کتاب کی اہمیت اور اس کا معاشرے میں کردار

کتاب کی اہمیت اور اس کا معاشرے میں کردار
پروفیسرتنویراحمد
کتاب پڑھنے کی جب بھی بات ہوتی ہے تو ہمارے ذہن میں ہمیشہ درسی کتابوں کا تصور ہی آتا ہے۔ انسانی ذہن میں تبدیلی کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو درسی کتابوں کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن معاشرتی ترقی میں ہم نصابی کتابوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔جس معاشرے میں کتابیں ذیادہ چھاپی جاتی ہیں اور ذیادہ خریدی جاتی ہے اور ذیادہ پڑھی جاتی ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی معاشرے ہی دنیا میں کامیاب معاشرے مانے جاتے ہیں ۔ہمیشہ وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں اور ان کی آنے والی نسلیں بھی اپنے آبائو اجداد کی تعلیم وتربیت کو عمدہ اور احسن طریقے سے اپناتی بھی ہے۔ آخر کتاب اور کتاب خانوں کی اتنی ذیادہ اہمیت کیوں ہے؟۔
ایک صاحب کتاب سے بالمشافہ ملاقات کرنا اور اس کے خیالات جاننا ہر انسان کے بس میں نہیں ہے۔ اللہ نے ہر انسان کو ایک منفرد سوچ اور دماغ دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے ۔ لاتعداد لوگ اپنی زندگیا ں گزار کر اس دنیا سے جاچکے ہیں لیکن ان کے افکار آج بھی ان کی کتابوں کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں جن سے رہتی دنیا تک لوگ استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ جب انسان اپنے خیالات کو صفحات پر منتقل کررہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کی ساری زندگی کا نچوڑ اس کے ذہن میں گردش کررہا ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص کی عمر ستر سال ہے تو اس کے ستر سال کے تجربات اس کی لکھی ہوئی کتابوں میں موجود ہوتے ہیں۔اگر آپ نے اس شخص کی لکھی ہوئی کوئی تحریر پڑھ لی تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اس کی ساری زندگی کے تجربات اور اس کے ذہنی خیالات سے استفادہ حاصل کر لیا۔
بہت سے ایسے اچھوتے خیالات جو انسانی ذہن میں آتے ہیں جب وہ تنہا ہوتا ہے اور وہ ان کو دوسروں کو بیان بھی نہیں کر سکتا لیکن وہ اپنے ان خیالات کو صفحہ قرطاس میں منتقل ضرور کر دیتا ہے جس سے آنے والی نسلیں بھی استفادہ کر تی ہیں اور اس کی سوچ سے نت نئے راستے نکال لیتے ہیں ۔ کتاب کی اہمیت سے انکا رممکن نہیں کہ اللہ نے انسان سے مخاطب ہونے کے لیئے بھی الہامی کتابوں کو اتارا۔ اللہ تعالی نے تمام احکامات ان کتابوں میں دئیے اور اپنے انبیاء کرام کے ذریعے ان کی عملی تصویر بھی دیکھا دی۔ قرآن مجید کے مطالعہ کے بغیر اللہ کے احکاما ت کو درست طریقے سے جاننے اور ان پر عمل کرنا نا ممکن ہے۔
مطالعہ کتاب کو صاحب کتاب سے آدھی ملاقات بھی کہا جاتا ہے۔ گویا کسی بھی شخص کی لکھی ہوئی کتاب پڑھنے کا مطلب ہے کہ ہم نے اس سے بالمشافہ ملاقات کرلی جو کہ حقیقی زندگی میں نا ممکن ہے۔ اس کے تجربات اور خیالات کو جان کر ہم اپنی زندگی کو پہلے سے بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔ جو نقصانا ت انہوں نے اٹھائے ہیں ہم ان سے بچ سکتے ہیں۔ ان کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں ۔ ان کے افکار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ان کی مدد سے اپنے خیالات کارخ تبدیل کر سکتے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات پر مبنی کتب کا مطالعہ بھی ہمیں دور حاضر کی تبدیلوں سے آشنا کرتا ہے۔ اور ان تحقیقات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں ہونے والی جدید تحقیقات کے بارے میں جا ن سکتے ہیں۔
جدید دور میں کتابوں کے ای ورژن بھی آگئے ہیں اور ہم اب کتابوں کو اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ پر بھی پڑھ سکتے ہیں ۔اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم کتابوں کو سن بھی سکتے ہیں ۔ گلوبل ولیج کے تصور کے بعد ہمیں دوردراز کا سفر کرنے اور کتاب خانوں کو چھاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ان تمام لوگوں کی کتابوں کا مطالعہ گھر بیٹھے بھی کر سکتے ہیں ۔
حکومت نے بھی جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ای لائبریروں کا قیام عمل میں لایا ہے۔ ان لائبریریوں میں نہ صرف کتب موجود ہیں
بلکہ ان کے ساتھ ساتھ لیپ ٹاپس ، ٹیبلیٹس اور انٹرنیٹ کی بھی مفت سہولت موجود ہے جس سے ہر شخص بلا تفریق فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
گورئنمٹ ای لائبریری اوکاڑہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دیگر تمام سہولیات کے ساتھ ساتھ اس لائبریری میں بہت سے فری کورسزاور ورکشاپس بھی کروائی جاتی ہیں ۔حال ہی میں معروف اینکر پرسن اور کالم نگار جاوید چوہدری نے ای لائبریری اوکاڑہ کا دورہ کیا اور کتاب اور کتاب خانو ں کی اہمیت کے اوپر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس سیمینا ر کا انعقاد کرنے کا سہرا انچارج ای لائبریری محمد ابراہیم وڑائچ کے سر ہیں۔ اس تقریب میں ماڈا اکاڑہ کے چیئرمین اور کالم نگار جناب مظہر رشید چوہدری صاحب ، ظہیر صاحب صفہ سکول، مس صائمہ رشیدایڈوکیٹ، اصغر مغل صاحب، جناب غلام مصطفی صاحب، پروفیسر امین انجم صاحب، جناب رانا عابد صاحب، جناب چوہدری اشفاق صاحب اور چوہدری عرفان اعجاز صاحب بھی موجود تھے۔
جناب جاوید چوہدری صاحب نے مہمانوں کی کتاب میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ’’میں آیا، میں نے دیکھا اور میں حیران رہ گیا‘‘۔
گورئمنٹ ای لائبریری اوکاڑہ میں اس طرح کی تقریبات آئے روز منعقد ہوتی رہتی ہیں جن میں شرکت کرکے ہر شخص اپنی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتا ہے۔ اور معروف ہستیوں کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com