رمضان کی ماندزندگی کی موت عید جیسی ہے

رمضان کی ماندزندگی کی موت عید جیسی ہے
ظفر اقبال ظفر
اسلامی مہینوں کی وجود تسمیہ کے تناظر میں ماہ رمضان ماخوذ ہے رمض(بمعنی جلنا) سے چونکہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے یہ بھی موخوذ ہے رمض بمعنی زمین کی گرمی سے پیروں کا جلنا چونکہ رمضان کا مہینہ تکلیف نفس اور جلن کا سبب ہے اس ماہ میں روزہ مسلمانوں سے پورے وجود کی عبادت کا تقاضہ کرتا ہے باقی عبادتیں انسان اپنی زات کے چھٹکارے یعنی روز قیامت میں سرخرو ہونے کے لیے کرتا ہے جس کا حساب کتاب فرشتے رکھتے ہیں مگر ماہ رمضان یعنی روزہ واحد اسلامی رکن ہے جس کا براہ راست واسطہ اجر نگرانی اللہ کریم کی زات رکھتی ہے وہی زات جانتی ہے کہ کس کا حقیقی روزہ ہے اور کون لوگوں میں تو روزہ دار ہے مگر اللہ کے سامنے اس انمول عبادت سے محروم پھر رہا ہے۔اس روزے کا تعین پورے وجود پر ہوتا ہے کہ آنکھ کا روزہ یہ ہے کہ کسی ایسے منظر کو نہ دیکھے جس سے اللہ نے منع کیا ہوا ہے۔ زبان کا روزہ کہ صرف حق اور سچ بولا جائے۔کان کا روزہ کہ کسی کی غیبت نہ سنی جائے۔ ناک کا روزہ کہ ایمانی خوشبو کے علاوہ کچھ اور سونگھا نہ جائے۔پیروں کا روزہ کہ کسی ناحق کام کی طرف نہ اُٹھے۔ہاتھ کا روزہ کہ ناجائز کام کو سرانجام نہ دے۔دل کا روزہ کہ کوئی گمان بھی اللہ کی ناراضگی والا نہ آئے۔دماغ کا روزہ کہ دنیاوی خیالوں سے پاک رکھا جائے گویا سارے انسانی وجود کے اعضا پورے روزے کی گرفت میں نہ ہوں تو یہ عبادت مکمل نہیں ہوتی۔اس ایک ماہ میں ساری سابقہ زندگی کے گناہوں کی معافی و مغفرت کی بشارت پوشیدہ رکھی ہے اللہ کی نیکوں کے سیل بازار میں جسمانی مشقت کے سکوں سے جنت کے سامان خریدے جاتے ہیں۔اس کے باوجود میرے جیسے کمزور مسلمان کئی نعمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں خطاکاروں کے لیے تحفہ امت محمدیہ ماہ رمضان اللہ کی خاص عنایت کہ اُس کا محبوب اور محبوب کے امتی خوش ہو جائیں۔قربان جاؤں اللہ کے ولیوں صحابیوں پیغمبروں پر کہ جن کی پوری زندگی رمضان کی ماند گزرتی ہے۔کبھی کبھی تو گمان ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی فاقوں زدہ جسمانی مشقت والی حیات مبارکہ کے حالات نے روزے کو وجود بخشا ہو کیونکہ اللہ نے اپنی نبی کریم ﷺ کے کاموں کو اپنے فرضوں کی طرح اجر میں شمار کرکے سنتوں کا درجہ عطا فرمایا اگر کہا جائے کہ ہر وہ کام کام نہیں بلکہ عبادت بن گیا جس کو ہمارے اور اللہ کے نبی نے کیا تھا تو غلط نہ ہو گا۔سارے فرض ربی اور سنت نبوی روح کی غذا کے زریعے وہ طاقت بنتے ہیں جن کی بدولت ایک کھجور یا پانی ہی سحری ہو جاتا تھا اور یہی افطاری بن جایا کرتا تھا نفس کو دنیاوی نعمتوں کی محرومی کے روزے میں رکھا جاتا اور روح کو اللہ کے حکموں کی تکمیل اور یاد خدا کی خوراک سے صحت مند بنانا ایمان کا نایاب عمل کہلاتا ہے۔قرآن پاک کی آیات ایسی فضیلت بھی رکھتی ہیں جن کی تلاوت سے بھوک مٹ جاتی ہے جس کے بارے میں رب فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں کو کھلاتا پلاتا ہوں تو بھلا اس سے عظیم کیا ہو سکتا ہے جس کی بدولت اللہ کی قدرت کے نظارے دیکھے جا سکتے ہیں۔اللہ کا وعدہ اور قانون ہے کہ وہ جس روح کو بھی انسانی وجود بخش کر دنیا میں اُتارتاہے تو اس کا رزق مقرر کر کے بھیجتا ہے مگر روح کے رزق کی مشقت انسان کے اپنے زمے ہے جس کا اجر قیامت کے دن ایسا ملے گا کہ کبھی ختم نہیں ہوگااگر انسان جنت کا ہلکا سا بھی نظارہ کرلے تو کبھی نیکی کرنے میں غفلت نہ کرئے اور جہنم کا منظر دیکھ لے تو کبھی گناہ کی طرف راغب نہ ہو۔مگر ایمان بن دیکھے کا سودا ہے کہ اللہ کے نظام کو قرآن اور حیات نبوی ﷺ میں تلاش کرکے عمل کا حصہ بنایا جائے تو مسلمان بنتا ہے۔مثال کے طور پر ایک بات بتاتا چلوں کہ اگر میں ایک حلال جانور بکری لوں اور آپ کے سامنے اس کا پیٹ پھاڑ کر اس کی کھال اتار کر اس کا گوشت ٹکڑوں میں بنا کر بہترین مسالوں میں پکا کر آ پ کو پیش کروں تو آپ بطور مسلمان اس کو کبھی نہیں کھائیں گے کیونکہ میں نے اس کو حضور نبی کریم ﷺ کے طریقے پر زبح نہیں کیا بلکہ اس کا پیٹ پھاڑ کر سالن تیار کرکے پیش کیا تھا جس طرح بنیادی طریقہ حلال کو اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے پر زبح نہیں کیا تو یہ حلال جانور بھی حرام ہو گیا اس طرح کوئی بھی عمل اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے سے ہٹ کر کیا جائے تو وہ حرام ہو جائے گا چاہیے اسے کتنے ہی شاندار طریقے سے کیوں نہ کیا جائے الٹا وہ گناہ اور پکڑ کے زمرے میں شمار ہوگا۔آج ہمیں اپنی زندگی کے تمام تر معاملات کو بہت غور سے دیکھنا ہوگا کہ ہم غسل سے لے کر کھانے پینے سونے جاگنے اور تمام تر معاملات زندگی میں اپنے نبی کریم ﷺ کو فولو کر رہے ہیں یا نہیں۔عبادات فقط مسجد تک محدود نہیں ہیں بلکہ ہمارے ہر عمل کو اسلامی طریقے پر کرنابھی عبادات میں شمار ہوتا ہے۔بلکہ معاملات کی عبادات میں پورا اترنے والے کو ہی مسجد کی عبادات کا مزہ آتا ہے۔اگر آپ اپنی زندگی کو رمضان جیسا بنا لیں گے تو آپ کی موت آپ کو عید جیسی خوشی میں ملے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com