سورۃ بروج کے بارے میں بنیادی معلومات‎

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
سورۃ  بروج کے بارے میں بنیادی معلومات
قرآن مجید ہمارے لئے مشعل راہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ قرآن مجید نے زندگی کے ہر پہلو اور گوشے سے متعلق رہنمائی عطا کی ہے ۔ جن قوموں نے قرآن پاک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا وہی عروج اور ترقی سے ہمکنار ہوئیں اور جن قوموں نے قرآنی تعلیمات پر عمل نہ کیا وہ ذلیل و خوار ہو گئیں۔قرآنی احکام زندگی کے ہر پہلو اور ہر گوشے پر حاوی ہیں ۔ معاشرت ، تجارت ، سیاست ، تعلیم غرضیکہ کونسا ایسا شعبہ ہے جہاں کلام الہٰی ہماری رہبری نہیں کرتا ۔ قرآن کریم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کے لائے ہوئے ضابطہ حیات میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بالکل واضح ہے کہ ہم بغیر کسی استشنا کے اپنی زندگی کو اسلامی قوانین کے تحت لے آئیں ۔ ہمارے خیالات ، طرز زندگی ، رہن سہن ، طور طریقے ، لین دین اور تمام معاملات سب کے سب اسلامی احکامات کے مطابق ہوں اور اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کسی طور پر بھی درست نہیں تنہائی میں ضرور غورکیجئے گا۔
مقامِ نزول: سورۂ طارق مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے ۔( خازن، تفسیر سورۃ الطّارق، ۴/۳۶۸)
رکوع اور آیات کی تعداد:اس سورت میں  1رکوع، 17آیتیں  ہیں ۔
’’طارق ‘‘نام رکھنے کی وجہ تسمیہ:
اُس ستارے کو طارق کہتے ہیں  جو رات میں خوب چمکتا ہے نیز رات میں  آنے والے شخص کو بھی طارق کہتے ہیں ، اور اس سورت کی پہلی آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اس ستارے کی قسم ارشاد فرمائی ہے اس لئے اسے ’’سورۂ طارق‘‘ کہتے ہیں۔
قارئین:آئیے :ذرامضامین سورۃ کے بارے میں جانتے ہیں ۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے،حشر و نشر اور حساب و جزا پر ایمان لانے کے بارے میں  کلام کیاگیا ہے اورا س سورت میں  یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں  آسمان اور رات کے وقت خوب چمکنے والے ستار ے کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ ہر انسان پر حفاظت کرنے والا ایک فرشتہ مقررہے۔
(2)…انسان کو اپنی تخلیق کی ابتداء میں  غور کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ پہلی بار پیدا کرنے والا رب تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
(3)…یہ بتایاگیا کہ جب قیامت کے دن عقائد ،اعمال اور نیتیں  ظاہر کر دی جائیں  گی تو اس وقت مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والے کے پاس کوئی طاقت اور کوئی مددگار نہ ہوگا جو اسے اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔
(4)…آسمان اور زمین کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا گیا کہ قرآنِ مجید کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں  بلکہ یہ حق اور باطل میں  فیصلہ کر دینے والا کلام ہے۔
(5)…اس سورت کے آخر میں  بتایا گیا کہ کفار اللّٰہ تعالیٰ کے دین کو مٹانے کے لئے طرح طرح کی چالیں  چلتے ہیں  اور اللّٰہ تعالیٰ ان کے بارے میں اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہے جس کی انہیں  خبر نہیں ۔
اے پیارے اللہ ہمیں اخلاص کی دولت سے بہرہ مند فرما۔ہماری اس کوشش کو قبولیت کا درجہ عطافرما۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com