جدید لہجہ کے شاعرطارق چغتائی

سید عارف نوناری


شاعری اگر معاشرے کی اصلاح کرے تو ہم اس کو مثبت شاعری اور روایت سے ہٹ کر لکھنے والی شاعری میں شمار کرتے ہیں۔ ادیب دانشور اور شاعر معاشرہ کو درست سمت میں لے کر جاتے ہیں۔ جس سے مثبت تبدیلیاں پیدا ہو کر قوم مضبوط اور استحکام کی طرف گامزن ہوتی ہے۔’‘ طارق چغتائی“ایسے ہی شاعر ہیں۔ جن کی شاعری میں اصلاح پسندی اور علامہ اقبال کے خیالات کی خوشبو بھی آتی ہے۔’‘ طارق چغتائی“کے تخلیقی طرزِ عمل میں ان کے پسندیدہ الفاظ ”تنویر ،تحریر، تقدیر اور تعمیر اور اس کے ہم صورت بہت سے دوسرے الفاظ ان کے ذوقِ انتخاب کی خبر دیتے ہیں۔
طارق چغتائی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ان کی شاعری نے کچھ نئے تجربات اور کچھ فنی پہلوؤں میں نئے امکانات کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ غزل سے گہری وابستگی نے انہیں یہ راہ دکھائی ہے۔ کہ وہ ہم عصر شعراء میں اپنی انفرادیت کا وہ رخ سامنے لائیں۔ جس سے وہ اپنی پہچان بنائیں۔پہلے وہ’‘چاند دیا اور جگنو’‘ اپنے اچھوتے مجموعہ غزل سے مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ طارق چغتائی نے اپنے پہلے مجموعے میں ردائف کی نذرت سے ہمیں ورتہ حیرت میں ڈالا۔ جبکہ ردائف میں تناؤ پیدکرنا مہارت فن کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح اس مجموعہ میں انہوں نے قوافی کی تکرار
سے کام لے کر خطرہ مول لیا اور مضمون آفرینی میں کامیاب و کامران ہوئے۔طارق چغتائی ایک طویل مدت سے شعر کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ وہ ”صاحب مطالعہ“ شاعر ہیں۔ لہذا جانتے ہیں کہ اپنے ذہن میں آئے ہوئے خیال کو کسی پیرائے اظہار میں بیان کرنا ہے۔ان کا شعر جب فن کی گھاٹی سے نکلتا ہے تو کندن بن کر نکلتا ہے۔ ”چاند دیا اور جگنو“ سے لے کر موجودہ کتاب ”تیری تصویر کہاں ہے“ کے شعری سفر تک وہ کسی مقام، کسی مرحلے پر ابہام یا تذبذب کا شکار نہیں رہے، نہ انہوں نے اپنے قاری کو کسی بھی ابتلا میں مبتلا کیا۔ طارق چغتائی کو شعر وا دب سے دلچسپی ہائی سکول کے زمانہ سے ہی تھی۔ مباحثوں اور مشاعروں میں ہمیشہ دادِ تحسین سمیٹے۔70ء کی دہائی کے آغاز میں شعور کی آنکھ کھولنے والا یہ شاعر ادراک کی منازل طے کرنے کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کی ارتکائی منزل طے کرتا ہوا۔21ء صدی میں ”بزم چغتائی“ آراستہ کرتا ہوا نظر آیا اور آج معاصر شعراء میں اپنے رنگِ تغزل اور تخلیقی عمل کے باعث ایک منفرد مقام حاصل کر چکا ہے۔ ”ڈاکٹر طارق عزیز“ طارق چغتائی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ طارق چغتائی کا شمار عہد حاضر کے ان شعراء میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے اردو غزل میں نوبا نو تجربات کرکے غزل کے حسیتی اور اسلوبی امکانات کو وسیع کر دیا ہے۔ ”تری تصویر کہا ں ہے“ سے پہلے انہوں نے اپنے اولین شعری مجموعہ ”چاند دیا اور جگنو“ میں ردیف کے حوالے سے جن شعری تشکیلات کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔اسے اردو غزل کے ناقائدین نے سراہا۔اور جدید شعراء کے لئے ایک سنگ میل قرار دیا۔ ان کی غزلیات میں ایک ہی قافیے کو مختلف ردیفوں کے تابع کرکے اس بات کا ثبوت فراہم کیا ہے کہ تخیل بلند پرواز ہو تو قافیوں کا مکرر استعمال خیال کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔طارق چغتائی کی شاعری میں قافیے کے تازہ قرینے کے ساتھ غزلیات پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اور شاعری کی صنف میں یہی ان کا کمال ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری
میں خیالات کو اس طرح رنگ دیا ہے۔ کہ جس سے قاری کی اصلاحی حِس بڑھتی ہے۔ان کی شاعری میں فطرتی رنگ بھی نظر آتا ہے اور قارئین کے لئے پیغام بھی کہیں کہیں ان کی شاعری ہمیں فلاسفی کی طرف بھی لے جاتی ہے۔جس سے یہ احساس ہوتا ہے۔ کہ ان کی نظموں میں جہا ں عشقیہ اشعار ملتے ہیں وہاں مثبت خیالات و نظریات کی چاشنی بھی نظر آتی ہے۔طارق چغتائی کے بارے میں حسن اصغری کاظمی کہتے ہیں کہ طارق چغتائی شعری روایات کو عزیز جاننے کے باوجود جدید انداز اظہار کی طرف میلان ِ طبع رکھتے ہیں۔ وہ روایتی شعر کہنے سے گریز کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ غزل میں اساتذہ نے کمالات دکھائے ہیں۔ کلاسیکی شعراء نے جو کہا امر ہو گیامگر ان کے ہاں نئے خیالات اور حقائق ذندگی کے حوالے سے تشنگی پائی جاتی ہے۔ جیسے آج کی غزل توقع سے بڑھ کر نئے اسالیب اور نئے لہجوں میں اس کی تشنگی کا علاج دریافت کررہی ہے۔اگر طارق چغتائی کی شعری خدمات کا ذکر کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مشاہدات پر گرفت بہت مضبوط ہے اور ان کی حساسیت کا جوبن ان کی غزلوں میں نظر آتا ہے۔ردیف اور قافیے کے مؤثر استعمال سے ان کی شاعری میں انفرادیت پائی جاتی ہے۔ لہذا ان کی شاعری معاشرے کیلئے اثاثہ ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ ان کو شاعری کے ساتھ ساتھ نثر کی طرف بھی آنا چاہئے۔ کیونکہ وہ ایک اچھے نثر نگار بننے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔اعتبار ساجد، ان کی کتاب ”تری تصویر کہا ں ہے“ نے جرات سخن کے عنوان میں لکھتے ہیں کہ ہمارے عصری منظر نامے میں وہ ایک پر اعتماد اور نہایت مؤثر کن خوبصورت شاعر کے روپ میں ابھرے ہیں۔جس کے اشعار میں رنگ بھی ہے،آہنگ بھی ہے اور ترنگ بھی ہے۔ وہ اپنے قاری /سامع کو اپنی ساحرانہ شاعری سے متاثر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ بحثیت انسان وہ نہایت خوبصورت،دردمند اور دل میں اتر جانے والے انسان ہیں۔ ایسے وضع دار اور شائستہ کردار۔خوش گفتار لوگ اب ہمارے زوال پذیر معاشرے میں بہت کم رہ گئے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر آغا شورش کاشمیری کا کہنا ہے یہ مصوری جمال ہے اور سنگ تراشی جمال ہے۔ اور ان دونوں کے امتزاج کا نام شاعری ہے۔ جب مصوری اور سنگ تراشی میں موسیقی بھی شامل ہو جائے تووہ غزل کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ غزل کا ذوق جمالیت کی شدید حس دل گزار کی والہانہ لہر اور عشق و حسن کے دلفریب امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے غزل کا اچھا شعر کھلا ہوا پھول ہوتا ہے۔ طارق چغتائی اپنے اشعار میں کہتے ہیں کہ
امید کا ہر پہلو، تقصیر بدل دے گی
آزاد فضاؤں کو زنجیر بدل دے گی
ہم نے تو یہ سمجھا تھا، ہم نے تو یہ جانا تھا
یہ صبح جو نکلی ہے تقدیر بدل دے گی
پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق خاں لکھتے ہیں کی شعر و ادب کے ساتھ ان کا والہانہ لگاؤ کا نتیجہ ہے کہ ان کی اس نگار ش میں ایک اچھوتا پن دکھائی دیتا ہے۔ ان کے شعری مجموعہ ”چاند اور جگنو“میں خیال کی خوبصورتی اور منظر کشی کی پہلو ملتا ہے۔اس مجموعہ میں شامل70,60غزلیں ردیف طویل میں قلم بند کی گئی ہیں۔ جن کا نبھانا ایک کاربے کٹھن تھا لیکن طارق نے اس کارِ کٹھن کو خوب نبھایا ہے۔ ڈاکٹر طارق چغتائی نے 70, 60 غزلوں کی مشق کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔جو ان کے عکس اول کو منفرد کرتا ہے۔ ان کی کتاب چاند دیا اورجگنوکے اشعار کچھ یوں ہیں۔
ًاس قدر خفا ٹھہرے نیند خواب اور تعبیر
غم کی انتہا ٹھہرے نیند خواب اور تعبیر
وہ بھی اک زمانہ تھا لمحہ لمحہ بستر پر
صورت صبا ٹھہرے نیند خواب اور تعبیر
طارق چغتائی کے ہاں مناظرے فطرت سے گہرا لگاؤ اور ان مظاہرے فطرت کا حسن جمال غزل کی ردیف کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ وہ کھلی آنکھ کے علاوہ باطنی آنکھ سے نظارہ قدرت دیکھتے جاتے ہیں۔ اور غزل کی ردیف کا مرقع تیار کرتے ہوئے چاند، سفر اور میں کی تکرار کا جادو جگاتے ہیں۔تو فضائے شعری میں نکھارآجاتا ہے۔دوسری طرف ان کی نثر نگاری اور انشاء پروازی نے مضمون نویسی اور تقریر نویسی کے کالم میں اپنے جوہر دکھانا شروع کیے۔ ان کی تقریر نویسی میں دور عروج پہ تھاجب ان کی بچیوں نے سکول کی سطح پر تقریری مقابلوں اور مباحثوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ طارق چغتائی کا یہ تجربہ ، یہ مکمل شعری مجموعہ چانددیا اور جگنو ایسا نہیں کہ قاری کو اول سے آخر تک اپنی مضبوط گرفت میں رکھ سکے۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ قاری کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔اس دریا میں کسی نے تو پاؤں ڈالنے تھے۔ چغتائی صاحب نے پہل کی ہے۔ اور دوسروں کیلئے نئی راہیں ہموار کردی ہیں۔طارق چغتائی نے شاعری میں اپنے پاؤں کو روکا نہیں بلکہ اپنا ادبی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری ادبی حلقوں کیلئے اور معاشرہ کی اصلاح کیلئے سرمایہ ہے۔ ان کی تیسری کتاب ”اے کاش“ بھی جلد منظر عام ہوگی۔جس میں ان کی شاعری پڑھ کر قاری کو احساس ہوگا کہ وہ ادبی دنیا کے حقیقی شاعر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com