اسلام کے لازوال معاشی اصول

اسلام کے لازوال معاشی اصول
مولانا محمد اکرم اعوان:
دنیا میں اسلام نے اس وقت معاشی نظام دیا جب کوئی معاشی نظام نہیں تھا اور دنیا کا لین دین لوٹ کھسوٹ دھوکا دہی‘ چوری اور ڈاکے پر تھا۔ طاقت کے بل پر جوکچھ کوئی چھین لیتا وہ اس کا ہو جاتا۔ تجارت میں بھی ہزار ہا فریب اور دجل تھے۔ اسلام نے ایک مبسوط معاشی نظام دیا اور یہ نظام معیشت صرف اس وقت کے لئے نہیں تھا بلکہ تب سے لے کر جب تک دنیا قائم ہے وہ معاشی اصول عالمگیر اور لازوال ہیں۔ یعنی اسلامی اصولوں میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی ہے۔ زمانے نے بڑی کروٹیں بدلیں۔ چودہ صدیوں میں بہت تبدیلیاں آئیں لیکن گذشتہ صدی کی آخری دو دہائیوںمیں اتنی پے در پے تبدیلیاں آئیں کہ اس سے پہلے سوچی بھی نہیں جا سکتی تھیں۔ آج دنیا ایک گاؤں بن گئی ہے اور اسے گلوبل ولیج کہتے ہیں۔ بندے کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سیٹ ہے اور روئے زمین پر وہ جہاں چاہتا ہے بات کر لیتا ہے‘ اس پہ دنیا میں کہیں کچھ ہو رہا ہے‘ دیکھ لیتا ہے۔ اسی طرح لین دین کے بھی نئے طریقے آ گئے۔ اب ایک آدمی کمپیوٹر پہ بیٹھا ہے اور وہ دنیا میں کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی سفر نہیں کرتا‘ کہیں آتاجاتا نہیں‘ بنک سے ادائیگی ہو جاتی ہے‘ جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے وہ بھیج دیتے ہیں اور یہاں بیٹھے بیٹھے ڈیلیوری لے لیتا ہے۔ اتنی جدیدیت آئی کہ آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن اسلام کے لین دین کے اصول ایسے مضبوط‘ ایسے قابل عمل اور نا قابل تبدیل ہیں کہ یہ ساری تبدیلیاں ان اصولوں کو متاثر نہیں کرسکتیں۔ اس لئے کہ جتنی تبدیلیاں آتی ہیں‘ اصولوں میں نہیں‘ ذرائع میں آتی ہیں۔ مثلاً حج کے ارکان تو اللہ کریم نے چودہ صدیاں پہلے ارشاد فرما دیے اور آج بھی وہی ہیں۔ آج یہ تبدیلی آ گئی کہ ایک آدمی یہاں سے صبح عمرہ کرنے جاتا ہے اور دوسرے دن واپس آ جاتا ہے۔ اب سواری کے ذریعے بدلے ہیں لیکن اسلام نے جو اصول دیے تھے‘ وہ نہیں بدلے‘ نہ وہ متاثرہوئے ہیں۔ اسی طرح لین دین کے جو اصول تھے وہ آج بھی وہی ہیں اور قیامت تک وہی رہیں گے۔
لین دین میں ادھار تو آجاتا ہے‘ فرمایا: اے ایمان والو! جب تم لین دین کرتے ہو تو اس میں ادھار بھی آ جاتا ہے‘ تو جو معیاد مقرر کرتے ہو‘ جتنا پیسہ دیتے ہو‘ جس دن لوٹانا ہے‘ اسے لکھ لو۔ ایک تحریر بنا لو کہ میں اس شخص کو یہ چیز دے رہا ہوں‘ اس کے بدلے اس نے مجھے اتنے پیسے دینے ہیں یا اتنا مال دینا ہے یا متبادل دینا ہے اور کب دینا ہے‘ کس صورت میںدینا ہے‘ یہ لکھ لو۔اور جو لکھنے والا ہے وہ پوری دیانت داری سے لکھے۔ اس لکھنے میں کوئی لفظ ایسا داخل نہ کرے جس میں دینے والے یا لینے والے کو نقصان پہنچتا ہو یا جو ان کا معاملہ آپس میںطے ہوا ہے اس میں کوئی تبدیلی آتی ہو‘ یا بات بدل جاتی ہو۔ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر پوری دیانت داری سے لکھے اور کوئی لکھا پڑھا آدمی دستاویز لکھنے سے انکار بھی نہ کرے۔ یہ نہ کہے کہ بھئی لین دین تمہارا ہے‘ میںنہیں لکھتا اس لئے کہ اللہ نے اسے لکھنے پڑھنے کی صلاحیت دی ہے‘ اسے انکار نہیں کرنا چاہیے‘ اسے لکھنا چاہیے۔ دیکھیںاسلام نے کن باریکیوں تک اسے طے فرما دیا کہ جس کے ذمے رقم پڑ رہی ہے‘ جس نے ادا کرنی ہے وہ خود بول کر لکھوائے‘ کا تب اندازے سے نہ لکھے چونکہ رقم اسے ادا کرنی ہے اوروقت مقررہ کا اسے پتہ ہے۔ لہٰذا جس کے ذمے ادائیگی ہے وہ خود بولے کہ اتنی چیز ہے‘ اتنی رقم ہے یا یہ جنس ہے۔ میںنے فلاں ابن فلاں کو ادا کرنی ہے‘ فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو‘ فلاں دن کو ادا کروں گا۔
ادھار کا ایک اور طریقہ ہے‘ ہم چیز لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فصل پر پیسے دیں گے‘ گندم ہو گی تو پیسے دیں گے‘ یہ جائزنہیں ہے۔ یعنی جب لکھتے ہو تو وقت دن مہینہ اوقات معین کرو۔ اس کی فصل ہو یا نہ ہو‘ اس کو فصل سے پیسے آئیں یا نہ آئیں‘ اس کا باغ بکے یا نہ بکے‘ یہ درست نہیں ہے۔ جب لین دین کرتے ہو تو وہ تحریر کیا جائے اور اس میں جس کے ذمے دینا ہے وہ خود بول کر کاتب کو لکھوائے کہ میرے ذمے اس شخص کی اتنی رقم ہے فلاں مہینے کی فلاخ تاریخ کو میں اسے ادا کروں گا۔ اگر وہ لکھوا نہ سکتا ہو‘ اتنی سمجھ نہ رکھتا ہو یا ضعیف آدمی ہو یابولنے کی قدرت نہ رکھتا ہو‘ جیسے کوئی گونگا ہو یا کوئی غیرملکی ہے کہ جس زبان میں لکھنے والا لکھ رہا ہے وہ اس زبان سے ہی واقف نہیں ہے تو وہ اپنی زبان میں بولے گا اور لکھنے والا اپنی زبان میں لکھے گا۔ اس صورت میں اس کا کوئی ولی ہوپھراس کا کوئی ولی ہو‘ اس کا کوئی وارث ہو۔ اس کا باپ بیٹا‘ کوئی بھائی یا جسے وہ اپنا وکیل مقرر کرتا ہے‘ وہ بھی اس میں آ جاتا ہے کہ میرا یہ نمائندہ ہے‘ میری جگہ یہ بولے گااور کاتب لکھ لے گا۔
لکھنے کے بعد اس پر تم مسلمانوں میں سے دو مرد گواہ ہوں جو عادل ہوں‘ عاقل اوربالغ ہوں چونکہ شہادت کے لئے عدل شرط ہے۔ کوئی ایسا آدمی جس کے ذمے چوری یا ڈاکہ ہو‘ کوئی ایسا آدمی جس کے ذمے جھوٹ بولنے کی تہمت ہو‘ وہ شہادت کے قابل نہیں ہے۔ اگر دومرد اس وقت موقع پر میسر نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں ضرور ہوں۔ گواہی دینے والا ایک مرد ہو اور دو عورتیں ہوں تو اس طرح بھی دوگواہوںکی شرط پوری ہو گئی۔ اس پہ ہمارے ہاں بڑی لے دے ہو رہی ہے کہ عورت کو برابری کے حقوق نہیںدیے اور قرآن نے عورت کی شہادت آدھی قرار دے دی۔ قرآن حکیم نے جہاں یہ حکم دیا ہے کہ عورتیں دو ہوں وہاں اس کی مصلحت بھی خود ارشاد فرما دی ہے۔اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔ عورت اور مرد اللہ کی نظر میں دونوں برابر ہیں۔ دونوں اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ جزا و سزا دونوں کے لئے ہے۔ جنت بھی عورت اور مرد دونوں کے لئے ہے اور دوزخ بھی مرد اورعورت دونوں کے لئے ہے۔ کیوںبھول جائے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے مرد ا ور عورت کے وجود میں فرق ہے۔ ان کے اوصاف میں فرق ہے اوران کی ذمہ داریوں میں فرق ہے۔ چونکہ کاروبار‘ رزق کمانا اور بچوں کا پیٹ پالنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ عورت اس میں بہت کم مداخلت کرتی ہے جب تک وہ مجبور نہ ہو جائے۔ کوئی مرد کمانے والا نہ رہے تو عورت اس میدان میں آ سکتی ہے۔ اگر ضرورت ہو تو اسلام نے روکا نہیں ہے۔ چونکہ عورتوں کو اس شعبے سے سابقہ ہی کم پڑتا ہے‘ تو ایک دفعہ گواہ بنانے کے بعد شاید برسوں گزر جائیں اور اسے یاد رہے یا نہ رہے۔ مرد کاچونکہ روز کا یہ کام ہے‘ اسے یاد رہتا ہے۔ فرمایا یہ اس لئے نہیں کہ عورت کوئی کم تر مخلوق ہے‘ یہ اس لئے ہے کہ یہ شعبہ عورت کا نہیں ہے‘ خواتین ہوں تو دو رکھو۔اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری خاتون اسے یاد دلا دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com