نظامِ تخلیق

نظامِ تخلیق
مولانا محمد اکرم اعوان:
ہم دیکھتے ہیں کہ سلسلہ توالدوتناسل‘ جو بنی آدم علیہ السلام میں چلا آرہا ہے‘ تو صلب پدر میں اُس کی نسل کے اجزا کہاں کہاں سے آتے ہیں ۔سارے ہی تو مٹی کے رنگ ہیں لیکن مٹی تو کوئی نہیں پھانکتا۔ کہیں وہ مٹی چاول کا روپ دھارتی ہے‘ کہیں گندم اور غلے کا روپ دھارتی ہے‘ کہیںکسی جانور کی شکل اختیار کرتی ہے۔ پھر اُس آدمی تک کسی جانور کا گوشت پہنچتا ہے‘ کسی کا دودھ پہنچتا ہے‘ کہیں سے مکھن‘ گھی لیتا ہے‘ چاول‘ دال‘ مرچیں ‘آٹا ‘روٹی‘ پھل اور نہ جانے کیا کیا! لیکن یہ سب مٹی ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ نے ایک پودا بنا دیا‘ اُسی مٹی سے اجزا کشید کر کے اُس پر پھل لگا لیکن یاد رکھو!جو لقمہ بھی بندہ کھاتا ہے‘ اُس میں ایک حصہ تو اُس کے اپنے وجود کا ہے جو اُس کا گوشت پوست ہڈیاں پٹھے بن جاتا ہے‘ خون بنتا ہے لیکن ایک حصہ آنے والی نسل کا بھی ہے۔ اگر اُس سے اللہ نے نسل کو چلانا ہے تو وہ اُس کے صلب میں محفوظ ہوتا جاتا ہے۔ آدمی اگر غور کرے تو اندازہ نہیں کر سکتا کہ زمین پر ایک وجود کے اجزاء کتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں‘ کہاں کہاں سے وہ پانی پیتا ہے‘ کہاں کہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اور اُس میں وہ ذرات جمع کئے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کے صلب سے جس وجود کو میں نے پیدا کرنا ہے‘ اُس کے ذرات میں نے کہاں کہاں بکھیرے ہیں اور کس طرح اس شخص تک پہنچانے ہیں۔ اُس کا ایک ایسا نظام ہے جس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ ایک کے اجزا دوسرے میں نہیں جاتے اور دوسرے کے تیسرے کے پاس نہیں جاتے۔ ہر آدمی کے اپنے اپنے اجزاء‘ اپنی جگہ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ پھر صلب پدر سے شکم مادر میں منتقل ہوتا ہے تو اُس کی ماں نے بھی تو غذائیں استعمال کی ہیں‘ دوائیں استعمال کی ہیں‘ پانی پیا ہے‘ ہوا میں سانس لیا ہے تو ایک ایک لقمہ‘ ایک ایک سانس جو آنے والے بچے کا حصہ ماں کے پاس ہے‘ وہ شکم مادر میں بھی اُس کے کام آتا ہے اور پیدا ہونے کے بعد بھی دودھ کی نہروں کی صورت میں اُس کے پیٹ میں جاتا ہے‘ اُس کے وجود کا حصہ بنتا ہے۔ اتنا بڑا نظام کہ جسے عقل انسانی سوچ نہیں سکتی‘ اگر سوچے تو شل ہو جاتی ہے ۔
اتنی ترتیب سے قادرِ مطلق نے تمہیں تخلیق فرمایا تو اب تم اُس کا انکار کرتے ہو! تم اللہ کا کیسے انکارکر سکتے ہو‘ کیسے کفر کر سکتے ہو اُس ذات بے ہمتا کے ساتھ! تم تو ذرہ بے مقدار تھے‘ تمہاری تو کوئی حیثیت نہیں تھی‘ تم تو محض بے جان ذرات تھے‘ مردہ تھے۔ اُس نے تمہیں زندگی عطا کر دی‘ اُس نے تمہیں صلب پدر میں پہنچایا‘ شکم مادر میں پہنچایا۔ پھر تمہارا وجود بنایا‘ پھر اُس میں روح پھونک دی۔ تمہیں زندگی دے دی لیکن یاد رکھو! یہ زندگی بھی بے مہاریا بے لگام نہیں ہے۔ اُس کے بعد بھی موت تمہارا مقدر ہے ‘پھر تمہیںمرنا بھی ہے۔ اگر بات یہیں ختم ہو جاتی کہ اس نے تمہیں ذرہ بے مقدار سے حیات عطا کر دی اور پھر تم ایسے ہی زندہ رہتے اور بے مہار پھرتے رہتے اور تمہیں کبھی پھر واپس نہ جانا ہوتا ‘پھر بھی کوئی بات تھی۔
تم جانتے ہو کہ ظہورِ آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر آج تک ہر ایک کو جاتے دیکھا گیا۔ کہاں ہیں وہ لوگ؟کہاں ہیں بڑے بڑے سلاطین عرب وعجم اور کہاں ہیں وہ شہنشاہِ جہاںجو تخت وتاج کی زینت تھے؟ آج اُن کی قبور سیر گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ کس نے انہیں وہاں پہنچا دیا؟
تم جانتے ہو کہ تم ایک ذرہِ بے مقدار‘ بے حیثیت تھے‘ اُس نے تمہیں زندگی دی اور یہ بھی جانتے ہو کہ تمہیں موت بھی آئے گی۔ پھر موت پر ہی بات ختم نہیںہو جاتی تمہیں پھر زندہ ہونا ہے۔ آج تم یہ سوال کرتے ہو کہ مر کر مٹی میں مل گئے تو کیسے زندہ ہوں گے؟جو آگ میں جل گیا کیسے زندہ ہوگا؟ جانور کھا گئے تو کیسے زندہ ہوگا؟ جانور کھا جائیں‘ آگ میںجلا کر منتشر کر دیا جائے‘ پھر بھی انسانی اجزاء مر کر اتنے منتشر نہیں ہو سکتے جتنے پیدائش سے پہلے تھے۔ جس نے پہلے جمع کر لئے‘ وہ دوبارہ بھی جمع کر لے گا‘ وہ اس پر قادر ہے۔ کفار نے پوچھا تھا‘ کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا اور پھر تمہیں زندہ ہو کر ‘اُس کی بارگاہ میں حاضرہو کر اپنے کردار کا جواب دینا ہے۔ تم کیسے انکار کر سکتے ہو کہ تم ذرہِ بے مقدار تھے‘ اُس نے تمہیں حیات دی‘ انسان بنایا‘ طاقتیں دیں‘ بے شمار قویٰ دیئے‘ عقل دی‘ تم میں روح پھونکی ‘پھر تمہیں مرنا ہے اور موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔
موت کو سمجھا ہے غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی
موت تو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا نام ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔تمہیں موت کے بعد پھرزندہ ہونا ہے اور پھر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر جواب دینا ہے ۔ وہ ایسا مہربان ہے کہ تم اُس کی کس کس نعمت کا شکر ادا کر سکو گے؟ روئے زمین پر جو بے شمار نعمتیں پیدا فرمائیں‘ سب تمہارے لئے پیدا فرمائیں۔ بادل تمہارے لئے برستے ہیں‘ ہوائیں تمہارے لئے چلتی ہیں‘ گلشن تمہارے لئے کھلتے ہیں‘ پھل تمہارے لئے پکتے ہیں‘ پرندے تمہارے لئے چہچہاتے ہیں‘ جانور تمہارے لئے اپنی جانیں دیتے ہیں۔ ایسا نظام بنا دیا‘ اللہ کی شان ہے! آج کی سائنس نے بہت سی چیزیں دریافت کیں کہ چاند کے اثر سے یہ ہوتا ہے فلاں سیارے کے اثر سے یہ ہوتا ہے‘ سورج کی تپش سے یہ ہوتا ہے‘ گویا سارے سیاروں اور ستاروں کی توجہ کا مرکز زمین اور کر ئہ ارض ہے کہ مختلف سیاروں‘ ستاروں کی اُس توجہ سے یا اُن کے انعکاس سے یا اُن کی روشنی سے مختلف چیزیں بنتی ہیں اور جو کچھ بھی بنتا ہے ۔ سب کچھ تمہارے لئے پیدا فرمایا۔
اس آیت کریمہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر ہر چیز حلال ہے۔ جب تک اللہ یا اللہ کا رسولﷺ اُسے حرام نہ قرار دیں۔ ہر چیز انسان کی خاطر بنی ہے۔ وہ چیزیںممنوع ہیں جن سے اللہ نے روک دیا اور اللہ کے رسولﷺ نے روک دیا‘ جس چیز کو شریعت نے حرام کر دیا‘ جس کی حرمت شریعت میں موجود ہے‘ وہ حرام ہے۔ جس کی حرمت شریعت میں موجود نہیں وہ حلال اور جائز ہے۔ فرمایا ‘زمین پر جو کچھ پیدا فرمایا‘ وہ تمہارے لئے پیدا فرمایا۔ پھر اُس نے آسمانوں پہ توجہ فرمائی اور انہیں سات آسمان بنا دیا۔ سات آسمان بھی صرف سات چھتیں نہیں ہیں۔ ہر آسمان کا اپنا الگ جہان ہے اوراُس کا انسانی زندگی پر ایک اپنا اثر ہے۔ اُن میں ستارے سیارے‘ اُن میں فرشتے‘ اور کیا کیا ترتیب دیا اور سب کچھ تمہاری خاطر ترتیب دیا پھر یہ بھی مت سوچو کہ اُس نے بنا دیا اور بات ختم ہو گئی۔ وہ ایک ایک ذرے کو جانتا ہے‘ جو کچھ اس نے بنایااس کے پاس‘ ایک ایک چیز کا علم ہے ۔ اگر علم الٰہی میں ہر چیز موجود نہ ہوتی تو کائنات اتنی پابندی سے چل نہیں سکتی۔ سورج اور زمین کے فاصلے میں اگر کم سے کم ایک ذرہ مقدار بھی روز کمی ہوتی رہتی تو دنیا کی اتنی زندگی تو ہے کہ شاید آج ساری دنیا بھی سورج کی طرح جل رہی ہوتی‘ اتنی قریب چلی جاتی۔ اگر ذرہ ذرہ دور ہٹتی جاتی‘ فاصلہ بڑھتا رہتا تو شاید آج اتنی دور جا چکی ہوتی کہ ساری دنیا ہی منجمد ہو گئی ہوتی۔ تب سے چل رہی ہے‘ جب تک اللہ چاہے گا‘ چلے گی۔ ہر چیز اپنی حد پہ معین ہے‘ ہر چیز اپنے وقت پہ نکلتی ہے‘ ہوائیں اپنے وقت پہ چلتی ہیں‘ بارشیں اپنے وقت پہ برستی ہیں۔ ہر قطرہ وہاں پہنچتا ہے جہاں اُسے پہنچنا چاہئے‘ ہر ذرہ اُس وقت پھول اور پھل کی شکل اختیار کرتا ہے جب اُسے اللہ اجازت دیتا ہے اور ہر پھل‘ ہر دانہ‘ ہر ذرہ وہاں پہنچتا ہے جہاں اُسے پہنچنا چاہئے۔
الاوان النفس لن تموت حتی تستکمل رزقھا۔ اچھی طرح سے ذہن نشین کر لو‘ کوئی متنفسفلاں سیارے کے اثر سے یہ ہوتا ہے‘ سورج کی تپش سے یہ ہوتا ہے‘ گویا سارے سیاروں اور ستاروں کی توجہ کا مرکز زمین اور کر ئہ ارض ہے کہ مختلف سیاروں‘ ستاروں کی اُس توجہ سے یا اُن کے انعکاس سے یا اُن کی روشنی سے مختلف چیزیں بنتی ہیں اور جو کچھ بھی بنتا ہے ۔ سب کچھ انسان کے لیے پیدا فرمایا۔
تب تک دنیا سے رخصت نہیں ہوتا جب تک اپنے حصے کا ایک ایک دانہ کھا نہیں لیتا اور ایک ایک گھونٹ پانی پی نہیں لیتا۔ اپنا رزق مکمل کر کے ہر کوئی جاتا ہے ۔ جانے والے اگر کچھ چھوڑ کر جاتے تو دنیا میں ڈھیر لگے ہوئے ہوتے۔ فالتو کھا کر جاتے تو آنے والوں کے لئے کچھ نہیں بچتا ۔فرمایا: نہیں ‘ حتی تستکمل رزقھا۔ہر شخص اپنے حصے کا رزق پورا کر کے رخصت ہوتا ہے ۔ تم اللہ سے کفر کیسے کر سکتے ہو ؟ تمہاری کوئی حیثیت نہیں تھی‘ اُس نے تمہیں انسان بنا دیا۔ تمہیں تو کوئی جانتا نہیں تھا ‘تم تو ذرات کی شکل میں روئے زمین پر منتشر تھے‘ تم تو قطرہِ آب کی شکل میں سمندروں کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ تم تھے کہاں؟ اُس نے تمہیں بنا دیا‘ پھر تمہیں پتہ ہے کہ بنانے کے بعد تمہیں مرنا ہے اور موت بھی زندگی کا خاتمہ نہیں ہے‘ موت بھی ختم ہو جائے گی۔ پھر تمہیں زندہ ہونا ہے‘ اُس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور وہ ایسا کریم ہے‘ کس کس بات کا حساب دو گے؟ وہ ایسا قادر ہے کہ روئے زمین کی ساری نعمتیں تمہارے لئے بنا دیں‘ اب تم کس کس کا حساب دو گے؟ تمہارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اُس کا شکر ادا کرتے رہو۔ اُس کی عظمت کے گن گاتے رہو‘ اُس کے ساتھ اپنا تعلق استوار رکھو‘ اُس سے محبت کرو‘ اُسے چاہواور اُس کی چاہت اور اُس کی محبت میں دنیا سے دور ہو جائو۔ قبر میں بھی اس کی محبت کی روشنی نصیب ہو اور اٹھو تو سینے میں عشق الٰہی فروزاں ہو۔ اس کے علاوہ اے نوع انسان! تمہارے پاس دوسرا راستہ نہیں ہے۔ دوسرا راستہ‘ سوائے تباہی اور برباد ی کے کچھ نہیںاور یاد رکھو! جب آخرت کو اٹھنا ہے‘ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو اُس کے بعد موت نہیں ہے۔ پھر تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے اور ہمیشہ غضب الٰہی کا شکار رہنا کتنی بڑی بدبختی ہے! اس لئے اللہ سے کفر نہ کرو‘ نور ایمان اختیار کرو اور اپنی قوت اطاعت پہ صرف کر دو۔ غلطیاں ہوتی ہیں‘ وہ معاف کرنے والا ہے۔ کوتاہی ہوتی ہے‘ وہ توفیق دینے والا ہے لیکن اپنی کوشش تو کرو۔ غلطی ہو جائے تو اُس سے معافی چاہو‘ اُس سے رحم طلب کرو۔ وہ غفور الرحیم ہے‘ اُسے پکارو‘ اُس کی بارگاہ میں آئو۔ وہی ہے جس نے روئے زمین کی نعمتیں تمہارے لئے پیدا فرما دیں‘ آسمانوں کو تمہارے سر پہ چھت بنا دیا‘ انہیں سات آسمان بنا دیا اور یہ مت بھولو کہ بنانے کے بعد وہ کسی چیز سے غافل نہیں ہے‘ وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے ۔لاتتحرک ذرۃ الا باذن اللّٰہ۔ ایک ایک ذرہ اُس کے حکم سے حرکت کرتا ہے‘ اُس کی عظمت کا احساس کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com