے بزرگوں نے لگوایا تھا قصہ مختصر کہ ایک دن خاوند اچانک گھر آیا تو اُس نے دیکھا کہ اُس کی نیک نامی بیوی کسی غیر محرم کے ساتھ رنگ رلیاں منانے میں مصروف عمل تھی جسے اس حالت میں دیکھ کر خاوند یہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ بزرگوں نے ٹھہیک کہا تھا کہ ہر چمکنے والی چیز سو نا نہیں ہوتی آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہی کیفیت ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کے ینگ ڈاکٹروں کی ہے جن کے منہ مو مناں اور کرتوت کافراں جیسے ہیں ہاں البتہ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر آج ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ جو تھوڑا سا جگمگا رہا ہے تو اس کی وجہ ڈاکٹر رائو ارشد ڈاکٹر نجیب آ رتھو پیڈک سر جن ڈاکٹر یسین بھٹی اور بالخصوص سی او ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر محبوب حسنین قریشی جو اپنے فرائض و منصبی عبادت سمجھ کر ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں جس کی ایک چھوٹی سی مثال اپنے قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں ہوا یوں کہ گزشتہ رات تقریبا آٹھ بجے کے قریب سی او ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر محبوب حسنین قریشی اپنی پرائیویٹ گاڑی پر سوار ہو کر گوجرہ روڈ پر جا رہا تھا کہ اسی دوران اُسے روڈ پر ایک خاتون زخمی حالت میں نظر آئی تو اُس نے انسانیت کی بقا کے حصول کی خا طر اُس زخمی عورت کو وہاں سے اُٹھا کر سیدھا ٹراما سنٹر پہنچا اور اُس وقت تک وہاں موجود رہا کہ جب تک اُس خاتون کا علاج معالجہ جاری رہا ہاں تو میں بات کر رہا تھا مذکورہ ہسپتال کے ینگ ڈاکٹروں کی کہ جن کی بد تمیزی اور نااہلی کے چر چے ہر زرو زبان پر عام ہیں تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ گزشتہ روز میرا ایک عزیز جس کی عمر تقریبا سات سال ہے کو بد لتے موسم کی وجہ سے اچانک بخار کے ساتھ ساتھ کھانسی شروع ہو گئی جس کے نتیجہ میں اُس کے پیٹ کے در میانی حصے میں درد شروع ہو گیا جسے فوری طبی امداد کیلئے مذکورہ ہسپتال میں لے جایا گیا جہاںپر مو جود غالبا بچوں کی سپیشلسٹ ڈاکٹر مسرت صاحبہ نے اُسے چیک اپ کرنے کے دوران ایکسرے کروا کر ٹراما سنٹر کے سر جن ڈاکٹر نوید کو ریفر کر دیا وہاں پر مذکورہ سرجن ڈاکٹر تو نہ ملا ہاں البتہ وہاں پر مو جود ینگ ڈاکٹر وسیم سرور جو اپنے کمرے میں لیڈی ہائوس آ فیسر جن کی تعداد تین کے قریب تھی کے ساتھ چائے پینے کے دوران خوش گپیوں میں مصروف تھا کہ مذکورہ بچے کو جاری کردہ رپورٹ کے ساتھ کو پیش کیا تو مذکورہ ینگ ڈاکٹر نے بڑی شان بے نیازی کے ساتھ مذکورہ بچے کو چیک اپ کرنے کے بجائے ادویات تجویز کر کے ٹراما سنٹر کے وارڈ میں ریفر کر دیا تو یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ مذکورہ ینگ ڈاکٹر کی شان بے نیازی کو دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس کا تعلق کسی بہت بڑے تیس مار خان خاندان سے ہو گا لیکن بعد ازاں مجھے وہاں پر مو جود ایک اہلکار نے بتایا کہ مذکورہ ینگ ڈاکٹر کا والد ڈاکٹر سرور ہے کہ جس کا والد محمد بشیر اپنے بیٹے سرور ہسپتال میں ٹوکن دینے کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے جو مذکورہ ہسپتال میں سب سے پہلے آنے والے مریض کو ٹوکن نمبر تیس سے شروع کرتا ہے جب اُس سے اس غیر منصفانہ رویے کے بارے میں پو چھا تو اُس نے بڑے مکارانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک سے تیس تک کے ٹوکن میں اُس مریض کو دیتا ہوں کہ میری منت سماجت کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری رقوم ادا کرتا ہے مذکورہ ینگ ڈاکٹر کے خاندان کی اس کہانی کو سن کر بس میں نے یہی کہا کہ گری وہی پے خاک کہ جہاں کا خمیر تھا بہرحال جب ہم مذکورہ بچے کے ہمراہ وارڈ میں پہنچے تو وہاں پر مو جود کسی اچھے خاندان کی بیٹیوں نے بڑے اچھے انداز میں ویل کم کرتے ہوئے کہا کہ آپ ادویات بازار سے خریدنے کے ساتھ ساتھ بلڈ ٹیسٹ بھی کروالیں تاکہ بچے کو جو پینڈس کا خطرہ لاحق تحریر کیا گیا ہے اُس کے بارے صہیح معلو مات ہو سکے جس پر ہم نے اُنھیں بتایا کہ بچے کو پینڈس وغیرہ نہیں ہے یہ تو صرف کھاانسی کی وجہ سے پیٹ کے درمیانی حصے میں درد ہے جس پر انہوں نے بڑی عاجزی کے سا تھ کہا کہ اس بارے میں ہم کیا کہہ سکتی ہیں بہرحال ہم نے بازار سے ادویات خریدنے کے ساتھ ساتھ بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ حاصل کر کے مذکورہ ینگ ڈاکٹر کو دکھائی جو بالکل نارمل تھی لیکن اس کے باوجود مذکورہ ڈاکٹر نے الٹرا سائونڈ کروانے کیلئے ہمیں ڈاکٹر منظور کے کلینک پر بھیج دیا جہاں پر ڈاکٹر منظور کے کارندوں نے ایک ہزار روپیہ ٹوکن دینے کے عوض وصول کر کے ہمیں الٹرا سائو نڈ کروانے کی اجازت دے دی الٹرا سائو نڈ کروانے کے بعد جب ہم نے ڈاکٹر منظور سے اس بارے میں دریافت کیا تومذکورہ ڈاکٹر نے بڑی معصو میت کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ پینڈس ہے یا پھر سوزش بہرحال تم اب اس بچے کا سٹی سکن کروا لو جب ہم دو بارہ ٹراما سنٹر کے وارڈ میں پہنچے تو رات تقریبا دس بجے کے قریب سر جن ڈاکٹر نوید جو کہ در حقیقت ایک پبلک سرونٹ ہے بڑی شان بے نیازی کے ساتھ بچے کے تمام ٹیسٹوں کو دیکھنے کے بعد کہنے لگاکہ میں ابھی رات بارہ بجے اس بچے کا آپریشن کر دوں گا جسے سننے کے بعد ہم نے مذکورہ سرجن ڈاکٹر کو کہا کہ آپ پہلے یہ تو ڈی سائیڈ کر لیں کہ بچے کو پینڈس ہے بھی یا نہیں جس پر انہوں نے بڑے حاکمانہ انداز میں کہا کہ سر جن ڈاکٹر میں ہوں یا آپ جس پر ہم مذکورہ سر جن ڈاکٹر کی اس غیر اخلاقی گفتگو کو سننے کے بعد بچے کے ہمراہ واپس گھر آ گئے دوسرے دن ہم نے اُس بچے کو حنیف نامی حکیم کو دکھایا تو اُس نے بچے کو چیک اپ کرنے کے بعد بتایا کہ بچے کو بار بار کھانسنے کی وجہ سے پیٹ کے اس درمیانی حصے میں سوزش ہو گئی تھی لہذا یہ دوائی اس بچے کو دے دینا یہ شام تک مکمل طور پر صحت یاب ہو جائے گا اور وہ واقعہ ہی بچہ دوسرے دن صحت یاب ہو کر سکول جانے لگ گیا جس کو دیکھ کر میں سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچنے لگ گیا کہ لعنت ہے ایسی ڈاکٹری کی ڈگری پر جس میں نا تجربہ کاری بد اخلاقی بد تمیزی اور دولت کی ہوس کا عنصر شامل ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com