پاکستان کے مستقبل کا معاشی منظر نامہ مستحکم اور بہتر ہو رہا ہے

پاکستان کے مستقبل کا معاشی منظر نامہ مستحکم اور بہتر ہو رہا ہے
راجہ اشفاق
عالمی سطح پر ممالک کی معاشی اوراقتصادی حالت کو مانیٹرنگ کے لیے تین ادارے سرگرم ہیں۔ یہ ادارے وقتاً فوقتاً ملکوں کی معاشی صورتحال کے بارے میں اپنی رپورٹیں جاری کرتے رہتے ہیں ۔ ان اداروں کی رپورٹوں کو عالمی سطح پر معتبر سمجھا جاتا ہے ۔ان میں ایک دارے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کا معاشی منظر نامہ مستحکم اور بہتر ہو رہا ہے۔ اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت میں بہتری کی نشاندہی کی ہے تاہم بعض کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جن کی وجہ سے خود کفالت کی منزل تک پہنچنے کے لئے حکومت کی معاشی ٹیم کو ابھی مزید بہت کچھ کرنا پڑے گا۔۔ مالی خسارہ کم ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں رواں مالی سال کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.1فیصد کے مساوی ہے جو آئندہ مالی سال کے دوران مزید کمی کے بعد 1.9فیصد رہ جائے گا جبکہ گزشتہ برس یہ 4.9فیصد تھا، معاشی ڈسپلن کو سراہتے ہوئے ایجنسی کا کہنا ہے کہ حکومت کے اقدامات کے باعث بیرونی اکائونٹس میں بہتری آئی جبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام اور پالیسی ایکشن نے معاشی خرابیاں دور کرنے میں مدد دی۔ اندرونی سیکورٹی صورتحال بہتر ہونے سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی جس سے کاروباری برادری میں اعتماد پیدا ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے لچکدار فارن ایکسچینج ریٹ کے باعث غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔ حکومت اسٹیٹ بینک سیقرضے نہ لے کر مقامی قرضوں کے بوجھ پر قابو پانے میں کامیاب رہی، مناسب اصلاحات کے باعث عالمی بینک نے کاروباری آسانیوں سے متعلق پاکستان کی درجہ بندی بہتر کرتے ہوئے 136سے 108کر دی ہے۔ تاہم ایجنسی کے مطابق مالی خسارہ اب بھی زیادہ ہونے، محصولات کے اہداف پورے نہ ہونے اور افراطِ زر کو پاکستان کی معاشی کمزوریاں قرار دیا ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ سخت گیر مائکرو اکنامک پالیساں جی ڈی پی کی شرح کو سست بنا رہی ہیں روپے کی قدر میں کمی اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے سے افراط زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ سیکورٹی کے خطرات سے بھی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ ایک غیر ملکی ایجنسی کے اس تجزیے کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کا یہ اعلان یقیناً حوصلہ افزا ہے کہ 2020عوام کے لئے معاشی اعتبار سے آسانیوں کا سال ہو گا۔۔ اس امرمیں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وژن کے مطابق زبوں حال معیشت کی بحالی کے لئے کئی مثبت اقدامات کئے ہیں جن کے بہتر نتائج کی توقع ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی ان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔عمران خان حکومت کے ثمرات نچلی سطح پر عوام تک پہنچتے ہی پاکستان میں عمران خان کا امیج تمام سیاستدانوں میں نمایاں ہوجائے گا ۔ عمران خان نے اپنی معاشی اصلاحات سے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا ۔ جس سے کرپشن کا خاتمہ ہوا۔ یقیناً اس کے ثمرات اب آہستہ آہستہ متوسط طبقے کو ملنا شروع ہوجائیں گے ۔ پاکستان کی معاشی درجہ بندی میں کافی بہتری آئی۔ اس وقت معاشی ماہرین کافی حد تک مطمئن نظر آتے ہیں ۔عمران خان پر اعتماد کرنے والے غریبوں کو امید ہے کہ جلد ہی روز مرہ استعمال کی اشیا انھیں اپنی قوت خرید کے مطابق ملیں گی۔ اس لئے تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح معیشت میں بہتری ہی ہے ۔ اور اس سلسلے میں عمران خان اور ان کی پوری ٹیم نے اپنی تمام تر توجہ اقتصادی اقدامات پر مرکوز رکھنی چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com