شب بیت گئی

مجیداحمد جائی ملتان
اے مری حالتِ زارپہ نظر رکھنے والے
حال تو تُو دیکھ کسی شام اپنا بھی
اس خوبصورت شعر کا خالق محمدراشد فرہادؔ ہیں۔محمد راشد فرہادؔ کا تعلق سکھر (سندھ)کی دھرتی سے ہے اور اردو شعروادب کے تخلیق کاروں کے قیبلے سے ان کا نہ ٹوٹنے والا تعلق استوار ہے۔یہ شعر ان کی خوبصورت کتاب ”شب بیت گئی“سے لیا گیا ہے۔کہتے ہیں اپنے جذبات کا بہترین اظہار شاعری سے کیا جاتا ہے۔آپ شاعری ادب کو اٹھا کر دیکھ لیں اس میں ہر موضوع کو،موضوع سخن بنایا گیا ہے اور خوب خوب ترجمانی ہوئی ہے۔
مت پوچھو مجھ سے زندگی کا حال
در پیش ہیں مجھے تو پریشانیاں کتنی
غزل جس کا لغوی معنی عورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہے۔غزل اُردو کی سب سے اہم اور مقبول ترین صنف شعر ہے۔ہر دُور میں غزل کو اہمیت رہی ہے اور اس نے ترقی کی ہے۔اُردو غزل کا مستقبل شاندار اور روشن ہے کیونکہ اس میں بڑی تغیر پذیری اور لچک موجود ہے۔شمیم احمد مرحوم کہہ گئے ہیں کہ ”اگر اردو شاعری کبھی زندہ رہی،تو غزل کے ساتھ ہی زندہ رہے گے۔لوگ خواہ کتنے ہی دعوے کیوں نہ کریں اور نظم میں چاہے جتنا زور لگایا جائے لیکن کوئی شخص تنہائی میں اگر کوئی شعر گنگنائے گا تو وہ غزل ہی کا ہو گا،نظم کا نہیں۔
سب روتے ہیں رونا اپنی قسمت کا فرہادؔ
جہاں میں کوئی دردِکامل نہیں ملتا
بات ہو رہی تھی ”شب بیت گئی“کی جس کے مصنف محمد راشد فرہادؔہیں۔آپ کا تعلق سکھر سے ہے۔سکھر کی کھجور بہت مشہور ہے اور یہاں کے رہنے والے بھی اخلاق و گفتار کے میٹھے لوگ ہیں۔محمد راشد فرہادؔاپنے اخلاق وگفتار سے لوگوں کو اپنا گرویدہ کرتے ہی ہیں لیکن آپ کی شاعری دلوں کو گرماتی اورجھنجھوڑتی بھی ہے۔اس حوالے سے نامورادیب و شاعر ناصر ملک”شب بیت گئی“کے متعلق لکھتے ہیں ”شب بیت گئی“،اپنے اندر نیا پن،محبت کی شدت اور عاشق کا بھر پور فقیرانہ رویہ سموئیے ہوئے ہے اور سہیل ممتنع سے مزین اظہار خلوص ووفا کا مرقع ہے۔
ملنا بچھڑنا تو نصیبوں کا کھیل ہے
چلوفرہادؔصحراؤں میں کچھ پل گزارتے ہیں
نوید سروشؔلکھتے ہیں ”محمد راشدفرہادؔچراغِ شاعری کو روشن کرنے کی سعی میں مصروف ہیں۔”شب بیت گئی“ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جس میں حمدونعت اور غزلیں شامل ہیں۔غزلوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ روایت پسند مزاج رکھنے والے شاعر ہیں۔روایت کی پاسداری ان کا نظریہ فن ہے۔اس پس منظر میں دیکھیں تو وہ محبت،اخلاص،مروت اور رواداری کے متلاشی نظر آتے ہیں۔
”محمد راشد فرہادؔ“محبت کے شاعر ہیں اور محبت کے حوالے سے وصال،ہجر،وفا،جفا،ملن و جدائی اور اُمید ونااُمید کی کیفیات کو بڑی سادگی سے بیان کیا ہے۔معاملاتِ عشق میں دل اکثر بے ایمان ہوجاتا ہے۔لمحہ لمحہ منظر اور پل پل دل کا حال بدلتا ہے۔اس کیفیت کا بیان دیکھیئے:
اس میں بھر پورنظر آتے ہیں وفا کے رنگ
پَر نہ جانے کیوں مجھے وہ بے وفا لگتا ہے
”شب بیت گئی“مارچ 2020میں اُردو سُخن نے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔اس کی قیمت 350روپے ہے۔اس کا انتساب فرزانہ سعیداور صدف غوری کے نام،کیا گیا ہے۔
ہر نقش تری یاد کا مٹا دیا ہے
ہاں ہم نے خود کو بھی بھلا دیا ہے
محمد راشد فرہادؔ”شب بیت گئی“میں کچھ یوں لکھتے ہیں ”شاعری محض لکھنے کا نام نہیں،بلکہ شاعری احساسات،خیالات اور جذبات کا نام ہے۔جب انسان کسی درد یا خوشی کو محسوس کرتا ہے تو وہ شاعری کا سہارا لیتا ہے۔آج اِس پُر فتن دور میں ہر انسان کسی نہ کسی دُکھ میں مبتلا ہے۔کسی بھی فن پارے کو سمجھنے کے لیے زندگی کے دشوار گزار راستوں پر چلنا پڑتا ہے،تب زندگی اور شاعری کی سمجھ آتی ہے۔
گزار دیے ہیں کچھ پل ماں کی چھاؤں میں
گزرتی ہے رات میری سسکیوں آہوں میں
محمد راشد فرہادؔنے ”شب بیت گئی“میں بڑی آسان زبان اور سادگی سے اپنی بات نذرِقرطاس کی ہے۔ان کی شاعری مصلحت سے پاک نظر آتی ہے۔وہ غزل کے پردے میں ایک ایسے عاشق صادق کی صورت میں نظر آرہے ہیں جو محبوب کے دیدار کی خواہش لیے زندگی کے شب و روز ایک اُمید کے سہارے بسر کر رہے ہیں۔یہ بھی ایک جینے کا قرینہ ہے۔
فقط رومال ہی نہیں یہ اثاثہ دل ہے
اس میں قید ہیں دلبر کی سب نشانیاں
”شب بیت گئی“میں رجائیت کی جھلک نظر آتی ہے،محبت کے دُکھ اور بچھڑنے کی اذیت بھی ہے۔کہیں کہیں ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جن میں سماجی ناہمواری،طبقاتی کشمکش اور اہل اختیارکی بے ایمانیاں زیر بحث لائی گئی ہے۔
صرف غم ِجاناں ہی نہیں چاہیے مجھے
غم ِجاناں کے ساتھ غم ِزمانہ بھی ہو
”شب بیت گئی“کاسرورق بہت خوبصورت ہے اور بیک فلاپ پہ ناصر ملک کے اظہار کے ساتھ مصنف کی مسکراتی تصویرسجائی گئی ہے۔بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ”شب بیت گئی“محمد راشد فرہادؔکے تاب اظہار اور تخلیقی وفور کا شاہکار ہے۔مجھے ان کے بے ساختہ پن،معصوم انداز گفتگو اور کہیں کہیں حسن سے برسر پیکار عشق کا بچوں جیسا ضدی پن بہت اچھا لگا۔چونکہ فنی محاسن،صرف ونحواور شعر کی ساخت وہیت پر تنقیدانہ گفتگو میرا مطمح نظر نہیں ہے۔اس لیے میں اس بہترین شعری مجموعہ سے پھوٹتے ہوئے اظہار کے چشموں پر نظریں جماؤں گا اور حسن کشید کروں گا۔میری دُعا ہے کہ اُردو شاعر محمد راشد فرہاد کے تخلیقی جہان میں خدائے بزرگ وبرتر مزید حسن اور بے ساختگی عطا فرمائے۔یہ خوبصورت دعاؤں کے خزانے لیے اظہار ناصر ملک کا ہے۔ہم بھی ان کے ساتھ بدست دُعا ہیں۔اللہ تعالیٰ محمد راشد فرہادؔکے علم و عمل،شاعری وندرت خیال میں،صحت و کاروبار میں برکت عطا فرمائے آمین!۔
اے دل ذرا تھم نہ یاد کر اُسے
میں جاں سے جاتا ہوں تجھے اپنی پڑی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com