پاکستان میں کرپشن کا باب بند ہوگیا

وزیراعظم عمران خان کی کرپشن کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی کے باعث
پاکستان میں کرپشن کا باب بند ہوگیا
انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے ملک میں جاری احتساب کے تناظر میں خصوصی تحریر

عبداللہ ہاشمی
دنیا کے ان تمام ممالک کے لئے جہاں بدعنوانیاں عام ہیں 9دسمبرکی تاریخ بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ کرپشن کے باعث ایسے ممالک کے اندر تعلیم، صحت، عدلیہ،جمہوریت، اور عوامی خوشحالی بہت شدت سے اثر انداز ہوتی ہے۔ان مسائل کے سدباب کے لئے اقوام متحدہ نے 31اکتوبر 2003ء کو ایک قرارداد کے ذریعہ ہر سال 9 دسمبر کی تاریخ کو انسداد بدعنوانی کا عالمی دن منانے فیصلہ کیا تھا۔ جس کا مقصد بدعنوانی کے خلاف مہم چلا کر اس کے مضر اثرات سے لوگوں باخبر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خاتمے کے لئے رائے عامّہ تیار کرنے کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔اس سلسلے میں اس بات کے خدشہ کا بھی اظہار کیا گیا تھاکہ بدعنوانی کا خاتمہ صرف قوانین بنانے سے نہیں ہوگا، بلکہ معاشرے کے اندر کرپشن سے ہونے والے نقصانات سے منظم اور منصوبہ بند مہم کے ذریعہ ہی ہر فرد کو اس کی ذمہّ داری کا احساس کرانے اشد ضرورت ہے۔اس لئے کہ کرپشن ایک ایسا گھن ہے، جو بڑھتے بڑھتے نہ صرف سماج اور قوم کو بلکہ پورے ملک کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھئے، جن ممالک میں بھی معاشی کرپشن کی زیادتی ہوئی، اس نے پورے ملک کو کھوکھلا، کمزور اور بے وقعت کردیا ہے۔اس صورت حال کو جاننے کے لئے، بس ہر سال مختلف اداروں کے ذریعہ جاری ہونے والے سروے ہی پر ایک نظر ڈال لیں، تو اندازہ ہو جائے گا کہ کرپشن سے شائد ہی کوئی ملک بچا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ایک طائرانہ نظر World Democracy Audit کی رپورٹ پرڈالیں،تو 2016 اور 2017 کی ا س رپورٹ میں 154 ممالک کا نام ہے۔ان دو برسوں میں بہت زیادہ نمایاں فرق نظر نہیں آتا ہے۔ ان میں چند اہم ممالک کے نام جان کر حیرت بھی ہوتی ہے، مثلاََ دنمارک،نیوزی لیند، سویڈن، نوروے،کناڈا،جرمنی،یو کے، آسٹریلیا،یو ایس، جاپان،فرانس،متحدہ عرب امارات،وغیرہ سے لے کر سومالیاتک کا اس فہرست میں نام ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سب بڑی جمہوریت کا دعوی کرنے والا بھارت بھی منہ کے بل نیچے آگرا ہے اور کرپشن میں بتدریج اضافہ رپورٹ کیا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں کرپشن پر قابوکیا جاچکا ہے لیکن مافیا اتنا تگڑا ہے کہ سراُٹھنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے مگر ادارے ہائی الرٹ ہیں اور ایسے ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا ذکر کیا جائے تو اِس حال میں شائع ہونے والی اِس رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیاء کی 27 انسداد بدعنوانی کی تنظیموں میں نیب کی کارکردگی بہترقرار پائی ہے۔نیب کی کارکردگی سے جہاں حکومت پاکستان مطمئن ہے وہاں بین الاقوامی ادارے بھی معترف نظر آرہے ہیں۔حالیہ شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) کے چیئرمین نے کہا ہے کہ نیب کی کارکردگی کا جائزہ جنوبی ایشیاء کی 27 انسداد بدعنوانی کی تنظیموں کے ساتھ لیا اور نیب کی کارکردگی ان تمام سے بہتر رہی،چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی متحرک قیادت میں نیب نے گذشتہ 20 ماہ سے بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے نتیجہ میں براہ راست اور بالواسطہ 71 ارب روپے کی وصولی کی ہے اور موجودہ حکومت کے دور میں 600 مقدمات احتساب عدالتوں کو بھجوائے ہیں جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،چیئرمین جاوید اقبال کی کوششوں سے پاکستان نے ہائی ایسٹ سی پی آئی اسکور100/33حاصل کیا۔ چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا 51 سالہ جوڈیشل تجربہ ہے، وہ واحد چیئرمین نیب ہیں جو 2007ئمیں قائم مقام چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان رہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی کو اپناتے ہوئے نیب نے بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی دولت برآمد کی اور انسداد بدعنوانی میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹی آئی کرپشن پرسپشن انڈیکس 1999ئمیں 22/100 تھا اور پاکستان دنیا کے 99 ممالک میں 87ویں نمبر پر تھا جبکہ چیئرمین نیب کی کوششوں سے پاکستان نے ہائی ایسٹ سی پی آئی سکور 33/100 حاصل کیا اور غیر معمولی طور پر دنیا کے 180 ممالک میں پاکستان کا نمبر 117ویں پر آ گیا ہے۔ سہیل مظفر نے بتایا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے 2016ئمیں نیب کی کارکردگی کا جائزہ جنوبی ایشیائکی 27 انسداد بدعنوانی کی تنظیموں کے ساتھ لیا اور نیب کی کارکردگی ان تمام سے بہتر رہی۔ پاکستان میں انسداد بدعنوانی کی دیگر تنظیموں جیسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور صوبائی انسداد بدعنوانی کے محکموں کے مقابلہ میں چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی متحرک قیادت کی وجہ سے نیب زیادہ موثر سمجھا جاتا ہے، ان کی قیادت نے نیب کو ایک متحرک اور فعال ادارہ میں تبدیل کیا۔اس سے قبل ایک ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں سالانہ 5 ہزار ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں جبکہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 28 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔پاکستان کے بڑے بڑے کاروباری افراد سالانہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری کرتے ہیں اور فارن کرنسی اکاونٹس کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھیجتے ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطابق پاکستان کے قوانین منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے موثر نہیں ہیں جس کی وجہ سے بڑے ٹیکس چوراورطاقت ورسرمایہ کارقانون کی گرفت میں آنے سے بچ جاتے ہیں۔امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 10 سال میں ڈھائی ارب ڈالر غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو بدعنوانی اور ٹیکس چوری کے باعث چھ کھرب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ہر سال 25 کروڑ ڈالر پاکستان سے بیرون ملک سمگل ہو جاتے ہیں۔ کرپشن، جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ جو ایک دوسرے سے کسی نہ کسی صورت میں منسلک ہیں پاکستانی معیشت کیلئے ناسور بن چکے ہیں۔مگر اب صورتحال بدلتی دیکھائی دے رہی ہے اور نیب کی موثر کاروائیوں سے کرپشن، جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے جن بوتل میں بند ہوچکے ہیں۔ جو اس گھنونے کھیل میں ملوث رہے ہیں جیل کی سلاخیں کے پیچھے ہیں اور کچھ مقدمات بھگت رہے ہیں۔جبکہ دنوں میں کروڑ پتی بننے والوں کے خواب بھی چکنا چور ہوچکے ہیں اور وہ کرپشن جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے نام سے ہی خوف زدہ وہیں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال اس حوالے سے کوئی نئے بڑے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اپنے کارکردگی کے حوالے سے بڑے پراعتماد ہیں گزشتہ دنوں ایک پریس بریفنگ میں اُن کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خاتمے اور لوٹی رقم واپس لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلا رہے ہیں، گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد عوام نیب پر اعتماد کرتی ہے۔

اِدھر وزیراعظم عمران خان کے ارادے پختہ اور غیرمتزلزل ہیں کہ کچھ بھی ہوجائے کرپٹ عناصر کے ساتھ نہ کوئی گفتگوشنید ہوگی اور نہ اِنہیں برداشت کیا جائے گا۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب جاری حکومت مخالف جلسوں کے حوالے سے اُنہوں کا کہنا ہے کہ کا جلسہ نہیں روکیں گے، اپوزیشن تصادم چاہتی ہے مگر انہیں موقع فراہم نہیں کریں گے، مینار پاکستان پرایک نہیں 10 جلسے بھی کر لیں، حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ مجھے جانتے نہیں، حکومت بھی چلی جائے تو احتساب پرسمجھوتہ نہیں کروں گا، خود ان کا سارا خاندان باہر بیٹھا ہے، یہاں عوام کو اپنے لیے استعمال کررہے ہیں۔حکومتی و پارٹی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے، احتساب پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کروں گا چاہے حکومت بھی چلی جائے۔ ایک بیان میں شہباز گل نیکہا کہ پی ڈی ایم کی شناخت کرپشن زدہ مسترد ٹولے سے زیادہ کچھ نہیں، پی ڈی ایم کے ناکام جلسے آپ کے پِٹے ہوئے بیانیے کا مظہر ہیں۔
کچھ ہفتے قبل بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چار ٹویٹس کی تھریڈ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’حزب اختلاف نے آج ایوانِ بالا میں فاٹیف سے متعلق 2 اہم قانونی مسودہ جات یعنی انسدادِ منی لانڈرنگ اور آئی سی ٹی وقف بلز کی منظوری رکوائی۔ میں روز اول سے کہہ رہا ہوں کہ ذاتی مفادات کے اسیر ان اپوزیشن رہنماؤں اور پاکستان کے مفادات جدا جدا ہیں۔اسی تنقید کو جاری رکھتے ہوئے انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’جمہوریت کے لبادے میں چھپنے کی کوشش کررہی ہے۔ این آر او کے حصول کے لیے یہ نیب کو کمزور کرنے کیساتھ قومی معیشت کی تباہی اور غربت میں اضافے کے لیے پاکستان کو فاٹیف کی بلیک لسٹ تک میں شامل کردیتے۔ حال یہ ہے کہ این آر او کیلئے یہ لگاتار حکومت گرانے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔انھوں نے اپنی آخری ٹویٹ میں کہا کہ اگر قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو معاف کیا تو یہ قوم کا اعتماد مجروح کرنے کے مترادف ہوگا۔انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ‘ میری حکومت این آر او نہیں دے گی۔۔۔ اب مزید کوئی این آر اوز نہیں ہوں گے۔’
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کرپشن کیخلاف علم بلند کیا ہے، ملکی وسائل کو بے دردی سے لوٹنے والے عناصر کا احتساب ضروری ہے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے کرپشن کے خلاف زیروٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق ادوار میں کرپشن اور لوٹ مار کے ذریعے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا، کرپٹ عناصر نے ذاتی تجوریاں بھریں اور ملک کو کنگال کیا، کرپٹ عناصر کی نئے پاکستان میں رتی بھر بھی گنجائش نہیں۔ عثمان بزدار نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں فیصلے ملک و قوم کے مفاد میں کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے خدشے کے باوجودعوامی اجتماع کرنا اپوزیشن جماعتوں کی بے حسی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے عوام کی زندگیوں کی پرواتک نہیں کی۔ان عناصر نے صرف اپنے ذاتی ایجنڈے کو مقدم رکھافیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی کا بھی بیان سامنے آیا ہے جس میں اُنہوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں کرپشن نہیں ہے۔ وزیراعظم نے بہت اچھے اقدامات اٹھائے ہیں، ان کے اثرات مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
متاثرین لاکھ الزامات دھرے کہ نیب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے مگر یہ بھی ایک درخشاں حقیقت ہے کہ پاکستان کی طاقتور اشرافیہ بھی اس وقت قانون کے شکنجے میں ہے،جس کا ماضی میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلا امتیاز احتساب کر رہا ہے اور بظاہری طور پر کسی سے نا انصافی ہوتی نظر بھی نہیں آرہی کیونکہ تمام شواہد اورثبوت عوام کی آنکھوں سے اوجھل نہیں۔چونکہ وائٹ کالر کرائم کی تفتیش کیلئے وقت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے جس کیلئے کسی نہ کسی میں تاخیر کا امکان ممکن ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں لیا جاسکتا ہے مختلف کیسز کو ڈیل کرنے میں نیب کا رویہ بھی مختلف ہے۔اور اب تو وہ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کے اس بڑے ادارے کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں، جو ماضی میں اُن کی کارکردگی بارے میں اپنی غیر جانبدرانہ رپورٹ پیش کرتے رہے ہیں جن میں کچھ آج نیب زدہ ہیں۔ ایسے میں نیب کی کارکردگی پر پیش کردہ رپورٹ پر شک کی مزید حجت بالکل ہی ختم ہو جاتی ہے ۔
ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ ملک کی موجودہ صورت حال اس امر کو تقویت بخشتا ہے کہ سیاست اور کرپشن کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ۔ انگریزی کے مشہور تاریخ داں لارڈ ایکٹن (1834-1902) نے موجودہ حالات کی پیشن گوئی کرتے ہوئے کبھی لکھا تھا کہ اقتدار، کرپٹ کرتی ہے اور بے کراں اقتدار لا محدود طور پر بد عنوان کرتی ہے۔ لارڈ ایکٹن کا یہ جملہ ایک زمانے میں کافی مشہور ہوا تھا۔ عصری تناظر میں اس کی معنویت اس لئے بڑھ جا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com