افغان حکومت طالبان معاہدہ امریکہ امن کی راہ اختیار کرے

افغان حکومت طالبان معاہدہ امریکہ امن کی راہ اختیار کرے ۔
چیئرنگ کراس سید عارف نوناری۔
شائد کولمبو نے جب امریکہ دریافت کیا تھا تو اس کو یہ پتہ نہیں تھا کہ امریکہ کسی نہ کسی دن دنیا کے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کرے گا۔ دنیابھر میں جتنے بھی ممالک ہیں وہ خود مختار نہیں۔ ریاست اور حکومت عوامی ضروریات کے مطابق اپنے حکومتی فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں کسی بھی ممالک کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس کی ریاست اور حکومتی امور میں مداخلت کرے اگر چہ بین الاقوامی برادری تجارتی،صنعتی،اشیاء خوردو نوش کے سبب ایک کڑی میں جڑی ہوئی ہیں۔ لیکن اپنی حدوقیود کے دائرہ میں رہ کر اپنی حکومتیں چلارہی ہیں۔کچھ بین الاقوامی اثرسے پسماندہ اور ترقی یافتہ ممالک میں غربت اور ان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے آگے آتے ہیں۔لیکن کسی کی خود مختاری اور ریاستی و حکومتی امور میں دخل اندازی کا کسی ملک کو کسی دوسرے ملک میں حق نہیں۔ اس سے اس ملک کے ذاتی امور اور داخلی خود مختاری متاثر ہوئی ہے۔ لیکن دنیا میں امریکہ کے کردار کو دیکھیں تو اس نے یمن، شام،عراق،ایران،افغانستان اور دیگر ممالک میں ہمیشہ بلا جواز مداخلت کی ہے اور مداخلت کرتا ہے۔ اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور نتائچ کیا نکلتے ہیں کہ اس کی بے جا مداخلت سے دنیا بھر ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا نقصان بل آخر امریکہ کو ہتھیاروں کی صورت میں،بد امنی کی صورت میں،افواج اور مالی تصرف میں امریکہ کو ہی ہوتا ہے۔ اس کو اتنے سالوں کے بعد بھی اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ وہ بیرون ممالک کے فوجی،داخلی،انتظامی اور سیاسی امور میں بے جامداخلت کم کرکے خود بھی امن کی زندگی بسر کرے اور دوسروں کو بھی امن و سکون سے رہنے دے۔ اپنا اتنا نقصان اور افواج کو جنگوں میں جھونک کر بھی اسے ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی دہشت گردی کے خاتمہ کا دنیا بھر میں ٹھیکہ اس نے لیا ہو ا ہے۔ غربت کے خاتمہ بے روز گاری کے خاتمہ، معاشی مشکلات کی صورتوں میں دنیا بھر کے ممالک کی امداد کے ادارے بنے تو جن کا کام میرٹ اور کچھ ایسی بنیادوں پر کام کرنا ہے۔ لیکن امریکہ کی ان بین الاقوامی اداروں میں مداخلت ہے اور وہ اس بھول میں ہے کہ یہ ان اداروں کا سربراہ یا ممبر ہے۔ دنیا میں جو بھی ملک سر اٹھا تا ہے۔ امریکہ اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے اور اپنی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے ہر طرح کے ہتھ کھنڈے استعمال کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ ممالک کا آپس کا خارجی تعلقات،معاشی تعلقات، ترقیاتی تعلقات کی تو ضرورت ہے۔ کیونکہ دنیا ایک گلوبل ویلج ہے۔ ایک دوسرے پر انحصار ضروری ہوگیا ہے۔ لیکن کسی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی بھی ملک کے داخلی،سیاسی اور اندرونی حالات میں مداخلت کرے اور اس ملک کی داخلیت یا سالمیت کو نقصان پہنچائے۔ ابھی تک دنیا کے حکمرانوں کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ امریکہ کا ایسا رویہ کیوں ہے اور اپنے جنگی اور معاشی وسائل بے جا استعمال کرکے اس کو کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ا س کی ملکی پالیسیاں ایسی کیوں ہیں۔دیگر ممالک لابھی سسٹم میں کیوں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ امن پسند رہنے کا اس کو کیوں شوق نہیں ہے۔ اور اپنے انتظامی امور اور انتظامی طاقت کو مثبت طریقہ سے کیوں استعمال نہیں کرتا ہے۔یہ وہ سوالات ہیں جو امریکہ کی عوام کو سوچنے چاہیے اور اپنی ریاست و حکومت کی سوچ کی بہتری کے لیے کردار ادا کرناچاہیے۔تجزیہ کاروں کو پتہ ہے کہ اس کے مقاصد کیا ہیں۔ اب پوری دنیا ایک خطرناک وباء کی زد میں ہے۔ شائد امریکی حکام کو ابھی تک یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ اس وبائی مرض میں امریکہ ہیں کیوں سب زیادہ متاثر ہے۔ کیونکہ اس نے اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ اسلامی ممالک میں بالا وجہ مداخلت اور ان کے اسلامی نظاموں میں اللہ کی مرضی میں مداخلت کی سزا ہے۔ امن پسندی اسلام میں بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ اور امن پسندی سے اسلام دنیا بھر کے افراد کو رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ امریکہ اپنے گناہوں کا اب خود ہی اندازہ لگالے۔ کہ کن جرائم کی سزا اس کو مل رہی ہے اور امن پسندی کے لیے اس نے کتنے ممالک کو نشانہ بنایا بنا رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد 18 سال سے اس کی افغانستان میں افواج نے افغانستان کی خود مختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچایاہے۔ کئی ممالک اتنے سالوں سے کہہ رہے تھے کہ افغان امن کا حال باہمی مذاکرات سے ہے۔ با لا آخر امریکہ کو افغانستان طالبان سے مذاکرات کرکے معاہدہ کرنا پڑ ا ہے۔ اس معاہدہ کی روشنی میں طالبان افغان سر زمین امریکہ یا اس کے کسی اتحادی کے خلاف کسی فرد یا تنظیم یا گروہ کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ افغانستان سے امریکی و اتحادی فوجوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان 10 مارچ سے اکثر افغان مذاکرات کا عمل شروع کر سکیں گے۔ بین الاافغان مذاکرات کے بعد سیاسی عمل کے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس معاہدہ پر عملی طور پر کا م شروع ہوگیا ہے۔ اور طالبان کے 100 قیدی حلفیہ بیان دینے کے بعد رہائی پاچکے ہیں۔ افغان قومی سلامتی کونسل کے باقی افغان قیدیوں کو جلد رہائی کا کہا ہے۔ قیدی کی رہائی کے بعد امریکی اور اتحادی افواج کا انخلاء ابھی تک نہیں ہوا۔ جس کو اس معاہدے کے تحت ابھی کچھ ماہ درکار ہیں۔ اب دیکھیں ایک طرف افغانستان میں افغان حکومت ہے۔ جس کو امریکی افواج اور اتحادی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اور وہی ملک کے پاشندے طالبان اپنے ملک کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ضیاء الحق نے افغانستان اشو پر حد سے زیاہ تجاوز کر کے افغانستان کے ہزاروں مہاجرین کو پناہ دی اور افغان اشو پر بھرپور کردار بھی ادا کیا۔لیکن اسی کے ساتھ ضیاء الحق نے اپنے ملک کی سالمیت کو داہ پر لگایااور افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ ملکی سالمیت کو نقصان پہنچایا اب ایک طرف بین الاقوامی معاملا ت میں امریکہ پھنسا ہوا ہے اور دوسری طرف اس کو کرونا جیسی وبائی مرض نے اس کا جینا حرام کر دیا ہے ساری دنیا پریشانی اور مُصیبت کے عالم میں ہے۔امریکہ میں لاکھوں مریض اور ہزاروں اموات کے بعد ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔افغان اس معاہدے کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے۔اور افغانستان سے امریکی اور اتحادیوں کی بے جا مداخلت سے ہمسایہ ممالک بھی امن اور سکون کا سانس لے کرافغانستان کی شکست و ریخت اورسنبھالا دے سکے تو افغانستان کی میعشت اور بحالی سے وہاں خوش حالی اور پر فضا ماحول سے عوام اطمینان زدنگی گزارنے کے لیئے۔نارمل حالات میں رہ سکتے ہیں افغان اشو سے پاکستان کو درپیش مشکلات و مصائب میں کمی ممکن ہے دنیا کے اکثر ممالک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کہہ رہے تھے کہ امن اور باہمی مذاکرات سے ہی افغان مسلہء کا حل ممکن ہے ۔شکر ہے کہ دیر آئے درست آئے۔امریکہ کو دیر کے بعد ہی سمجھ آئی۔امریکہ سے بندہ پوچھے کہ اٹھارہ سال افغان امن تباہ کر کے اسے کیا ملا۔اور بے چینی غیر یقینی حالات کے سبب افغانستان جو معاشی اور سیاسی طور پر اتنا پیچھے چلا گیا پتا نہیں اسے اپنی اصلی صور ت میں آنے کے لئے کتنے سال درکار ہوں۔چنانچہ ممالک کے پس کے جھگڑے اور اشوز کو حل کرنے کے ذمہ دار اس کی ریاست اور حکومت ہوتی ہے۔امریکہ دنیا کے ممالک کی شکست وریخت چھوڑ دے تاکہ ممالک تباہی و بربادی سے بچ جائیں۔اور ان کی خود مختاری اور سالمیت بھی قائم رہے۔کرونا وبا اسی تناظر میں اس پر عذاب ِ الہی ہے جس سے امریکہ کو سبق سیکھا کر دنیا میں امن و فضا قائم کرنے میں دنیا کو کردار ادا کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com