……. بحیثیت ایک بادشاہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں یا پھر بحیثیت شاعر و ادیب

ظہیر الدین بابر:
……. بحیثیت ایک بادشاہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں یا پھر بحیثیت شاعر و ادیب
              گل بخشالوی
   ممتاز کالم نگار( بی بی سی دہلی) مرزا اے بی بیگ لکھتے ہیں کہ انگریزی کے معروف ناول نگار ای ایم فوسٹر لکھا ہے کہ جدید سیاسی فلسلفے کے موجد میکیاویلی نے شاید بابر کے بارے میں نہیں سنا تھا کیونکہ اگر سنا ہوتا تو ’دی پرنس‘ نامی کتاب لکھنے کے بجائے ان (بابر) کی زندگی کے بارے میں لکھنے میں ا ±ن کی دلچسپی زیادہ ہوتی کیونکہ وہ ایک ایسا کردار تھے جو نہ صرف کامیاب تھے بلکہ جمالیاتی حس اور فنکارانہ خوبیوں سے بھی سرشار تھے۔
مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر (1530-1483) کو جہاں عظیم فاتح کے طور پر دیکھا اور بیان کیا جاتا ہے وہیں کئی حلقوں میں انھیں ایک بڑا فنکار اور عظیم ادیب بھی مانا جاتا ہے۔بابر سے متعلق ماہر تاریخ دان سٹیفن ڈیل نے لکھا ہے کہ یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ بابر بحیثیت ایک بادشاہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں یا پھر بحیثیت شاعر و ادیب وہ زیادہ قابل قدر ہیں۔
آج کے انڈیا میں اکثریتی ہندو طبقے کے ایک خاص نظریہ کے حامل افراد میں بابر کو حملہ آور، لٹیرا، غاصب، ہندو دشمن، ظالم و جابر بادشاہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ بات صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ انڈیا کی برسراقتدار جماعت صرف بابر ہی نہیں مغلیہ سلطنت سے منسوب ہر چیز کے خلاف نظر آتی ہے۔آج سے تقریباً پانچ سو برس قبل بابر نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو اپنے آپ میں بینظیر ہے۔ انھوں نے سنہ 1526 میں پانی پت کی پہلی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست فاش دے کر ہندوستان میں ایک ایسی سلطنت قائم کی جس کے قبضے میں اپنے عروج کے زمانے میں دنیا کی ایک چوتھائی سے زیادہ دولت تھی اور جس کا رقبہ تقریبا پورے برصغیر بشمول افغانستان پر محیط تھا۔لیکن بابر کی زندگی جہد مسلسل سے تعبیر ہے۔ آج کی دنیا کے لیے بابر کا سب سے بڑا تعارف ان کی اپنی سوانح حیات ہے۔ ان کی اس تصنیف کو آج ’بابر نامہ‘ یا ’تزک بابری‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
دہلی کی سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ تاریخ کی سربراہ نشاط منظر کہتی ہیں کہ بابر کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک حصہ ماروانہر کے علاقے میں دریائے سیحوں (سیر دریا) اور دریائے جیحوں (آمو دریا) کے درمیان وسط ایشیا میں تسلط کی جدوجہد پر محیط ہے اور دوسرا دور بہت مختصر ہے لیکن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ محض چار سال میں انھوں نے ہندوستان کی ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی جو تقریبا تین سو سال تک چلتی رہی۔
 آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک سٹڈیز میں ساو ¿تھ ایشین اسلام کے فیلو معین احمد نظامی نے بی بی سی کو بتایا کہ تیموری اور چنگیزی نسل سے تعلق رکھنے والے بابر نے اپنے والد عمر شیخ مرزا سے ایک چھوٹی سی ریاست ’فرغنہ‘ ورثے میں پائی تھی جس کی پڑوسی ریاستوں پر ان کے رشتہ داروں کی عملداری تھی۔وہ بتاتے ہیں کہ ’یہاں تک کہ انھیں اپنے وطن کو بھی گنوانا پڑ گیا اور اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ صحرا نوردی اور مہم جوئی میں گزارا۔ اپنے وطن کو دوبارہ حاصل کرنے کی ان کی کوششیں ناکامیوں کا شکار ہوتی رہیں، یہاں تک کہ حالات نے انھیں ہندوستان کی جانب ر ±خ کرنے پر مجبور کیا۔‘بابر نے اپنی سوانح عمری میں اس وقت کی اپنی پے در پے ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ‘جتنے دن تاشقند میں رہا اتنے دن میں نے بے حد تنگی اور مصیبت اٹھائی۔ نہ ملک قبضے میں تھا اور نا اس کے ملنے کی امید تھی۔ نوکر چاکر اکثر چلے گئے تھے، جو کچھ پاس رہ گئے تھے وہ مفلسی کے سبب میرے ساتھ پھر نہ سکتے تھے آخر ایسی سرگردانی اور اس بے گھر ہونے سے میں تنگ آ گیا اور زندگی سے بیزار ہو گیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ ایسی سختی کے جینے سے بہتر ہے کہ جدھر سینگ سمائیں ادھر چلا جاو ¿ں۔ ایسا چھپ جاو ¿ں کہ کسی کی نظر نہ پڑے۔ لوگوں کےسامنے ایسی ذلت و بد حالی سے رہنے سے بہتر ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دور نکل جاو ¿ں، جہاں مجھے کوئی نہ پہچانے، یہ سوچ کر خطا (شمالی چین) جانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ مجھے بچپن سے ملک خطا کی سیر کا شوق تھا مگر سلطنت اور تعلقات کے سبب نہ جا سکتا تھا۔‘معین احمد نظامی نے بتایا کہ انھوں نے اس طرح کی چیزیں دوسری جگہ بھی لکھی ہیں۔ ایک جگہ لکھا ہے ’کیا اب بھی کچھ دیکھنا رہ گیا ہے، اب کون سی قسمت کی ستم ظریفی اور ظلم و ستم دیکھنا رہ گیا ہے۔‘ایک شعر میں انھوں نے اپنی کیفیت کا اظہار کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’نا تو اب میرے پاس دوست و احباب ہیں نہ ملک و مال ہے، مجھے ایک پل کا بھی قرار نہیں۔ یہاں آنے کا فیصلہ میرا تھا لیکن اب میں واپس بھی نہیں جا سکتا۔‘
بابر کے اسی ہیجان انگیز اور تلاطم خیز حالات کی تصویر کشی ڈاکٹر پریمقل قادروف نے اپنی سوانحی ناول ’ظہیر الدین بابر‘ میں کی ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ ’بابر دم لینے کے لیے ذرا رکا لیکن اس نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔ سب کچھ فانی ہے۔ بڑی بڑی سلطنتیں تک اپنے بانیوں کے دنیا سے اٹھتے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں۔ لیکن شعرا کا کلام صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔‘انھوں نے اپنا ایک شعر کبھی جمشید بادشاہ کے ذکر کے بعد ایک جگہ پتھر پر کندہ کرا دیا تھا جو اب تاجکستان کے ایک میوزیم میں ہے۔ وہ ان کے حالات کی ترجمانی کرتا ہے۔اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ دنیا پر طاقت اور ہمت سے قبضہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن خود اپنے آپ کو دفن تک نہیں کیا جا سکتا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھے۔ بابر میں کسی پہاڑی چشمے کی سی قوت تھی جو سنگلاخ زمین کو چیر کر بلندی سے اس قوت کے ساتھ نکلتا کہ ساری زمین کو سیراب کرتا۔ چنانچہ پریمقل قادروف نے ایک جگہ اس کیفیت کا بیان اس طرح کیا ہے۔’اس وقت بابر کو طاقتور چشمے کا نظارہ بہت محظوظ کر رہا تھا ۔ بابر نے سوچا اس چشمے میں پانی پیریخ گلیشیر سے آتا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پانی کو پیریخ سے نیچے آنے اور پھر آسمان پائے لاو ¿ پہاڑ کی چوٹی تک چڑھنے کے لیے دونوں پہاڑوں کے درمیان واقع گھاٹیوں کی گہرائیوں سے کہیں زیادہ گہرائی تک جانا پڑتا تھا۔ پانی کے چشمے کو اس کے لیے اتنی قوت آخر کہاں سے مل رہی تھی؟ بابر کو ایسے چشمے سے خود اپنی زندگی کا موازنہ بہت موزوں اور اچھا لگا۔ وہ خود بھی تو ٹوٹ کر گرنے والی چٹان کے نیچے آ گیا تھا۔‘
  بابر کی توجہ ہندوستان کی جانب کیونکر مبذول ہوئی اس کی مختلف توجہیات پیش کی جا سکتی ہیں لیکن پروفیسر نشاط منظر کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی جانب ان کی توجہ بہت معقول تھی کیونکہ کابل میں محصول لگانے کے لیے صرف ایک چیز تھی اور حکومت کے انتظام و انصرام کے لیے دولت کی انتہائی ضرورت تھی اس لیے بابر کے پاس ہندوستان کی جانب رخ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ دریائے سندھ کو عبور کرنے سے قبل وہ پہلے بھی کئی مرتبہ ہندوستان کے مغربی حصے پر حملہ آور ہو چکے تھے اور وہاں سے مال غنیمت حاصل کر کے واپس کابل چلے گئے تھے۔ بابر اپنی سوانح حیات کی ابتدا جس انداز سے کرتے ہیں کسی بارہ سال کے لڑکے سے اس قسم کی ہمت اور اول العزمی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ لیکن بابر کے خون میں حکمرانی کے ساتھ بہادری شامل تھی۔
نشاط منظر کہتی ہیں کہ انھیں قسمت اور ضرورت دونوں ادھر کھینچ لائے تھے ورنہ ان کی ابتدائی ساری کوششیں شمال کی جانب وسط ایشیا میں اپنے باپ دادا کی سلطنت کو مستحکم کرنے اور ایک عظیم سلطنت قائم کرنے پر مبنی تھی۔ یہ بحث کا علیحدہ موضوع ہے کہ آیا رانا سانگا یا دولت خان لودھی نے انھیں دہلی کی سلطنت پر حملہ کرنے کی دعوت دی یا نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ آج کے جمہوری اقدار سے ہم سلطانی کے دور کی پرکھ نہیں کر سکتے۔ اس زمانے میں جو جس جگہ جاتا اور فاتح ہوتا تو اسے وہاں کے عوام و خواص دونوں قبول کرتے ناکہ اسے حملہ آور سمجھتے۔
لیکن بابر کے ہندوستان کے خواب کے بارے میں ایل ایف رش بروک نے اپنی کتاب ’ظہیر الدین محمد بابر‘ میں لکھا ہے کہ سب سے تھک ہار کر بابر نے دیخ کات نامی گاو ¿ں میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ا ±س نے پرخلوص طریقے پر خود کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔ اپنے تمام دعووں کو ترک کر دیا اور محض ایک سادہ مہمان کی طرح گاو ¿ں کے مقدم (سردار) کے گھر رہنے لگا۔ یہاں ایک ایسا سابقہ پڑا جس کے متعلق قسمت نے یہ طے کر دیا تھا کہ جس سے بابر کی آئندہ کی زندگی کی تشکیل پر ایک اعلی ترین اثر پڑے گا۔ مقدم کی عمر ستر یا اسی برس ہو گی مگر ان کی والدہ 111 سال کی تھیں اور وہ بقید حیات تھیں۔۔۔ اس بوڑھی خاتون کے کچھ رشتہ دار تیموربیگ کے لشکر کے ساتھ ہندوستان گئے تھے۔ یہ بات ان کے ذہن میں تھی اور وہ اس کا قصہ سنایا کرتی تھیں۔‘ بابر کے بزرگوں کے کارناموں کی کہانیوں نے نوعمر شہزادے کے تخیلات میں ایک جوش و ہیجان پیدا کر دیا اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ اس وقت سے ہی ہندوستان میں تیمور کی فتوحات کو تازہ کرنے کا خواب اس کے ذہن کے پس منظر میں مسلسل قائم رہا۔‘
جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں اسسٹنٹ پروفیسر رحما جاوید راشد کا کہنا ہے کہ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ بابر والد کی جانب سے تیمور خاندان کی پانچویں پشت میں سے تھے جبکہ والدہ کی جانب سے وہ عظیم فاتح چنگیز خان کی 14ویں پشت میں سے تھے۔ اس طرح ایشیا کے دو عظیم فاتحین کا خون بابر میں شامل تھا جو انھیں دوسرے علاقائی فرمانرواو ¿ں پر فوقیت دیتا تھا۔ کم عمری میں بادشاہ بننے اور اس قدر جنگی مہمات اور دربدری میں انھیں علم و ہنر کے میدان میں کیونکر یہ مرتبہ حاصل ہے تو انھوں نے کہا کہ بابر جہاں بھی گئے ان کے ساتھ ان کے استاد بھی جاتے تھے اور وہ ہر طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا پسند کرتے تھے اور علی شیر نوائی جیسے شاعر کی تو انھوں نے خاص طور پر سرپرستی کی تھی۔ بابر نے اپنے بارے میں جس کھلے انداز میں بیان کیا ہے وہ کسی دوسرے بادشاہ کے بارے میں نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی شادی، محبت، شراب نوشی، صحرا نوردی، توبہ اور اپنی دلی کیفیت تک ہر بات کا ذکر کیا ہے۔
سٹیفن ڈیل نے اپنی کتاب ’گارڈن آف ایٹ پیراڈائز‘ یعنی ’باغ ہشت بہشت‘ میں بابر کی نثر کو ’الہامی‘ قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اس قدر براہ راست ہے جس طرح آج 500 سال بعد لکھنے کا طرز عام ہے یا جس طرح لکھنے کی آج بھی ترغیب دی جاتی ہے۔ انھوں نے اس کے متعلق کس طرح اپنے بیٹے ہمایوں کی اصلاح کی تھی اور لکھا تھا کہ ’تمہاری تحریر میں موضوع گم ہو جاتا ہے‘ اس لیے براہ راست لکھنے کی تلقین کی تھی۔اردو کے معروف شاعر غالب نے تقریبا تین سو سال بعد اردو میں جو طریقہ تحریر ایجاد کیا اور جس پر انھیں فخر بھی تھا اس طرح کی صاف و سادہ نثر بابر نے ان سے پہلے اپنے جانشینوں کے لیے لکھ چھوڑی تھی۔
بابر نامہ پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان کی پہلی شادی ان کی چچا زاد بہن عائشہ سے ہوئی تھی جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جو 40 دن بھی زندہ نہیں رہ سکی لیکن بابر کو ان کی اپنی بیگم سے کوئی الفت نہ تھی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’ا ±ردو بازار میں ایک لڑکا تھا۔ بابری نام جس میں ہم نامی کی بھی ایک مناسبت تھی۔ انھی دنوں مجھے اس کے ساتھ عجیب سا لگاو ¿ پیدا ہو گیا
اس پری وش پہ کیا ہوا شیدا،،،بلکہ اپنی خودی بھی کھو بیٹھا،،
ان کا ایک فارسی شعر یہ ہے:
ہیچ کس چوں من خراب و عاشق و رسوا مباد۔،،ہیچ محبوب چو ت وبے رحم و بے پروا مباد
مگر حال یہ تھا کہ کبھی بابری میرے سامنے آ جاتا تو مارے شرم کے میں نگاہ بھر کر اس کی طرف نہ دیکھ سکتا تھا۔ چہ جائے کہ اس سے مل سکوں اور باتیں کر سکوں۔ اضطراب دل کی یہ کیفیت تھی کہ اس کے آنے کا شکریہ تک ادا نہ کر سکتا تھا۔ یہ تو کہاں کہ نہ آنے کا گلہ زبان پر لا سکتا تھا اور زبردستی بلانے کی مجال ہی کس کو تھی۔۔۔‘
 بابر کی محبو ب ترین اہلیہ ماہم بیگم تھیں جن کے بطن سے ہمایوں پیدا ہوئے تھے جبکہ گلبدن بیگم اور ہندال و عسکری اور کامران دوسری بیویوں سے پیدا ہوئے تھے۔
پروفیسر نشاط منظر کہتی ہیں کہ بابر نے 21 سال تک زاہدانہ زندگی گزاری لیکن پھر انھیں ارباب نشاط کے ساتھ شراب کی محفلیں راس آنے لگیں۔ چنانچہ ان کی محفلوں میں شراب نوش خواتین کا بھی ذکر ہے اور بابر نے اس کے ذکر کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ وہ اپنے والد کے بارے میں بھی لکھتے ہیں کہ انھیں شراب کی عادت تھی اور معجون بھی کھانے لگے تھے جبکہ ہمایوں کے بارے میں تو مشہور ہی ہے کہ انھیں افیم کھانے کی لت تھی۔ بابر نے جب شراب سے توبہ کی تو وہ ان کی حکمت عملی تھی۔ ان کے سامنے انڈیا کا سب سے بڑا جنگجو رانا سانگا تھا جو اس سے پہلے کبھی کسی جنگ میں شکست سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ بابر کی فوج پانی پتکی لڑائی کے بعد نصف رہ گئی تھی اور جنگ کے دوران ایک ایسا مرحلہ آیا جب بابر کو شکست سامنے نظر آ رہی تھی تو اس نے پہلے ایک شعلہ بیان تقریر کی اور پھر توبہ کی۔
بعض علما کا خیال ہے کہ بابر کی اس سچی توبہ کے سبب اللہ نے مغلوں کو ہندوستان میں تین سو سال کی سلطنت عطا کر دی۔ لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تاریخ کے استاد پروفیسر رضوان قیصر کا کہنا ہے کہ یہ بابر کے عمل کی مذہبی توضیح تو ہو سکتی ہے لیکن اس کی تاریخی حیثیت نہیں کیونکہ اسے کسی طرح ثابت نہیں کیا جا سکتا البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بابر نے جنگ جیتنے کے لیے مذہبی جوش و خروش بیدار کرنے کا استعمال ضرور کیا تھا۔اس سے قبل جب بابر نے اپنے آبائی وطن فرغنہ کی بازیابی کے لیے ایران کے بادشاہ سے حمایت حاصل کی تھی اور خود کو شیعہ کہا تھا تو اس وقت کے وہاں کے ایک بڑے عالم نے بابر کو بہت برا بھلا کہا تھا اور اس کی مخالفت پر اتر آئے تھے۔ بابر نے بہت جگہ اپنے دشمن مسلم حکمرانوں کے لیے بھی ’کافر‘ کا لفظ استعمال کیا اور انھیں لعنت و ملامت کا نشانہ بنایا ہے۔بہر حال بابر نے اپنی اس توبہ کا ذکر اس طرح کیا ہے: ’میں نے کابل سے شراب منگائی تھی اور بابا دوست سوجی اونٹوں کی تین قطاروں پر شراب کے مٹکے بھر کر لے آیا۔ اسی درمیان محمد شریف نجومی نے یہ بات پھیلا دی کہ اس وقت مریخ ستارہ مغرب میں ہے اور یہ بات منحوس ہے اس لیے شکست ہو گی۔ اس بات نے میری فوج کے دل ہلا دیے۔۔۔‘
’جمادی الثانی کی 23ویں تاریخ تھی منگل کا دن تھا یکایک خیال آیا کہ کیوں نہ شراب سے توبہ کر لوں۔ یہ ارادہ کر کے میں نے شراب سے توبہ کر لی۔ شراب کے سب سونے چاندی کے برتنوں کو توڑ دیا۔ اور جتنی شراب اس وقت چھاو ¿نی میں موجود تھی سب کی سب پھنکوا دی۔ شراب کے برتنوں سے جو سونا چاندی ملا اسے فقیروں میں تقسیم کر دیا۔ میرے اس کام میں میرے ساتھی عس نے بھی ساتھ دیا۔‘
’میری توبہ کی خبر سن کر میرے ساتھی امرا میں تین اشخاص نے اسی رات توبہ کر لی۔ بابا دوست چونکہ اونٹوں کی کئی قطارو ں پر شراب کے بے شمار مٹکے لاد کر کابل سے لایا آیا تھا اور یہ شراب بہت تھی اس لیے اسے پھنکوانے کے بجائے اس میں نمک شامل کر دیا تاکہ سرکہ کی شکل اختیار کر لے۔ جس جگہ میں نے شراب سے توبہ کی اور شراب گڑھوں میں انڈیلی وہاں توبہ کی یادگار کے طور پر ایک پتھر نصب کرایا اور ایک عمارت تعمیر کرائی۔۔۔‘’میں نے یہ ارادہ بھی کیا تھا کہ اگر اللہ تعالی رانا سانگا پر فتح بخشیں گے تو میں اپنی سلطنت میں ہر قسم کے محصول معاف کر دوں گا۔ میں نے اس معافی کا اعلان کرنا ضروری سمجھاا اور محرروں کو حکم دیا کہ اس مضمون کے فرمان جاری کریں اور دور دور اس کی شہرت دی جائے۔۔۔
‘فوج میں دشمن کی زیادہ تعداد کی وجہ سے بددلی پھیل گئی تھی اس لیے میں نے پوری فوج کو ایک جگہ جمع کرکے تقریر کی: ‘جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے مرنا ہے۔ زندگی خدا کے ہاتھ میں اس لیے موت سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ مجھ سے تم لوگ اللہ کے نام پر قسم کھاو ¿ کہ موت کو سامنے دیکھ کر منھ نہیں موڑوگے اور جب تک جان باقی ہے لڑائی جاری رکھو گے۔’ میری تقریر کا بہت اثر ہوا۔ اس سے فوج میں جوش بھر گیا، لڑائی جم کر ہوئی اور آخر میری فتح ہوئی۔ یہ فتح 1527 میں ہوئی۔‘
بابر کو پانی پت کی جنگ کے بعد جو مال و دولت ہاتھ لگتے ہیں اسے وہ اپنے رشتہ داروں اور امرا میں دل کھول کر تقسیم کرتے ہیں۔ اس کا ذکر بابر نے بھی کیا ہے اور ان کی بیٹی گلبدن بانو نے بھی اپنی تصنیف ’ہمایوں نامہ‘ میں اس کا مفصل ذکر کیا ہے۔
پروفیسر نشاط منظر اور ڈاکٹر رحما جاوید کے مطابق بابر کی شخصیت کی خاص بات ان کا خواتین کے ساتھ تعلق تھا۔ انھوں نے بتایا کہ خواتین ان کے مشوروں میں شامل ہوتی تھیں۔ ان کی والدہ تو ان کے ساتھ تھیں ہی نانی بھی سمرقند سے اندجان پہنچ جاتی تھیں۔ خالاو ¿ں، چچیوں، بہنوں اور پھوپھیوں کا انھوں نے بطور خاص اپنی سوانح میں ذکر کیا ہے۔بابر کی سوانح میں جتنی خواتین کا ذکر ہے اتنی خواتین کا نام بعد کی پوری مغلیہ سلطنت میں سننے میں نہیں آتا ہے۔ بابر اپنی دو پھوپھیوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو مردوں کی طرح پگڑی باندھتی تھیں۔ گھوڑے پر سوار ہوتی تھیں اور تلوار لے کر چلتی تھیں۔ یوں تو تلوار چلانا اور بہادری ان میں عام تھی لیکن وہ دربار اور مجالس میں عام طور پر شرکت کرتی تھیں۔ محض شادی بیاہ تک ان کا دائرہ کار محدود نہیں تھا۔ اکبر کے زمانے میں مغلوں کا انڈینائزیشن شروع ہوا اور اسکے بعد خواتین منظر سے پس منظر میں گم ہوتی گئیں چنانچہ بعد میں ہم جب جہانگیر کی بغاوت کے معاملے میں صلح کرانے میں جنھیں پیش پیش دیکھتے ہیں وہ جہانگیر کی پھوپھیاں اور دادیاں ہیں اور ان کی اصلی ماں جن کے پیٹ سے وہ پیدا ہوئے وہ کہیں نظر نہیں آتیں،
بابر نے لکھا: ‘فرزند من، اول یہ کہ مذہب کے نام پر سیاست مت کرو، کہ تم مذہبی تعصب کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہ دو اور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے سب لوگوں کے ساتھ پورا انصاف کرنا۔‘ سیف الدین احمد نے کہا کہ بابر کا یہی نظریہ تو آج سیکولرزم کہلاتا ہے۔ بابر نے قومی تعلقات کے نظریے میں کشیدگی نہ پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے لکھا: ’گو کشی سے بالخصوص پرہیز کرو تاکہ اس سے تمھیں لوگوں کے دل میں جگہ ملے اور اس طرح وہ احسان اور شکریہ کی زنجیر سے تمہارے مطیع ہو جائیں۔‘ بابر نے تیسری بات یہ کہی کہ ‘تمہیں کسی قوم کی عبادت گاہ مسمار نہیں کرنا چاہیے اور ہمیشہ پورا انصاف کرنا تاکہ بادشاہ اور رعایا کے تعلقات دوستانہ ہو ں اور ملک میں امن و امان ہو۔‘چوتھی بات یہ کہی کہ ’اسلام کی اشاعت ظلم و ستم کی تلوار کے مقابلے میں لطف و احسان کی تلوار سے بہتر ہو گی۔‘ اس کے علاوہ بابر نے شیعہ سنی اختلافات کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا اور ذات پات کے نام پر عوام کے اندر رسہ کشی سے گریز کرنے کو کہا نہیں تو اس سے ملک کی یکجہتی کو نقصان ہو گا اور حکمران جلد ہی اپنے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ بابر نے یہ بھی کہا کہ ’اپنی رعایا کی مختلف خصوصیات کو سال کے مختلف موسم کی طرح سمجھو تاکہ حکومت اور عوام مختلف بیماریوں اور کمزوریوں سے بچ سکیں۔‘
پروفیسر نشاط منظر نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ بابر کا دل ہندوستان کی طرح کشادہ تھا اور وہ جہد مسلسل میں یقین رکھتا تھا۔ اس کی فطرت میں دلچسپی اور ہندوستان میں باغات کی تعمیر نے ایک نئے عہد کا آغاز کیا ہے جس کی معراج ہمیں جہانگیر کے باغوں اور شاہجہاں کی تعمیرات میں نظر آتا ہے۔بابر کی زندگی میں مذہب کا بہت دخل تھا اور وہ بہت سے لوگوں کے بارے میں بیان کرنے کے دوران اس بات کا ذکر کرنا نہیں بھولتا کہ وہ نمازی تھا یا یہ کہ اس نے فلاں نماز کے وقت سفر شروع کیا اور فلاں نماز وہاں پڑھی۔اگر چہ وہ نجومیوں اور ستارہ شناسوں سے احوال دریافت کرتے تھے لیکن توہم پرستی سے دور تھے۔ چنانچہ کابل کے اپنے بیان میں بابر نے لکھا ہے کہ ’یہاں کے بزرگوں میں ایک ملا عبدالرحمان تھے۔ یہ عالم تھے اور ہر وقت پڑھتے رہتے تھے۔ ان کا اسی حال میں انتقال ہوا۔۔۔ لوگوں کا بیان ہے کہ غزنی میں ایک مزار ہے اگر اس پر درود پڑھو تو وہ ہلنے لگتا ہے۔ میں نے اس کو جا کر دیکھا تو قبر ہلتی ہوئی معلوم ہوئی۔ معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہاں کے مجاوروں کی چالاکی ہے۔ قبر کے اوپر ایک جال سا بنایا ہے جب وہ جال پر چلتے ہیں تو وہ ہلتی ہے۔ اور اس کے ہلنے سے قبر بھی ہلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ میں نے اس جال کو اکھڑوا دیا اور گنبد بنوا دیا۔‘بابرنامہ میں اس قسم کے دوسرے واقعات بھی ملتے ہیں لیکن بابر کی موت اپنے آپ میں ایک بہت روحانی واقعہ ہے۔
گلبدن بانو نے اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کس طرح ہمایوں کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی تو بابر نے ان کی چارپائی کے گرد چکر کاٹے اور نذر مانی۔ وہ لکھتی ہیں کہ ہمارے یہاں ایسا ہوتا تھا لیکن بابا جانم نے تو اپنی جان کے بدلے ہمایوں کی جان مانگ لی تھی چنانچہ یہ ہوا کہ ہمایوں اچھے ہوتے گئے اور بابر علیل اور اسی حالت میں 26 دسمبر 1530 کو ایک عظیم فاتح نے دنیا کو الوداع کہا اور اپنے پیچھے بے شمار سوالات چھوڑ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com