کپتان سیاست دان نہیں بلکہ محب وطن ہے


کپتان سیاست دان نہیں بلکہ محب وطن ہے
ؑعمران امین
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کافی عرصے بعد ایک مخلص اُور دیانتدارعوامی رہنماء اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوا تو ایک بھونچال سا آگیا۔کیا سرکاری مشینری اُور کیا پرائیویٹ ادارے ہر طرف ایک خوف نظر آتا تھا۔سب محسوس کرتے کہ کوئی چھپی آنکھ انہیں دیکھ رہی ہے۔وزیر اعظم پاکستان نے اقتدار میں ّآنے کے بعدجب چوروں اُور ڈاکوؤں کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو پُرانے سیاسی اداکاروں کو پسند نہ آیا کہ اُن جیسے عالی شان لوگوں اُور اقتدار کے پجاریوں سے حساب کتاب مانگا جائے۔چنانچہ سازشوں کے جال اُور مکر فریب کی چال کے ساتھ نئے سٹیج سجائے جانے لگے۔کھلاڑی نیا ضرور تھا مگر خزانہ بھی خالی تھا چنانچہ کچھ عوامی ریلیف دینا تو درکنار،حکومتی ادارے تک چلانا مشکل تھا۔ایسے میں حکمت اُور بصیرت کے ساتھ دُوست ممالک سے امداد لے کر وقت گزارا گیا۔آہستہ آہستہ معاشی حالات بہتر ہونے لگے اُور سازشیں بھی ناکام ہونے لگیں کہ اچانک اللہ کی جانب سے دنیا پر سختی کاموسم آگیا۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ”کورونا“ متاثرین کی تعداد اب تک تقریباًپونے بائیس لاکھ ہو چکی ہے اُور ہلاکتیں ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی ہیں۔ویسے تو یہ وبا عالمگیر ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اس بیماری سے متاثرہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان اُور متاثرین کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ڈاکٹرز اُور طبی عملے کی کمی ہو گئی ہے اُورقبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس وبا سے دنیا کی معیشت پر انتہائی بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ساری دنیا میں صنعتیں بند،سرکاری اُور پرائیویٹ دفاتر بند،روزگار بند،دکانیں بند،ٹرانسپورٹ بند غرضیکہ عوام گھروں میں بند ہیں۔اس مرض کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بھی انتہائی کم ہو گئی ہے اُور امریکہ کی موجودہ تاریخ میں پہلی بار تیل کی قیمت منفی میں آئی ہے۔ 45ہزار سے زائد امریکیوں کے مرنے سے خودصدر ٹرمپ کنفیوز دکھائی دیتے ہیں اسی لیے کبھی وہ چین کو اُور کبھی WHOکو اس وبا کے پھیلنے کا سبب سمجھتے ہیں۔یہ تو دنیا کے طاقتور ملک کی معاشی حالت اُور اُس کے صدر کا طرز عمل ہے۔مگر وہ جو سیانے کہتے ہیں ”جنوں مولا نہ مارے،اُنوں کوئی نئی مار سکدا“۔ مشکل حالات میں نازک صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے عمران خان نے عالمی مالیاتی اداروں اُور ترقی یافتہ ممالک سے 12اپریل کو خطاب کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو اقتصادی ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔اس مطالبہ کو نہ صرف سُنا گیا بلکہ پھر اُسی طرح ہوا جس طرح ہمارے کپتان نے چاہا۔دنیا کی معاشی طاقتوں نے پاکستان سمیت دنیا کے 76ممالک کے قرضوں کو ایک سال تک ری شیڈول کرنے کا علان کر دیا۔اس اعلان کے مطابق قرضوں کو ری شیڈول کرنے پرعملدرآمد یکم مئی سے ہو گا۔اس اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف نے غیر مشروط اُور فوری طور پر 1.4ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان کر دیا۔اُمید ہے کہG-20اُور IMFکے ان فیصلوں سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اُور پاکستان کو اس مشکل صورتحال سے نکلنے میں آسانی بھی ہو گی۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ”کورونا وائرس“ کی شکل میں آنے والی آزمائش اُور اس دُوران کیے گئے فیصلے حکومتی حلقوں کی اہلیت و صلاحیت کا بھی امتحان ہیں۔اس آزمائش میں کیے گئے درست فیصلے ہی ملک کو بحران سے نکال کر ترقی کی طرف لے جائیں گے۔لیکن معمولی سی غلطی بھی بعض ایسے ہولناک اثرات کا سبب بن سکتی ہے کہ جن کی تلافی کبھی بھی ممکن نہ ہو سکے گی۔ابھی تک حکومتی ٹیم اپنے بہترین فیصلوں کے ساتھ اس بیماری کوکنٹرول کرنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ دوسری طرف دلیر اُور نڈر عمران خان اپنے انتخابی نعرے”سب کا احتساب ہو گا“ پر پوری طرح عمل کرتے نظر آتے ہیں۔حال ہی میں اُن کی جانب سے منظر عام پر آنے والی ”شوگر،آٹا“ رپورٹ نے عوام کو بتا دیا ہے کہ اُن کا سچالیڈر اپنے وعدے پر قائم ہے اُور اس نازک موقع پر بھی وہ کسی قسم کا NROنہیں کرے گا۔حکومت نے ذخیرہ اندوزں،سمگلروں،مصنوعی منافع خوروں،ملاوٹ مافیا اُور جعلی مہنگائی کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف بھی ایک آرڈیننس جاری کر دیاہے۔ جس کے تحت مجرموں کو قید اُور جرمانہ ہوگا۔ اب پی ٹی آئی حکومت نے ایک اُور بڑا فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئی پی پیز کی رپورٹ بھی پبلک کرے گی۔اس فیصلے سے اپوزیشن سمیت یقیناً حکومتی حلقوں میں بھی سخت بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ بہت سے موجودہ وزراء پچھلی حکومتوں میں بھی وزارتوں کے پنگوڑہے جھولتے رہے ہیں اُور ماضی میں اختیارات کی بہتی گنگا میں انہوں نے خوب نوٹ کمائے ہیں۔اب چونکہ سب کو ڈر ہے کہ ”سب پھڑے جان گے“،لہذا سازشوں کا نیا جال بُنا جارہا ہے تاکہ اپنی جان،مال،اولاد اُورسیاست کو بچایا جا سکے۔چنانچہ حکومتی تبدیلی کی ناکام کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔لیکن اب ان لٹیروں، چوروں اُور ڈاکوؤں کے یوم احتساب کا وقت آگیا ہے۔”شوگر اُور آٹا“ رپورٹ اُور ”آئی پی پیز“رپورٹ میں ممکنہ طور پر شامل نام نہاد قائد عوم،خادم عالیٰ اُور پاکستان کھپے جیسے غدار وطن اُور عوام دشمن بُری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔آخر میں پاکستانی سیاسی قیادت کی ساخت، جنم بھومی اُور اجزائے ترکیبی کے بارے میں مرحوم آغا شورش کاشمیری کی ایک لازوال مختصر تحریرپیش خدمت ہے ”ہمارے ہاں لیڈر بنتے ہیں دُولت کی فراوانی سے،سرکار کی خوشنودی سے،وزارت کے راستے سے،کرسی کے فضل سے،غنڈوں کی رفاقت سے،اخباروں کی پبلسٹی سے،ورکنگ جرنلسٹوں کے قلم سے،حکام کی جاسوسی سے،اکابر کی ذریت سے، بادہ خوانوں کی چوکھٹ سے،اسلام کی مجاوری سے۔ جبکہ دُوسرے ممالک میں لیڈرز بنتے ہیں نفس کی قربانی سے،دولت کے ایثار سے،جان کے زیاں سے،خدمت کی راہ سے،علم کے کمال سے،نگاہ کی بصیرت سے،عوام کی رفاقت سے،عقائد کی پختگی سے،اُصول کی پیروی سے،نصب العین کی محبت سے اُور قید خانوں کی ضرب سے“۔شکر ہے ہماراکپتان سیاست دان نہیں بلکہ ایک محب وطن پاکستانی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com