اسٹیل ملز کی بحالی کیسے ممکن ہے؟

اسٹیل ملز کی بحالی کیسے ممکن ہے؟
شہریار شوکت
70 کی دہائی پاکستان کیلئے کئی غم لیکر آئی لیکن اسی غموں بھری دہائی میں مزدور کی زندگی بدل دینے والے ایک ادارے کی تعمیر کی گئی۔پاکستان اسٹیل ملز کی تعمیر کیلئے سوویت یونین سے معاہدی یحیی ٰ خان کے مارشل لا دور میں ہی کیا جاچکا تھا جبکہ اس کی تعمیر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کی گئی اسی لئے پاکستان پیپلز پارٹی اسے اپنے قائد بھٹو کی نشانی تصور کرتے ہیں ۔ یہ ادارہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی چند بڑی اسٹیل ملز میں شمار ہوتا تھا۔اس ادارے کو چلانے کیلئے روس کے باشندے پاکستان آئے جن کے نام سے اسٹیل ملز سے ملحقہ ہائشی آبادی اسٹیل ٹاؤن میں آج بھی رشین مارکیٹ موجود ہے۔ ان افراد نے پوری ایمانداری سے اس ادارے کو بنایا اور چلایا لیکن شاید ہم ان جیسے ایماندار نہ تھے۔معاہدے کے تحت پاکستان نے اپنے افراد کو بھی روس بھیجا اور تربیت کے بعد انہوں نے بھی پاکستان اسٹیل ملز کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان میں اپنے افراد کو ٹریننگ دینے کیلئے ایم ٹی سی کے نام سے ٹریننگ سینٹر بھی قائم کیا گیا۔پاکستان اسٹیل ملز کی تعمیر کے وقت اس مل کو مزید توسیع دینے کے لیے پہلے سے ہی اسے اس طرح تعمیر کیا گیا تھا کہ وقت آنے پر اس کی پیداواری صلاحیت کو دوگنا کیا جا سکے۔ ملکی سرمایہ داروں اور تاجروں کو بھی پابند کیا گیا کہ وہ پاکستان اسٹیل مل سے ہی مصنوعات خرید کریں اور اگر ان کو ضرورت اس سے زیادہ ہو تو بھی اسٹیل ملز سے این او سی لے کر ہی اسٹیل باہر سے منگوایا جاسکتا تھا۔بظاہر یہ ایک ظالمانہ قانون معلوم ہوتا ہے لیکن ملک اداروں کو ترقی دینے کیلئے ایسا اقدامات کرنا لازم ہوتے ہیں غیر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان اسٹیل ملز اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی اور اسٹیل کی پیداور کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹیل ملز نے بجلی،رنگ اور دیگر اشیا کی پیدوار بھی شروع کردی،ملازمین کو بہترین سہولیات دی گئیں،میڈیکل،ٹرانسپورٹ،رہائش سمیت اچھی تنخواہ بھی اسٹیل ملز ملازمین کے حصے میں آئی جس سے ان کی زندگیاں بدل گئیں۔
سنا ہے کہ بچھو کی مادہ اپنے بچوں کو اپنی کمر پر پالتی ہے،یہ بچے اپنی زندگی کیلئے اپنی ماں کا گوشت کھاتے رہتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ انکی ماں ان کے گوشت کھانے کی وجہ سے مر ہی جاتی ہے ایسا ہی کچھ پاکستان اسٹیل ملز کے ساتھ ہوا اور شاید اب بھی ہورہا ہے۔پاکستان میں ہمیشہ ہی سرمایہ دار طبقہ برسر اقتدار رہا ہے،یہ سرمایہ دار ہر جگہ اپنے ایجنٹ مقرر کر دیتے ہیں ان ایجنٹوں کا کام سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے چاہے وہ جائز طریقے سے ہو یا ناجائز طریقے سے۔سرمایہ داروں کے ایسے ایجنٹ جو اسٹیل ملز میں ہی موجود تھے ان کے لئے اسٹیل ملز ایک سونی کی چڑیا تھی جبکہ اسٹیل کے کی پیدوار کرنے والوں کی آنکھوں میں ہمیشہ ہی یہ ادارا کھٹکتا رہا۔مشرف کے دور میں سرمایہ داروں کو باہر سے اسٹیل کی خرید کیلئے این او سی سے آزاد کردیا گیا جس سے اسٹیل ملز کی مصنوعات کی فروخت میں کمی آئی۔سرمایہ داروں کا منافع تو بڑھ گیا لیکن مشرف کے اس عمل سے اسٹیل ملز کے منافع میں کمی آتی گئی۔منافع میں کمی کو نقصان ظاہر کرکے بعد ازاں اسٹیل ملز کو فروخت کردیا گیا۔عدالتی حکم پر اسٹیل ملز کی فروخت تو روک دی گئی لیکن پاکستان اسٹیل ملز پھر کبھی اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہوسکی۔مشرف کے بعد آنے والے جمہوری حکمرانوں نے بھی باتیں تو بہت کیں لیکن اس ادارے کو چلانے کیلئے منصوبہ بندی نہ کی گئی۔نا ہی بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی نے اس کی بحالی اقدامات کئے نہ ہی نواز شریف کی حکومت میں اسٹیل ملز بحال ہوسکی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے دو سال بعد پاکستان اسٹیل مل کے محنت کشوں کی تنخواہوں میں تعطل آنا شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اسٹیل ملز کے پاس ایک اندازے کے مطابق 10ارب کا خام مال، 12ارب تک کیش اور8ارب کی تیار مصنوعات موجود تھیں۔ لیکن ان تما م اشیا اور رقم کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا یہ راز آج تک راز ہی ہے۔پیپلز پارٹی کے ہی دور حکومت میں ملازمین کی تنخواہوں میں کئی فیصد کا اضافہ کردیا گیا اور نئی بھرتیوں سے ادارے پر بوجھ میں اضافہ بھی کیا گیا۔ ادارے کی بحالی کے لئے 42 ارب کا بیل آؤٹ پیکج بھی دیا گیا لیکن اتنی خطیر رقم کے باوجود اسٹیل ملز کی بحالی کا عمل شروع نہ ہوسکا۔اسٹیل ملز لے ملازمین نے بھی اس ادارے کے ساتھ کچھ اچھا نہ کیا،جعلی میڈیکل بنوا کر ادارے سے چھٹیاں کرنا،میڈیکل کی سہولت کا غلط استعمال،ادویات کی فروخت،اپنے نام پر گھر منظور کرا کر کسی اور کو زیادہ کرائے پر دینا،اسٹیشنری آئٹمز اور دیگر ضرورت کی اشیا کو زیادہ قیمت پر خریدنا اور ادارے کی اسٹیشنری کو فروخت کرنا ،گاڑیوں کا ایندھن فروخت کرنا یہ ایسے جرم ہ جس کی سزا اب اسٹیل ملز کی بندش کی صورت میں سب کو مل رہی ہے ان جارروائیوں میں ملوث افراد کو کرنل افضل کے دور می سزا بھی دی گئی لیکن سزا یافتہ لوگوں نے سزا دینے والے کو ہی ظالم قرار دے دیا،ملازمت سے برطرف ملزمان بعد ازاں سابقہ مراعات کے ساتھ بحال بھی کردئے گئے۔اس تمام صورت حال پر اگر یہ کہا جائے کہ کچھ سرمایہ دار بھی ظالم تھے اور کچھ ملازمین کو بھی مرنے کا شوق تھا تو غلط نہ ہوگا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کے ملازمین کئی کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہوگئے۔5000 ریٹائرڈ ملازمین اپنے واجبات کی ادائیگی کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں،بیماریوں کے شکار افراد آج اپنے ادارے میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری و پرائیویٹ اداروں کے دھکے کھا رہے ہیں،کئی محنت کشوں کی بیٹیاں حالات کے باعث بن بیاہی گھروں پر بیٹھی ہیں اور کئی بیٹیوں کو گھر کے حالات کی وجہ
سے گھروں سے نکل کر ملازمت کرنا پڑی،غریب پس رہا ہے لیکن سرمایہ دار اور ان کے ایجنٹ آج بھی ٹھاٹ سے گھومتے ہیں اور شاید گھومتے رہیں گے یہی تو دستور ہے اس ظالم معاشرے کا۔اسٹیل ملزکی بحالی اب بھی ناممکن نہیں اگر حکومت سنجیدگی سے کوشش کرے۔
اسٹیل ملز کی بحالی کیسے ممکن ہے؟اس کیلئے کیا اقدامات کرنا ہوں گے؟کس ملک سے مدد لینا ہوگی؟کن افراد کا انتخاب کرنا ہوگا؟یہ فیصلہ خاص مشکل نہیں۔روس نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے تعاون کی پیشکش کردی ہے اور روس کے وفد کئی بار اسٹیل ملز کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔۔وفاقی وزیر برائیاقتصادی امور حماد اظہر اور روس کے وزیر تجارت ڈینس ویلنٹنووچ کی زیر صدارت پاکستان روس بین الحکومتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس کے بعد حماد اظہر کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیرتجارت نے کہاکہ ہم اسٹیل ملز کی بحالی اور اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے پاکستان کو تعاون فراہم کریں گے۔ ہے ایسی پیشکش چین کی جانب سے بھی ماضی میں کی گئی ہے لیکن چین کے مقابلے میں روس اس لئے بہتر ثابت ہوگا کیوں کہ روس نے اسٹیل ملز کی بنیاد رکھی،پرانے پلانٹس کا بحال ہونا اب شاید ممکن نہیں لیکن جیسا کہ آغاز میں ہی بتا دیا گیا کہ اسٹیل ملز کے قیام کے وقت ہی اس کی توسیع کو ممکن بنایا گیا تھا جس کے تحت اب نئی فرننس لگائی جاسکتی ہے اور یہ کام روس سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔روس کے ساتھ معاملات جلد از جلد طے کرکے پلانٹ کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔
پاکستان اسٹیل ملز کے پلانٹ کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز کے دیگر ڈیپارٹمنٹس بھی ہیں جنہیں اگر منصوبہ بندی کے تحت چلایا جائے تو خطیر رقم حاصل کی جاسکتی ہیں۔رقم کے حصول کے لئے حکومت کو ایسے افراد کو انتخاب کرنا ہوگا جو مارکیٹنگ کے شعبے میں مہارت رکھتے ہوں۔ان افراد کے پاس مکمل اختیارات ہونے چاہیے اور اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ ان پر کسی سرمایہ دار،کسی ٹریڈ یونین کا کسی مافیا کا اثر رسوخ نہ ہو۔ٹریڈ یونین ہوتی تو ملازمین کی فلاح کیلئے ہے لیکن دور حاضر میں اسے اپنے مافادات کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔قانون نافظ کرنے والے اداروں کے ریٹائڑد افراد جو مل میں موجود ہیں انہیں بھی ان کے عہد ے پر بااختیار بنانا ہوگا۔پاکستان اسٹیل ملز کے زیلی اداروں میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ،اسٹیل ٹاؤن ڈیپارٹمنٹ،اسٹور ڈیپارٹمنٹ،میڈیکل ڈیپارٹمنٹ،حدید ٹرسٹ وغیر ہ شامل ہیں۔
ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ
سب سے پہلے بات کرلیں ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی،اس ڈیپارٹمنٹ کے پاس بڑی بسو ں سے لیکر کوسٹر،ایمبولنس، لگژری
گاڑیاں،800 سی سی گاڑیاں،1000 سی سی گاڑیاں اور منی وین وغیرہ سب موجود ہیں۔گاڑیوں کی مرمت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں تباہ حالی کا شکار ہیں،یہ گاڑیاں ٹرانسپورٹ یارڈ میں کھڑی رہتی ہیں،چھوٹی گاڑیاں ٹرینڈ یونین کے ذمہ داروں یا افسران کے گھروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔پاکستان اسٹیل ملز کے لئے روٹ پر مٹ حاصل کرنا یقینی طور پر کوئی مسئلہ نہ ہوگا ماضی میں بھی پاکستان اسٹیل ملز کی گاڑیاں شٹل کے طور پر شہر میں چلتی رہی ہیں۔ڈرئیور کی ملازمت کے اوقات 12 گھنٹے کئے جائیں تمام اکٹنگ آفیسران و ٹریڈ یونین کے ذمہ داروں سے گاڑیاں واپس لی جائیں،موجودہ دور آن لائین ٹیکسی و بس سروس کا دور ہے اسٹیل ملز کے ارد گرد کی آبادیوں سے بڑی تعداد میں افراد کی کراچی کے مرکز کی جانب سفر کرتے ہیں،اسٹیل ملز کی شٹل سروس ہ آن لائن ٹیکسی سروس کا آغاز کیا جائے،مختلف جامعات پر پوائینٹ چلائیے جائیں اس طرح ایک کثیر رقم حاصل ہوگی جس سے اور کچھ نہ بھی ہوا تو کم از کم ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کا بوج تو کم ہوگا۔
ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ
اسٹیل ملز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اس غرض سے قائم کیا گیا تھا کہ ملازمین کے بچوں کو کم فیس پر تعلیم دی جائے۔اسٹیل ملز کے سابق چئیرمین صبیح قمر کے دور میں ان اداروں کی فیس بڑھا کر عام اداروں کے برابر کردی گئی اور اب ملازمین کے بچے بھی تقریبا وہی فیس ادا کرتے ہیں جو اسٹیل ملز سے باہر کے لوگ ادا کرتے ہیں۔اسٹیل ملز کے پاس اسطرح کے تقریبا10 کے قریب ادارے ہیں۔اسٹیل ملز انتظامیہ نے کچھ بلڈنگیں کرائے پر بھی دی ہیں ایک بلڈنگ مالک کے مطابق وہ کرائے کی مد میں دو سے 3 لاکھ ادا کرتا ہے۔اسٹیل ملز کی ملحقہ آبادی اسٹیل ٹاؤن میں 4 پرائیویٹ اسکولز ہیں۔اگر اسٹیل ملز اپنے تمام اسکول و کالج پرائیویٹ کر دے تو کرائے کی مد میں ہی 35-30 لاکھ کی آمدن حاصل ہوگی جس سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بوجھ کم ہوگا۔
میڈیکل ڈیپارٹمنٹ
اسٹیل ملز کی پینل اسپتال پاکستان اسٹیل اسپتال 100 بستر کی ایک اسپتال ہے جس کے ارد گرد کئی ایکڑ زمین خالی ہے اس زمین پر میڈیکل کالج بنایا جاسکتا ہے۔اسٹیل ملز کے اسپتال میں ایسے ڈاکٹرز موجود ہیں جو اس کالج کے قیام میں اور اس کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔قانون کے مطابق میڈیکل کالج کو مفت اسپتال کا قیام کرنا ہوتا ہے۔اسپتال پہلے ہی موجود ہے جہاں ادارے کے ملازمین کا علاج ہوتا رہے گا جبکہ کالج سے رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔
جامعہ کا قیام
اسٹیل ملز سے ملحقہ آبادیوں سے ہزاروں کی تعداد میں طلبہ سرکاری و پرائیویٹ جامعات میں جاتے ہیں۔علاقے میں بھی پرائیویٹ جامعات کے کیمپس موجود ہیں،اسٹیل ملز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مستقل اساتذہ میں سے اکثریت جامعات میں پڑھانے کے اہل ہیں اگر علاقے میں ایک پرائیویٹ جامعہ کا قیام کردیا جائے تو دور جانے والے طالب علم یہیں داخلہ حاصل کرلیں گے اس طرح مستقل ملازمت والے اساتذہ کی تنخواہوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور یہاں سے بھی رقم حاصل ہوگی۔
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسٹیل ٹاون ڈیپارٹمنٹ کے نیچے کام کرتا ہے۔اسٹیل ٹاون میں کئی دوکانیں تاحال پرانے کرایوں پر چل رہی ہیں ا ن کا کرایا مارکیٹ ویلیو کے مطابق کیا جائے،پارکس اسٹیڈیم،جم، کلب اور شادی ہالوں کا مارکیٹنگ سیکشن بنایا جائے جو ان پر کام کرے صرف ایک شادی ہال کا ہی ایک دن کا کرایہ اگر 20000 تصور کرلیں تو پاکستان اسٹیل آفیسرز میس میں کم از کم 5 اور قائداعظم پارک میں بھی 6 ہال موجود ہیں،اس میں کم و بیش 70 دوکانوں کا کرایہ شامل کریں جم کو عام عوام کیلئے کھولیں تو آمدن کروڑوں میں ہوگی۔ علاقے میں لگنے والے بازاروں سے بھی اچھی خاصی رقم حاصل کی جاتی ہے۔
اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ
اسٹیل ملز کے اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ میں کرکٹ،ہاکی،باکسنگ اور دیگر کھیلوں کے قومی و ایشیا سطح کے کھلاڑی موجود ہیں،اسٹیل ملز کے پاس گراؤنڈ اور اسٹیڈیم موجود ہیں علاقے میں کھیل کے شوقین نوجوان بھی موجود ہیں ان افراد کو جم خانہ بنا کر دیا جائے اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کو وہاں بحیثیت کوچ رکھا جائے،ٹریننگ حاصل کرنے والوں کی مناسب فیس طے کی جائے تو کیا یہاں سے آمدن نہیں ہوسکتی؟
گیسٹ ہاؤس
پاکستان اسٹیل گیسٹ ہاؤس غیر ملکی اور ملکی اعلیٰ شخصیت کی رہائشی معیار کے مطابق بنایا گیا تھا ،مناسب دیکھ بھال سے گیسٹ ہاوؤس سے کرایہ کی مد میں اچھی خاصی رقم حاصل کی جاتی ہے ساتھ ہی گیسٹ ہاؤس میں ایک ہال بھی ہے جہاں دعوتیں وغیرہ ہوتی ہیں ۔گیسٹ ہاؤس کے ڈائننگ ہال میں بھی لوگ کھانا کھانے آتے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث اس کی ٓآمدن کم ہے لیکن اگر اسے بھی ٹھیکے پر دیا جائے یا انتظامیہ خود کوشش کرے تو ایک فائیو اسٹار ہوٹل جتنی آمدن ہوسکتی ہے ۔
اسٹیل ملز کا اپنا مرمتی کاموں کا ڈیپارٹمنٹ ہے جس میں الیکٹریشن پلمبر سے لے کر میسن وغیر ہر قسم کے افراد موجود ہیں۔اسٹیل ملز کی اپنی نرسری ہیں جن میں کئی مالی موجود ہیں،اسٹیل ملز کا اپنا بلک واٹر سپلائی ڈیپارٹمنٹ ہے کیا یہ سب ڈیپارٹمنٹ کچھ کما کر نہیں دے سکتے؟سب ہوسکتا ہے۔ حکومت کو زائد العمر افراد کو بھی ریٹائر کرنا ہوگا،شاید یہ اقدام بھی ظالمانہ قرار دیا جائے لیکن ایسا کرنا ادارے کے مفاد میں ہوگا،اگر کہیں کسی ناتجربہ کار افسر کو ایکٹنگ چارج دیا گیا ہے تو اس کی جگہ تجربہ کار افراد کو ملازمت دینا ہوگی۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ بریگیڈئیر ایجاز یا جنرل عبدالقیوم جیسے افراد کو دوبار تعینات کی جائے اور مکمل اختیارات کے ساتھ تعینات کیا جائے تو اسٹیل ملز کے حالات چند ماہ میں ہی تبدیل ہوجائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com