قائد کے افکارونظریات کا پا کستان

قائد کے افکارونظریات کا پا کستان !
شاہد ندیم احمد
ہم اپنے قائدِاعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت بڑے جوش وخروش سے منارہے ہیں، وہ عظیم ہستی جسکی قابلیت، اصول پسندی اور عزم کے سبھی دوست دشمن ایک صدی سے زیادہ عرصے سے معترف ہیں، ان کی صلاحیتوں اور کردار کا ایک ثبوت تو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان کی صورت میں روئے زمین پر موجود ہے، دوسرا ان کے افکارونظریات جو آج بھی ہر پاکستانی کیلئے مشعل راہ ہیں۔قائد اعظمؒ محمد علی جناح کی زندگی قوم کے ہر بچے جوان اور بوڑھے کیلئے یکساں طور پر سبق آموز ہے۔قائد اعظم جب لندن سے بیرسٹر بن کر لوٹے تو ذریعہ معاش وکالت اور مقصد اپنا ایک الگ آزاد اور خود مختار ملک کا قیام تھا ، ابتداء میں کچھ عرصہ ہندوئوں اور مسلمانوں کی متحدہ رہنمائی کرتے رہے اور آزادی کے حق میں لڑتے رہے،مگر جلد ہی اْنہیں اس حقیقت کا احساس ہوگیا کہ انگریزوں سے آزادی حاصل کربھی لی تو ہندو اپنی اکثریت کی بناء پر غلبہ وتسلط حاصل کرلیں گے۔ اس صورت میں مسلمان صرف نام کے ہی آزاد ہوں گے اور ان کی آنے والی نسلوں کی زندگی ہندوئوں کی غلامی میں کٹے گی اور ان کا دینی، تہذیبی اور تمدنی تشخص بھی برقرار نہ رہ سکے گا۔ قائد اعظم کو کسی سے نفرت نہ تھی وہ سچے،کھرے اور امن پسند انسان تھے۔ وہ اپنے علم و ذہانت کی بناء پر اس نتیجے پر پہنچے کہ مستقبل میں تعصب، تنگ نظری اور غلبہ و تسلط کا ایک طوفان پرورش پارہا ہے جس کا ہدف برصغیر کے مسلمان ہوں گے۔ اس لیے اگر مسلمانوں کی دینی، تہذیبی اور تمدنی بقاء مقصود ہے تو پھر انہیں متحدہ ہندوستان نہیں ،بلکہ پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت کی صورت میں آزادی ملنی چاہیے۔ کانگریس کا متحدہ قومیت کا تصور صرف ڈھونگ ہے ،جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں مسلمان اور ہندودوالگ قوم کی حیثیت سے اپنے خیالات، نظریات، رہن سہن اور رسم و رواج سے بہت مختلف ہیں، لہٰذا ان دونوں قوموں کو ایک ہی لڑی میں پروناناممکن ہے۔
اس حقیقت کو جاننے کے بعدقائد اعظمؒ نے کانگریس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ،کیونکہ برطانوی حکومت ہندو کانگریس سے ساز باز کررہی تھی اور اپنی سامراجی اغراض کے پیشِ نظر مسلمانوں کو نظر انداز کرکے برصغیر کی حکومت کانگریس کے سپرد کرنا چاہتی تھی۔ قائد اعظم نے جب محسوس کیا کہ ہمارا گزارا کانگریس کے ساتھ ممکن نہیں تو اْنہوں نے کانگریس سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی جدوجہد شروع کردی، تحریک پاکستان کے وقت مسلمانانِ ہند کا جذبہ جواں تھا اور اس نے اپنے محبوب قائد محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں طویل جدوجہد اور بیش بہا قربانیاں دے کر برصغیر کے ہندوئوں اور فرنگیوں سے آزادی حاصل کی تھی۔ انیسویں صدی کا آخری حصہ اس لحاظ سے ناقابلِ فراموش ہے کہ اس میں علمی اور سیاسی بیداری کی وہ لہر بیدار ہوئی جس نے بیسویں صدی کے آغاز تک باقاعدہ سیاسی تحریکوں کی شکل اختیار کرلی۔ 1906میں مسلم لیگ کا قیام اس ارتقائی عمل کا نتیجہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برصغیر کی دونوں بڑی قوموں کے درمیان کشمکش تیز تر ہوتی گئی اور بالآخر جب شاعر مشرق نے آزاد مسلم ریاست کاتصور پیش کیا تو قوم کو ایک واضح نصب العین میسر آگیا۔ یہ قائد اعظمؒ کی شخصیت کا اثر تھا کہ انہوں نے 1940ء میں جو قرار داد پاکستان منظور کروائی تھی، اسے 1947ء میں تاریخ کی ایک حقیقت میں بدل دیا اور مسلمانان برصغیر دو سو سال سے جو خواب دیکھ رہے تھے اس کی زندہ تعبیر پاکستان کی صورت میں پیش کردی۔ پاکستان کا حصول جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور اعلیٰ سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھا، وہاں اْس بے مثال قومی یک جہتی کا بھی مظہرتھا جس کی تعلیم قائد اعظم اپنی قوم کو مسلسل دیا کرتے تھے۔ قائد اعظم نے بار ہا مسلمانوں سے فرمایا کہ ہماری نجات ہمارے مکمل اتحاد، باہمی اتفاق اور نظم وضبط میں ہے۔ پاکستان کی خارجہ حکمت عملی تمام اقوام کے لیے دوستانہ ہوگی، دنیا کی کوئی طاقت کسی منظّم قوم کے درست فیصلے کی مزاحمت نہیں کرسکتی ہے۔ ہم پْر امن رہناچاہتے ہیں اور اپنے قریبی ہم سایوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے، ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں اور امنِ عالم اورعالمی خوش حالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے 3 اکتوبر 1947 کو یو نیورسٹی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کوئی قوم ابتلا اور ایثار کے بغیر آزادی حاصل نہیں کرسکتی۔ ہم شدید دشواریوں اور ناگفتہ بہہ مصائب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہم خوف اور اذیت کے تاریک ایّام سے گزر ے ہیں لیکن میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اتحاد، حوصلے، خود اعتمادی اور اللہ کی تائید سے کام یابی ہمارے قدم چومے گی۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی میں ہی حکمت عملی سے ایسے خطوط متعین کردیے جو پاکستان کی بقا، سلامتی اور خوش حالی کی ضمانت دیتے ہیں، آپ نے یکم جولائی 1948 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا ’’پاکستان کے عوام کو خوش حال اور فارغ البال بنانے کے لیے مغرب کے اقتصادی نظام کے نظری اور عملی طریقہ کارکو اختیار کرنا ہمارے لیے بے سود ہوگا، ہمیں چاہیے کہ ہم ایک نئی راہ ِ عمل اختیارکریںاوردنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کریں جو انسانی اخوّت اور سماجی انصاف کے صحیح اسلامی نظریات پرمبنی ہو۔ اس طرح نہ صرف ہم اپنی وہ ذمے داری بھی پوری کرسکیں گے جو ہم پر مسلمان ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتی ہے،بلکہ عالمِ انسانیت کو امن کا وہ پیغام بھی دے سکیںگے جو عالم انسانیت کو تباہی سے بچاسکتا ہے۔قائد کے بیانات قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہیں، آپ اسلام کے حقیقی تصور کو پاک سر زمین میں عملی شکل میں دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ اسلام کی آفاقی اور ہمہ گیر سوچ کی ترجمانی کرتے تھے ،جس میں تعصب، تنگ نظری، محدودیت، انائیت، خود محوری، جبر و کراہ کی گنجائش نہیں،سارے بیانات آج بھی تازہ ہیں جو کہ کبھی بھی پرانے نہ ہوں گے کیونکہ یہ حقیقی اسلام کی ترجمانی کرتے ہیں۔پا کستانی قوم مایوس نہیں،ملک میں قائد کے جانثارمحبانِ وطن موجود ہیں،نئی نسل بیدار ہے اور سب امیدیں ان پر ٹِکی ہیں۔ سیاستدانوں پر بہت زیادہ تنقید ہو تی ہے کہ انہوں نے زیادہ تر ملک کو بنا نے کی بجائے لو ٹا ہے ، اچھی دیانتدار قیادت مو جود ہے،عوام کو انتخاب کرتے وقت ملکی مفاد کو ترجیح دینا ہو گا،عوام کی منتخب قیادت قا ئد اعظم کے افکار و نظریات کے محافظ ہیں اور وہ ہی قوانین بنانے کے ذمہ دار ہیں۔عوام ہی منتخب قیادت کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ ایوان میں جائیں اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے ساتھ عوام کی خوشحالی کے لیے کام کریں، قران و سنت کی روشنی میں قوانین تشکیل دیتے ہوئے پاکستان کو قائد ا عظم کا پاکستان بنائیں، سیاستدانوں کو اپنا طرز عمل اور رویے بدلنا ہوں گے،کیو نکہ اس ملک کی بنیاد لَااللہ اِلاللہ پر قائم ہے۔
بلا شبہ قائد اعظم نے کبھی نعروں کی سیاست نہیں کی تھی ،وہ ملک اور عوام کی بھلائی کیلئے عملی اقدامات کے قائل تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا خطہِ زمین حاصل کیا تھا جو اسلام کے نفاذ کے لیے عملی تجربہ گاہ بنے، اس ملک کی بنیا داور خمیر میں اسلام، قرآن و سنت، شورائیت، جمہوریت اور احترامِ آدمیت موجود ہے۔ اس ملک نے ماضی کی خیانتوں کے باوجود نہ صرف ترقی کی ہے، بلکہ ادارے بھی بنے ہیں،بہت سے مثبت کام ہوئے ہیں۔اگر یہ سب نہ ہوتا تو سوچیں کہ ملک کہاں کھڑا ہوتا۔ اللہ تعا لیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کو محفوظ رکھے اور اس ملک کی حفاظت کرنے والی تمام مخلص قوتوں، دفاعی، انتظامی، مقننہ، عدلیہ جیسے تمام اداروں کو ہمت و قوت دے کہ اپنے وطن کے دشمنوں پر نظر رکھیں اور سب اپنی اپنی حیثیت اور دائرہ کار میں رہتے ہوئے پاکستان کو نئے ،پرانے کی بجائے قائد اعظم کا پاکستان بنانے میں اپنا بھر پور عملی کردار ادا کریں۔ہم نے اس یوم قائد پر عزم کرنا ہے کہ ملک کو قائد اعظمؒ کے اصولوں کے عین مطابق چلانے کے ساتھ مضبوط و محفوظ بنائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com