شوگر مافیا، حکمران، کسان اور عوام

شوگر مافیا، حکمران، کسان اور عوام
جام ایم ڈی گانگا
محترم قارئین کرام،، چینی گندم اور آٹا وطن عزیز میں وافر مقدار میں ہونے کے باوجود ان کا بحران اور ریٹ میں بہت زیادہ اضافے نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں. وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور دوسری مقتدرہ قوتوں نے تحقیقات اور چھان بین کا فیصلہ کیا. شوگر کے حوالے سے ہونے والی جزوی تحقیقات منظر عام پر آ چکی ہے جس میں خود حکمران طبقے کے لوگ ہی سرفہرست ہیں. آٹے کا مسئلہ ابھی تک گول مول ہے. 25اپریل کو فائنل رپورٹ اور فیصلہ آنا باقی ہے. ہمیشہ کی طرح مٹی ڈال کر دفن کیا جاتا ہے یا قانون کے مطابق ذمہ داران کو سزائیں جرمانے اور وصولی کی جاتی ہے یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا. رپورٹ آنے پر شوگر مافیا کے بعض سرکردہ اور طاقت ور گروپس خاصے پریشان دکھائی دیتے ہیں. لیکن حکمران ان سے بھی زیادہ پریشان سے ہو گئے ہیں.کیوں?. میرا خیال ہے کہ اس کی وضاحت میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں.مسلسل مختلف نوعیت کی مختلف رائیٹز اور ڈائریکٹرز کی کرپشن کہانیوں کو دیکھ دیکھ کر اور بھگتا بھگتا کر قوم کو اب اتنا اندازہ ہو گیا ہیاور سمجھ تو آگئی ہے. قوم کے خدمت گاروں کی خدمات کا پتہ چل گیا ہے کہ اقتدار سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد کیا کیا ہوتا ہے
شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم کے نام ایک اپیل اشتہار میرے سامنے ہے. وزیر اعظم صاحب سے ہماری چند گذارشات ہیں کے تحت شوگر ایسوسی ایشن فرماتی ہے کہ.1. حکومت گنے کی کم ازکم قیمت کا تعین کرتی ہے اور شوگر ملوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ پوری قیمت کاشت کار کو ادا کریں. 2.حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ ملز گنے کی کرشنگ کب شروع کریں گی. اگر ملز مقررہ وقت پر کرشنگ شروع نہ کر سکیں تو انہیں حراساں کیا جاتا ہے. 3.حکومت ملز کو مجبور کرتی ہے کہ سارا گنا کرش کرکے چینی بنائیں حالانکہ ملز جانتی ہیں کہ اس عمل سے ضرورت سے زائد چینی پیدا ہوگی.4. حکومت ملز کو پابند کرتی ہے کہ 15دن کے اندرخریدے گئے گنے کی قیمت ادا کریں. جبکہ ملز کو چینی 365دن بیچ کر اپنی رقم واپس ملتی ہے.
دانستہ یاغیر دانستہ، شعوری یا لاشعوری طور پر شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مذکورہ بالا چار پوائنٹس ان کے اندر کی اس کیفیت اور خواہش کا اظہار ہیں کہ انہیں گنے کے ریٹ کے تعین سے لیکر کرشنگ سیزن کا آغاز اور اختتام کرنے اور گنے کی رقم کی ادائیگی وغیرہ کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے. وہ جو چاہیں جیسے چاہیں،جب چاہیں، جس طریقے سے چاہیں اپنی سلطنت یعنی شوگر ملز کو چلائیں. کوئی ان سے پوچھنے والا نہ ہو.کسانوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر کا کہنا یہ ہے کہ سچی بات تو یہ ہے کہ گنے کی قیمت کا تعین حکومت اور شوگر ایسوسی ایشن باہم گٹھ جوڑ سے کرتے ہیں. اہم اور بنیادی سٹک ہولڈر کسان کو سنا ہی نہیں جاتا. گنے کے پیداواری اخراجات کو زمینی حقائق کے برعکس کم لکھ کر کم شو کرکے مرضی سے کم قیمت ہی کا تعین کر دیا جاتا ہے. حالانکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ کسانوں کے گنے کے ریٹ کے تعین کے لیے بنائے جانے والے گوشوارے کی طرح چینی کے ریٹ کے تعین کے لیے بھی اخراجاتی گوشوارہ بنایا جانا چاہئیے دونوں کو اوپن کیا چاہئیے تاکہ صورت حال اور حقائق تمام سٹک ہولڈر کے سامنے آ جائیں. کسانوں اور شوگر ملز میں سے کس کو کتنی بچت اور منافع ہو رہا ہے.پتہ چل سکے حکومت کے ٹیکسز کون چھپا رہا ہے عوام پر بوجھ کس کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے.شوگر ملز ایسوسی ایشن بتائے کہ اور کتنی فصلیں ہیں جو مفت ملز اور فیکٹری پہنچتی ہیں اور اس کی قیمت مہینے بعد ادا کی جاتی ہے. وہ کونسی اور کتنی صنعتیں ہیں جو اپنی پراڈکٹ صارف کو بغیر سود لیے یہ کہہ کر فراہم کر رہی ہوں کہ یہ لیں استعمال کرنے کیمہینہ بعد پیسے دینا.قوم کو بتایا جائے کہ چینی کی قیمت کون طے کرتا ہے. کیا اس میں کسان اور عوام میرا مطلب صارفین کے نمائندے بھی ہوتے ہیں یا نہیں.
5.حکومت ملز پر اس چینی کی ذخیرہ اندازی کا الزام لگاتی ہے جو 120دن کے سیزن میں پیدا ہوتی ہے لیکن سال کے 365دن بکتی ہے.شوگر ملز ایسوسی ایشن کی یہ بات قابل غور ہے.ذخیرہ اندوزی کی تعریف اور تشریح از سرے نو کرنی چاہئیے.سال بھر یا اس سے زیادہ استعمال ہونے والی چینی کو کون کون کہاں کہاں اور کیسیرکھ سکتا ہے.گندم کی طرح ریٹ طے کرکے حکومت چینی خرید لیا کرے.اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو پھر شوگر ملوں اور سٹاک کا کاروبار کرنے والوں کو اس کی اجازت دینی پڑے گی. حکومت بھی اپنے غلط فیصلوں کی یا غلطیوں کی سزا صنعت کاروں کاشت کاروں اور عوام کو دینے کی روش کو ترک کرے. چینی برآمد کرنے اور شوگر ملوں کو برآمدی چینی پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کس نے کیا. چینی کو اشیائے ضروریہ قرار دے کر اس پر 17فیصد سیل ٹیکس لگا کر 50ارب روپے کمانے والی حکومت کو کچھ اس پر بھی غور کرنا چاہئیے.شوگر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت 11روہے فی کلو ٹیکس وصول کر رہی ہے. کیا یہ عوام پر بوجھ نہیں ہے. حکومت چینی پر سیل ٹیکس ختم کرکے عوام کوگیارہ روپے فی کلو کم ریٹ پر چینی فراہم کر سکتی ہے. حکومت اگر اپنے عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے اپنے زیادہ شرح سے لیے جانے والے کئی بے جا ٹیکسز پر ازسرے نو ہمدردانہ غور کرنا ہوگا.میں سمجھتا ہوں کہ اس کے علاوہ. حکومت کو چینی کے ریٹ کے تعین کی پالیسی پر بھی غور کرنا چاہئیے. شوگر ملوں کے جہازوں اور جہاز نما گاڑیوں کے اخراجات، شوگر سلطنت کے محلات کے شاہی اخراجات بذریعہ چینی عوام کی جیب سے نکالنے یا کسانوں سے بذریعہ گنے کی کم قیمت دے کر پورے کرنے کے استحصالی سلسلے بند کیے جائیں
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کسانوں کو 300ارب روپے دینے کی جو بات کی ہے. یہ رقم دے کر وہ کسانوں پر کوئی احسان نہیں کرتی بلکہ ان کی سال بھر کی محنت اور معاوضے میں کئی طرح کی کٹوتیاں اور بے ایمانیاں کرکے انہیں ان کے اصل حق سے کم دیتی ہے.انہیں اس حقیقت کا بھی علم ہونا چاہئیے کہ کبھی کاٹن انڈسٹری میں بھی شوگر سے زیادہ لوگوں کو روزگار میسر تھا.وطن عزیز کو برآمدات کی مد میں اربوں روپے حاصل ہوتے تھے نہ کہ شوگر ملوں کی طرح حکومتوں کو قومی خزانے سے عوام کا پیسہ سبسڈی کی مد میں معاشی مگر مچھوں میں بانٹنا پڑتا تھا. ملک میں سب سے زیادہ شوگر ملز میں صرف مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری ہے. ملک کو ضرورت نہ ہونے کے باوجود انہی خاندانوں کی شوگر ملوں میں سال بہ سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیوں?. کسانوں اور عوام کا خون نچوڑنے کے لیے اربوں کی مفت سبسڈیوں کی وصولی کے لیے.پاکستان کسان اتحاد کے ضلعی صدر رحیم یار خان ملک اللہ نواز مانک، جنرل سیکرٹری جام فضل احمد گانگا کا کہنا ہے کہ شوگر انڈسٹری میں اجارہ داری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ انڈیا کی طرح ملک بھر میں منی شوگر ملز اور کاٹن فیکٹریوں کی طرح چینی کے چھوٹے چھوٹے پلانٹ لگانے کی اوپن اور عام اجازت دی جائے.شوگر ملوں میں کسانوں سے کٹوتی کیے جانے والے روڈ سیس فنڈز کا بھی حقیقی کرشنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے آڈٹ کروایا جائے. یہ پیسہ کہاں کہاں،کتنا اور کون کون خرچہ کرتا کررہا ہے. شوگر ملز کسانوں کو کم ریٹ دے کر کٹوٹیاں کرکے، حکومت کے ٹیکسز چوری کرکے اور عوام کو مہنگی چینی کے ذریعے لوٹ کر رہی ہے.زراعت اور کسانوں کے نام پر لوٹ مار اور گھپلہ ٹوکن سکیمیں بند کی جائیں. کسانوں کے نام پر پیسہ صنعت کاروں شوگر مافیا اور کھاد فیکٹریوں کو لوٹایا جا رہا ہے. کسانوں کو حقیقی ریلیف ان کی اجناس کے مناسب ریٹس دے کر ہی دیا جا سکتا ہے.ملک میں وافر کپاس کے ہوتے ہوئے دوسرے ممالک سے روئی درآمد کرنے کے فیصلے ملکی زراعت اور کسانوں کے علاوہ کاٹن فیکٹریوں کو نقصان پہنچانے اور کپاس کی فصل کی حوصلہ شکنی کرنے کے پیچھے کون کون ہیں. وزیر اعظم عمران خان کو اس کی بھی تحقیقات کروانی چاہئیں. وزیر اعظم ایمرجنسی زرعی پروگرام میں قیمتی زرمبادلہ دینے والی اورکئی انڈسٹریز کو خام مال فراہم کرنی والی فصل کپاس کو سپورٹ پرائس لسٹ میں شامل ہونے سے ڈراپ کروانے کے پیچھے کن مافیاز اور کمیشن خوروں کا ہاتھ ہے.شوگر ملز کی بجائے اس فصل اور انڈسٹری کو فروغ کیوں نہیں دیا جاتا جو ملک و قوم کے لیے زیادہ مند ہے.وزیر اعظم صاحب معیشت اور سیاست میں شوگر مافیا ایک اژدھے کا روپ دھار چکا ہے. ہاتھ ڈال ہی لیا ہے تو اب اس بلا کو کیفر کردار تک پہنچانا.اقتدار کی بلیک میلنگ کی وجہ سے درگرز رحم دلی اور رعایت آپ کو آپ کی حکومت کو اور آپ کی جماعت کو نگل جائے گی.اپنی عزت ساکھ کے علاوہ کسانوں اور عوام کو بچائیں یہ موقع پھر نہیں ملے گا. موجودہ حالات میں چینی پر سے سیل ٹیکس فوری طور پر ختم کرکے عوام کو ریلیف دیں.اسی میں آپ کی بہتری ہے. بصورت دیگر شوگر مافیا کے بعد عوام بھی مہنگی چینی کی وجہ سے آپ کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com