آنے والے دورمیں عالمی سیاست کا مرکز

آنے والے دورمیں عالمی سیاست کا مرکز
اصفہان
انجینئر مختار فاروقی
عالمی حالات ہمہ وقت تغیر ّپذیر رہتے ہیں، انسان اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے زندگی کے لمحات گزارتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے۔ انسانوں سے خاندان، قبائل، معاشرے، شہر اور ملک بنتے ہیں اس کے بعد قوموں اور تہذیبوں کا درجہ آتا ہے۔ انسانی زندگی پچاس ساٹھ سال ہوتی ہے جبکہ تہذیبوں کی زندگی پانچ چھ صدیاں ہو تی ہے۔ ماضی میں ہزاروں تہذیبیں اُٹھیں، عروج کو پہنچیں، غرور وتکبر اور ظلم پر اُتر آئیں اور پیوند خاک ہوگئیں، ایک تبصرے کے مطابق دنیا تہذیبوں کا قبرستان ہے۔ تاہم مشرق وسطی اور اس کے آس پاس کے ممالک کئی لحاظ سے بہت اہمیت کے حامل ہیں اور طویل انسانی تاریخ رکھتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی ایران کی حیثیت بہت نمایاں تھی اور روم کے مقابلے میں عالمی طاقت تھی اسلام کی آمد کے ساتھ ایران کی اہمیت اور بڑھ گئی اور اسلامی تاریخ میں بھی ایران کی حیثیت بڑی نمایاں رہی ہے۔
گزشتہ پانچ چھ صدیوں سے مغرب کی بالا دستی کے باعث یورپ اور اب امریکہ عالمی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں اور لندن ،امریکہ اور پیرس میں بیٹھے دماغ ساری دنیا کو کنڑول کر رہے ہیں اور اسلام کے دور کے اہم شہر اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں۔کوفہ و بغداد قصہ ماضی بن چکے ہیں۔ دور حاضر میں اب قوت کے نئے مراکز وجود میں آرہے ہیں۔
علامہ اقبال گزشتہ صدی کے آغاز میں تعلیم کے لئے یورپ گئے تھے اور1907ء میں واپسی ہوئی۔انہوں نے برطانیہ اور جرمنی میں وقت گذارا اور یورپی تہذیب کو قریب سے دیکھا اور اپنے ذہن رسا کے ذریعے یورپ کی تیز رفتار ترقی کی حقیقت اور اس کے پس پردہ کا ر فرما نظریات و افکار کو سمجھ لیا۔تعلیمی ضروریات کی وجہ سے انہیں خاص طور پر ایران کی تاریخ پڑھنے کا موقع ملا اور اس طرح ماضی اور حال کے تقابل سے اسلامی نقطہ نظر سے حالات کا تجزیہ کرنے کا ایسا سلیقہ ہاتھ آیا جس کا لوہا آج بھی دنیا مانتی ہے۔انہوں نے ایک موقع پر فرمایا تھا۔
؎ طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے!
برٹرینڈرسل برطانیہ کا مشہور فلسفی ادیب اور تجزیہ نگار گزرا ہے اس نے (RE-AWAKENING OF EAST) میں لکھا ہے کہ تاریخ میں قوموں کا عروج و زوال مشرق و مغرب میں باری باری یکے بعد دیگرے سامنے آتا رہا ہے اور یوں کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ مشرق و مغرب کے مابین جھولا جھولتی رہی ہے آج سے ستر برس قبل اُس نے لکھا تھا کہ مغرب کے موجودہ عروج کے بعد زوال تو لازمی ہے اب دوبارہ مشرق کی باری ہے اور اہل علم دیکھ رہے ہیں کہ اگرچہ وسائل اور زندگیوں کی آسائشوں کے ساتھ طاقت کا توازن ابھی یورپ اور امریکہ کے پاس ہے تاہم مستقبل کے مراکز امارات اور خلیج فارس سے لے کر بحیرئہ روم تک منتقل ہو رہے ہیں اور مشرقِ وسطی عالمی سطح پر نگاہوں کے سامنے آگیا ہے۔عراق اور افغانستان میںامریکی مداخلت بھی آنے والے دور میں اس خطہ کی اہمیت کے پیش نظر ہے اور اسی مداخلت اور جارحیت کے تحت مستقبل کے دھندلے نقوش واضح ہونا شروع ہو رہے ہیں۔
اس تناظر میں ’’مشرق وسطیٰ ‘‘میں برادر ملک ایران کی اہمیت نمایاں ہے اور گزشتہ انقلاب کے بعد اس نے عالمی سیاست میں اپنی حیثیت کو منوایا ہے۔حالیہ امریکی صلیبی یلغار کے بعد ایران نے جس طرح امریکی دبائو اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے وہ اقوام عالم اور بالخصوص دیگر مسلمان ممالک کے لئے حیران کن ہے ۔پاکستان کی طرح ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں مغرب کی منافقانہ پالیسی ،بلاوجہ سفارتی دبائو اور بلاجواز عالمی پروپیگنڈا ایران کے استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہیں کر سکا۔اور تاحال کسی دھمکی سے بھی ایران کو جھکا لینے کا امکان نظر نہیں آرہا۔(کل کیا ہو گا یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔) ‘‘
دارالحکومت تہران کے بعد ایران کا ایک اہم شہر اصفہان ہے جو تاریخی ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے بڑا اہم شہر ہے۔گزشہ چند سالوں کے دوران کچھ ایک ایسے نکات سامنے آگئے ہیںجو اوپر درج پس منظر میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ قارئین حکمت بالغہ تک بھی یہ حقائق پہنچا دئیے جائیں تاکہ انہیں بھی آئندہ حالات کو سمجھنے اور تجزیہ کرنے میں آسانی رہے۔
جغرافیائی لحاظ سے اصفہانموجودہ ملک ایران کا ایک وسطی صوبہ ہے تقریباً 52 درجے طول بلد اور 32 درجے عرض بلد پر واقع ہے۔ اصفہان شہر کی تاریخ تقریباً 2500 سال پرانی ہے اور ثقافتی لحاظ سے بڑا مرکز ہے مساجد اور مدارس کی خوبصورتی کے علاوہ عمومی فن تعمیر میں دنیا کے چند ممتاز شہروں میں سے ایک ہے۔یہاں کے قالین اور فن تعمیرمیں رنگدار روغنی ٹائلیں بہت مشہور ہیں۔فن تعمیر کے نادر نمونے اس صوبے میں پھیلے ہوئے ہیں نقش جہاں اسکوئر (عام طور پر جسے امام اسکوئر بھی کہتے ہیں) اہم عمارات اور تجارتی مراکز کے درمیان شاہراہوں سے گھرا ہوا ایک وسیع اسکوئر ہے جو غالباً آج بھی دنیا بھرکے مشہور شہروں میں واقع اسکوئروں میں سب سے بڑا ہے۔ مذہبی لحاظ سے بھی یہ شہر بہت اہمیت کا حامل ہے سولہویں صد ی میں جب صفوی خاندان کی حکومت بنی اور اس میں استحکام آیا تو اس خاندان کے مشہور بادشاہ اسماعیل صفوی نے اصفہان کو پایۂ تخت قرار دیا اور یوں اس شہر کی ترقی ہوئی، یہاں سے قریب ہی شیعہ مسلک کی قدیم درسگا ہیں اور مراکز ہیں، قم 150کلو میڑ پر ہے ذرا فاصلے پر خمین ہے جہاں مشہور علمی درسگاہیں ہیں۔ اسلامی انسا ئیکلوپیڈیا کے مؤلف جناب سیّد قاسم محمود صاحب اصفہان کے عنوان سے رقم طراز ہیں: ’’ وسطی ایران کا ایک شہر، جو اپنی حسین مسجدوں کی وجہ سے مشہور ہے ایک زمانے میں صفویوں کا دارالحکومت تھا۔ اسے بابل کے حکمران نبو کدنضر نے یہودیوں کو بسانے کے لئے آباد کیا تھا۔ مسلمانوں نے اسے حضرت عمر h کے دور میں 19ھ/ 640ء میں فتح کیا تھا۔ طبری کے نزدیک فتح کا سال 21ھ / 642ء ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق ابو موسیٰ اشعری h نے نہاوند کے بعد اصفہان کو فتح کیا۔ المعتز کے عہد میں ایک بغاوت کے بعد247ھ/ 861ء میں اسے دوبارہ فتح کیا گیا۔ اس بار شہریوں کی ایک کثیر تعداد قتل ہوئی۔ اس وقت وہاں ایک قلعہ نما عمارت موجودتھی نیز شہر کے گرد فصیل تھی، جس میں چار دروازے اور ایک سومنارے تھے۔ شہر کے قرب و جوار میں چاندی ،تانبے، جست اور سرمے کی کانیں تھیں۔ 301ھ913/ء میںیہ شہر سامانیوں کے قبضے میں آیا ۔421ھ / 1030ء میں غزنویوں کی قلمرو میں شامل ہوا۔ مغلوں کے حملے کے دوران میں شاہ خوارزم سلطان جلال الدین منگو کے زیر کمان اس شہر کی دیواروں تلے ایک بہت بڑی جنگ لڑی گئی۔ بعد میں یہ شہر مغلیہ سلطنت کا حصہ بن گیا۔ تیمور نے یہاں ستر ہزار شہریوں کا قتل عام کیا۔ اس کے بعد کئی حکمرانوں نے یہاں کے باشندوں کا قتل عام جاری رکھا۔ نادر شاہ کے عہد میں(1141ھ/ 1829ء) کہیں جا کر یہاں امن ہوا، 1914ء سے1918ء تک یہ شہر عالمی طاقتوں کی آویزش کا مرکز رہا۔1917ء میں اس پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ تاریخ میں اس شہر کو پہلی بار کسی حکومت کا مرکزی شہر بننے کا شرف عباس اول (1586ء تا 1628ء) کے عہد میں حاصل ہوا۔ اس نے ایک خوب صورت شہر بنا دیا۔ اس نے دریائے زندہ رود پر تین خوبصورت پل تعمیر کرائے۔ نیز ایک عالیشان مسجد بھی تعمیر کرائی۔ شاہ صفی اول نے اس پر چاندی کے پترے چڑھوائے ۔بعد میں کئی حکمرانوں نے یہاں خوب صورت عمارات تعمیر کرائیں۔ جن میں گھنٹہ گھر، شاہی محلات، کاروان سرائے، منار خواجہ عالم، قلعہ تبرک، مدرسہ نادر شاہ، شیخ لطف اللہ کی مسجد، عالی قاپو( سات منزلہ عمارت)، میدان شاہ اور چہار باغ قابل ذکر مقامات ہیں۔ بیسویں صدی کا اصفہان ایک صنعتی شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ رضا شاہ پہلوی کے عہد (1925ء تا1941ء) میں یہاں صنعتی علاقہ تعمیر کیا گیا۔ یہاں کپڑے کے بے شمار کارخانے قائم ہیں۔ نیز دھات کا بہترین کام ہوتا ہے۔ جس میں چاندی، تانبے اور جست کی صنعتیں قابل ذکر ہیں۔1998ء میں آبادی آٹھ لاکھ سے زیادہ تھی۔‘‘ اصفہانایک نادر روزگار شہر اور ثقافتی و مذہبی اہمیت کا حامل صوبہ مستقبل میں عالمی حیثیت اختیار کرنے والا ہے مستقبل سے مراد صرف چند سال بھی ہو سکتے ہیں اور چند عشرے بھی (واللہ اعلم بالصواب) اصفہان کے بارے میں تین مختلف زاویوں یا نقطہ ہائے نگاہ سے اہمیت کے تین پہلو حسب ذیل ہیں۔
بنی اسرائیل یعنی یہود یا صہیونیت کے نقطہ نظر سے
بنی اسرائیل کی تاریخ چار ہزار سال کا پھیلائو رکھتی ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے حضرت ابراہیم dسے واقعات ملا کر دیکھنا ضروری ہے۔حضرت ابراہیم d عراق ملک میں تھے جہاں آج سے4100 سال پہلے نمرود بادشاہ حکمران تھے جو بدترین شرک میں مبتلا تھے۔اور بت پرستی کا نظام تھا بادشاہ خود بھی خدائی کے دعویدار ہوتے تھے۔
تاریخ انبیاء کے بارے میں قرآن مجید کابیان یہ ہے کہ حضرت نوحd اور حضرت ابراہیمdکی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبری اور کتاب رکھ دی تھی گویا حضرت نوحd کے بعد صرف ان کی اولاد ہی میں نبوت اور رسالت کا سلسلہ جاری ہوا یعنی بعد کی نسل انسانی صرف انہیں کی اولاد پر مشتمل ہے اور دوسرے حضرت ابراہیمdکے بعد اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت ابراہیمdکی اولاد کو پیغمبری اور وحی کے لئے منتخب فرما کر اٹھایا تاکہ ایک حزب اللہ بن سکے اس لئے کہ انسانیت اب طفولیت سے نکل کر بلوغ(MATURITY) میں قدم رکھ رہی تھی اور انسانی ہدایت کے باب میں معاملہ ختم نبوت کی طرف جانا تھا جس کے نتیجے میں ختم نبوت کے بعد ہدایت و رہنمائی کے معاملات آخری آسمانی وحی کی روشنی میں اُمت مسلمہ کے ہاتھوں میں آنے تھے اور دوسری طرف ختم نبوت کے نتیجے میں آسمانی مدد کا پہلوبھی انبیاء کرام کے مقابلے میں قدرے ہلکا ہونا فطری بات تھی۔لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جہاد کے باب کو کھولا اور معجزات یعنی (DIVINE INTERVENTION) کا پہلو بھی اب ’’کرامات‘‘تک آگیا۔مسلم امت کے دنیا میں غلبہ کا انحصار انسانی جدوجہد یعنی جہاد و قتال پر ہو گیا۔حضرت ابراہیمdکے بڑے بیٹے حضرت اسماعیلd کو مکہ میں آباد کیا گیا جہاںچاہ زمزم جاری ہوا اور حضرت اسماعیل d کی قربانی کا واقعہ پیش آیا۔پھر بیت اللہ کی تعمیر اور آباد کاری کا مرحلہ آیا۔
حضرت ابراہیمdنے اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحقd کو فلسطین (یروشلم) میں آباد کیا تھا اُن کے بیٹے یعقوبdاور پوتے حضرت یوسفd تھے حضرت یوسف d کے دس بھائیوں نے حضرت یوسفdکو کنوئیں میں ڈالا جہاں سے وہ مصر پہنچے اور بالآخر مصر کے حاکم بن گئے۔برادرانِ یوسف کی بے وفائی سے ہی ایک طبقہ پیدا ہوا جو انبیاء کرام f کی تعلیمات سے بُعد اختیار کرتا چلا گیامصر میں ہی 1300 ق م میں حضرت موسیٰd تشریف لائے انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی فرعون کی غلامی کے دور میں ہی اہرام مصر کی تعمیر کے دوران بنی اسرائیل میں ایک طبقہ پیدا ہوا جو اللہ اور اس کے رسولوں کا باغی بن گیا اور یہ طبقہ FREE MASONS کے نام سے مشہور ہو گیا۔حضرت موسیٰd کی زندگی ہی میں بنی اسرائیل کو آزادی ملی تاہم سامری کی شخصیت سامنے آگئی پھر بنی اسرائیل نے جہاد سے انکار کر دیا صحرائے سینا میں چالیس سال کی سزاپائی پھر جہاد پر راغب ہوئے تو سلطنت ملی جو کئی مرحلوں سے گزر کر حضرت دائود dاور حضرت سلیمان d کی بادشاہت کے دور میں عروج کو پہنچی پھر بنی اسرائیل میں جادو کا زور ہوا ہاروت و ماروت کا واقعہ قرآن مجید میں ہے یہیں سے یہود کے باغی گروہ نے قبالہ نام سے علم ایجاد کیا یعنی علم الاعداد‘ اب تورات کی عبارت نہیں پڑھی جاتی تھی۔بلکہ تورات کے الفاظ کے (خود ساختہ) اعداد پر آیات کا ایک ’’نمبر‘‘ عدد بنالیا جاتا تھا جس سے اس آیت کی برکت حاصل کی جاتی تھی(جیسے ہمارے ہاں 786 لکھ کر بسم اللہ شریف مراد لی جاتی ہے)۔
چھٹی صدی ق م میں یہود پر زوال آیا اور انہوں نے قتل انبیاء جیساجرم شروع کر دیا حق کے انکار کا آخری درجہ کہ حق بات کہنے والے کا نام و نشان ہی مٹا دو تا کہ کوئی حق کا علمبردار سامنے نہ ہو اور باغی لو گ من مانی کرتے رہیں اس پر عراق کے بادشاہ نمرود بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کیا اور تورات کے بیان کے مطابق بیت المقدس میں چھ لاکھ بنی اسرائیل قتل کر دیے اور چھ لاکھ کو بھیڑبکریوں کی طرح قیدی بنا کر عراق لے جایا گیا حضرت سلیمان dکی تعمیر کردہ عبادت گاہ ہیکل سلیمانی کو مسمار کر دیا گیا قرآن پاک میں اس واقعہ کو بنی اسرائیل کے فسق و فجور اور اللہ کی نافرمانی کے ساتھ قتل انبیاء f کی سزا کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ چھ لاکھ یہودیوں کو نمرود بادشاہ بخت نصر نے کئی جگہ پر آباد کیاتھا۔ بنی اسرائیل کی یہ قید 150 سال پر محیط تھی جس میں کئی نسلیں بیت گئیں۔
سیّد قاسم محمود صاحب مؤلف اسلامی انسا ئیکلو پیڈیا نے اصفہان کی پہلی آبادکاری کے ضمن میں یہود کی اس قید کے زمانے کاذکر کیا ہے۔ بعد ازاں ایران کے مسلمان بادشاہ کیخورس یا سائرس یا ذوالقرنین نے عراق فتح کیا تو یہود کو آزادی دلائی اور ان کو بیت المقدس میں دوبارہ آباد ہونے میں مدد بھی دی۔ اب یہود میں دینی جذبات تازہ تھے انہیں دوبارہ حکومت بنانے کا موقع ملا مکابی سلطنت کے نام سے سلطنت بنی بیت المقدس کی تعمیر ثانی ہوئی مگر جلد ہی یہ حکومت زوال سے دوچار ہوگئی بنی اسرائیل کے باغی طبقات جو اب قتل انبیاء جیسے جرائم کی وجہ سے حزب الشیاطین کا درجہ حاصل کر چکے تھے سر بر آوردہ لوگ تھے لہٰذا سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے غلامی و محکومی سے دوچار کر دیااور پورے فلسطین کے علاقے پررومیوں کا قبضہ ہو گیا اس دور میں حضرت عیسیٰd تشریف لائے یہود کے علماء و احبارنے ان کی بات نہ سنی بلکہ اپنی بگڑی ہوئی افتاد طبع کے زیر اثر برنباس کی انجیل کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰd کو رومیوں کے ذریعے صلیب پر لٹکانے کا اہتمام کر دیا قتل انبیاء کے بعد’’رسول‘‘ کے انکار کے اس ’’جرم‘‘ کے نتیجے میں بنی اسرائیل (صہیونی یا فری میسنوں) پر زوال آ گیا ٹائٹس رومی نے یروشلم میں70ء میں حملہ کیا اوردوسری مرتبہ بیت المقدس گرا دیا گیا ۔یہود کو دیس نکالا دیا اور اس طرح یہوداپنے جرائم اور قتل انبیاء کی وجہ سے عذاب الہٰی کا شکار ہو گئے ہدایت سے محروم ہو کر یہود فلسطین سے بے گھر ہو کر پوری دنیا میں منتشر ہو گئے۔ یہود کا یہ دور انتشار کا دورDIASPORRA) کہلاتا ہے۔70ء میں فلسطین سے نکل کر یہودی پوری دنیا میں پھیل گئے۔ مدینہ میں بھی اس دور میں آ کر یہود آباد ہوئے اصفہان میں بھی (سابقہ تعلق کی بنیاد پر) یہود کی پہلی آبادی غالباََ204ء کی ہے۔یہ طویل’’جملہ معترضہ‘‘ اصفہان اور یہود کے باہمی تعلق کے اظہار کے لئے ضروری تھا ضمنی طور پر یہ بات بھی بنی اسرائیل کے بارے میں سامنے رہے تو آگے کا استدلال زیادہ آسانی سے سمجھ میںآجائے گا۔
حضرت عیسیٰdکی آمد پر یہود نے من حیث المجموع ان کا صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ ان کو ستایابھی اور فتویٰ دے کر واجب القتل قرار دیا اور سولی (EXECUTION) کی سزا کے اجراء کے لئے رومی گورنر کے حوالے کردیا وہ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰdکو بچا لیا اور قرآن مجید کے بیان وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ، کے مطابق کوئی اور شخص ان کی جگہ سولی پر چڑھا دیا گیا۔ جبکہ حضرت عیسیٰdکو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ اس واقعہ کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ تورات اور سابقہ انبیاء کی بشارتوں کے مطابق بنی اسرائیل (یہود) کے نزدیک اصلی عیسیٰd ابھی آنے ہیں اور یہود ان کے منتظر ہیں (جبکہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسیٰdاُٹھا لئے گئے تھے وہ ابھی زندہ ہیں اور وہ دوبارہ تشریف لائیں گے)
یہود کے نزدیک ان کی مذہبی پیشگوئیوں کے مطابق ابھی’’عیسیٰ‘‘ نامی پیغمبر آنے والے ہیں ان کے بارے میں ان کا اپنا ایک ذہن ہے وہ کہاں آئیں گے اس کے بارے میں ہم مسلمانوں کو معلومات کی حد تک تحقیق و جستجو تو ہو سکتی ہے اور یہ بات فطری ہے کہ پھر حق و باطل کا کوئی معرکہ گرم ہونے والا ہے۔ تا ہم اس بارے میں ایک واضح اشارہ چند ماہ پہلے ہی سامنے آیا ہے جس کا تعلق اصفہان سے ہے اور جس کے راوی بھی ایک معتبر شخص ہیں اور زندہ ہیں۔
جناب اوریا مقبول جان ایک معروف صحافی اور لکھنے والے ہیں ان کا یہ کالم روزنامہ ایکسپریس میں چھپا ہے جسے بعد میں ہفت روزہ ندائے خلافت لاہور نے اپنے شمارے نمبر27 جولائی 2009ء میں بطور ’’کالم آف دی ویک‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ ہم ندائے خلافت کے حوالے سے اقتباس یہاں درج کر رہے ہیں۔ یہود کے بارے میں اوپر درج تمہیدی باتیں ذرا ذہن میں تازہ کر کے ،سابقہ صدی میں اسرائیل کے فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے پس منظر میں اس حوالہ پر غور کیجئے موصوف لکھتے ہیں۔
’’ اسرائیل کے بننے سے پہلے ایران میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ یہودی آباد تھے لیکن وہ اسرائیل کی آبادی کے لئے وہاں چلے گئے مگر انہوں نے ایک شہر کو نہیں چھوڑا اور وہ شہر تھا اصفہان۔ اس وقت وہاں تیس سے پینتیس ہزار یہود ی آباد ہیں اور ان کی ایرانی پارلیمنٹ میں ایک نشست ہے اس وقت سیاماک موراس رنگ یہودیوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتا ہے۔ تہران میں گیارہ یہودی عبادت خانے اور تین یہودی سکول ہیں۔ ان کا اپنا اخبار دفاع بنا نکلتا ہے ان کی ایک مرکزی لائبریری ہے اور ایران کا سب سے بڑا خیراتی ہسپتال ڈاکٹر سپیئر یہودی ہسپتال ہے یہ ہسپتال اگرچہ یہودی خیرات سے چلتا ہے لیکن اس کے اکثر مریض مسلمان ہوتے ہیں ان کے نزدیک حضرت دانیال dکا مزار بھی یہاں ہے اور اس مزار پر ایک سبز چادر پڑی ہوتی ہے جس پر وہی ستارہ ہے جو اسرائیل کے پرچم پر ہے جسے حضرت دائودd کا ستارہ کہا جاتا ہے اس کے علاوہ اور بہت سے ان کے مزارات ہیں جن پر یہ ایرانی یہودی مستقل حاضری دیتے رہتے ہیں۔
مئی2008ء میں چاہ بہار میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد جب میں تہران کے ہوٹل میں آیا تو مجھے وہاں آسٹریا کا ایک یہودی ربی( یعنی ان کا مولوی) ملا جو اپنے مخصوص لباس میں ملبوس تھا۔ میں نے پوچھا تم یہاں کس لئے آئے ہو؟ کہنے لگا، میں بین المذاہب کانفرنس میں آیا ہوں میں نے پوچھا، یہاں یہ کانفرنس کیوں؟ اس نے کہا کہ ہماری کتب کے مطابق ہمارا مسیح یہاں سے خروج کرے گا اور ہمیں یروشلم واپس دلائے گا۔‘‘
اور یہ بات اب عام ہے کہ قرآن مجید اور احادیث رسولﷺ کی روشنی میں اہل سنت کے عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰdکی تشریف آوری کا بھی وقت قریب ہے اور مغرب میں بھی اس موضوع پر مسلسل کتابیں چھپ رہی ہیں کہ عیسیٰdآیا چاہتے ہیںاور بنی اسرائیل یہود کے اعتقادات کے مطابق ان کے’’مسیح‘‘ کی آمد کا وقت بھی قریب ہے جو اصفہان سے ظاہر ہو گا۔ لہٰذا مستقبل قریب میں اصفہان کی عالمی اہمیت اور سیاست کا محور و مرکز قرار پانا لازمی و لابدی ہے۔ اصفہانقرآن و حدیث کی روشنی میں اہل سنت کے نزدیک
مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور آج بھی اپنے اصل متن کے ساتھ موجود ہے۔ علم و ہدایت کا منبع بھی یہی ہے اور قانون کا ماخذ اوّل بھی یہی آخری کتاب ہے۔ اہل سنت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد علم و قانون کا ماخذ و سرچشمہ احادیثِ رسولﷺ ہیں جن کے سب سے ز یادہ معتبر مجموعے چھ ہیں (صحاح ستہ) صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ترمذی، صحیح نسائی، صحیح ابی دائوداور صحیح ابن ماجہ۔ یہ لفظ ’صحیح‘ جو حدیث کے ساتھ بولا جاتا ہے یہ علم حدیث کی ایک اصطلاح ہے نہ کہ عرفِ عام کا لفظ صحیح کہ اس کے علاوہ باقی سب حدیثیں غلط ہیں۔
صحیح مسلم میں باب الفتن میں قرب قیامت کے احوال میں کئی احادیث مروی ہیں جن میں’’دجال‘‘ کی آمد اور اس کی سرگرمیوں کاتذکرہ ہے اس پس منظر میں یہ حدیث بھی آتی ہے کہ
عن أنس بن مالک ص أنَّ رسُولَ اللّٰہ ﷺ قال یَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ یَہُوْد إَٔصْبَہَانَ سَبْعُوْنَ اَلْفًا عَلَیْہِمُ الطَّیَالِسَۃُ (مسلم)
’’حضرت انس بن مالکhروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اصفہان (اصبہان) کے یہود سے سترہزار دجال کی پیروی کریں گے جنہوں نے (سیاہ) جبّے (GOWN) پہنے ہوں گے‘‘
’’دجل‘‘ عربی لفظ ہے ا س سے فَعَّال اور کذّاب کے وزن پر ’’دجال‘‘ کا لفظ آیا ہے دجال کے لفظی معنٰی ہیں بہت بڑا دھوکے باز۔ یہ دور جس سے ہم گزر رہے ہیں یہ فتنۂ دجال کا دور ہے احادیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک شخص معین بھی آئے گا جو دجال کہلائے گا۔
نبی اکرمﷺنے اہل ایمان کے لئے فتنہ دجال کو تاریخ انسانی کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے اور اس دور میں اہل ایمان پر بہت زیادہ مشکلات اور ابتلائیں ہوں گی آسمان سے حضرت عیسیٰ d اتریں گے اور صحیح ترمذی میں روایت ہے کہ
یَقْتُلُ ابْنُ مَرْیَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدّ
’’حضرت عیسیٰ بن مریم d باب ِ لُد پر دجال کو قتل کریںگے‘‘
’’لُدّ‘‘ یروشلم کا قدیم شہر ہے جو آجکل اسرائیل میں شامل ہے یہاں اسرائیل کا بہت بڑا ائیر بیس(AIR BASE)ہے یہاں حضرت عیسیٰd ’’دجال‘‘ کو قتل کر دیں گے گویا اصفہان سے دجال کے نکلنے کے بعد خیر و شر کی قوتیں صف آرا ہوں گی اور دجال کی عملداری اسرائیل تک پھیل جائے گی جہاں خیر و شر کے ایک معرکے میں دجال حضرت عیسیٰdکے ہاتھوں قتل ہو جائے گا۔
اہل سنت کے نزدیک بھی مستقبل قریب میں اصفہان سے لے کر بحیرہ روم تک خیر و شر کا معرکہ بپا ہونے والا ہے جس میں کئی مرحلوں سے گزر کربالآخر فتح حضرت عیسیٰ dکی معیت میں لڑنے والے لشکر حق( مسلمانوں) کی ہو گی۔
اثنا عشری شیعہ حضرات کے نزدیک اصفہان کی اہمیت
شیعہ مسلک میں اصفہان کی اہمیت اسماعیل صفوی کا اسے دارالحکومت بنانے سے ہی واضح ہے پھر یہاں نقش جہاں اسکوئر جسے امام اسکوئر بھی کہتے ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شہر اور بالخصوص امام اسکوئر بہت اہم مقام ہے۔
اثنا عشری شیعہ حضرات امامت کے قائل ہونے کی بنا پر12اماموں پر یقین رکھتے ہیں۔جس میں حضرت علی h سے لے کر حضرت حسن عسکری m تک گیارہ نامور شخصیات ان کے نزدیک امامت کے منصب پر فائز تھیں جبکہ بارہویں امام ’’مہدی‘‘ پیدا ہوئے تھے اور اس وقت سے اب تک روپوش ہیں ۔ شیعہ مسلک کے مطابق انہیں دوبارہ آنا ہے اور یہ ’’ظہورمہدی‘‘ کا دور شیعہ مسلک کے عروج کا دور ہو گا اور ان پر تاریخ میں جو مشکلات آئی ہیں ان کا ازالہ بھی اسی دور میں ہو گا۔
اصفہان کی اہمیتّ اس وجہ سے بھی ہے کہ امکان غالب ہے کہ شیعہ مسلک کے مطابق ان کے ظاہر ہونے والے بارہویں امام اسی علاقے میں آئیں گے لہٰذا اس پہلو سے بھی اصفہان کی اہمیت نوشتۂ دیوار (WRITING ON THE WALL)ہے کہ شیعہ مسلک کا تابناک مستقبل اسی علاقے سے وابستہ ہے اور یہ علاقہ ان کی اُمیدّوں کا مرکز ہے۔
مستقبل میں عالمی، مقتدر اور مذہبی اہمیتّ کی حامل تین شخصیات اصفہان کے علاقے سے ظہور پذیر ہوں گی۔یعنی بنی اسرائیل (یہود) کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے)،اہل سنت کے نزدیک دجال اور اثنا عشری شیعہ حضرات کے نزدیک ان کے ایک امام غائب کا ظہور ہو گا جو ان کے نزدیک بارہویں امام ہیں اور ’امام مہدی‘ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔لہٰذا___
اس علاقے کا آنے والے دور میں عالمی اہمیت اختیار کر جانا اور عالمی سیاست کا مرکز و محور قرار پانا ایک یقینی امر ہے۔ یہ تینوں عالمی شخصیات بیک وقت ظاہر ہوتی ہیں یا کسی خاص خدائی تدبیر کے تحت آگے پیچھے یا وقفے وقفے سے یکے بعد دیگرے یہ مستقبل کی بات ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اتنی بات یقینی ہے کہ خیر و شر کا ایک بڑا معرکہ مشرق وسطیٰ کے علاقے (اور اس سے ملحقہ ملکوں) میں ہو گا جس سے اولاً بہت بڑی تباہی آئے گی اور بالآخر مسلمانوں کے حق میںخیر بر آمد ہو گا۔
ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آنے والے ان حالات میں مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت فرمائے انہیں فتنہ کے دور میں حق کا ساتھ دینے کی توفیق دے اور اس معرکے کو اُمتّ مسلمہ کے لئے فتح و کامرانیاں کی نوید بنا دے(آمین)
(یاد رہے کہ اہل سنت کے نزدیک بھی قربِ قیامت میں ایک مسلمان رہنما سامنے آئے گا جو مسلمانوں کو فتح دلائے گا مگر وہ مکہّ مکرمہ کے علاقے میں ہوگا اس کالقب بھی احادیث میں ’’مہدی‘‘ یعنی ہدایت یافتہ آیا ہے اس سے غلط فہمی کا امکان ہے جسے دور کرلینا چاہیے)۔
ہمیں ان سطور کے لکھنے اور اصفہان کو عالمی سیاست کا مرکز قرار پانے سے صرف اتنی دلچسپی ہے کہ یورپی استعمار کا خاتمہ ہو گا اور امریکی بے رحم، ظالم اور انسان نما حیوان (BEASTS) کارپردازوں اور منصوبہ سازوں کا غرور و استکبار خاک میں مل جائے گا اور ایرانی صدر کے ایک اخباری بیان میں دی گئی دھمکی (اور خواہش ) پوری ہو جائے گی کہ اسرائیل (صہیونیت ) کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ بقول برٹرینڈرسل مغرب سے طاقت و اقتدار کا ’’ہما‘‘ مشرق میں آجائے گا اور اس طرح آنے والے دورمیں سیکولرازم کی جگہ خداپرستی اورلبرل ازم کی جگہ شرم و حیا اور اخلاق کا دور دورہ ہو گا جس سے صرف اس علاقے کے لوگ ہی نہیںکل روئے ارضی پر موجود ساری انسانیت سکھ کا سانس لے سکے گی اور انسانی اخوت، مساوات اور حقیقی آزادی کا خواب حقیقت بن جائے گا۔بقول اقبال
؎ پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com