سورۃ مرسلات کے بارے میں بنیادی معلومات‎

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش
دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر
سورۃ مرسلات کے بارے میں بنیادی معلومات
کلام مجید کلام الہی ہے ۔چنانچہ کلام الہی میں اس کتاب کا تعارف کیسے کروایا گیا آئیے ذرا قرآن ہی کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں :
سورہ الشعراء میں قرآن کا تعارف یوں رقم ہے ”وَاِنَّہ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ العالمین o نَزَلَ بِہ الرُّوْحُ الأمِیْنُ o عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ o بِلِسَانٍ عربیٍ مبین o“
( اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ (قرآن ) پروردگار عالم کا نازل فرمایا ہوا ہے، اسے امانت دار فرشتے نے (اے محمد ) تمہارے دل پر اتارا ہے تاکہ (تم لوگوں کو عذابِ آخرت) سے خبردار کرنے والے بنو، صاف ستھری عربی زبان میں)
سبحان اللہ !!قارئین ۔اب چلتے ہیں ذرا اس سورۃ کے بارے میں بنیادی معلومات جانتے ہیں ۔یہ سورۃ کا تعارف درس قرآن دینے والے احباب کے لیے بہت معاون ثابت ہوگانیز عام قارئ کا کلام مجید کے ساتھ تعلق پیداکرنے کے لیے بھی بہت مفید ثابت ہوگا۔آئیے سورۃ کے بارے میں جانتے ہیں :
 سورئہ مُرسَلات مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ المرسلات، ۴/۳۴۳)
 اس سورت میں  2 رکوع ،50 آیتیں  ہیں ۔
’ مرسلات ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
جنہیں  لگاتار بھیجا جائے انہیں  عربی میں  مُرسَلات کہتے ہیں  جیسے ہوائیں ،فرشتے اور گھوڑے وغیرہ،اور اس سورت کی پہلی آیت میں  مذکور لفظ ’’وَ الْمُرْسَلٰتِ‘‘ کی مناسبت سے اسے ’’سورۂ مرسلات‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ مُرسَلات کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر کلام کیا گیا ہے اور آخرت کے اَحوال بیان کئے گئے ہیں  اور اس سورت میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ،
(1)…اس سورت کی ابتدا میں  پانچ صفات کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ قیامت ضرور واقع ہو گی اور ا س دن کافروں  کو جہنم کاعذاب لازمی طور پر ہو گا اور اس کے بعد قیامت قائم ہوتے وقت کی چند علامات بیان کی گئیں ۔
(2)…سابقہ امتوں  کی ہلاکت کے بارے میں  بیان فرمایا گیا اور انسان کی ابتدائی تخلیق کے مراحل بیان کر کے مُردوں  کو دوبارہ زندہ کرنے پر اللّٰہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی دلیل بیان فرمائی گئی۔
(3)…اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  کا انکارکرنے والوں  کو اس کے عذاب سے ڈرایا گیا اور قیامت کے دن کافروں  کے عذاب کی کَیْفِیَّت بیان کی گئی نیز اس دن اہلِ ایمان کو ملنے والی نعمتوں  کو بیان کیا گیا۔
(4)…اس سورت کے آخر میں  کفار کے بعض اعمال پر ان کی سرزَنِش کی گئی اور فرمایاگیاکہ کافر اگر قرآنِ مجید پر ایمان نہ لائے تو پھر کس کتاب پر ایمان لائیں  گے۔
(مستفاد از صراط الجنان)
اے پیارے اللہ !!
ہمیں کلام مجید فہم عطافرما۔ہمیں اپنے پاکباز منتخب بندوں میں شمار فرما۔آمین
نوٹ:قارئین:ہم ایک جدید طرز کے ادارے کے لیے عزم رکھتے ہیں جس میں آپکا تعاون مرکزی حیثیت رکھتاہے تو پھراس حوالے سے خصوصی شفقت کی التجاہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com