سچ تو یہ ہے | مجیداحمد جائی ملتان

کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے۔کسی بھی شخصیت سے ہماری محبت اور عقیدت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے جب تک ہم کوئی ایک آدھ کرامت اُن کی شخصیت سے وابستہ نہ کرلیں۔روحانی کرامت کے بغیر کوئی شخص ناممکن یا عظیم ترین کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتا۔؟کسی بھی کار خیر یا عظیم کارنامے کے لیے تائید الہٰی کے حصول کا ثبوت یا مطلب کرامت ہی نہیں؟ناممکن کو ممکن بنانا بذات خود کرامت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس ڈاکٹر صفدرمحمود کی کتاب ”سچ تو یہ ہے“سے لیا گیا ہے۔نام سے ہی ظاہر ہے کہ من گھڑت کہانیاں،افسانے یا واقعات لوگوں نے مختلف شخصیت سے منسوب کر رکھے ہیں۔ان من گھڑت قصوں کی تحقیق کرکے ڈاکٹر صفدر محمود نے ”سچ تو یہ ہے“لکھ کر بتایا ہے اصل حقیقت یہ ہے۔
”سچ تو یہ ہے“میں قائداعظم اور تاریخ پاکستان کے حقائق مسخ کرنے والوں کو تاریخی شواہد کی بنا پر مدلل جواب دئیے گئے ہیں۔اس کتاب کا مقصد انہی ارادوں اور کوششوں کا توڑ کرنا،تاریخ پاکستان کو مسخ کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانا اور قائداعظم ؒسے بدظن کرنے کے لیے لگائے گئے الزامات،من گھڑت تاریخی افسانوں اور جھوٹے پراپیگنڈے کوتاریخی مستند شواہد سے بے نقاب کرنا اور سچ کو سامنے لانا ہے۔قائداعظم ؒپر اعلی درجے کی سینکڑوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور آئندہ بھی شائع ہوتی رہیں گی لیکن مخصوص الزامات کا مستند جواب اور مدلل وضاحت آپ کو شاید کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی
آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ تحقیق کس قدر جان سوزی،محنت اور یکسوئی کا تقاضا کرتی ہے۔یہ ڈاکٹر صفدر محمود کی انتھک محنت کا ہی شاخسانہ ہے کہ آپ تحریک پاکستان اور قائداعظم جیسی شخصیت سے محبت کرتے ہیں اور اصل حقائق ہمارے سامنے لاتے ہیں۔آپ کا کام بولتا ہے اور آپ کی لکھی متعددکتب ثبوت ہیں۔
”سچ تو یہ ہے“کا ایک اور اقتباس آپ کی نذر کرتا ہوں ”لاعلمی قابل ِمعافی ہے لیکن بدنیتی ایسا جرم ہے جس کی سزا دونوں جہانوں میں ملتی ہے۔جب ایک علم وفضل کا دعویٰ کرنے والا شخص جو مورخ ہونے کا دعویٰ بھی کرے،اتنی بنیادی اور عام معلومات سے انکار کرے اور بیانگ دہل تاریخی حقائق کو مسخ کرے تو اُس کا رویہ لاعلمی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ خبث باطن کہلاتا ہے۔“
”سچ تو یہ ہے“پورے کتاب ہی رازوں سے مزین ہے۔حقائق سے پردہ اٹھاتی کتاب ہے۔میرا بس چلے تو اس کتاب کے ایک ایک مضمون پر مضمون لکھوں۔اس کتاب نے مجھے اپنا گروید ہ کر دیا ہے اور میں دلی طور پر ڈاکٹر صفدر محمود کا شکر گزار ہوں کے آپ کی بدولت بہت سے سوالات کے جوابات ہمیں مل گئے ہیں جو ذہن کے کسی نہ کسی کونے میں سر اٹھاتے رہتے تھے۔نصابی کتابوں میں ان حقائق پر پردہ ڈالا گیا ہے اور کوئی ایسا مرد مجاہد نہیں ملا تو جو ان حقائق سے پردہ اٹھائے۔قائداعظم ؒسے منسوب بہت سے من گھڑت افسانوں کا راز فاش ہوا،حقائق سامنے آئے۔بہت شکریہ۔
”سچ تو یہ ہے“2020ء میں قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے خاص اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔اس کتاب کے شائع ہوتے ہی ہر طرف چرچے ہونے لگے،اس کا بین ثبوت اخبارات ہیں۔علامہ عبدالستارعاصم جو خود صاحب کتاب اور کتاب دوست ہیں،ایسے ایسے ہیروں سے ہمیں ملواتے ہیں کے جن تک ہم صرف خوابوں میں پہنچ پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کا بہترین اجر علامہ عبدالستارعاصم اور ہر کتاب دوست کو عطا فرمائے آمین!۔
”سچ تو یہ ہے“کا انتساب شہدا پاکستان کے نام کیا ہے۔اس کی قیمت چھ سو روپے ہے۔آخری صفحات میں ”حیات ِقائد۔۔ایک نظر میں“پیش کیا گیا ہے جو کہ ہر طالب علم کے بہترین خزانہ ہے۔”سچ تو یہ ہے“میں ڈاکٹر صفدر محمود مشورے بھی دیتے ہیں جیسے”انسان بنیادی طور پر ظاہر بین ہے اور سطحی نظر رکھتا ہے۔میں اس لیے دوستوں کو مشورہ دیتا رہا ہوں کہ کسی تاریخی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اُس کے ظاہر پہ مت جاؤ،اُس کے ظاہر سے دھوکہ مت کھاؤ بلکہ یہ دیکھو کہ اُس کے ہم عصر،عینی شاہدین،صاحب الرائے حضرات اور صاحبانِ نظر کیا کہتے ہیں۔میں صاحبانِ نظرکی رائے کو اس لیے زیادہ اہمیت دیتا ہوں کہ یہ لوگ صرف رضائے الہٰی کے متلاشی ہوتے ہیں اور دنیاوی مصلحتوں سے بے نیاز رہ کر سچ بولنے کی توفیق رکھتے ہیں۔
کتابیں پڑھتے ہوئے مجھے چند ایک واقعات دلچسپ لگے تو جی چاہا کہ انہیں آپ سے شیئر کروں۔آپ کو معلومات بہم پہنچانا اور نادر مشاہدات شیئر کرنا بھی علم ہی کی چھوٹی سے قسم ہے۔ڈاکٹر صفدر محمود بہت شکریہ۔
تجربہ شاہد ہے کہ اگر ایک بار کوئی تاریخی افسانہ گھڑلیا جائے تو اس کا اثر زائل کرنے میں برس لگ جاتے ہیں۔یہ بیان سر اسر جھوٹ ہے کہ قائداعظم ؒنے جگن ناتھ آزاد سے پاکستان کا قومی ترانہ لکھوایا لیکن یا ر لوگ اسے تواتر سے لکھتے چلے آتے ہیں۔گزشتہ دِنوں ایک عالم و فاضل سینئر کالم نگار اور ثقہ صحافی نے لکھا کہ لیاقت علی خان روس کا دعوت نامہ ٹھکراکر امریکہ چلے گئے۔وزارت خارجہ کے سرکاری ریکارڈ سے یہ ثابت اور طے شدہ ہے کہ روس نے خود یہ دعوت نامہ واپس لے لیا تھا۔لیاقت علی خان روس جانا چاہتے تھے لیکن روسی حکومت نے سرد مہری اختیار کی اُس کے بعد لیاقت علی خان امریکہ گئے۔میری التجاء ہے کہ تحقیق کی عادات ڈالیں اور ہر سنی سنائی کو سچ نہ مان لیا کریں۔
”سچ تو یہ ہے“ 238صفحات پر مشتمل حقائق سے پردہ اٹھاتی،من گھڑت کہانیوں کے مدلل جواب دیتی کتاب ہے۔کتاب پڑھتے ہوئے بوریت کا احساس تک نہیں ہوتا،بلکہ بند ہ چاہتا ہے شروع کی ہے تو آخر تک مطالعہ کرکے ہی چھوڑیں۔میں نے ”سچ تو یہ ہے“کے اوراق الٹ پلٹ کراپنی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ لفظ بہ لفظ پڑھا ہے۔اس میں تکرار واقعہ طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔دوسری کتب کی طرح اس میں کمپوزنگ کی غلطیوں کی بھر مار نہیں ہے۔”سچ تو یہ ہے“ہر طالب علم کو پڑھنی چاہیے،یہ کتاب ریسرچر کے لیے انمول خزانہ ہے۔کتاب کی دستیابی کے لیے دُشواری ہو تو ان نمبرز پر رابطہ کرکے منگوائی جا سکتی ہے۔0300.0515101,0300.8422518

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com