دنیا کی طاقتور ترین اسٹبلشمنٹ

18فروری 2008 ملک میں جنرل الیکشن ہوتے ہیں پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں بانوے سیٹیں جیتنے کے ساتھ مرکزی حکومت حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور پی پی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن جاتے ہیں مشرف کے بعد آصف علی زرداری بھی صدر منتخب ہو جاتے ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے الزام لگتا ہے کہ پی پی کی حکومت اسٹبلشمنٹ نے بنائی ہے۔ فوج حسب معمول منتخب حکومت کی ہر ممکنہ مدد کرتی ہے جس پر تجزیہ نگار اور دانشوڑ ہر پلیٹ فارم پر حکومت اور فوج کے ایک پیج پر ہونے کے فیوض وبرکات بیان کرتے نظر آتے ہیں نہ صرف درباری صحافی بلکہ زرداری کے جیالے پاک فوج اور جنرل کیانی کی تصاویریں لگائے ہر محاذ پر فوج کو ڈیفینڈ اور سپورٹ اور باقی پارٹیوں والے گالم گلوچ کرتے نظر آتے ہیں تب پیپلز پارٹی والوں کے لیے فوج اچھی اور باقیوں کے لیے بری ہوتی ہے۔
پھر 11 مئی 2013 کو جنرل الیکشن ہوتے ہیں جب ن لیگ 126 سیٹوں کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو باقی تمام پارٹیوں کے رہنما ن لیگ کی حکومت کو اسٹبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ کہہ دیتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ نے دھاندلی کروا کے نواز شریف کی حکومت بنوائی ہے جس پر آصف علی زرداری بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر الیکشن جیتا ہے اور حکومت بنائی ہے، صحافی حامد میر کہتا ہے کہ 2013 کا الیکشن میں تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی ہوئی ہے، فضل الرحمان کا بیان تھا کہ یہ 2013 کا الیکشن تاریخ کا سب سے بدترین الیکشن تھا اور نواز شریف کو جتوانے کے لیے اسٹبلشمنٹ نے باقاعدہ پیکج تقسیم کیے ہیں۔
حسب معمول نواز شریف کی حکومت کو بھی فوج کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی ہے جس پر تجزیہ نگار فوج اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے کے فیوض وبرکات بیان کرتے نظر آتے ہیں اور نواز شریف کے شیر عقیدت مند جنرل راحیل شریف کی تصویریں لگائے فوج کے ترانے گاتے ہر محاظ پر پاک فوج کو سپورٹ اور ڈیفینڈ کرتے نظر آتے ہیں اور باقی پارٹیوں والے اسٹبلشمنٹ کو گالم گلوچ کرتے نظر آتے ہیں تب ن لیگ کے لیے فوج اچھی اور باقیوں پارٹیوں کے لیے بری ہوتی ہے۔
اس کے بعد 2018 میں جب سے پی ٹی آئی والوں کو حکومت ملتی ہے تو اپوزیشن جماعتیں معمول کے مطابق عمران خان کو اسٹبلشمنٹ کی کٹھ پُتلی اور سلیکٹڈ کہنا شروع کر دیتے ہیں لیکن پہلے کی طرح آئین و قانون کے مطابق منتخب حکومت کی ہر ممکنہ مدد کرتی ہے جس مخالف پارٹی کے عقیدت مند صحافی خلائی مخلوق کی کٹھ پُتلی جیسے الفاظ استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔ عسکری قیادت اور سول حکومت کا ایک پیج پر ہونے پر عمران خان کے جیالے جنرل باجوہ کی تصاویر لگائے پاک فوج کو سپورٹ اور ڈیفینڈ اور باقی پارٹیوں والے گالم گلوچ کرتے نظر آ رہے ہیں اب بھی فوج پی ٹی آئی والوں کے لیے اچھی اور باقیوں کے لیے بری ہے۔
یہ ایک ننگا سچ ہے کہ پاکستانی سیاست میں جس کو اقتدار ملے وہ پرو اسٹبلشمنٹ اور جس کو دھکے وہ انٹی اسٹبلشمنٹ بن جاتا ہے تاکہ اپنی ناکامی اسٹبلشمنٹ کے خاتے ڈال سکیں۔ اگر مان بھی لیں کہ اسٹبلشمنٹ الیکشن کے رزلٹ چینج کرواتی ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ رزلٹ وہ لاہور، گجرانوالہ، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال اور خانیوال میں کیوں نہیں کروا سکی؟ اسٹبلشمنٹ پورے سندھ سے پی ٹی آئی کو کیوں نہیں جتوا سکی سوائے کراچی کے؟ دنیا جانتی ہے کہ چوہدری نثار کے اسٹبلشمنٹ سے کیسے تعلقات ہیں اور سب کہہ بھی رہے تھے کہ چوہدری نثار نے ن لیگ سے علیحدگی بھی اسٹبلشمنٹ نے کروائی ہے تو پھر اسٹبلشمنٹ چوہدری کو کیوں نہیں جتوا سکی؟ اگر اسٹبلشمنٹ نے الیکشن میں دھاندلی کروائی ہے تو ن لیگ اور پی پی کے لگائے ہوئے الیکشن کمیشن کے سربراہ نے ایسا کیوں ہونے دیا اور اس کے بارے بتایا کیوں نہیں؟ جبکہ وہ تو الیکشن کے صاف و شفاف ہونے کا کہہ رہے تھے۔
دوسرا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ پاناما لیکس اسٹبلشمنٹ کی سازش تھی پہلی تو بات یہ ہے کہ چلو نواز شریف سے لڑائی تھی اس لیے پاناما لیکس کی سازش کر کے نااہل کروایا تو باقی ممالک کے کرپٹ سیاست دانوں کا کیا قصور تھا.؟ اور کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اتنی پاور فل ہو گئی ہے کہ وہ پانامہ لیکس میں عربی حکمران سمیت برطانیہ کے سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے والد ایلن کیمرون ، آئس لینڈ کے موجود وزیراعظم اور دوسرے ممالک کے حکمرانوں کا نام بھی شامل کر لیا اور اگر یہ سچ میں خلائی مخلوق کی سازش تھی تو پھر ہر پاکستانی کو فخر کرنا چاہیے کہ ہماری اسٹبلشمنٹ دنیا کی طاقتور ترین اسٹبلشمنٹ جس نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے کرپٹ سیاست دانوں کو بے نقاب کیا ہے اور انہوں نے کوئی ہتک عزت کا دعویٰ بھی نہیں کیا مطلب ہماری اسٹبلشمنٹ سچی تھی تو مبارک ہو ہماری اسٹبلشمنٹ دنیا کی طاقتور ترین اسٹبلشمنٹ ہے۔

تحریر: انجینئر مظہرخان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com