کرو نا اور آٹا چینی رپورٹ کا مستقبل

کرو نا اور آٹا چینی رپورٹ کا مستقبل
  انور علی
اس وقت ہر طرف کرونا کا خوف ہے عوام کی اکثریت گھروں میں دبکی بیٹھی ہے لیکن کچھ لوگ ابھی بھی سڑکوں پر نظر آتے ہیں کچھ لوگ سڑکوں پہ راشن کی تلاش میں سرگرداں ہیں تو کچھ لوگ کسی اور مجبوری کے ناطے گھروں سے باہر دکھائی دیتے ہیں کچھ لوگ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے وائرس سے بچنے کے لیے وظائف بتاتے نظر آتے ہیں تو کچھ لوگ طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف نسخہ جات کے استعمال کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں دیسی نسخہ جات کے استعمال کے مشوروں میں بھی کوئی کمی نہیں لیکن ابھی تک ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کسی قسم کی دوائی کا اعلان نہیں کیا جس سے اس مرض کا علاج ہو سکے
پرہیز علاج سے بہتر ہے کہ مصداق میں بھی یہی کہوں گا کہ جتنا ہوسکے احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے لیکن بے جا خوف بھی نہ پھیلایا جائے کیونکہ خوف قوت مدافعت کو کمزور کرتا ہے اور کمزور قوت مدافعت کے ساتھ اس بیماری کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ابھی چند دن پہلے ہماری رشتے دار فیملی کی ایک لڑکی کرونا وائرس کا شکار ہوئی لیکن سندھ کے دور دراز علاقے میں ہونے کے ناطے ان تک میڈیا کی رسائی نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ مکمل طور پر کرونا وائرس اور اس کی علامات سے آگاہ نہیں تھے جبکہ بیماری اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اس کا سانس لینا مشکل تھا انہوں نے اس حالت میں بھی دیسی ٹوٹکے کے طور پر گرم پانی اور بھاپ کا استعمال کیا جس کی وجہ سے وہ اب مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے جبکہ اسے اب پتہ چلا ہے کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہوئی تھی
امریکہ میں ایک شخص کو موت کی سزا سنائی گئی امریکی ڈاکٹرز نے اسے سزائے موت دینے کا انوکھا طریقہ اپنایا اس شخص کو کرسی سے باندھ کے اس کے سامنے ایک بہت بڑے سانپ کو چھوڑا گیا اس شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کے تھوڑی ہی دیر بعد وہاں سے سانپ کو ہٹا لیا گیا لیکن وہ شخص اب سانپ کے ڈسنے اور اپنی موت کا انتظار کرنے لگا کچھ دیر گزرنے کے بعد ڈاکٹرز نے دو سوئیاں لے کر اس کے جسم پر چبھوئیں – سویاں جسم کے ساتھ لگتے ہی اس کی موت واقع ہوگئی اس کے مرنے کے بعد جب ڈاکٹرز نے اس کے ٹیسٹ کیے تو واقعی اس کے جسم میں زہر کی مقدار پائی گئی حالانکہ اسے سانپ سے نہیں ڈسوایا گیا تھا ڈاکٹرز اس نتیجے پہ پہنچے کہ سانپ کے ڈسنے کا خوف ہی اس کے جسم میں زہر کے بننے کا سبب بنا لہذا کرونا وائرس کا خوف دل سے نکالیے لیکن احتیاط ضروری ہے خوف بذات خود ایک بیماری ہے سوائے اللہ کے خوف کے جو یقینا ایک نعمت ہے
دوسری طرف سیاست میں بھی گرمی اس وقت شروع ہوئی جب اچانک ٹی وی سکرینوں سے کرو نا غائب ہوگیا اور اس کی جگہ آٹا چینی بحران کی خبروں نے لے لی- آٹا چینی بحران پر ایف آئی اے کی رپورٹ آنے کی دیر تھی کہ ھر طرف اس پہ تبصرے شروع ہوگئے- اب کوئی اسے جہانگیر ترین اور اعظم خاں کی چپقلش کا نتیجہ قرار دے رہا ہے کوئی اسے ترین اور قریشی گروپ کی پارٹی میں بالادستی کی جنگ کانتیجہ قرار دے رہا ہے- کوئی اسے ترین اور عمران خان کی سرد جنگ کا نتیجہ قرار دے رہا ہے جو کافی عرصے سے جاری تھی اور جس کی وجہ ترین اور چوہدری خاندان کے تعلقات تھے بہرحال کچھ بھی تھا یہ پی ٹی آئی کے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہے ایک طرف عمران خان اس رپورٹ کا کریڈٹ لے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وزیراعظم کے ترجمان رپورٹ کے لیگ ہونے کا کہہ رہے ہیں تضاد کا یہ عالم ہے کہ پہلے وزیراعظم نے 25 اپریل کو فرانزک  آڈٹ رپورٹ آنے کے بعد زمہ دران کے خلاف ایکشن لینے کا کہا جبکہ اگلے ہی دن سزا پر عمل درآمد ہو گیا اور رپورٹ میں شامل لوگوں کے قلمدان تبدیل کردیئے گئے- اب اپوزیشن اس رپورٹ کو ناکافی سمجھ کر عثمان بزدار اور عمران خان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے اپوزیشن کے مطابق سی ای سی اور کیبینٹ کے سربراہ کے طور پر عمران خان کو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفی دینا چاہیے جس کا اظہار عمران خان حالیہ میڈیا ٹاک میں بھی کرچکے ہیں کے کوئی بھی فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا اور وہ اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ فرانزک آڈٹ رپورٹ آنے کے بعد عمران خان کس قسم کا ایکشن لیتے ہیں آیا وہ وزارتوں کی تبدیلی پہ ہی اکتفا کرتے ہیں یا اپنے وزراء کو نیب کے حوالے کرتے ہیں – میرا خیال ہے شاید عمران خان اپنے وزراء کو نیب کے حوالے نہیں کریں گے کیونکہ ایسی صورتحال تحریک انصاف کی حکومت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے اور وزراء اپنے دفاع میں حکومت پر تنقید کے علاوہ مختلف رازوں سے پردہ بھی اٹھا سکتے ہیں جس میں سب سے بڑا انکشاف انتخابات کے بعد موجودہ حکومت کی تشکیل ہے جس کا اظہار جہانگیر ترین نے دبے لفظوں میں کرنا شروع کر دیا ہے لہذا عمران خان اس معاملے کو لٹکانے اور میڈیا سے ہٹانے کے لیے پچھلی حکومتوں کے لیے گئے قرضوں پر بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ سامنے لائیں گے کمیشن رپورٹ میں موجود تضادات کو اچھالا جائے گا اور ایک بار پھر چور چور کے شور میں آٹا اور چینی چور بھی غائب ہو جائیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com